زیر نظر مضمون ، آج سے تقریباًآٹھ نو ماہ قبل ''پاکستان ٹائمز'' میں چھپنے والے ایک مضمون (Mairaj-un-Nabi.Man at Spiriturel Summit)کے جواب میں ہے،........ مضمون کے آغاز میں ''پاکستان ٹائمز'' کے مذکورہ مضمون کا خلاصہ چند نکات کی صورت میں درج تھا، جس کی ابتدائی سطور پڑھ کر ہی ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ چنانچہ ضرورت محسوس ہوئی کہ اصل مضمون کو منگوا کر اس کا مطالعہ کیا جائے تاکہ پوری ذمہ داری 
عبدالرؤف ظفر
1983
  • اپریل
3۔ نبیﷺ نےاپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہؓ کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا تو منافقین اور مخالفین نے پروپیگنڈہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا، نبیؐ نے یہ نکاح خود نہیں کیا بلکہ ہمارے حکم سے کیا ہے:فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرً‌ۭا زَوَّجْنَـٰكَهَا لِكَىْ لَا يَكُونَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ حَرَ‌جٌ فِىٓ أَزْوَ‌ٰجِ أَدْعِيَآئِهِمْ إِذَا قَضَوْا۟ مِنْهُنَّ وَطَرً‌ۭا...﴿٣٧﴾...سورۃ الاحزاب''پھر جب زید کا جی اس سے بھر گیا تو ہم نے اس کا نکاح آپؐ سے کردیا تاکہ اہل ایمان کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سےنکاح کرنے میں کوئی حرج مانع نہ ہو، جبکہ وہ ان سے جی بھر چکے ہوں (یعنی طلاق دے چکے ہوں)''
عبدالرؤف ظفر
1983
  • جون
حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں پوری جرح و تعدیل کے ساتھ ان تمام روایات کو نقل کیاہے۔ پھر پچیس صحابہ کرامؓ کے اسمائے گرامی نقل کیے ہیں جن سے یہ روایات منقول ہیں۔ان کےاسماء یہ ہیں:حضرت عمر ؓبن خطاب، حضرت علیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت ابوذرغفاریؓ، حضرت مالک بن صعصعہؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت شدادؓ بن اوس، حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن قرصؓ، حضرت ابوحیہؓ، حضرت ابویعلیٰؓ
عبدالرؤف ظفر
1983
  • جولائی
نکتہ نمبر 6 مدینہ ہی مسجد اقصیٰ ہے:
بسلسلہ جنگ بدر سورۃ الانفال میں مذکورہ ’’العدوۃ الدنیا ‘‘ اور ’’العدوۃ القصویٰ‘‘ کے الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے اثری صاحب نے فرمایا ہے کہ:
’’بدر مکہ سے قصوٰی  ہوا او رجب یہ قصوٰی ہے تو مدینہ بالاولی قصوٰی ٹھہرا اور  اس کی مسجد (نبوی) اقصیٰ ہوئی۔ بلکہ وفاء الوفاء ج1 ص16 میں مطالع وغیرہ کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے کہ مدینہ طیبہ کے ناموں میں سے ایک نام اس کا مسجد اقصیٰ بھی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ 43)
صفحہ مذکورہ پر لفظ قصوٰی کی وضاحت میں اثری صاحب نےدرج ذیل حاشیہ بھی تحریر فرمایا ہے:
’’عجیب بات ہے کہ جس اونٹنی پررسول اللہ ﷺ نے سفر ہجرت طےفرمایا، وہ مدینہ پہنچ  کر مسجد نبوی کی جگہ بحکم خداوندی بیٹھ گئی اور اس کا نام قصوٰی (قصواء) قرار  پایا۔ اسی قصواء پر حضورﷺ نے بڑے بڑے سفر طے فرمائے۔‘‘
اس اصول کی رُو سے ہمارےنزدیک ’’قصوٰی‘‘ اور ’’بالاولیٰ قصوٰی‘‘ کی مزید تشریح یوں چلتی ہے: بدر مکہ سے قصوٰی ہو   اور جب یہ قصوٰی ہے تو مدینہ بالاولیٰ قصوٰی  ٹھہرا۔ اور بیت المقدس اس سےبھی زیادہ ’’بالاولیٰ قصوٰی‘‘ قرار پایا۔ کیونکہ بیت المقدس مدینہ سے  بھی زیادہ دور ہے۔ گویا اس دلیل کی رُو سے کہ اگر مدینہ کی مسجد نبوی، مدینہ کے قصوٰی ہونےکی وجہ سے اقصٰی ہے، تو بیت المقدس کی مسجد بالاولیٰ اقصٰی قرار پاتی ہے۔چنانچہ اثری صاحب کا یہ نکتہ بھی آپ کے خلاف ہی پڑتا ہے۔
عبدالرحمن کیلانی
1988
  • فروری
معراج النبیﷺ کی تاریخ میں دشواری کا سبب یہ ہےکہ ہجرت سے قبل سن اور تاریخ نہیں تھے، قرآن مجید میں لیلاً کا لفظ ہے، گویا رات کو ہونے میں کوئی شک نہیں اور یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ہجرت سے قبل یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا۔ قاضی سلیمان منصورپوری نے آنحضرتؐ کی 23 سالہ سیرت مبارکہ کی جنتری تیارکی ہے جس کے مطابق 52 ولادت نبویؐ 27 رجب المرجب کو شب معراج ہوئی۔ 27 رجب
عبدالرؤف ظفر
1983
  • اگست