قوموں کا عروج و زوال ، انحطاط و ارتقاء اور زندگی  کا دارومدار ان کی اپنی  تاریخ  پر منحصر ہے ۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنی تاریخ کے آہم و روش  ادوار پر گہر  رکھتی ہیں جو قوم اپنی تاریخ  کو بھلا  دتی ہے ۔ یقینا  وہ ایک دن زوال پذیر ہو جاتی ہے ۔
تاریخ اصل مین افراد کی حیات و ممات کے علاوہ تمدنی ، معاشی ، معاشرتی ، سیاسی مذہبی و اخلاقی اور دماغی کارناموں کا مرقع ہوتی ہے ۔ سوانح و تذکرے تاریخ ، ہی کا حصہ ہیں ۔ جن میں فرد کے خصوصی  کانامے ،مذہبی و اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتہ ان تمام افکار رو عوامل کیاسیر حاصل تذکرہ موجود ہوتا ہے ۔ جس کے ذریعہ فرد عوام کی  نگاہوں میں غیر معمولی مقبولیت و جاذبیت کا حامل ہوتا ہے ۔
سوانح  و تذکروں کی ترتیب کا دوسرا اہم مقصد یہ ہوتا ہے کہ فرد کے اہم کا رناموں  کی انجام دہی ملی و مذہبی عظیم  اصلاحی پہلوؤں کی طرف خیالات و افکار کا میلان فطری  و جبلی صلاحیتوں کی نشوونما اور کار ز ارحیات کے نشیب  و فراز کی واضح تصویر کو قارئین  کے سامنے لایا جائے ۔ نئی نسلیں  ماضی میں اپنے اسلاف کے حیات آفرین کارناموں سے واقفیت کے بعد ہی مستقبل کے لیے ٹھوس اور پائیدار لائحہ عمل معین کرتی ہیں ۔ اس میدان میں جب ہماری نظریں کسی مشہور و معروف شخصیت  کی تاریخ  سے مزین صحفہ پر پڑتی ہیں تو اچانک ایک ہمہ گیر شخصیت سامنے آجاتی ہے ۔ یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جس قوم کی  سطح ذہن پر آجاتی ہیں۔ اسی طرح ملتوں اور جماعتوں کی تاریخ کا حالہے ۔
عبدالرشید عراقی
1980
  • اپریل