4۔ جہاں تک چوتھےنقطہ نظر کاتعلق ہے تو یہ انتہائی خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور ایک لحاظ سے اسے حکومتی نقطہ نظر سے گردانا جاسکتا ہے کیونکہ حکومت کے شرعی اداروں سے وابستہ ارکان اس کے سب سے بڑےمؤید ہیں۔ ان کے نزدیک اصل کام معاشرہ میں قوانین شرعیہ کی عملداری کا ہے، اس لیے موجودہ دور کے تقاضوں سے کماحقہ عہدہ برآ ہونے اور ترقی پذیر دنیا کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے کے لیے کسی حد تک ناگزیر ہے کہ
رفیق حسین نیازی
1983
  • دسمبر
وطن عزیز میں شریعت کی عملداری میں جو رکاوٹیں آج درپیش ہیں، ان سے کچھ کا تعلق تو براہ راست حکومت سے ہے۔لیکن اصل رکاوٹ جو ایک بہت بڑے بند کی طرح اس کا راستہ روکے ہوئے ہے وہ مختلف مکاتب فکر کے درمیان پائے جانے والے متنوع فقہی اختلافات ہیں۔ جب کہ چند فرقوں کا اس ضمن میں روّیہ بھی متشددانہ ہے۔ حکومت یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ یہ وہ مسئلہ ہے جس کا حل علم دین کے دعویداروں اور
رفیق حسین نیازی
1983
  • نومبر
شیخ نورالحق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (1073ھ)

حضرت شیخ نورالحق حضرت شیخ عبدالحق کے صاجزادے تھے۔ آپ 983ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے مکمل تعلیم اپنے نامور باپ سے حاصل کی۔ تکمیلِ تعلیم کے بعد آپ کو عہدہ قضاء پیش کیا گیا جس کو آپ نے قبول کر لیا اور آپ نے یہ کام بخیر و خوبی سر انجام دیا۔ مگر اس عہدۃ جلیلہ پر زیادہ عرصہ تک متمکن نہ رہے۔
عبدالرشید عراقی
1984
  • فروری
۱۹۲۳ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کی صورت میں خلافتِ اسلامیہ کا ادارہ ختم ہو گیا۔ ملحد و سیکولر ترک رہنما مصطفیٰ کمال پاشا نے اپنی ایک تقریر کے دوران آسمان کی طرف اپنا مکا لہراتے ہوئے خدا کو دکھایا او مسلمانوں میں پہلی دفعہ خدا کے تصور کو ریاست سے جدا کرنے کی بدعت کا آغاز فرمایا۔
محمد زبیر
2009
  • مئی
گذشتہ شمارے ميں بعض اُصولى تصورات كے نكهاركے بعد اس موضوع كے نماياں پہلووں كو چند سوالات (تنقیحات) كى صورت ميں ہم پيش كرتے ہيں جن پرمستقل بحث آگے آرہى ہے :
1. پارلیمانى اجتہاد سے مقصودپہلى مدوّن فقہوں پر كسى نئى تدوين كا اضافہ ہے يا كسى نئى فقہ كو قانونى حيثيت دے كر لوگوں كو اس كا پابند بنانا؟ جسے عربى ميں تقنين كہتے ہيں-
عبد الرحمن مدنی
2005
  • مئی
اس بل کو منظوری کے نفاد شریعت ایک مجریہ 1986ء کہا جائے گا۔○............ یہ سارے پاکستان پر فی الفور لاگو ہوگا۔شریعت بل کی تعریف: شریعت سے مراد اسلام کے وہ تمام اصول ہیں جیسا کہ قرآن وسنت میں درج ہیں۔شریعت کی بالادستی: کسی عدالت کے سامنے کسی معاملے کی سماعت کے دوران کوئی بھی فریق یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ قانون یا قانون کی کوئی شق، جس کا سماعت سے تعلق ہے، شریعت کے منافی ہے اس
عبدالرحمن مدنی
1987
  • جنوری
16۔اکتوبر 1985ء کو یہ قرار داد قومی اسمبلی نے اپنے اجلاس میں حکومتی پارٹی اور آزاد گروپ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت متفقہ طور پر منظور کی۔(1)  قومی اسمبلی متفقہ طور پر یہ قرار داد منظور کرتی ہے کہ اس کے آئندہ اجلاس میں ایک نئے دستوری ترمیمی بل کے ذریعے درج ذیل دستوری ترامیم کی جائیں۔(الف) : آرٹیکل نمبر 2 میں ''اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے'' کے بعد اضافہ کیا جائے کہ ''قرآن و سنت
اکرام اللہ ساجد
1986
  • اپریل
آج پاکستان خاک و خون میں نہا رہا ہے۔ ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارادشمن کون ہے۔ جب تک یہ تعین نہیں کرتے۔ ہم حالات کاصحیح جائزہ نہ لے سکیں گے۔ مندرجہ ذیل حقائق کو مدنظر رکھیں : جب سوات آپریشن شروع ہوا۔ ہمارے صدر امریکہ میں تھے۔اس کے بعد برطانیہ کے گورڈن براؤن کے ساتھ معانقے ہورہے تھے۔فرانس کے صدر کے ساتھ دوستیاں بڑھائی جارہی تھیں ۔
ادارہ
2009
  • جون
مدیر اعلیٰ 'محدث' حافظ عبدالرحمن مدنی حفظہ اللہ ایک اہم ملی مشن کی تکمیل کے لئے مئی ۲۰۰۹ء کے وسط میں عرب امارات کے دورے پر تھے۔ شارجہ میں 'جیو نیوز' کے مشہور پروگرام 'عالم آن لائن' میں اُنہیں سوات کی صورتحال پر تبادلہ خیال کی دعوت دی گئی۔ ملکی سطح پر اس انٹرویو کو خو ب سراہا گیا اور کئی بار نشر کیا گیا،
عامر لیاقت حسین
2009
  • جون
سوات میں 'نظامِ عدل ریگولیشن' کے بعد پاکستان بھر میں نفاذِ شریعت کی بحث ایک بار پھر تازہ ہو گئی ہے۔ 'نظامِ عدل' ریگولیشن کی حقیقی نوعیت سے ملکی اور بین الاقوامی میڈیا نے تو عوام کو تا حال متعارف نہیں کرایا بلکہ میڈیا تحریکِ نفاذ شریعت کے سربراہ صوفی محمد کے اَفکار کو اپنے طور پر اُچھالنے میں مشغول ہے۔
محمد امین
2009
  • مئی
15؍فروری 2009ء کو پاکستانی حکومت اور تحریک ِنفاذِ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین ہونے والے معاہدئہ امن اور نفاذِ شریعت کی ہر مسلمان نے حمایت کی حتیٰ کہ ملا فضل اللہ نے بھی کہا کہ اگر شریعت نافذ ہوجاتی ہے تو وہ اپنا مسلح احتجاج چھوڑ کر پرامن ہوجائیں گے، لیکن افسوس کہ اس معاہد ے کے دونوں فریقوں نے اس عظیم کامیابی کو ذمہ داری اور جہد ولگن سے نبھانے کی کوشش نہیں کی
حسن مدنی
2009
  • جون
گذشتہ دنوں مالا کنڈ ڈویژن (سوات دیر ،چترا ل ) کو ہستا ن (ہزارہ وغیرہ صوبہ سرحد کے بعض ریا ستی علاقوں میں نفاذ شریعت کی تحریک کا ایک غلغلہ اٹھا تو اسے قومی اور بین الاقوامی میڈیانے نما یاں حیثیت دی بالآخرگو رنر اور حکومت سر حد نے ایک نوٹیفکیشن مجریہ یکم دسمبر 1994ءکے ذریعے "نفاذ شریعت ریگولیشن " کا اعلا ن کر کے وقتی طور پر اس تحریک کا خاتمہ کر دیا ہے ہم اپنے ادارتی کالموں میں ادارہ محدث کے فاضل رکن ڈا کٹر محمود الرحمٰن فیصل کا اس پر ایک جا ئزہ شائع کر رہے ہیں جس کی تمہید میں چند گذارشا ت بطور یا د دہانی ہدیہ قارئین ہیں ۔
ادارہ
1995
  • مارچ
سوات میں نفاذِ عدل کے حوالے سے 'ملی مجلس شرعی' کا اجلاس 27؍ اپریل 2009ء بروز پیر بعد نمازِ مغرب جامعہ نعیمیہ، لاہور میں منعقد ہوا جس میں تمام مکاتبِ فکر اور مسالک کے نمائندہ علمائے کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ کی منظوری دی۔اجلاس میں مولانا ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی (جامعہ نعیمیہ)، مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی (جامعہ رحمانیہ)،
ادارہ
2009
  • مئی
ملک بھر میں اس وقت 'نظامِ عدل ریگولیشن' کا چرچا ہے اور دنیا بھر میں اسے موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں 15/فروری 2009ء کا وہ معاہدۂ امن جو اس نظامِ عدل کی اساس بنا، اور 13/ اپریل کو قومی اسمبلی کی قرار داد کے بعد صدر کے دستخطوں سے منظور ہونے والے نظامِ عدل ریگولیشن کے مسودے کا اُردو ترجمہ، ان دونوں کو ذیل میں شائع کیا جا رہا ہے۔
ادارہ
2009
  • مئی
دعوتِ دین کا مضبوط اور مؤثر نیٹ ورک چلانے والے ممتاز عالم دین، دانش ور، ماہر قانون اور جامعہ لاہور اسلامیہ، گارڈن ٹاؤن لاہور اور معروف علمی مجلّہ 'محدث' کے مدیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ نظریات اور جذبات کبھی فوجی قوت سے دبائے نہیں جا سکتے ہیں۔ اس قسم کے مسائل کا واحد حل ذہن سازی ہے۔ سوات میں جس طرح مولانا صوفی محمد کو بیچ میں ڈال کر طالبان کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی گئی،
عامر نجیب
2009
  • جون
ملک میں بحالی جمہوریت کے بعد نفاذ اسلام کی باتیں ایک بھولی بسری داستان ہوکر رہ گئی ہیں او رماضی قریب میں اس سلسلہ میں جو تھوڑی بہت پیش رفت ہوئی بھی، موجودہ ''ہاؤہو'' کے پُرشور نعروں میں اب اس کی صدائے بازگشت بھی سنائی نہیں دیتی۔یہ بات فراموش نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے۔ اس کی اٹھان ''لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ'' کی بنیادوں پر ہوئی، لہٰذا اس کی بقاء کا راز بھی انہی بنیادوں کی حفاظت
حافظ محمد سعید
1986
  • مئی
تحریک پاکستان سے ہی شریعت کی عملداری کا نعرہ گو بڑامقبول رہا ہے، لیکن 5 جولائی 1977ء کو برسراقتدار آنے والی حکومت نے یہ نعرہ اس زور و شور سےلگایا کہ عوام کویہ توقع ہونے لگی کہ ''تحریک نظام مصطفیٰؐ'' میں دی جانے والی قربانیوں کا ثمرہ انہیں عنقریب اور اسی دور حکومت میں ملے والا ہے۔ لیکن افسوس کہ اسلام کی عملداری کا خواب پھر بھی تشنہ تکمیل ہی رہا، اور آٹھ سال تک مسلسل ''اسلام، اسلام '' کی رٹ لگائے جانے کے
اکرام اللہ ساجد
1986
  • فروری
یہاں ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہےکہ اگر حنفی قانون نےدکانوں میں داخلہ کی عام اجازت کی وجہ سے ان کی چوری پر حد ختم کی ہے تو جس طرح مسجد سے مالک کی موجودگی میں چوری پر حد رکھا ہے دکانوں میں محافظ کی موجودگی میں چوری پربھی ضرور حد رکھی ہوگی۔ مگر اس سوال کا جواب دکانداروں کے لیے خوش کن نہیں، مایوس کن ہے اگرچہ چوروں کے لیے نہایت حوصلہ افزاء ہے، کیونکہ مسجد سے محافظ کی موجودگی میں
عبدالسلام بھٹوی
1986
  • جولائی
بات کو مکمل کرنے کے لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ حد باطل کرنے کے لیے باربار جس روایت کو دلیل بنایاگیا ہے اس کی حیثیت واضح کردوں او ریہ بھی واضح کردوں کہ اگر اسے صحیح مانا جائےتو مکمل روایت کیا ہے؟ جسے اگر مدنظر رکھاجاتا تو کسی کو تعطیل حدود (حدود ختم کرنے) کی جرأت ہی نہ ہوتی۔حقیقت یہ ہے کہ شبہ سے حد ہٹا دینے کی جتنی روایات ہیں، ان میں کوئی بھی رسول اللہ ﷺ تک ایسی سند سے نہیں پہنچتی
عبدالسلام بھٹوی
1986
  • اگست
وطن عزیز میں اس وقت نفاذ شریعت کا مطالبہ زوروں پر ہے او راس سلسلہ میں متفقہ ترمیمی شریعت بل کی منظوری کے لیے جملہ دینی مکاتب فکر کا ''متحدہ شریعت محاذ'' بھی تشکیل پاچکا ہے۔جس نے تھوڑے ہی عرصہ میں اسلامیان پاکستان کو اس اہم مسئلہ پر کافی حد تک منظم کردیا ہے کہ ملک میں لسانی، گروہی اور سیاسی اختلافات کی بناء پر داخلی امن و امان کا مسئلہ ہو یا خارجی محاذ پر ملک دشمنوں کی جارحیت کا خطرہ، ان تمام مسائل
حافظ بدر الدین
1987
  • جنوری
گزشتہ شمارہ (محدث مراچ 1986ء) میں ہم نے لکھا تھا کہ ''اسلامی مملکت کا دستور کتاب اللہ ہی ہوتا ہے، جس کی کامل اور متعین تعبیر سنت رسول اللہ ﷺ ہے او راسی کا نام شریعت ہے'' اسلامی دستور کے بارے میں یہی مؤقف ہم محدث کے ادارتی کالموں اور دیگر مضامین میں بھی ، موقع بہ موقع پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ لہٰذا اس کی تفصیلات میں تو ہم نہیں جائیں گے، لیکن چونکہ اپنے وعدہ کے مطابق (جو گزشتہ شمارہ میں ہم
اکرام اللہ ساجد
1986
  • اپریل
مار دھاڑ، قتل و غارت، خون آشامی اور دہشت پسندی، لسانی، قومی علاقائی بنیادوں پر فسادات، علیحدگی کی تحریکیں اور ''ملک توڑ دو'' کے نعرے ، چوریاں، ڈاکے، آتشزنی، لوٹ مار، فائرنگ اور دھماکے، مطالبات، ہڑتالیں ، جلسے جلوس، لاٹھی چارج، آنسو گیس، گرفتاریاں اور رہائیاں، بدعنوانی، لوٹ کھسوٹ، غبن، جھوٹ، منافقت اور ریا کاری، عریانی ، فحاشی، بے پردگی، بے حیائی، او راس کے نتیجے میں اغوا، زنا بالجبر اور آبروریزی، شراب
اکرام اللہ ساجد
1987
  • فروری
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
اس مضمون میں قرآن کریم اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت واہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے ایمان افروز قرآنی طرز عمل کی بعض جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔مسلمانوں کی دین ودنیاکی کامیابی قرآن پرعمل کرنے سے ہی مشروط ہے۔گذشتہ ماہ جورمضان المبارک کامقدس اور بابرکت مہینہ تھا،قرآن کریم کی تلاوت اور قیام اللیل میں اُس کی سماعت کا خاص اہتمام کیاجاتاہےاور قرآن کے فیوض وبرکات سے (؟) وافر اٹھایا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ اسی طرح قرآنی احکام اور تعلیمات کو بھی حرز جان بنائے اور اس پر عمل کے تقاضے پورے کرے تاکہ ہم اللہ کے دیئے گئے وعدوں کے حق دار بن سکیں۔قرآن پر عمل بجالانے کی اسی ضرورت واہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے یہ مقالہ شائع کیا جارہا ہے۔(ادارہ)
ثریا بتول علوی
1999
  • فروری
اہل علم وفکر اور ارباب دانش وتاریخ کے اجتماع میں یہ بات محتاج وضاحت نہیں کہ پاکستان کے قیام میں دیگر عوامل واسباب کیساتھ سب سے بڑاعامل اورعظیم سبب دوقومی نظریہ تھا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ برصغیر ہند میں دو بڑی قومیں آباد ہیں ایک ہندو اور دوسری مسلم۔ان دونوں کی تہذیب وثقافت،انکی تاریخ اور تمدن اور انکا مذہب ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ہندوستان سے انگریزی استعمار کے جانے کے بعد یہاں جو حکومت قائم ہوگی،اس میں مسلمانوں کو نمازیں،پڑھنے،روزےرکھنے اور دیگر عبادات کی ادائیگی کی تو یقیناً اجازت ہوگی۔لیکن مسلمانوں کا جو نظریہ زندگی ہے،جو زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہے،اس میں امور سیاست وجہاں بانی ہے،اقتصادومعیشت ہے،تہذیب وثقافت ہے،اخلاق وتجارت ہے،بین الاقوامی قواعد وضوابط ہیں،صلح وجنگ کے معیار اور پیمانے ہیں،حرب وضرب کے اصول ہیں۔غرض زندگی کے ہر معاملے میں اسلام اپنے مخصوص عقائد ونظریات کی روشنی میں انکی صورت گری کرتا اور مخصوص ہدایات دیتا ہے۔مسلمان ہندوستان کی قومی حکومت میں اپنے اس نظریہ حیات کو بروئے کار نہیں لاسکیں گے،وہ سیاست وجہاں بانی کے اصولوں کو اپناسکیں گے نہ اقتصاد ومعیشت کے ضابطوں کو۔وہ اپنی تہذیب وثقافت کو نافذ کر سکیں گے نہ اپنی تجارت اور کاروبار کے اصولوں کو۔وہ بین الاقوامی ضوابط میں اپنی اسلامی روح کی کارفرمائی دیکھ سکیں گے نہ داخلی معاملات میں اسکی کوئی جھلک انکو نظر آئے گی۔نتیجتاً ان کا مذہب اور انکا دین چند رسوم وعبادات تک محدود ہو کر رہ جائے گا،جب کہ اللہ نے اس دین اسلام کو پوری انسانیت کی ہدایت ورہنمائی کیلئے نازل کیا ہے بلکہ اسکی نجات اور ابدی سعادت کو صرف اور صرف اسی کیساتھ وابستہ کردیا ہے﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ ۗ ... ١٩﴾...آل عمران (1)"دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔"
﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٨٥﴾... آل عمران (2)"جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتاہے وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیاجائے گا،اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔"
صلاح الدین یوسف
1998
  • نومبر
'عدل و انصاف' کسی بھی مہذب معاشرے کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، پاکستانی قوم بھی اس وقت عدل کے دوراہے پر کھڑی ہے، جس کے قیام کے لئے ملک کی دو بڑی تحریکیں سرگرمِ عمل ہیں۔ ہر دو تحریکوں کا پس منظر، نوعیت اور ہدف گو مختلف ہے لیکن دونوں کا اساسی نعرہ اور مطالبہ 'عدل کا قیام' ہے۔ 15؍ فروری کو سوات میں شرعی نظامِ عدل کے قیام کا معاہدہ ہو، یا 15؍ مارچ کی شب ملک میں آزاد عدلیہ کا قیام، یہ دونوں اپنی اپنی نوعیت کے اہم سنگ ہائے میل ہیں جن کے اثرات تادیر
حسن مدنی
2009
  • اپریل