(قسط 2)

شرف و عزت سے محبت کی آفات میں سے ایک، عہدوں کی طلب اور ان لا لالچ بھی ہے۔ یہ ایک پوشیدہ باب ہے جسے صرف اللہ تعالیٰ کی معرفت و محبت سے سرشار لوگ ہی جان سکتے ہیں، اور جس کی مخالفت ایسے جاہل لوگ ہی کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کی معرفت رکھنے والوں کے ہاں حقیر و ذلیل ہیں۔
حافظ ابن رجب
1988
  • اکتوبر
ماہنامہ  طلوع اسلام کے جولائی 1979ء کے شمارہ میں ’’آرٹ اور اسلام ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا جس میں آرٹ اور آرٹ میں سے موسیقی کو بلکہ مزا میر کو قرآنی فکر طے مطابق قابل قبول اور جائز ثابت کیا گیا ۔
ماہنامہ ‘‘ بلاغ القرآن اگست کے شمارہ میں جناب ایم ،ایم ،اے (سمن آباد ،لاہور ) نے ایک مضمون بعنوان ناچ گانا اور زبور مقدس لکھ طر طلوع اسلام کا تعاقب کیا اور یہ ثابت کیا کہ قرآن کریم کی روسے موسیقی ایک لغو اور ناجائز  فعل ہے اور حقیقت یہ ہے کہ صاحب موصوف نے تعاقب کا پورا پورا حق ادا کردیا ہے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مندرجہ بالا دونوں ماہنامے  (طلوع اسلام اور بلاغ القرآن ) بظعم خویش قرآنی فکر کے حامل ہیں ، دونوں احادیث و آثار اور تاریخ کا بیشتر حصہ وضعی قرار دیتے ہیں ۔ فہذا انہیں ناقابل حجت اور ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں ، ان میں سے صرف وہ حدیث یا وہ واقعہ ان  کے نزدیک  قابل اعتبار ہے جو ان کے زعم کے مطابق ہوں دونوں قرآن کریم کے معانی و مطالب کی تفہیم کے لئیے   تفسیرا القرآن بالقرآن پر زور دیتے ہیں لیکن ان قرآنی فکر کے حاملین کے فکر میں احادیث و آثار سے انکار کے بعد جس قدر تصنا و تخالف  واقع ہو سکتا ہے  وہ اس مضمون سے پوری طرح واضع ہوجاتا ہے ۔
اس مضمون میں چند باتیں ایسی بھی ہیں جو محل نظر ہیں ۔ لیکن ہم ان سے صرف نظر کرتے ہوئے مضمون کا پورا متن من وتن  جوالہ قارئین کرتے ہیں (ادارہ )
ایم- ایم- اے
1980
  • اپریل
مضبوط حکومت کےلئے نئے سے نئے جنگی اورزارا ایجاد  کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ نئے سے نئے آلات موسیقی :
آیات بالا میں حضرت داؤد کی حکومت سے متعلق خبر دی گئی ہے ’’شددنا ملک‘‘ کہ ہم نے ان کی حکومت  کو مضبوط پایا تو اس پر سوال پیدا ہوتا کہ مضبوط  حکومت کے لیے نیا سے نیا اسلحہ ایجادکرنے کی ضرورت ہے یا نئے سے نئے آلات موسیقی  یعنی طبلے طنبورے ،سرنگیاں ،ستاریں ،اکتارے ،کھنجریاں اور گھنگرو ایجاد کرنے کی ؟ سورہ سباء میں حضرت داؤد کے متعلق خبر دی گئی ہے :
﴿وَلَقَد ءاتَينا داوۥدَ مِنّا فَضلًا يـٰجِبالُ أَوِّبى مَعَهُ وَالطَّيرَ وَأَلَنّا لَهُ الحَديدَ ﴿١٠﴾أَنِ اعمَل سـٰبِغـٰتٍ وَقَدِّر فِى السَّردِ وَاعمَلوا صـٰلِحًا إِنّى بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ ﴿١١﴾...سبإ
’’اور بلاشبہ ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے (خلافت ارضی کی )فضیلت  عطا فرمائی  اور اس کی مضبوط جنگی قوت کی بدولت ہم نے اپنے قانون کی زبان سے کہہ دیاکہ ) اے پہاڑی لوگوں ! اور اے  آزاد قبائل ،سب اس کے ساتھ مل کر میرے مطیع ہو جاؤ اور ہم نے اس کےلئے  لوہے کو نرم پایا (اور حکم دیا کہ ) تو زرہیں بنا یا کر اور ان کے حلقوں میں صحیح صحیح  اندازے رکھا کر یعنی تم (لوہے سے جنگی سامان تیار کر کے )صلاحیت بخش عمل کیا کرو۔ بیشک تم جوبھی عمل کرتے ہو میں اسے بہت اچھی طرح دیکھنے والا ہوں !
ایم- ایم- اے
1980
  • اپریل
معاشرے میں بڑھتی بے اطمینانی اور لادینیت کی روک تھام کے لئے علماء کرام سرگرم ہیں لیکن مقابل میں اس قدر زیادہ منظم طورپر اور غیرمعمولی وسائل کے ساتھ عریانی ، اِباحیت پسندی اور دین بیزاری کو فروغ دیا جارہا ہے کہ علما کی کوششیں کامیاب نہیں ہوپارہیں۔عالمی سطح پر بھی اسلام کی دعوت کو درپیش مسائل اس پر مستزاد ہیں۔
میاں انواراللہ
2003
  • اکتوبر
توبہ کا مفہوم
توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں۔ بندہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ سرکشی سے باز آ گیا، طریق بندگی کی طرف پلٹ آیا اور خدا کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار غلام کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہو گیا۔ پھر سے بنظر عنایت اس کی طرف مائل ہو گیا۔(1)
جب کہا تاب العبد تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ "(رجع الى طاعة ربه)" سرکشی چھوڑ کر وہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بن گیا اور اگر تاب کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو تو پھر معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نادم اور شرمسار بندے کی طرف نظر رحمت فرمائی اور اس کا قصور معاف فرما دیا۔(2)
جب توبہ کی نسبت بندہ کی طرف جاتی ہے تو اس کے معنی تین چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔
اول: اپنے کئے ہوئے گناہ کو گناہ سمجھنا اور اس پر نادم و شرمندہ ہونا۔
دوسرے: اس گناہ کو بالکل چھوڑ دینا۔
تیسرے: آئندہ کے لئے دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرنا۔ اگر ان تین چیزوں میں سے ایک کی بھی کمی ہوئی تو وہ توبہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ محض زبان سے "اللہ توبہ" کے الفاظ بول دینا نجات کے لئے کافی نہیں جب تک یہ تینوں چیزیں  جمع نہ ہوں یعنی گزشتہ پر ندامت اور حال میں اس کا ترک اور مستقبل میں اس کے نہ کرنے کا عزم و ارادہ۔(3)
صوبیدار لطیف اللہ
1996
  • اکتوبر
دوسروں پر نکتہ چینی صرف آسان ہی نہیں ۔انسان کا بڑا ہی دلچسپ اور مرغوب مشغلہ بھی ہے خاص کر کمزوروں کی ،الان والحفیظ اگر وہ شے بے زبان بھی ہو تو اس وقت انسان کی نکتہ چینی اور "تنقید کا طوفان خیز عالم تو اور ہی دیدنی ہو تا ہے کیونکہ بے زبان جواب دے سکتا ہے نہ بول سکتا ہے۔اس کے پاس وکیل ہے نہ کو ئی یارائے دلیل ۔پھر نقاد کو کھٹکا کا ہے کا ۔اس لیے اس کی زبان کترنی کی طرح کترتی چلی جا تی ہے ۔مثلاً کہے گا:
ادارہ
1989
  • جولائی
رقص کب سے جاری ہے اور کن کن اغراض کے لئے یہ وجود میں آیا ہے، مندرجہ ذیل مضمون سے اس پر کافی روشنی پڑتی ہے اس کا ایک محرک ''روحانی جذبہ'' بھی ہے۔ ہمارے ہاں صوفیاء میں ''وجد'' کی شکل میں ملتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہ ایک اہلِ ھوا کا شیوہ ہے۔ اور انہی کے طرزِ عمل سے ماخوذ ہے۔ اس لئے امامانِ دین نے اس کو حرام قرار دیا ہے۔ (ادارہ)
لطیف الدین
1971
  • اکتوبر
زمانہ ماضی کا ہو یا حال کا،ہر دور میں بگڑے ہوئے لوگوں کا یہ مستقل وطیرہ رہاہے کہ وہ اپنے مفسدانہ نظریات کی اشاعت ،ان ہستیوں کے نام کی آڑ میں کرتے رہے ہیں جو معاشرے میں قابل اعتماد اور لائق احترام ہوں۔ایسے لوگ عامۃ الناس کے سامنے آکر بھی یہ نہیں کہتے کہ "جوکچھ ہم پیش کررہے ہیں یہ ہمارے طبع زاد نظریات اور خود ساختہ افکار ہیں"بلکہ وہ انھیں یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں
محمد دین قاسمی
1985
  • اپریل
گذشتہ دنوں اعلیٰ تعلیم کے چند طلبہ نے اس بارے میں استفسار کیا کہ کمپیوٹر اور اس سے متعلقہ دیگر اشیاء سے کس طرح علم و تحقیق کے عمل میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں دیندار طبقہ کے کمپیوٹر سے مستفید ہونے کے کیا امکانات ہیں، اس استفادے کی حدود کیا ہو سکتی ہیں اور کس طرح ان کا حصول ممکن ہے۔ اسی ضمن میں انترنیٹ کا تذکرہ بھی آیا جس کی حیران کن کارکردگی ہر کسی کی زبان پر ہے۔ طلبہ کے استفسار اور دلچسپی کی وجہ غالبا اپنی اعلیٰ تعلیم میں پیش آمدہ اس موضوع پر ٹھوس اور حقائق پر مبنی مواد پیش کر دینے کی حد تک تھی، جس کی رہنمائی انہیں اپنی درسی کتب اور امدادی مواد میں میسر نہ آ سکی۔ راقم الحروف یوں تو عرصہ سے اس موضوع پر لکھنے کا خواہاں تھا کیونکہ واقعتا یہ ایسی معلومت ہیں جن سے ناواقف رہ کر موجودہ دور میں مؤثر کارکردگی پیش نہیں کی جا سکتی۔لیکن طلبہ کے ان سوالات نے مجھے مجبور کر دیا کہ اولین فرصت میں اِس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالوں جو ملتِ اسلامیہ کے لیے عموما اور دین دار کے لئے خصوصا مفید ثابت ہوں۔ موضوع پر بات شروع کرنے سے قبل چند ایک امور کا تذکرہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:
حسن مدنی
1999
  • مارچ
قبر میں سوال ’’ ماہذا الرجل ‘‘ کی کیفیت کیا ہے ‘‘ اس عنوان پر محدث روپڑی نے ایک علمی اور تحقیقی فتویٰ لکھا ہے جو اخبار تنظیم اہلحدیث ‘‘میں چھپا ۔ پھر فتاویٰ اہلحدیث جلد دوم کے صفحات کی زینت بنا 
مولانا عزیز زبیدی نے حضرت محدث روپڑی ﷫ کی اس تحقیق پر 12 اکتوبر 1979 کے اخبار اہلحدیث  میں تعاقب کیا ہے اختلاف رائے کا اصل مقصد غلط فہمی کا اظالہ اور صحیح صورت حال کا تعین ہو تو ایسی تقید اور اختبلاف رائے نہ صرف قابل برداشت بلکہ ایک مستحسن اقدام ہے ، اس کی ضرورت سے کسی کو انکا نہیں ۔مگر اس قسم کی تنقید میں تین باتوں کا ہونا ضرو ری ہے ۔
$11.                 دلائل آمیز تنقید و تعاقب ۔
$12.                  تحقیر آمیز الفاظ سے اجتناب 
$13.                 حق قبول کرنے کےلیے طبیعت کو آمادہ کرنا ۔
عبدالسلام رحمانی
1980
  • جنوری
  • فروری
(فروری کے شمارے سے آگے) دوسری قسط
مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ
(12) غایۃ المرام 1891ء : صفحات 144
یہ کتاب مرزا غلام احمد قادیانی کے رسالہ جات "فتح العلام" اور "توضیح المرام" کے جواب میں ہے۔ اس میں رفع عیسیٰ علیہ السلام، آپ کا نزول، اور قانونِ قدرت وغیرہ پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔
(13) تائید الاسلام، 1898ء: صفحات 150
یہ غایۃ المرام کا دوسرا حصہ ہے۔ اس میں پہلے مرزا قادیانی کے عقائد پر بحث کی ہے اور بعد میں مرزا قادیانی کی کتاب ازالة الاوهام کے بعض مباحث جیسے مسیح موعود، الہام و مکاشفہ وغیرہ کا جواب دیا گیا ہے۔
(14) مرزا صاحب اور نبوت: صفحات 8
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی تردید کی گئی ہے۔
عبدالرشید عراقی
1999
  • اپریل
جامعۃ العلوم الاسلامیہ کے فاضل اور مفتی مولانا ولی حسن صاحب ٹونکی "بینات" میں ایک مضمون "اس دور کا ایک عظیم فتنہ" کے نام سے تحریر فرما رہے ہیں، علامہ موصوف نے تازہ قسط (ذوالحجہ 1404ھ مطابق اکتوبر 1904ء)" ہندوستان میں حدیث کی آمد" میں تحریر فرمایا ہے کہ:

"ولی اللہی خاندان کے بعد حق و صداقت، علم و عرفان، صدق و صفا اور علومِ دینیہ خصوصا قرآن کریم و حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تدریس اور درس و افادہ کی خلافت حضرات علماء دیوبند و سہارنپور کی طرف منتقل ہوئی۔
عزیز زبیدی
1984
  • نومبر
ریفرنڈم میں شاندار کامیابی کے بعد، اب پاکستان کے منتخب عوامی صدر جناب جنرل محمد ضیاءالحق کی ذمہ داریاں اطاعتِ شریعت کے سلسلہ میں پہلے سے بہت بڑھ گئی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا ان کے لیے ناممکن نہ ہو گا۔ کیونکہ رنفرنڈم کی حمایتی مہم میں جو نعرہ سرِ فہرست رہا ہے، اور عوام کی اس میں دلچسپی اور جوش و خروش نے عین ریفرنڈم کے دن جو رنگ اختیار کیا ہے، وہ مطالبہ اقامتِ دین اسلام کے سوا اور کچھ نہیں۔
اکرام اللہ ساجد
1985
  • جنوری
محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا حافظ ثناءاللہ صاحب۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
خیر وعافیت کے بعد درج ذیل سوالوں کے جواب مطلوب ہیں۔
1۔ازواج مطہرات ام المومنین  رضوان اللہ عنھما اجمعین  میں سے کسی کی کسی امتی کوبطور دینی اصلاح خواب میں زیارت ہوسکتی ہے یا نہیں؟جیسا کہ حافظ عبدالمنان وزیرآبادی کے متعلق واعظین لوگ بیان کرتے ہیں کہ انہیں حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی زیارت  ہوئی تھی ۔بریلوی حضرات اعتراض کرتے ہیں کہ یہ چیز ازواج مطہرات  رضوان اللہ عنھما اجمعین  کے تقدس اور بزرگی کے خلاف ہے۔آپ واضح فرمائیں کہ حافظ صاحب مرحوم کے متعلق یہ واقعہ صحیح ہے یا نہیں؟یا عقلاً ونقلاً اس طرح کا واقعہ پیش آسکتا ہے یا نہیں۔؟
ثنااللہ مدنی
1992
  • اپریل
عرب جاہل تھے ،گنوار تھے ، تہذیب و تمدن کی روشنی  سے کوسوں دور وہ  ایک ایسے خطہ کے مکین تھے جس کی تاریخ خاندانی جھگڑوں یا قبائلی جنگوں سے عبارت تھی----- لیکن انھیں اپنے اس اندو ہناک ماضی پر فخر تھا اور اپنے حال کی پستیوں پر ناز ! ---کوئی برائی جو انہیں اپنے  حال کی پستیوں پر ناز ! ------کوئی برائی جو انہیں اپنے آباؤ اجداد سے ورثہ میں ملی تھی، ان کی نظر میں قابل نفرت ، اور کوئی نیکی جسے ان کے آباؤ  اجداد ٹھکرا چکے تھے ، ان کے نزدیک قابل التفات نہ تھی  ----ان کا و جود زندگی کی ہر سعاد ت کی نفی  کرتا تھا ------وہ جس روش پر چل  رہے تھے اسی پر چلتے رہنا چاہتے تھے ----ان کے ماحول کی ظلمتوں کو کسی روشنی کی احتیاج نہ تھی لیکن یہی و ہ ظلمت کدہ تھا جو آئندہ کے لیے روشنی کے ہر جویا کی نگاہوں کا مرکز بننے والا تھا -----اوریہی وہ افق تھا جس کی تاریکیاں آفتاب رسالت کی ضیاء پاشیوں کی اولین مستحق سمجھی گئی تھیں ----ہاں وہ ربع الاول ہی کی ایک صبح درخشاں تھی جس نے مدتوں سے بھیانک تاریکیوں ارو بے نشان راستے پر چلنے والی انسانیت کو ایک نئی روشنی کا پیغام دیا -----اور -----جس نے تاریک رات کے مسافروں کو چونکا دیا تھا :
آفتاب رسالت فاران کی چوٹیوں پر سے نمودار ہو ا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری کائنات کو ایک ایسی  روشنی سے منور کر گیا کہ جس کی تابندگی و تابانی ، زوال و غروب کے الفاظ سے کبھی آشنا نہ ہو سکی اور آئندہ کبھی ہو سکے گی :
﴿هُوَ الَّذى أَرسَلَ رَسولَهُ بِالهُدىٰ وَدينِ الحَقِّ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ وَلَو كَرِهَ المُشرِكونَ ﴿٣٣﴾...التوبة
اکرام اللہ ساجد
1980
  • مارچ