پاکستان کے معروف محقق پروفیسر ڈاکٹر شیر محمد زمان چشتی کے سالہا سال کے مطالعہ اور علمی تجربہ کا نچوڑ 'نقوشِ سیرت' ہے جو 234 صفحات پر مشتمل ہے۔ خوبصورت جلد میں یہ کتاب نہایت دیدہ زیب ہے۔ 2007ء میں اسے 'پروگریسو بکس' اُردو بازار لاہور نے شائع کیا ہے۔کتاب کی ابتدا میں ملک کے معروف سکالر اُستادِ محترم پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی رحمة اللہ علیہ، معروف ادیب اور عربی زبان کے فاضل اجل پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی اورممتاز دانش ور پروفیسر عبدالجبار
عبدالرؤف ظفر
2009
  • فروری
صفحات:432 ... مصنّفین: ڈاکٹر مفتی عبد الواحد و مفتی شعیب احمد

عمار خان ناصر صاحب کا تعارف یہ ہے کہ وہ پاک و ہند کی مشہور علمی شخصیت مولانا سرفراز خان صفدر﷫کے پوتے اور دوسری مشہور شخصیت مولانا زاہد الراشدی﷾ کے صاحب زادے ہیں۔ گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے ماہ نامے 'الشریعہ'کے مدیر ہیں۔
مفتی عبداللہ
2014
  • اپریل
تقدیر پر ایمان لانا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اسلام کے ارکانِ خمسہ کے طرح ایمانیات میں چھ چیزیں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہونے پر ایمان لانا شامل ہے۔ اس چھٹی شے تقدیر پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ دیگر پانچ ارکان کے بغیر تقدیر پر ایمان کا پورا ہونا ممکن نہیں، ایسے ہی تقدیر کے بغیر باقی چیزوں پر ایمان کو بھی مکمل نہیں کہا جاسکتا۔
تاج الدین الازہری
2010
  • جنوری
دینی رسائل وجرائد نے 'فتنہ انکارِ حدیث' کی تردید میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ رسائل میں شائع ہونے والے مضامین کا یہ امتیاز ہے کہ ان میں معاشرتی رجحانات پر ماہ بہ ماہ تنقید و تبصرہ ہوتا رہتا ہے اور ان کے ذریعے معاشرے میں پائے جانے والے افکار کی ساتھ ساتھ وضاحت و تردید او رمطلوبہ ذہن سازی کی جاتی ہے۔
حسن مدنی
2002
  • اگست
  • ستمبر
مصنّف : پروفیسر خورشید عالم ...صفحات: 560 ... اشاعت: 2011ء
پیش نظر کتاب کے اس جائزے کی مصنفہ برسہا برس گورنمنٹ کالج برائے خواتین سمن آباد میں علوم اسلامیہ کی تدریس کے بعد اسی شعبہ کی سربراہی پر فائز رہنے کے ناطے اس میدان میں وسیع تجربے کی حامل ہیں۔
ثریا بتول علوی
2012
  • نومبر
اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں میں یہ بات مسلم رہی ہے کہ حدیث ِنبوی قرآن کریم کی وہ تشریح اور تفسیر ہے جو صاحب ِقرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوئی ہے۔ قرآنی اصول واحکام کی تعمیل میں جاری ہونے والے آپ کے اقوال و افعال اور تقریرات کو حدیث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم ہماری راہنمائی اس طرف کرتا ہے
محمد اسلم صدیق
2002
  • مارچ
"مجلس التحقیق الاسلامی" کے زیرِ اہتمام ہر سال قانون و شریعت کنونشن منعقد ہوتا ہے، لیکن گذشتہ سال مجلس نے کنونشن کے بجائے دس روزہ سیمینار کا انعقاد کیا تھا ۔۔۔ زیر نظر مقالہ ، جو اس سیمینار میں پنجاب یونیورسٹی کے لائبریرین جناب سید جمیل احمد صاحب رضوی نے پڑھا تھا، اپنی افادیت کی بناء پر ہدیہ قارئینِ "محدث" ہے۔ (ادارہ)
اسلامی کتب خانوں کو زیرِ بحث لانے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کتب خانہ جس ادارہ کی ایجنسی ہے، اسلام میں اس کی اہمیت کیا ہے ؟[1] اگر ہم اس پہلو کو پہلے جان لیں، تو پھر یہ سمجھنا آسان ہو گا کہ اسلام میں کتب خانوں کی کیا اہمیت ہے اور مسلمانوں نے اپنی تہذیب و ثقافت کے عروج کے دور میں اس طرف کتنی توجہ مبذول کی؟
اسلام میں علم کی اہمیت: ۔۔۔ لائبریری جس ادارہ کی ایجنسی ہے، وہ علم ہے اور اسلام نے علم کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ قرآنِ حکیم کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ جنابِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر جو سب سے پہلی وحی نازل ہوئی، اس میں پڑھنے کا ذکر تکرار کے ساتھ موجود ہے۔ تعلیم اور آلاتِ تعلیم میں سے قلم کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ سورہ علق میں ارشادِ رب العزت ہے:
﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴿٣﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿٤﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾...العلق 
"(اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھئے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ اسی نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سے تعلیم دی اور انسان کو وہ کچھ سکھا دیا جو وہ نہ جانتا تھا۔"
جمیل احمد رضوی
1982
  • جنوری
کتاب"اشاریہ تفہیم القرآن" نظر سے گزری۔فاضل مرتبین جناب پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی صاحب ڈائیرکٹر ادارہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور اور آنسہ پروفسیر ڈاکٹر جمیلہ شوکت صاحب چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کسی تعارف کی محتاج نہیں۔انہوں نے بجا طور پر بروقت اہل علم،ریسرچ سکالرز،قرآن وسنت کے طالب علموں اور دین کاشغف رکھنے والوں کی آواز پر لبیک کہا اور"تفہیم القرآن" کا اشاریہ  ترتیب دے کر علمی اضافہ کیا۔
واقعتاً قرآن سے استفادہ کرنے اور خصوصاً "تفہیم القرآن" سے مستفید ہونے کےلئے اشاریہ کی ضرورت ایک مدت سے محسوس کی جارہی تھی مگر اس میں کوئی صاحب علم آگے نہ بڑھا حتیٰ کہ "الفضل للمقدم"کے مصداق یہ سعادت فاضل مرتبین کے حصے میں آئی۔جس کے لئے وہ تمام اہل علم کی طرف سے مبارکبار کے مستحق ہیں۔جزاھما اللہ عنا خیرا الجزاء
چودھری عبدالحفیظ
1995
  • مئی
  • جون
خوارزم جمہوریہ ازبکستان (روس) کا ایک اہم صوبہ ہے جہاں عہد اسلام میں بے شمار اہلِ علم نے جنم لیا۔ خیوہ اس صوبہ کا مرکزی شہر ہے۔ مامون الرشید کے دور کا مشہور منجم اور الجبرا کا ماہر محمد بن موسیٰ الخوارزمی اسی مردم خیر خطے میں پیدا ہوا۔ مشہور محدث محمد بن محمود خوارزمی (م ۶۶۵ھ) اسی علاقے سے نسبت رکھتے ہیں اور معلمِ ثانی ابو نصر فارابی کا مولد ''فاراب'' اسی علاقے میں واقع ہے۔
اختر راہی
1973
  • ستمبر
شریعت کے مقاصد پر کئی عظیم تصانیف پائی جاتی ہیں جن میں سرفہرست امام الشاطبی ؒ کی 'الموافقات' ہے۔ عزالدین بن عبدالسلام کی 'القواعد الکبریٰ' اور امام ابن قیم ؒکی 'اعلام الموقعین' بھی اسی فن سے متعلق ہیں۔ ابن عبدالسلام کے شاگرد امام القرافی کی کتاب 'الفروق' نے بھی اسی موضوع پر شہرت پائی ہے۔ اس کتاب میں ۲۷۴ فروق کا ذکر کیا گیا ہے۔
صہیب حسن
2011
  • جنوری
تالیف: حافظ صلاح الدین یوسف﷾

صفحات: 287... ناشر:اُمّ القریٰ پبلی کیشنز، سیالکوٹ روڈ، فتومند، گوجرانوالہ

حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی ہستیِ گرامی دنیاے علم و تحقیق میں عموماً اور جماعت اہل حدیث میں خصوصاً چنداں محتاجِ تعارف نہیں۔ محترم حافظ صاحب مبدءِ فیض سے بے شمار خوبیوں اور صلاحیتوں سے بہرہ مند ہیں۔
طاہر الاسلام
2014
  • فروری
میں نے ''شاہنامہ بالاکوٹ'' شروع سے آخر سے آخر تک پڑھ ڈالا ہے۔ مجھے سب سے زیادہ جس چیز نے متاثر کیا، وہ اس کا عنوان ہے۔مصنف نےایسے لوگوں کو یاد کیا ہے جس کا حق بہت زیادہ فائق تھا اور جن کی طرف سے ہمارے تمام شعراء دانستہ یا نادانستہ مجرمانہ چشم پوشی کررہےتھے۔بالاکوٹ کے یہ باعزیمت جانباز مجاہد اگر یاد آوری اور فخر کے قابل نہیں تو پھر کون لوگ ہوسکتے ہیں؟ یہ تحریک بھی اپے عوامل و 
اسرار احمد سہاروی
1987
  • مارچ
کتاب: ہمارے فرائض اور ہمارے حقوق

مؤلفہ: حافظ نذر احمد، پرنسپل شبلی کالج لاہور

صفحات: بڑا کتابی سائز 36*23/16 : 336 صفحات
اکرام اللہ ساجد
1982
  • مارچ
حدیثِ جاں (حمد و نعت)

نتیجہ فکر جناب راسخ عرفانی

ضخامت 112 صفحات، کاغذ و طباعت اعلیٰ
اکرام اللہ ساجد
1982
  • مئی
  • جون
رسالہ منطق۔از مولانا حافظ عبداللہ محدث غازی پوری ؒ ف1337ھ)

صفحات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔88۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قیمت8/۔

پتہ۔فاروقی کتب خانہ بیرون بوھر گیٹ ملتان شہر
اکرام اللہ ساجد
1984
  • اگست
صبح صادق

از مولاناعبدالرحمن عاجز مالیرکوٹلوی

ضخامت:112صفحات۔دیدہ زیب مضبوط جلد
طالب ہاشمی
1982
  • نومبر
نام کتاب: شرف المسلم

تالیف: الدکتور محمد اسحاق (مدینہ منورہ)

ضخامت: 108 صفحات
اکرام اللہ ساجد
1985
  • جنوری
خلاصہ مضامینِ قرآنی

مرتب: مولانا ملک عبدالرؤف

نظر ثانی: حافظ نذر احمد
اختر راہی
1985
  • فروری
نام کتاب۔دعوت واصلاح کے چند اہم اصول۔قرآن و حدیث کی روشنی میں۔

مصنف۔قاری نعیم الحق صاحب نعیم۔

قیمت۔15 رو پے
سعید مجتبیٰ سعیدی
1990
  • فروری
نام کتاب: موت کے سائے

مولف: عبدالرحمٰن عاجز مالیر کوٹلوی۔

قیمت: 90 روپے۔
مسعود عبدہ
1992
  • جنوری
نام کتاب: سادات بنی رقیہ رضی اللہ عنہا
مصنف: حکیم فیض عالم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ
قیمت: اکیس (21) روپے
ناشر: حکیم فیض عالم صدیقی، محلہ مستریاں، جہلم
محترم مولانا حکیم فیض عالم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ مرحوم جماعت کے ایک معروف اہل قلم گزرے ہیں، ان کا خیال تھا کہ تاریخِ اسلام میں درج بہت سے واقعات شیعہ ذہن کی اختراع ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ مرحوم کا شیعیت اور تاریک کے موضوعات پر مطالعہ پر بڑا گہرا، وسیع اور ناقدانہ تھا۔ شیعہ کی مکالفت میں اس قدر آگے نکل چکے تھے کہ اہل سنت اور اہل حدیث ہونے کے باوجود صحیح بخاری تک کی بعض احادیث کی صحت کا انکار کرتے تھے۔ ان کی زبان  و قلم میں تندی و ترشی بہت تھی۔ ان میں حد درجہ خود اعتمادی تھی۔ یہاں تک کہ بزرگ علمائے اہل حدیث کی تحقیقات کو بھی اپنی تحقیق کے مقابلہ میں کچھ اہمیت نہ دیتے تھے۔
سعید مجتبیٰ سعیدی
1989
  • جنوری
نام کتاب۔۔۔مقامِ صحابہ رضی اللہ عنہم (شیعہ مذہب کی کُتب کی روشنی میں)
مؤلف۔۔۔ مولانا حکیم فیض عالم صدیقی مرحوم
صفحات۔۔۔ 126
قیمت۔۔۔ 18 روپے
ناشر۔۔۔ مکتبہ فیض القرآن، محلہ مستریاں، جہلم
مرحوم حکیم مولانا فیض عالم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ ہماری جماعت کے صاحب علم و قلم بزرگ گزرے ہیں۔ انہوں نے شیعہ مذہب کی جملہ کتب کو کنگھالا ہوا تھا اور شیعہ مذہب پر علمی و تحقیقی انداز میں سخت تنقید کیا کرتے تھے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بلند مرتبہ ہونا صرف اہل سنت کے نزدیک ہی نہیں بلکہ شیعہ اکابر کے ہاں بھی مسلم ہے اور ان کی کتب اس پر شاہد ہیں۔
سعید مجتبیٰ سعیدی
1989
  • فروری
نام کتاب:                                سید بادشاہ کا قافلہ
مولفہ: آباد شاہ پوری         ضخامت: 456 صفحات
بڑا سائز، کاغذ کتابت، طباعت عمدہ، مجلد، سنہری ڈائیدار، قیمت 48 روپے
ناشر: البدر پبلی کیشنر 23 راحت مارکیٹ اردو بازار لاہور
سید احمد شہید بریلوی نے عزم و ہمت، صبر و استقامت اور راہِ حق میں بلا کشی کے جو نقوش سیتہ گیتی پر مرتسم کئے، وہ ابدالاباد تک اہل ایمان کے دلوں مین حرارت پیدا کرتے رہیں گے۔ فی الحقیقت احیاء دین کے سلسلہ میں سید احمد شہید اور ان کے سرفروز رفقاء کی مساعی جمیلہ اور ان کی داستان، جہاد و شہادت ہماری تاریخ کا ایک تابناک باب ہے، اتنا تابناک کہ اس کی روشنی میں ملتِ اسلامیہ اپنی منزلِ مقصود کا رخ متعین کر سکتی ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے سید احمد کی تحریک جہاد کا تعارف یوں کرایا ہے:
"تیرھویں صدی میں جب ایک طرف ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہو رہی تھی اور دوسری طرف ان میں مشرکانہ رسوم اور بدعات کا زور تھا، مولانا اسمعیل شہید اور حضرت سید احمد بریلوی کی مجاہدانہ کوششوں نے تجدیدِ دین کی نئی تحریک شروع کی، یہ وہ وقت تھا جب سارے پنجاب پر سکھوں کا اور باقی ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔ ان دو بزرگوں نے اپنی بلند ہمتی سے اسلام کا علم اٹھایا اور مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دی جس کی آواز ہمالیہ کی چوٹیوں اور نیپال کی ترائیوں سے لے کر خلیج بنگال کے کناروں تک یکساں پھیل گئی اور لوگ جوق در جوق اس علم کے نیچے جمع ہونے لگے، اس مجددانہ کارنامہ کی عام تاریخ لوگوں کو یہیں تک معلوم ہے کہ ان مجاہدوں نے سرحد پار ہو کر سکھوں سے مقابلہ کیا اور شہید ہوئے حالانکہ یہ واقعہ اس کی پوری تاریخ کا صرف ایک باب ہے۔" (دیباچہ سید احمد شہید از سید ابوالحسن علی ندوی)
طالب ہاشمی
1982
  • جنوری
نام مجلہ القلم

ناشر ادارہ علوم اسلامیہ ،جامعہ پنجاب،لاہور

صفحات 200+21
عبدالجبار شاکر
1994
  • جنوری
تعارف وتبصرہ:۔

نام کتاب: "مترادفات القرآن مع فروق الغویہ"

نام مولف: مولانا عبدالرحمان کیلانی
ادارہ
1993
  • اگست