الم ﴿١﴾ ذ‌ٰلِكَ الكِتـٰبُ لا رَ‌يبَ ۛ فيهِ...٢﴾... سورة البقرة


الف، لام، میم، یہ وہ کتاب ہے جس (کے کلامِ الٰہی ہونے) میں کچھ بھی شک نہیں۔

(۱) الٓمّٓ (الف، لام، میم) یہ حروف بقرۃؔ، آلِ عمرانؔ، عنکبوتؔ، رومؔ، لقمانؔ اور سجدہؔ کے شروع میں آئے ہیں۔ ان کا نام 'حروفِ مقطعات' ہے۔ ۱۱۴ سورتوں میں سے (۲۹) سورتوں کا آغاز حروفِ مقطّعات سے ہوا ہے۔ وہ کل یہ ہیں: ا، ج، ر، س، ص، ع، ق، ک، ل، م، ن، ہ، ی۔
عزیز زبیدی
1973
  • اپریل
مسائل آمین:

سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد آمین کہنا مشروع ومستحب ہے۔آمین کے معنیٰ ہیں"اے اللہ ہم سے قبول کر" اس دعا کو منزل مقصودتک پہنچا۔وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب"ولاالضالین" کہا،تو میں نے سُنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "آمین کہی۔اور آواز لمبی کی۔
صدیق حسن خان
1990
  • فروری
(ہمارے فاضل رفیق مجلس التحقیق الاسلامی جناب پروفیسر عبد الجبار شاکر نے اپنے ادارہ بیت الحکمت کی نومبر 1998ءمیں افتتاحی تقریب کا اہتمام کیا تو صرف ایک رسمی تقریب کے بجائے اس کو ایک تعلیمی سیمینار کی شکل دے دی اور مختلف ماہرین تعلیم کو ملک بھر سے عصری اور دینی تعلیم کے اصلاح احوال کے بارے میں اظہار خیال کی دعوت دی گئی دن بھر جاری رہنے والے اس سیمینار میں ادارہ محدث سے منسلک جامعہ لاہور الاسلامیہ کے شعبہ کلیہ القرآن الکریم والعلوم الاسلامیہ کے پرنسیل یگانہ روزگار شخصیت  قاری محمد ابراہیم میر محمدی کو تجوید قرآءت کی تعلیم کے موضوع پر اظہار خیال کی دعوت دی گئی ۔جناب قاری محمد ابراہیم صاحب بو جوہ اس سیمینار میں کلمات نہ کہہ سکے لیکن انھوں نے سیمینار سے ایک روز قبل راقم الحروف کو اپنی دیرینہ دلچسپی اور محنت سے حاصل ہونے والے گراں قدر تجربات سے نواز اور مجھے اس موضوع پر لکھنے کو ارشاد فرمایا راقم الحروف چونکہ حفظ کا خود تجربہ رکھتا ہے کچھ عرصہ قاری صاحب موصوف سے سبعہ عشرہ قرآءت سیکھتا رہا ہے علاوہ ازیں محترم قاری صاحب کی معیت میں چند سال کلیہ القرآن کے مدیر کے طور پر خدمت انجام دینے کا موقع بھی ملا ہے اس لیے ذمہ داری کو قبول کیا۔ سیمینار کے روز ہی چند گھنٹوں میں لکھے جانے والا یہ مقالہ آخری وقت میں پہنچے کی بناپر سیمینار میں تونہ پڑھا جا سکا لیکن اب سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد اسے محترم قاری صاحب  کی پسند کے ساتھ بعینہ محدث کے قارئین کی نذر کیا جارہا ہے اس مقالہ میں خطاب کے نقطہ نظر سے جو بعض مشکلات محسوس ہوں قارئین سے نظرانداز کرنے کی گذارش ہے(حسن مدنی)
حسن مدنی
2000
  • مئی
﴿وَما نَقَموا إِلّا أَن أَغنىٰهُمُ اللَّهُ وَرَ‌سولُهُ مِن فَضلِهِ...٧٤﴾... سورة التوبة

ان منافقوں نے صرف اس بات کا انتظام لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے (اللہ) کے فضل سے انہیں غنی بنا دیا۔

تمہیدی گزارشات:
سیف اللہ سپرا
1972
  • اپریل
یہ امر کسی سے مخفی نہیں ہے کہ ہمارے ملک، برصغیر پاک وہند کے پورے علاقے کی دینی درسگاہوں بلکہ سرکاری سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی، قرآنِ کریم کی تعلیم وتدریس کا جو طریقہ عرصۂ دراز سے رائج چلا آ رہا ہے، وہ 'ترجمہ قرآنِ کریم' کے نام سے معروف ہے۔ یہ بچوں کی ابتدائی تعلیم کے مرحلے میں تین چار سال تک جاری رہتا ہے۔
محمد بشیر
2008
  • جولائی
ضرورتِ قرآن:

موجودات کی دو قسمیں ہیں، خالق اور مخلوق۔

ایک مختار مطلق ہے اور دوسرا محتاج مطلق، ایک مجسمۂ کبر و غنیٰ اور دوسرا سراپا عجز و نیاز، ایک علیم و خبیر او دوسرا بے علم و نادان ۔
محمد صاحب
1971
  • نومبر
ظہورِ اسلام سے پہلے زندگی کا تصّور محدود تھا۔اسلام کی آمد سے ایک نئے دَور کا آغاز ہوا۔ خیالات و افکار میں انقلاب آیا۔قرآن کے آفاقی تصّور نے زندگی کے افق کووسیع کردیا۔ اس انقلاب سے ہر شعبہ حیات متاثر ہوا۔ قرآن کے زیر اثر علم و فن کے بہت سےنئے زاویے بنے۔شعر و ادب اور زبان پر بھی قرآن کے خوشگوار اثرات پڑے۔ قرآن مجید نے ادب میں حریت فکر، وسعت نظر، پاکیزگی تخیل او ربلندئ معنی کے اوصاف پید کیے۔
غلام احمد حریری
1976
  • ستمبر
6۔ حضرت سعد

نسب: ابواسحاق سعد بن ابی وقاص مالک بن اہیب بن عبدمناف بن مرہ القرشی الازہری۔

چھ آدمیوں کے بعد آپ ایمان لائے۔ آپ بھی عشرہ مبشرہ کی صف میں شامل ہیں۔ آپ ہی وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے اسلام کے راستے میں تیرچلایا جس کے نتیجہ میں حضور کی دعا کے مستحق ٹھہرے۔ آپ نے دعا کی: اللھم سددہ واجب دعوتہ یعنی اے باری تعالیٰ اس کوصراط مستقیم پر قائم رکھ اور اسے مستجاب الدعوات بنا۔ اسی دعاکاثمرہ اللہ نے فتح قادسیہ اور فتح مدائن کی صورت میں دیا۔
عبد الحفیظ منیر بھٹوی
1975
  • جولائی
  • اگست
(قسط 3)

24۔ فضالہ بن عبید

نسب: ابومحمد فضالہ بن عبید بن نافذ بن قیس الانصاری الاوسی۔
عبد الحفیظ منیر بھٹوی
1975
  • نومبر
  • دسمبر
قرآنِ کریم وہ ابدی ہدایت ہے جو انسان کو بامقصد زندگی گزارنے کا شعور اور زندگی کے تمام شعبوں کے لئے مکمل رہنمائی دیتی ہے۔ اس کا بہت بڑا امتیاز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پوری نوعِ انسانی کے لئے مکمل اور آخری ضابطۂ حیات بنا کر تا قیامت اس کی حفاظت کا ذمہ بھی خود اُٹھایا ہے۔ اس سے قبل آسمانی ہدایات جس طرح زمان و مکان کی قیود سے محدود ہوتی تھیں اسی طرح ان کی حفاظت بھی مخصوص اشخاص کے سپرد ہوتی تھی جیسا کہ ''بما استحفظوا من کتاب اللہ'' سے واضح ہے۔
عبد الحفیظ منیر بھٹوی
1975
  • مئی
  • جون
قانونی اختلافات سے عافیت کتاب وسنت کی دستوری حیثیت تسلیم کرنے میں ہے

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

﴿ما فَرَّ‌طنا فِى الكِتـٰبِ مِن شَىءٍ...﴿٣٨﴾... سورةالانعام
اکرام اللہ ساجد
1984
  • جون
محوِ حیرت، پریشان و مضطرب، اپنے گرد و پیش کے واقعات پر نگاہیں دوڑاتے ہوئے فکر و نظر کے تانے بانے سلجھانا چاہتا ہوں، لیکن کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا۔۔۔ عالمِ اسلام پر ایسا وقت تو کبھی نہ آیا تھا۔۔۔کہیں بے گور و کفن لاشیں ہیں تو کہیں مظلوموں کی چیخیں۔۔۔ اپنوں سے بے اعتنائی اور اغیار کی طرف اٹھے ہوئے ہاتھ، پھیلائی ہوئی جھولیاں۔۔۔ دوستوں سے سرد مہری اور دشمنوں سے دوستی کی پینگیں۔
اکرام اللہ ساجد
1984
  • جنوری
حدیث نمبر 5
امام ترمذی اپنی جامع ترمذی اور امام احمد اپنی مسند میں اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ
"لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فَقَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيِّينَ ، مِنْهُمُ الْعَجُوزُ وَالشَّيْخُ الْكَبِيرُ ، وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ ، قَالَ : " يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ "
"حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "اے جبریل! میں ایسی امت کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں جو اَن پڑھ (لوگوں پر مشتمل) ہے، ان میں سے کوئی بوڑھا ہے اور کوئی بہت زیادہ سن رسیدہ بھی ہے، کوئی لڑکا ہے اور کوئی لڑکی ہے، کوئی ایسا آدمی ہے جس نے کبھی کوئی تحریر (یا کتاب) نہیں پڑھی۔ تو جبریل نے جواب دیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔
قاری صہیب احمد
1998
  • جنوری
قرآن حکیم ہدایت کا ایک لازوال اور ابدی سرچشمہ ہے جو زندگی کے ہر میدان  میں انسان کی راہنمائی کرتا ہے۔موجودہ دور میں ماحولیاتی آلودگی سے انسانیت پریشان ہے اور اس سے نجات پانے کی متلاشی ہے۔پیش نظر مضمون میں یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ آلودگی انسانی زندگی کے لیے کس حد تک مضرت رساں ہے؟تاکہ اس سے دامن بچایا جاسکے۔۔۔
رجس یارجز کی لغوی بحث:۔
قرآن حکیم میں آلودگی کی تعبیر رجز اور رجس سے کی گئی ہے۔یہ دونوں اصل میں ایک ہی لفظ کی دو شکلیں ہیں۔اصل کے اعتبار سے ان میں اضطراب اور ارتعاش کا مفہوم پایاجاتاہے۔گندگی اور نجاست کو دیکھ کر طبیعت اور مزاج میں چونکہ سنسنی اور اضطراب کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اس لیے گندگی اور نجاست پر ان کا اطلاق ہونے لگا۔اس سے بڑھ کر عذاب کے معنی میں بھی ان دو کلمات کو استعمال کیا گیاہے،کیونکہ عذاب سے بھی دلوں میں کپکی  اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔
محمد یونس
2000
  • فروری
کافی عرصہ سے اسلامی تعلیمات میں کمزور رہ جانے اور غیر اسلامی تعلیمات کے غلبہ کی وجہ سےجہاں علمی اعتماد سےمحروم ہوئے ہیں وہاں شعوری یاغیر شعوری طور پر ہم میں قرآنی اصطلاحات ان معنوں میں استعمال ہونے لگی ہیں جومعنی قرآن مجید کے نہیں بلکہ حقیقت میں وہ مغرب کےہیں۔گویاکہ مغرب نے ہمارے لیے پہلا کام یہ کیا کہ ہمیں قرآنی اصطلاحات سے ناآشنا کیا اور اپنی اصطلاحات ہم پر ٹھونسیں ۔
ادارہ
1982
  • اگست
ربِ قدیر کے لیے یہ کچھ مشکل تو نہ تھا کہ اہلِ زمین کی نگاہوں کے سامنے ایک مدون و مرتب، سلی سلائی کتاب آسمانوں سے نازل ہوتی، اور اس کے ساتھ ہی "إِنَّ هـٰذَا القُر‌ءانَ يَهدى لِلَّتى هِىَ أَقوَمُ " کا ایسا آوازہ بلند ہوتا جسے ہر شخص اپنے کانوں سے سن کر بخوبی یہ جان لیتا کہ یہ ہے وہ کتاب (قرآن مجید) جسے "هدى للمتقين" اور "هدى للناس" ہونے کا شرف حاصل ہے۔
اکرام اللہ ساجد
1984
  • نومبر
قرآنی آیات اور مسنون الفاظ سےدم کرنا جائز ہے اور دم میں پھونک مارنا بھی درست ، جیساکہ بعض احادیث سے پتہ چلتا ہے ۔تاہم تعویذ کو لٹکانا، پہننا فرامین نبویہؐ کی صراحت اور غیرمسنون ہونے کی بنا پر درست نہیں۔ غیرقرآنی تعویذ کی حرمت کے بارے میں تو واضح احادیث ہیں، جیسا کہ مسند احمد میں ہے کہ ’’جس نے تعویذ (تمیمہ) لٹکایا، اللّٰہ اس کی مراد پوری نہ کرے۔‘‘ اور ’’تعویذ لٹکانے والا شرکیہ عمل کا ارتکاب کرتا ہے ۔‘‘ (4؍154) وغیرہ۔البتہ قرآنی تعویذکے بارے میں علما میں اختلاف ہے۔ شیخ الحدیث حافظ ثناء اللّٰہ مدنی ﷾ فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ میں لکھتے ہیں’’قرآنی آیات اور مسنون دعاؤں پر مشتمل تعویذ لکھنا جائز تو ہے ، لیکن راجح اور محقق بات یہی ہے کہ تعویذوں سے مطلقاً پرہیز کیا جائے۔‘‘ مزید یہ کہ ’’بہتر ہے کہ تعویذ کی جملہ اقسام سے احتراز کیا جائے۔‘‘(ص 580،578)
ذیل میں قرآنی تعویذوں کی حرمت کے حوالے سے ایک اہم عربی تحریر کا ترجمہ ہدیۂقارئین ہے۔ ح م
ڈاکٹر علی بن نفیع علیانی
2015
  • جولائی
  • اگست
قرآنِ مجید کا پہلا انگریزی ترجمہ ۱۶۴۸ء سے ۱۶۸۸ء کے درمیانی عرصہ میں شائع ہوا۔ یہ ترجمہ، لاطینی ترجمے سے کیا گیا تھا۔ دوسرا ترجمہ جارج سیل کے قلم سے ۱۷۳۴ء میں اشاعت پذیر ہوا اور ڈیڑھ صدی تک اسی ترجمے سے انگریز دنیا قرآن مجید کی تعلیمات سے آگاہ ہوتی رہی۔ جارج سیل نے عیسائی نقطہ نگاہ سے قرآن مجید کے مفہوم میں تبدیلی کرنے کے لئے بیضادی اور کشاف کے حوالوں سے من مانے حواشی لکھے۔
اختر راہی
1972
  • مارچ
حدیث لا وصية لوارث کی تحقیق
جناب رحمت اللہ طارق صاحب نے 1962ء میں ایک کتاب بعنوان "تفسیر منسوخ القرآن" ترتیب دی تھی جو بڑی تقطیع کے تقریبا 906 صفحات پر محیط ہے۔ اس کتاب میں آں جناب نے یہ جداگانہ موقف اختیار کیا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی حکم یا آیت سرے سے منسوخ ہی نہیں ہے۔ اس ضمن میں آنجناب نے بزعم خود کبار ائمہ و محدثین مثلا امام ابن حزم ظاہری، امام ابن کثیر، امام نووی، امام ابن حجر عسقلانی اور قاضی شوکانی وغیرہم رحمہم اللہ کی اغلاط کی نشاندہی کی ہے اور اپنے اس موقف کی تائید میں اکثر و بیشتر تفسیر المنار، ابومسلم اصفہانی، امام رازی، فناری (اصول و منطق کے عالم، 834ھ) اور سرسید احمد خان وغیرہم کی کتب پر ضرورت سے زیادہ اعتماد و انحصار کیا ہے۔ اس کتاب میں آں موصوف نے اپنی عام روش کے مطابق ورثاء کے حق میں بھی فرضیت وصیت کے بارے میں جمہور علمائے امت کی رائے سے اختلاف کیا ہے اور حدیث "لا وصية لوارث" کی 34 سندوں کے رواۃ پر صرف جارحین کے اقوال جرح
غازی عزیر
1998
  • جنوری
خاوند کو بتائے بغیر عدالت کے ذریعے طلاق لے کرآگے نکاح کرلینا
خالہ اوربھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا اور دونوں سے اولاد کا  حکم
پرانے قر آنی اوراق کی تلفی
کیاقرآن مجیداللہ کی مخلوق ہے؟
سوال:۔ ایک عورت نے خاوند کی اجازت کے بغیر شادی کرلی ہے اور خاوند کو اس کا علم نہیں ہوا کیونکہ اس عورت نے عدالت سے طلاق حاصل کی ہے۔پہلے خاوند سے عورت کے تین بچے بھی ہیں۔اس کے بعد اس نے دوسری شادی بھی کرلی ہے۔اور کوئی ولی وغیرہ بھی پیداکرلیے ہیں۔اس صورت میں کیا یہ طلاق اور شادی واقع ہوجائےگی۔وہ اب اپنے پہلے خاوند کے پاس نہیں رہ رہی۔ بچے بھی اب خاوند کے پاس ہیں۔(قاری حسان،مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ)
جواب:۔عورت کے لیے شوہر سے علیحدگی کی دو صورتیں ہیں:خاوند طلاق دے یا عورت خلع حاصل کرلے۔یہا ں دو صورتوں سے کوئی صورت نہیں پائی جاتی لہذا علیحدگی کا عدالتی فیصلہ ناقابل اعتبار ہے۔عورت باقاعدہ پہلے شوہر کی زوجیت میں ہے۔دوسرے سے فوراً تفریق کرادینی چاہیے۔قرآن مجید میں ہے:
﴿وَالمُحصَنـٰتُ مِنَ النِّساءِ ...٢٤﴾...النساء
"اور شوہر والی عورتیں بھی(تم پر حرام ہیں)"
سوال۔ایک شخص نے ایک  عورت سے نکاح کیا اور اس کی اولاد بھی پیدا ہوئی۔بعد ازاں اس شخص نے دوسری عورت سے نکاح کیا۔جو کہ پہلی عورت کی سگی بھانجی ہے۔ اور اس سے بھی اولاد ہوئی۔یعنی کہ خالہ اور بھانجی کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کردیا۔اور تاحال دونوں بیویاں زندہ ہیں اور دونوں میں سے کسی کو طلاق بھی نہیں دی۔اب اس سے مندرجہ ذیل سوالات  پیدا  ہوتے ہیں:
(سائل:مقصود احمد ڈھلوں)
حافظ ثناء اللہ مدنی
2000
  • دسمبر

جاوید احمد غامدی کہتے ہیں کہ الفرقان اور المہیمن وغیرہ اسماے قرآنی کی طرح المیزان بھی قرآن کے ناموں میں سے ایک نام اور اس کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں :''چوتھی چیز یہ ہے کہ قرآنِ مجید اس زمین پر حق و باطل کے لئے 'میزان' اور 'فرقان' اور تمام سلسلۂ وحی پر ایک مُہیمن کی حیثیت سے نازل ہوا ہے:

محمد رفیق چودھری
2007
  • ستمبر