زکواۃ کا انکار؟

حدیث سے انحراف اور قرآن میں تحریف!

مسٹر غلام احمد صاحب پرویز کے نظریات کا پرچارک ماہنامہ"طلوع اسلام" جس کا مشن ہی اسلامی مسلمات کا انکار اور ان کی دوراز کارکیک تاویلات ہے۔
صلاح الدین یوسف
1992
  • اکتوبر
۲۰۰۲ء کے ماہ مارچ اور پھر ماہ مئی کے دوران وطن عزیز کی پاک سرزمین اپنے دو ایسے فرزندانِ جلیل کے لہو سے گل رنگ ہوئی جن کی شہادت نے اہل و فکر ونظر کو بے تاب وبے قرار کردیا۔ مملکت خدادادِ پاکستان میں امر ربی کے قیام اور تسلسل کا خواب دیکھنے والی آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور اس ملک کے طول و عرض میں قرآن و سنت کی سرفرازی کا ارمان رکھنے والے دل مجروح ہوکر رہ گئے!!
ظفر علی راجا
2002
  • جون
مرکزی جمیعت اہلحدیث پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور ملی یکجہتی کونسل کے بانی رہنما میاں فضل حق 12-13 جنوری کی درمیانی شب حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔ انا لله وانا اليه راجعون

میاں فضل حق کا نام تاریخ پاکستان میں سنیرہ حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں بڑی جوانمردی کے ساتھ بھرپور خدمات سرانجام دیں۔
محمد بلال حماد
1996
  • جنوری
زیر نظر مضمون مرحوم کی سب سے چھوٹی صاجزادی (زوجہ مولانا عبدالقدوس سلفی، جو طالبات کی معروف دینی درسگاہ "مدرسہ تدریس القرآن و الحدیث" کی مدیرہ ہیں کے آپ کی وفات پر فوری تاثرات و جذبات پر مشتمل ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ مضمون کچھ ذاتی حوالوں اور یادوں پر مبنی ہے، قارئین کے لئے بصیرت افروز ہے۔ مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کے تفصیلی حالات، کتب کا تعارف، معمولات زندگی اور دینی و جماعتی خدمات کا تعارف "مستقل نمبر" میں ملاحظہ فرمائیے۔
ام عبدالرب
1996
  • جنوری
تاریخِ اسلام کے ابتدائی دور سے ہی کسی نہ کسی شکل میں کچھ گروہ، دین کی تخریب کاری اور امتِ مسلمہ میں انتشار و افتراق کے ذمہ دار رہے ہیں۔ اس گروہ کے مختلف طبقات میں سے ہمیں دو طبقے ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے ادعائے اسلام کے باوجود اسلامی تعلیمات کو شدید مجروح کیا اور اپنی مشقِ ستم کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سے ایک طبقہ "اہل تشیع" یا "شیعہ" کے نام سے معروف ہے۔ اور دوسرا "اہل تصوف" یا "صوفیاء" کے نام سے۔
غازی عزیر
1985
  • فروری
امیر المومنین حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے متعلق خمینی کے جو افکار ہیں وہ بھی قابل ذکر ہیں۔ذیل میں ان کی تحریر سے چند اقتباسات نقل کئے جارہے ہیں:
"ایسے حاکم کو عامۃ الناس پر تدبیر مملکت اور تنفیذ احکام کے وہ تمام اختیارات حاصل ہوں گے۔جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امیر المومنین حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو حاصل تھے۔خصوصاً بوجہ اس فضیلت اور علو مرتبت [1] کے جو اول الذکر کو رسول خدا اور ثانی الذکر کو امام ہونے کی حیثیت سے حاصل تھا۔"(الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی ترجمہ مولانا محمد نصر اللہ خاں ص117) اورفرماتے ہیں کہ:"اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جملہ اہل ایمان کا ولی بنایا ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی  یہ روایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے ہر شخص پرحاوی [2]ہے۔"آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امام(حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  )  اہل ایمان کے ولی ہیں۔دونوں کی ولایت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے شرعی احکام جملہ اہل ایمان پر نافذ ہیں۔ولایۃ وقضاۃ کا تقرر بھی انہی کے ہاتھ میں ہے اور حالات کے تقاضے کےمطابق ان کی نگرانی اور معزولی بھی انہی کے دارئرۃ اختیار میں ہے۔"(الحکومت الاسلامیہ للخمینی ص119)
غازی عزیر
1985
  • مارچ
حِوار سے مراد باہمى گفتگو، كسى عنوان پر مباحثہ كرنا اوركسى موضوع سے متعلق سوال و جواب كرنا ہے،كيونكہ حِوار باب مفاعلة كا مصدر ہے جس ميں مشاركت كا معنى پايا جاتا ہے- حَاوَرَ يُحَاوِرُ مُحَاوَرَةً وَّحِوَارًَا قرآن مجيد ميں يہ لفظ اسى مفہوم ميں وارد ہوا ہے: سورة الكہف ميں دو بهائيوں كا تذكرہ كرتے ہوئے اللہ تعالىٰ ارشاد فرماتے ہيں :
وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ‌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُ‌هُ أَنَا أَكْثَرُ‌ مِنكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرً‌ا ﴿٣٤﴾وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَـٰذِهِ أَبَدًا ﴿٣٥﴾ وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّ‌دِدتُّ إِلَىٰ رَ‌بِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرً‌ا مِّنْهَا مُنقَلَبًا ﴿٣٦﴾ قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُحَاوِرُ‌هُ أَكَفَرْ‌تَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِن تُرَ‌ابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَ‌جُلًا ﴿٣٧...سورۃ الکہف
2005
  • ستمبر
غار جبل الثور کے دہانہ پر رونما ہونے والے معجزات کا جائزہ

عام طور پرمشہور ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے ہجرت کا اذن مل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے آغاذ میں اپنے رفیق سفر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جبل الثورکے غار میں تین رات تک پوشیدہ رہے
غازی عزیر
1992
  • جنوری
'محدث' کا شمارہ مارچ ۲۰۰۲ء نظر نواز ہوا جس میں فکر ونظر کے ادارتی کالموں میں "بھارتی مسلمان اور ہم! " کے عنوان سے بھارتی مسلمانوں کی حالت ِزار کے پیش نظر ملت ِاسلامیہ کو سنجیدہ توجہ دلائی گئی ہے اور پاکستان کی اساس 'دو قومی نظریہ' کی بنیاد پر اسے پاکستان کا خصوصی مسئلہ قرار دیا گیا ہے ۔
مبشر حسین
2002
  • اپریل
فروری سئہ 88ء کا محدث پیش نظر ہے۔ مذکورہ مضمون "معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منکرینِ معجزات کے اعتراضات کا جائزہ" میں مولانا کیلانی نے:

1۔ تاریخِ مدینہ کی معتبر کتاب "وفاء الوفاء" کے مصنف سمہودی (م 911ھ) کے متعلق لکھا ہے:

"صاحبِ وفاء الوفاء سمہودی دسویں صدی ہجری کے ایک مصنف ہیں، جنہوں نے مدینہ منورہ کے 94 نام لکھ مارے ہیں۔ اس سے "سمہودی" کی بے کار دماغ سوزی کا پتہ چلتا ہے۔"
سعید مجتبیٰ سعیدی
1988
  • جون
مسئلہ خلق قرآن

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفات میں سے ایک صفت اور غیر مخلوق ہے۔ سلف صالحین رحمة اللہ علیھم اور ائمہ اہل السنة والجماعة کا یہی عقیدہ ہے۔ جبکہ جھمیة اور معتزلہ نے اپنے "اصول توحید" کے پس پردہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا بھی انکار کرتے ہوئے اسے مخلوق گردانا ہے اور کہتے ہیں کہ
عبدالقوی لقمان
1996
  • جنوری
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَما لَهُم بِهِ مِن عِلمٍ ۖ إِن يَتَّبِعونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لا يُغنى مِنَ الحَقِّ شَيـًٔا ﴿٢٨﴾ فَأَعرِ‌ض عَن مَن تَوَلّىٰ عَن ذِكرِ‌نا وَلَم يُرِ‌د إِلَّا الحَيو‌ٰةَ الدُّنيا ﴿٢٩﴾ ذ‌ٰلِكَ مَبلَغُهُم مِنَ العِلمِ ۚ إِنَّ رَ‌بَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبيلِهِ وَهُوَ أَعلَمُ بِمَنِ اهتَدىٰ ﴿٣٠﴾... سورةالنجم
عبدالقوی لقمان
1995
  • نومبر
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَدَّ كَثيرٌ‌ مِن أَهلِ الكِتـٰبِ لَو يَرُ‌دّونَكُم مِن بَعدِ إيمـٰنِكُم كُفّارً‌ا حَسَدًا مِن عِندِ أَنفُسِهِم مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُمُ الحَقُّ...﴿١٠٩﴾... سورة البقرة

ترجمہ بہت سے ہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کا فر بنا دیں ۔حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔
عبدالقوی لقمان
1993
  • اگست
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی راہنمائی اور قیادت کے لئے انبیاء کرام علیھم السلام جیسی مقدس اور پاکیزہ ہستیوں کو مبعوث فرمایا اور اس کی ابتداء ابوالبشر جناب آدم علیہ السلام سے فرمائی اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ مقرر فرمایا:

﴿وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ إِنّى جاعِلٌ فِى الأَر‌ضِ خَليفَةً...﴿٣٠﴾... سور ة البقرة
عبداللہ دامانوی
1995
  • اکتوبر
جب سے پاکستان میں اقامتِ دین کا موجودہ عمل ہوا ہے، اس وقت سے ہمارے چند دانشور ایک الجھن اور خلجان میں مبتلا ہیں۔ ان کی ذہنی پریشانی یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو اسلام سے محبت کرتے ہیں اور دوسری طرف معاصر فکر و فلسفہ سے بھی متاثر ہیں۔۔۔اسلام سے تعلقِ خاطر رکھنے کے باوجود عصرِ جدید کے نظریات و نطامہائے حیات اور مغربی تہذیب و تمدن سے ترک، تعلق آسان کام نہیں ہے۔ اور اسی کشمکش میں وہ آج کل اپنے آپ کو ایک دوراہے پر کھڑا پاتے ہیں۔
عبدالمجیب
1985
  • جنوری
کچے پکے سیاست دانوں او رکچھ مذہبی رہنما بھی اپنے بیانات میں اس بات کا برملا اظہار کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے کہ فی الحال اسلامی تعزیرات کو نافذ نہ کیا جائے۔ عبوری حکومت نےجب کوڑوں کی سزا کا آغاز کیاتو ملک میں ایک شور برپا ہوگیا۔ایک دہائی اور پکار تھی ۔ غریب مارے گئے! سرمایہ دار بچ گئے جب تک معاشرے کے حالات سازگار نہیں ہوجاتے، ملک سے غربت کاخاتمہ نہیں ہوجاتا۔
عبد الحفیظ منیر بھٹوی
1978
  • مارچ
  • اپریل
5۔اسلامی فقہ نے فیصلہ دو منصفوں اور ججوں کے سپرد کیا ہے،ان میں سے ایک دنیوی ہوتا ہے جو ظاہری امور کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے،دوسرا اخروی ہوتا ہے،یہ حقیقت اور اصل واقعہ کے متعلق ہوتا ہے بخلاف وضعی نظام کے،کیونکہ اس میں عموماً ظاہری حالات کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے خواہ نفس الامر کے خلاف ہو۔

6۔اسلامی فقہ کا قانون اخلاق کے مطابق ہوتا ہے اور انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے موافق!کیونکہ اخلاق سے انسان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
سیف الرحمن الفلاح
1984
  • اپریل
  • مئی
انسانی فطرت ہے کہ اپنے خیالات ومحسوسات کو دوسروں تک پہنچایا جائے اور خوددوسروں کے حالات سے آگاہی حاصل کی جائے۔باخبر رہنا انسان کی بنیادی خواہش ہے۔چنانچہ نسل انسانی کی ابتداء سے ہی"ابلاغ" سے مراد دوسروں سے بات چیت،ان پر اپنا مطلب واضح کرنے اور اپنے خیالات وتصورات دوسروں تک پہنچانا ہے۔انسان نے ابلاغ کے عمل کو موثر بنانے کےلئے تہذیب کے مختلف ادوار میں ابلاغ کے مختلف ذرائع استعمال کئے ہیں۔
طاہر شیخ
1992
  • اکتوبر
کتابوں کے لیے مخصوص کمروں میں دیوار سے لگی ہوئی الماریاں قدِ آدم ہوتی تھیں تاکہ اوپر کے حصے میں سے کتابیں نکالنے کے لیے خطرناک سیڑھیاں لگانے کی ضرورت نہ پڑے۔ ان تمام الماریوں میں ڈھکن لگے ہوتے تھے جو بعض دروازوں کی طرح تھے اور بعض اوپر سے نیچے کھینچ کر مقفل کر دیے جاتے تھے۔ اس طرح گرد و غبار سے کتابیں بچ جاتی تھیں۔ کہیں تازہ ہوا کا گزر نہ ہونے کی وجہ سے دیمک ان کو چاٹ جاتی تھی۔
جمیل احمد رضوی
1982
  • مارچ
جھاد اسلام کی بلند چوٹی ہے لہذا اس کا جذبہ اسلام کی بقاء اور ترقی کی کلید ہے۔ مسلمان اقلیتوں (بلکہ بوسنیا اور چیچنیا وغیرہ مسلمان اکثریت والے علاقوں) کے خلاف ننگی جارحیت کا اعتراف تو سیکولر ممالک بھی کرنے پر مجبور ہیں لیکن دوسری طرف یہی لادین قوتیں (اقوام متحدہ جیسے مشترکہ عالمی ادارے سمیت) نہ صرف اس ظلم و ستم کے خلاف کوئی عملی کاروائی کرنے سے گریز کر رہی ہے بلکہ اس سلسلہ میں "جہاد" کے نام پر کاروائیاں انجام دینے والوں کو دہشت گرد قرار دینے سے بھی نہیں چوکتیں۔
عبدالرحمن کیلانی
1995
  • اکتوبر
سوشلزم یا کمیونزم کیسا نظام ہے؟پرویز صاحب نے اس کا جواب بڑی تفصیل سے اپنی مختلف کتب میں دیا ہے۔

کمیونزم کا جوتجربہ روس میں ہورہا ہے نوع انسانی کے لئے بدترین تجربہ ہے۔جس میں اول تو انسانی زندگی اور حیوانی زندگی میں فرق نہیں کیا جاسکتا۔دونوں کی زندگی محض طبعی زندگی سمجھی جاتی ہے۔جس کاخاتمہ موت کردیتی ہے۔لہذا اس میں انسانیت کے تقاضے طبعی تقاضوں سے زیادہ کچھ نہیں سمجھے جاتے۔
محمد دین قاسمی
1989
  • جون
دس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جب ایک قلیل طبقہ کے متعلق مختلف پہلوؤں سے بحث و تحقیق کا آغاز ہوا۔ آج کی فرصت میں ہم اس طبقہ کےمتعلق نئی،پرانی، مطبوعہ و غیر مطبوعہ کتب او ردستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کے سربستہ اسرار ورموز سے پردہ اٹھائیں گے۔

اس مقالہ کا مقصد یہ ہے کہ ہر صاحب عقل و فہم، تمام دنیا کی داخلی و خارجی سیاست میں''فری میسن'' کے پھیلے ہوئے اثرونفوذ اورعزائم سے آگاہ ہوسکے
عبدالرحمن کیلانی
1979
  • جنوری
  • فروری
قرآن کے جعلی پرمٹ پر نام نہاد"نظامِ ربُوبیّت"کامنزل بمنزل نفاذ

پرویزصاحب،زندگی بھر،جہاں اشتراکیت کو"نظامِ ربوبیت"کے نام سے مشرف باسلام کرنے میں کوشاں رہےہیں،وہاں وہ امّتِ مسلمہ کو یہ باور کروانے کی ناکام کوشش بھی کرتے رہے ہیں کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلّم نے اسی نظام کو بتریج نافذفرمایاتھا،جو اموال واراضی کی شخصی ملکیت کی نفی پر قائم تھا،
محمد دین قاسمی
1989
  • مئی
ألحمد لله رب العالمین، والصلاة والسلام علی نبینا محمد وعلی آله و صحبه ومن تبع سنته إلی یوم الدین۔ وبعد ، یخطیٔ کثیرا من یظن أن الرأسمالیة والإشتراکیة نظامان إقتصادیان فحسب، ویحسب أنھما لا یبحثان أو لا یتعرضان للنواحی الأخری، کالنواحی الاجتماعیة والسیاسیة والدینیة ۔۔۔۔ الخ۔ والإشتراکیة شئیأ، لأن حقیقة کل منهما غیر مخفیة أو مستورة۔ فهی ظاهرة بل واضحة کل الوضوح فی الکتب ألتی ألفها أصحاب هذین المذهبین، فبینوا حقیقة کل منهما مفصلا وموضحا۔
ادارہ
1971
  • مارچ
دنیا میں بہت سی اقوام پائی جاتی ہیں ان کے اپنے اپنے قواعد و ضوابط بھی ہیں اور بہت سے مذاہب ہیں جن کے اپنے اپنے اصول ہیں ان میں ایک اسلام بھی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ باقی تمام مذاہب دنیا سے یکے بعد دیگر نیست و نابود ہوتے جارہے ہیں اور ان کی جگہ دوسرے مذاہب جنم لے رہے ہیں؟ لیکن ایک اسلام ہے کہ 14 سو سال قبل سے لے کر آج تک جوں کا توں موجود ہے یہ کیوں؟ اس لیے کہ اس کے اصول ابدی ہیں جو کہ ہر زمانے میں موجود رہتے ہیں۔
عبد الحفیظ منیر بھٹوی
1977
  • اپریل