ثبوت سماع موتیٰ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے!
1۔سماع موتیٰ کے باب میں قلیب بدر والی حدیث مشہور ومعروف ہے۔جو حضرت عبداللہ ابن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عمر ابن خطاب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت ابو طلحہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت  عبداللہ ابن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  جیسے کبار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے مروی ہے۔ان کی روایات بخاری مسلم شریف میں موجود ہیں۔
2۔میت جوتیوں کی آہٹ کی آوازسنتا ہے۔یہ حدیث بھی سماع موتیٰ پر دلالت کرتی ہے یہ حضرت انس بن مالک  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت براء بن عازب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سےمروی ہے۔
3۔ترجمہ۔طبرانی نے اوسط میں عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے نقل کیا اور حاکم وبیہقی نے حضرت ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کیا حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب احد سے مراجعت فرماہوئے توحضرت مصعب ابن عمیر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور ان کے ساتھیوں کے مزارات پرتشریف لے گئے اور فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہو پر اپنے امتیوں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور بعد میں آنے والوں کوحکم فرمایا کہ ان شہداء کرام کی زیارت کرو...
عبدالرحمن کیلانی
1985
  • مئی
٭ کیا مسجد میں یا مسجد کے صحن میں قبر بنانا جائز ہے؟
میرے عزیز مسلمان بھائیوں اور نماز پڑھنے والو، نمازوں کو قائم کر کے، اس کا خاص اہتمام کرتے اور اس کے ذریعے اللہ کی رضامندی کے متلاشیو! ۔۔ تمہارا بڑے اِہتمام سے نماز پڑھنا اس امر کی دلیل ہے کہ تم اپنے دین کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتے ہو، رب کی رضامندی چاہتے ہو۔ تمہیں مساجد میں نماز باجماعت پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے جیسا کہ نبی کریم کی یہی سنت ہے۔ اس کے ساتھ اس بات کا خاص التزام ضروری ہے کہ مسجد میں، اس کے صحن میں یا اس کے میدان میں کوئی قبر نہ ہو کیونکہ اسلام کی رو سے مسجد اور قبر کبھی یکجا نہیں ہو سکتے۔
٭ ہمارے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت سے فرمایا کہ
"اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا چھوڑا"
عزمی جوابرہ
1999
  • اپریل
ان القبر اول منزل من منازل الاخرة(الحديث)

پُر رونق اور زندگی سے بھر پور بستیوں میں سے رہنے والوں میں سے شائد ہی کوئی شخص ایسا ہوگاجس نے کسی شہر خموشاں کا نظارہ نہ کیا ہوگا۔۔۔۔اورشائد ہی کوئی بستی ایسی ہوگی،جس کے دامن میں مشاغل حیات سے لا تعلق اور زندگی کے ہنگاموں سے بے نیاز،مہیب اورجامد سناٹوں کے درمیان ہُو کے عالم میں،
اکرام اللہ ساجد
1984
  • اپریل
  • مئی