(محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ  کی شخصیت سے اہل علم بخوبی واقف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلاف کا ساقوت حافظہ عطا فرمایا۔اسماء رجال اور تحقیق حدیث کے سلسلہ میں روئے زمین پر کم از کم دور حاضر میں آپ جیسا کوئی دوسرا آدمی نظر نہ آیا آپ کی بہت سی تصانیف منصہ شہود پر آکر اہل علم اور قدر دان حضرات سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں۔
آپ کی مشہور زمانہ تالیف صلوۃ النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے جس میں آپ نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز کا مکمل نقشہ فرمایا ہے یہ کتاب تمام مسلمانوں کے لیے انمول تحفہ ہے اس کا اردو ترجمہ ہو چکا ہے اور مارکیٹ میں بھی دستیاب ہے۔
علامہ موصوف نے اپنی اس کتاب کی تلخیص بھی شائع کی تھی جس میں انتہائی اختصار مگر حددرجہ جامعیت کے ساتھ نماز کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ الحمد اللہ اس مختصر کتاب کا ترجمہ کرنے کی سعادت راقم الحروف کے حصہ میں آئی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے سابقہ تراجم کتب و نگار شات کی طرح اسے بھی برادران اسلام کی اصلاح کے لیے نافع اور میرے لیے ذخیرہ آخرت بنائے۔
قارئین سے التماس ہے کہ اپنی دعاؤں میں راقم کو میرے والد محترم مولانا ابو سعید عبدالعزیز سعیدی مرحوم اور اساتذہ کرام کو بھی یاد رکھیں ۔(مترجم)
ناصر الدین البانی
2000
  • اکتوبر
نماز دین کا ستون،جنت کی کنجی، مؤمن کی معراج، آنکھوں کی ٹھنڈک، قلبی سکون اور جسمانی شفا ہے۔ اس کے ذریعے انسان جملہ مصائب و آلام، غموم و ہموم، اور ہمہ قسم کے حزن و ملال سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔ ربّ ِذوالجلال نےوَٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ‌ وَٱلصَّلَو‌ٰةِ ۚ...﴿٤٥﴾...سورۃ البقرۃکا ارشاد فرماکر اس حقیقت کو آشکاراکردیا اورحَـٰفِظُوا۟ عَلَى ٱلصَّلَوَ‌ٰتِ وَٱلصَّلَو‌ٰةِ ٱلْوُسْطَىٰ وَقُومُوا۟ لِلَّهِ قَـٰنِتِينَ ﴿٢٣٨﴾...سورۃ البقرۃ
کامران طاہر
2007
  • جنوری
زیر نظر مضمون فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین کا ایک فتویٰ ہے، جو آپ نے تارک الصلوۃ کے بارے میں جاری فرمایا ہے۔

موصوف کا پورا نام محمد بن صالح بن محمد بن عثیمین الوہیبی التمیمی ہے۔ اور آپ بمقام عنیزہ، سئہ 1347ھ میں رمضان شریف کے آخری عشرہ میں پیدا ہوئے۔۔۔مزید مختصر تعارف درج ذیل ہے:
محمد بن صالح العثیمین
1987
  • دسمبر
استفتا ء: تشہد میں انگشت شہادت اٹھانے اور نہ اٹھانے کا مسئلہ اہل حدیث اور حنفیہ کے درمیان مختلف فیہ رہا ہے۔ خلاصہ کیدانی کی رو سے بعض متعصّب حنفیہ تو انگلی اُٹھانے کے اتنے مخالف رہے ہیں کہ اس پر افغانستان میں نہ صرف مار کٹائی بلکہ انگلی توڑ دینے یا کاٹ دینے کی وارداتیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ چونکہ برصغیر میں سنّی اسلام افغانستان کے ذریعہ سے آیا، اس لئے برصغیر کے دین دار لو گ بھی اسی تشدد اور تعصّب کا شکار ہیں۔
مصطفیٰ راسخ
2018
  • مارچ
'سجدہ سہو' ایسے دو سجدوں کو کہتے ہیں جنہیں ایک نمازی بھول چوک کی وجہ سے اپنی نماز میں پیدا ہونے والے خلل کو پورا کرنے (نقص کی تلافی) کے لیے کرتا ہے۔ اس کے اسباب تین ہیں: 1۔زیادتی 2۔کمی اور 3۔شک

ذیل میں ہر صورت کے احکام ومسائل علیحدہ علیحدہ پیش کیے جاتے ہیں:
محمد بن صالح العثیمین
2014
  • دسمبر
محترم و مکرم جناب مفتی دارالعلوم دیوبند السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ'
آپ کو معلوم ہے کہ خانۂ کعبہ اور مسجد ِنبوی میں نماز کے بعد اجتماعی دعا نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کے افتاء سے متعلق علماء ِکبار کی ایک مستقل کمیٹی کافتویٰ ہفت روزہ 'اہلحدیث' لاہور میں ۷ ؍فروری ۱۹۸۶ء کو چھپا تھا، اس کا اقتباس حاشیہ میں ملاحظہ کریں۔
محمد سرور
2004
  • اکتوبر
نماز میں سجدے میں جانے کی کیفیت
اونٹ کی مجموعی کیفیت اختیار کرنے کی ممانعت
رکوع وقومہ اور ان کے افکار سے فارغ ہو کر سجدہ کیا جا تا ہے جس کے لیے زمین پر پہلے ہاتھ پھر گھٹنے رکھنے کا طریقہ بھی مروج ہے اور پہلے گھٹنے اور پھر ہاتھ رکھنے کا بھی۔ ان دونوں طریقوں میں سے از روئے دلیل کون ساقوی و صحیح تر ہے اس امر کا جائزہ لینے کے لیے دونوں کے دلائل کا جائز ہ لینا ضروری ہے۔
پہلے ہاتھ رکھنے کے دلائل:۔
پہلے زمین پر ہاتھ اور پھر گھٹنے رکھنے والوں کے دلائل ہیں۔
(1)التاریخ الکبیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ ،ابو داود رحمۃ اللہ علیہ ،نسائی رحمۃ اللہ علیہ ،مشکل الآثاروشرح معانی الآثار ،دارمی رحمۃ اللہ علیہ ،دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ ،بیہقی رحمۃ اللہ علیہ ، محلی لابن حزم رحمۃ اللہ علیہ ،شرح السنۃ للبغوی الإعتبار فى الناسخ والمنسوخ من الآثار للحازمى و مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرما یا۔"إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه"(1)
"تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے بلکہ گھٹنوں سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے۔"
منیر قمر
1999
  • فروری
٭ نماز کےحوالے سےچنداہم سوالات 
٭ مسجد کی دان کاکرایہ لیا جائے یا نہیں ؟ 
٭ حجام کی کمائی ، حلال ہےیا حرام ؟ 
٭ خائن اورفریب کارکوامام بنانا جائز نہیں !! 
٭ حالتِ حمل میں بیک وقت تین طلاق کاحکم ؟ 
٭ کیافرماتےہیں علماء کرام قرآن وسنت کی روشنی میں ان مسائل کی باتب:
(1) اگرنماز عشاء کےساتھ ہی وتر پڑھ لیے جائیں توآخررات نفل پڑھنے کاکیا طریق کارہے؟ کیا ایک رکعت پڑھ کرسجدہ کرے یا نوافل ادا  کرے؟
(2) ایک اذان کاجواب دینے کی صورت میں دوسری طرف سےاذانیں ہورہی ہوں ، کیا ان کا بھی جواب دینا چاہیے یا ایک ہی اذان کاجواب کافی ہے؟ 
(3) کیا ( إن الينا إيابهم ثم إن علينا حسابهم ) کےجواب میں ’’ اللهم حاسبنى  حسابا يسيرا ،، کا ثبوت ہے؟ اوراگر ہے تو صرف امام جواب دے یامقتدی بھی جواب دیں ؟ 
(4) نمازی کےآگے سترہ نہ ہونے کی صورت میں چارپانچ صفیں چھوڑکرگزرناجائز ہے؟ آیا ا س کی دلیل میں کوئی حدیث ہے؟
ثنااللہ مدنی
1998
  • دسمبر
چند روز قبل ایک جامع مسجدمیں قاری صاحب مغرب کے بعد درسِ حدیث دے رہے تھے کہ انہوں نے بلوغ المرام سے مندرجہ ذیل حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

«عن أبي برزة الأسلمي... وکان يستحب أن يوخر من العشاء، وکان يکره النوم قبلها والحديث بعدها» (متفق علیہ)
نجیب الرحمن کیلانی
2003
  • اپریل