عبدالغفار حسن بن عبدالستار حسن بن عبدالجبار عمرپوری بن منشی بدرالدین بن محمد واصل

مورّثِ اعلیٰ کے بارے میں بتایا جاتاہے کہ شیخ حِبّان نامی ایک شخص جن کا تعلق مصر سے تھا، ہندوستان آکر آباد ہوگئے، ان کا اپنا شجرئہ نسب حضرت ابوبکر صدیقؓ تک پہنچتاہے۔ علم وتعلّم کی نسبت سے ہمارے پردادا عبدالجبار نے اس گھرانے کو دنیاے علم وفضل سے روشناس کرایا۔ آباؤاجداد مظفر نگر (یوپی) کے ایک مضافاتی قصبے عمرپور میں آباد تھے اوراسی نسبت سے 'عمرپوری' کہلائے۔ ننھیال کا تعلق رُھتک (کرنال) سے تھا، جہاں ابا جان کی پیدائش ہوئی۔

2007
  • مئی
ابا جان کے شجرہ میں اتنا حصہ تو معروف ہے:عبدالغفار حسن بن عبدالستار حسن بن عبدالجبار عمرپوری بن منشی بدرالدین بن محمد واصلمورّثِ اعلیٰ کے بارے میں بتایا جاتاہے کہ شیخ حِبّان نامی ایک شخص جن کا تعلق مصر سے تھا، ہندوستان آکر آباد ہوگئے،
صہیب حسن
2007
  • مئی
شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی جنوری 94ء) ماضی قریب کی ایک انتہائی سربرآوردہ علمی شخصیت تھے علم و عمل میں اسلاف کے جانشین اور برصغیر پاک و ہند کی جماعت کی علمی آبرو اور ان کے لیے سرمایہ افتخار۔ انکے فتاویٰ علم و تحقیق کا بہترین نمونہ ہوتے تھے جو اخبارات کی فائلوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کو مرتب اور یکجا کر کے شائع کیا جائے تاکہ ایک تو وہ دستِ برد زمانہ سے محفوظ ہو جائیں اور دوسرے عوام و خواص اُن سے استفادہ کر سکیں۔
شیخ عبید اللہ رحمانی مبارکپری
1999
  • جنوری
خاندانِ عمرپور کے چشم و چراغ اور ہندوپاک میں علم حدیث کی ترویج و فروغ کے ایک عالی دماغ، مولاناعبدالغفار حسن رحمانی عمرپوری رحمۃ اللہ علیہ 93برس آٹھ ماہ کی بھرپور زندگی گزار کر جمعرات 22 مارچ کی صبح اسلام آباد میں انتقال کرگئے۔ تعلیم و تعلّم کے اعتبار سے اُنہوں نے دار الحدیث رحمانیہ، دہلی سے سند ِفراغت حاصل کی۔
محمد اسحاق بھٹی
2007
  • اپریل
مولانا عبدالغفار حسن صاحب کو ہم نے بہت قریب سے تو نہیں ، البتہ قریب قریب سے بہت دیکھا ہے۔ ان کی علمی صحبتیں اُٹھانے کی سعادت بھی ملی۔ ان کی نشست و برخاست کا مشاہدہ بھی کیا۔ بہت سے علمی اجلاسوں میں ان کی گفتگو کو سنا اور ان کے علم سے بہت کچھ حاصل کیا۔رنگ پختہ، میانہ قد، درمیانی داڑھی، موٹی آنکھیں جن میں عالمانہ وجاہت کے ساتھ مؤمنانہ رُعب بھی جھلکتا تھا۔
قاری محمد طاہر
2007
  • دسمبر
ہمارے شیخ محترم رحمة اللہ علیہ کا شمار برصغیر پاک وہند کے اساطین العلم اور شیخ الشیوخ میں ہوتا ہے جن کی علمی،ادبی اور حدیثی خدمات تاریخ کا سنہرا باب ہے۔دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کے تلامذہ کا سلسلۂ ذہبی وسیع وعریض نظر آتا ہے جن کو احاطہ قلم میں لانا مشکل امر ہے۔یہ قبولیت ِعامہ کی ایک واضح اور بین دلیل ہے۔
حافظ ثناء اللہ مدنی
2007
  • مئی