تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سرزمین ہند پر بہت سے ایسے عربی زبان کے علماء، شعراء اور ماہرین لغت و ادب پیدا ہوئے۔ جنہوں نے علوم دین اور لغت وادب کی ترقی و ترویج کے لیے شاندار خدمات سرانجام دیں ہیں۔ علماء او رمحققین نے ان کی علمی اور ادبی تخلیقات سے خوب استفادہ کیا۔ ان کا یہ فیض عام صرف ملک ہند تک محدود و مسدود نہیں رہا، بلکہ پورے عالم اسلام نے ان کےچشمہ علم وفضل سے اپنی تشنہ لبی دور کی۔ تاریخ، 
غلام نبی
1983
  • اگست
حضرت نواب صاحب کا دور کتاب و سنت کے داعیوں سے یکسر خالی تھا۔بہت سے علمائے سنت اور مجتہدین امت ایسے موجود تھے جوسنت رسول اللہ ﷺ سے عشق کرتے تھے۔ان کی صبحیں اور شامیں توحید کی تبلیغ و اشاعت اور ردّ شرک او رتبلیغ میں گزرتیں۔ ان پاکان امت کے تذکروں سے تاریخ اسلام کے عنوانات بنے۔ سفر میں شرک کی سعادت تو بہت رہردوں کو حاصل ہوئی مگر منزل کا وصال اصحاب عزائم کا حصہ بنا۔
غلام نبی
1983
  • ستمبر
قطف الثمر فی بیان عقیدة اہل الاثر: (مطبع کانپور 30 صفحات)یہ رسالہ عقائد کےموضوع پر ہے۔ اس میں توحید باری تعالیٰ ، صفات الٰہی ، محبت اہل بیت ، ازواج النبیؐ از روئے نص قرآنی، امہات المؤمنین ہیں۔ حوض کوثر، حشر و نشراو راسی طرح کے کئی او رمباحث ہیں جن کا تعلق عقائد سے ہے، رسالے کے آخر میں ایک فصل کتابت و سنت پرقائم رہنے کے بارے میں ہے۔الدین الخالص : (2 جلد، مطبع انصاری دہلی)اس کتاب کے دو حصے
غلام نبی
1983
  • نومبر
مُحی مجّدد علوم ِ عربیہ و دینیہ ترجمان القرآن و الحدیث مولانا سید نواب محمد صدیق حسن خاں کا شمار ممتاز علمائے حدیث میں ہوتا ہے آپ علوم اسلامی و نحو میں ان کو یگانہ دستری حا صل تھی ۔علاوہ ازیں عربی ،فارس اور اردوتینوں زبانوں میں یکساں قدرت رکھتے تھے۔مولانہ سید نواب صدیق حسن خاں ۱۹ جمادی الاولیٰ کو بانس بریلی میں پیدا ہوئے،جہاں آپ کا ننھیال تھا ۔آپ کا سلسلہ نسب ۳۳ واسطوں سے آنحضرت ﷺ تک پہنچتاہے۔(۱)آپ کا تعلق ہندوستان کے قدیم شہر قنو ج سے تھا ۔
عبدالرشید عراقی
1998
  • اکتوبر
پیدائش 1248ھ/1832ء ۔وفات 1307ھ/1889ء
سید ابو طیب صدیق حسن خان  رحمۃ اللہ علیہ  اکتوبر 1832ء کو بمقام بریلی پیدا ہو ئے ،آپ اردو ،عربی اور فارسی کے نامور ادیب ، عالم دین اور شاعر ،دوسو بائیس کتابوں کے مصنف اور علم و فضل کے اعتبار سے بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں ۔
حسینی سادات کے چشم و چراغ سلسلہ نسب تتیس (33)واسطوں سے جناب سید البشر حضرت نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  تک پہنچتا ہے (1)
ان کے والد گرا می نواب سید اولاد حسن نے دیگر اساتذہ کے علاوہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  سے اکتساب علم کیا تھا ،نواب سید اولاد علی آپ کے دادا تھے جو حیدر آباد (دکن ) میں جاگیرداری کے علاوہ انور جنگ بہادر کے خطاب سے سر فراز تھے(2 )
حمیداللہ عبدالقادر
1994
  • اکتوبر