جب بھی کوئی مورخ دنیا کی مختلف اقوام کے عروج و زوال کا تجربہ کرنے بیٹھتا ہے تو اسے جو چیز سر فہرست نظر آتی ہے وہ کسی قوم کی محنت اور جانفروشی ہے۔ جس قوم میں محنت ، جانفروشی اور اپنے فرائض کی خوش اسلوبی سے بجا آوری کا احساس جتنا زیادہ جاگزین ہوتا ہے اسی تناسب سے وہ عروج و اتدار کے زینوں پر چڑھتی ہے اور بعد میں جوں جوں اس میں فرائض سے پہلو تہی اور ذمہ داری سے فرار کا رجحان بڑھتا ہے۔ توں توں اس کے زوال کی داستان شروع ہو جاتی ہے۔
ادارہ
1996
  • مارچ
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی انتظامیہ کے درمیان تنازع بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ اس اختلاف کی رپورٹیں ۲۰ جنوری کو حکومت ِپاکستان کی طرف سے مسجد امیر حمزہ اوراس سے ملحق مدرسے کو گرانے کے بعد میڈیا میں آنا شروع ہوئیں ۔ لال مسجد کے خطیب کے ایک مبینہ بیان کے مطابق سی ڈی اے اسلام آباد کی طرف سے کچھ عرصے کے وقفے کے ساتھ سات سے زائد مساجد کو گرایا گیا۔
ابو عبداللہ
2007
  • مئی
پرویز جب مشرف بہ حکم رانی ہوا کہ فضا سے زندہ اترا تھا تو بالکل حق کے اُس ضیاء کے برعکس جو فضا میں راہیٔ ملک بقا ہوا تھا، پاکستان کو روشن خیال بنانے کے لیے ہم پیالہ و نوالہ و خیالوں کواکٹھا کیا تو انہوں نے بے حیاؤں کی دوڑیں لگوا دیں یہ کہہ کر حیا والے آنکھیں اور گھروں کے در بند کرلیں یا بے حیاؤں کے ساتھ مل کر حکم رانوں کو راضی کرلیں ۔ چاہے عرش عظیم کا رب مالک الملک ناراض ہوجائے۔
شیخ مزمل احسن
2009
  • اپریل
لال مسجد میں ہونے والی ظلم وبربریت پر پوری قوم یک آواز ہے۔ ایسے سنگین واقعات برسوں کیا، صدیوں میں رونما ہوتے ہیں۔ اس سانحہ پر تبصرے تجزیے اور تاثرات لکھنے والوں سے اخبارات ورسائل بھرے پڑے ہیں۔ ہرکوئی اس ملی المیہ کو اپنے انداز سے بیان کررہا ہے۔ جامعہ حفصہ کو دہشت وہلاکت کی یادگار بنانے والوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کی یہ سازش لال مسجد کو حیاتِ دوام عطا کردے گی۔
حسن مدنی
2007
  • اگست
مولانا محمد عبداللہ مرحوم اپنے چھوٹے صاحب زادے عبدالرشید غازی سے اکثر شاکی رہتے تھے۔ مولانا صاحب مرکزی رؤیت ِہلال کمیٹی کے سربراہ تھے اور ملک بھر کے علما میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اُنہوں نے اپنے دونوں بیٹوں عبدالعزیز اور عبدالرشید کو بھی عالم دین بنانے کا فیصلہ کیا۔
ادارہ
2007
  • اگست
صدر مملکت، چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جناب جنرل محمد ضیاء الحق ماشاء اللہ ایک بہترین مقرر ہیں، اور قوم کے نام ان کی ہر نشری تقریر سے جہان ایک سربراہ مملکت کا جاہ و وقار ٹپکتا ہے، وہاں ایک بیدار مغز سیاستدان کی حکمت عملی اس سے مترشح ہوتی اور کسی واعظ دلپذیر کی اثر آفرینی بھی اس میں پائی جاتی ہے۔ ان کی 12۔ اگست کی تقریر بھی انہی خوبیوں کا حسین مرقع ہے او راس طویل تقریر میں انہوں نے تقریباً ہر وہ بات بیان
اکرام اللہ ساجد
1983
  • نومبر
گذشتہ شمارے میں پاکستان میں نفاذِ اسلام کے متعلق عام مسلمان جو توقعات وابستہ کرتے ہیں، ان کا مختصر طور پراحساس دلایا گیا تھا۔ ذیلی سطور میں جو کچھ پیش کیا جائے گا، وہ پاکستان میں نفاذِ اسلام کا مفصل خاکہ ہرگز نہیں ہے بلکہ اس میں بیان کیا جائے گا کہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کس طرح اپنی ترجیحات کا تعین کرنے کے بعد تدریجی انداز میں نفاذِ اسلام کے کٹھن نصب العین پر عمل درآمد کا آغاز کرے۔
عطاء اللہ صدیقی
2003
  • فروری
پاکستان۔ جس کے قیام کا مقصد ''لا إلٰہ اإلا اللہ'' کی عملی تعبیر تھا اور جسے صحیح معنوں میں نمونہ کی اسلامی ریاست اور اسلام کا مضبوط حصار ہونا چاہئے تھا۔ اول روز ہی سے لا دین قوتوں کی ہوسِ اقتدار کی بدولت اپنی اصلی راہ پر گامزن نہ ہو سکا۔ جب کبھی اصلا  ح احوال کی تھوڑی سی امید پیدا ہوئی یہ قوتیں حرکت میں آگئیں اور انہوں نے ایسے حربے استعمال کئے جن سے مقصد کا حصول تو کجا منزل اور بھی دور ہو گئی۔
ادارہ
1971
  • مارچ
۱۵ھ، ۶۳۶ء میں مسلم عرب کی حیثیت سے حکم ثقفی نے بمبئی کے مشہور علاقہ 'تھانہ' پر حملہ کیا۔ اس کے بعد 'بھروچ' کا رخ کیا اور اسی دوران حضرت مغیرہؓ نے سندھ کی مشہور بندرگاہ دیول پر چڑھائی کی۔ اور حضرت حکیم بن جبلہؓ نے سرکاری حیثیت میں ہندوستان کے سلسلے میں سروے کیا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے ہندوستان کے علاقے فتح ہوتے گئے۔
عزیز زبیدی
1974
  • جولائی
  • اگست
9 برس بعد آخر کار پاکستان سے ایک تاریک عہد کی علامت نیست ونابود ہوگئی۔ ان سالوں میں پاکستان عالمی، سیاسی، داخلی اور معاشرتی غرض ہر حوالے سے کن آزمائشوں اور عدم استحکام کا شکار رہا، اس کا جائزہ اور تبصرہ تاریخ اور احوالِ اُمم کا نامہ نگار گاہے بگاہے کرتا رہے گا۔ پاکستان کے وجود پر'روشن خیال' لیکن درحقیقت تاریک تر دور میں جو عبرت آموز داغ موجود ہیں،
حسن مدنی
2008
  • ستمبر
پاکستان میں حالات کچھ اس تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں کہ ہرلمحے صورتحال گھمبیر ترہوتی چلی جارہی ہے۔گذشتہ صرف ایک ماہ کے دوران چند ایسے غیرمعمولی واقعات پاکستان میں رونما ہوئے ہیں جن کے نتائج جہاں انتہائی دور رَس ہیں ، وہاں مستقبل پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
حسن مدنی
2007
  • اگست
حالیہ انتخابات میں جملہ اسلامیانِ پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا مقصد، ہدف اور نعرہ کسی مقبول سیاسی جماعت نے نہیں اپنایااور اگر کسی نے ڈھکے چھپے لفظوں میں اسے پیش بھی کیا تو عوام پاکستان نے اُس کو خاص پذیرائی نہیں بخشی ۔ بلکہ اس سے بڑھ کر انتخابات سے قبل پاکستان کے نظریہ جو ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے، اُس سے ہی سرے انکار کیا جاتا رہا۔
صفدر محمود
2013
  • ستمبر
14۔اگست کے موقع پر حکومت کی جانب سے نئے سیاسی ڈھانچے کا اعلان متوقع ہے او راخبارات میں اس سلسلہ کے ظن و تخمین، قیاس آرائیوں، سیاسی پیشگوئیوں اور تجاویز پر مشتمل خبریں اور بیانات شائع ہورہے ہیں۔ چنانچہ امیر جماعت اسلامی کا خیال ہے کہ:''ذات برادری کی بنیاد پر لوگ اگر منتخب ہوکر اسمبلیوں میں آئے تو انتخابات کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔''اور اس طرح !''حکومت نے نشاندہی کردی ہے کہ وہ اقتدار نہیں چھوڑنا چاہتی۔''
اکرام اللہ ساجد
1983
  • ستمبر
مذاہب ِعالم کا مطالعہ محمد اسلم رانا کا خاص موضوع ہے جس پر آپ ملک بھر میں امتیازی حیثیت اور مجاہدانہ شان رکھتے ہیں آپ 'المذاہب' کے نام سے ایک ماہنامہ بھی نکالتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی اسلامی کانفرنس کے لئے لکھے جانے والے زیر نظر مقالے میں پاکستان میں اقلیتوں کو ملنے والی مراعات ، ان کے مطالبے اور ان کی سرگرمیوں کی ہوشربا رپورٹ پیش کی گئی ہے۔
محمد اسلم رانا
2001
  • جنوری
نظامِ تعلیم خواہ کوئی سا بھی ہو،اس کی تشکیل کے وقت اس کے اہداف ومقاصد کا تعین کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر کسی نظام تعلیم کی کامیابی یا ناکامی کا تجزیہ کرنا ہو تو اس کا معیار یہی ہو سکتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ اپنے طے کردہ مقاصد واہداف کے حصول میں کتنا کامیاب یا ناکام رہا ہے ؟ پاکستان میں اس وقت پرائیویٹ سیکٹر میں جو چھوٹے بڑے ہزاروں دینی مدارس کا م کر رہے ہیں، ان کے قیام کے مقاصد کیا ہیں؟
محمد امین
2002
  • فروری
قومی آزادی و خود مختار ی شدید قسم کے تعصب اور بے لچک اَنا کا تقاضا کرتی ہے۔ اس کی مثال شخصی غیرت و حمیت سے دی جاسکتی ہے۔ جب کوئی شخص ایک بار کسی ضرورت، کسی مجبوری، کسی مصلحت یا کسی خوف کے باعث اپنی کھڑکیوں کے پٹ کھو ل دیتا ہے یا اپنے چوبارے کی چقیں اٹھا دیتا اور پڑوسیوں کے آوارہ خو لڑکوں کی تاک جھانک کو ناگزیر سمجھ کر گوارا کرلیتا ہے تو پھر حجاب اُٹھتے چلے جاتے ہیں۔
حسن مدنی
2002
  • دسمبر
فکری سرطان میں مبتلا پاکستانی دانش باز اسلام اور پاکستان کے خلاف اپنے خبث ِباطن کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ۱۳/ اپریل اور ۱۶/ اپریل ۲۰۰۱ء کے دوران لاہور میں منعقدہ چار روزہ عالمی پنچابی کانفرنس کی جو تفصیلات قومی پریس میں شائع ہوئی ہیں، اس سے یہ نتیجہ اَخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ یہ کانفرنس یہود وہنود لابی کی پاکستان کے خلاف مذموم سرگرمیوں کا تسلسل تھی۔
عطاء اللہ صدیقی
2001
  • مئی