ایک شوراٹھا،ایک طوفان برپا ہوا کہ"عورت کی نصف گواہی نا منظور!" اور وہ جو ہمیشہ سے عورت کو چراغِ خانہ کی بجائے شمع محفل بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔چادر اور چار دیواری کے تقدس کو اپنی عیاشیوں کے راستے کا روڑا خیال کرتے۔اور کتاب وسنت کی فضاؤں میں اپنی خواہشات کا دم گھٹتا محسوس کرتے تھے۔اس نعرہ"مستانہ" کو سن کر میدان میں آگئے۔
اکرام اللہ ساجد
1984
  • اگست
قرآن وسنت کو پاکستان کا بالا تر(Supreme)قانون بنانا مقصود ہے اورآئین کی نویں ترمیم چونکہ شریعت کے مطابق قانون سازی کے تقاضے پورے نہیں کرتی، اس لیے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس (پا کستان زون)نے آئین میں ترمیم کے لیے حسب ِذیل سفارشات مرتب کی ہیں تا کہ نویں آئینی ترمیمی بل کو اس کے مطابق بنایا جائے یا پھر اس کو پرائیویٹ بل کی صورت میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔
ادارہ
2010
  • مئی
چند ماہ پہلے۔۔۔وحشی قاتل جاوید مغل کی  طرف سے سو معصوم بچوں کے قتل کی بہیمانہ واردات نے پورے عالم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے وحشت وبربریت کے اس عدیم النظر واقع کو غیر معمولی کوریج دی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج جناب اللہ بخش رانجھا نے چند ماہ قبل اس مقدمہ کے متعلق سزا سنائی کہ" جاوید کومغل کو سو بار پھانسی دی جائے" اور اس کے جسم کےٹکڑے کرکے انہیں تیزاب میں اسی  طرح ڈالا جائے جس طرح کہ اس نے سو بچوں کو تیزاب کے ڈرم میں ڈال کر موت کے گھاٹ اُتارا تھا اور یہ کہ ا س سزا پر عملدرآمد مینار پاکستان گراؤنڈ میں عام پبلک کے سامنے کیا جائے تاکہ عبرت حاصل ہو۔"
فاضل جج کی جانب سے اس سزا کے متعلق عوام الناس کا رد عمل نہایت مثبت تھا۔البتہ بعض حلقوں کی طرف سے اس پر اعتراضات بھی وارد کئے گئے۔ یہودی لابی کی تنخواہ وار ایجنٹ عاصمہ جہانگیر اورHRCPکے ڈائیرکٹر آئی اے رحمان قادیانی نے اس سزا کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئےبیان دیا کہ اس سے بربریت میں اضاہوگا۔ پاکستان کے وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اس سزا پر عمل درآمد نہیں ہونے دی گی۔بعض دینی حلقوں کی جانب سے بھی اس سزا کے شرعی یا غیر شرعی ہونے کے بارے میں سوالات اٹھائے  گئے۔
عطاء اللہ صدیقی
2000
  • اکتوبر
قتل غیرت اور اس پر مختلف موقف

اسلام نے جرمِ بدکاری کی سزا 'موت' (بطورِ حد:سنگسار) مقرر کردی ہے، اس کے لئے چار گواہوں کی شہادت کو لازمی قرار دیا گیا ہے جو عدالت میں پیش ہوکر اس بارے میں شہادت دیں گے۔ اس لئے کسی شخص کو قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کرملزم کوقتل کرنے کی اجازت نہیں۔
محمد اسماعیل قریشی
2004
  • نومبر
قاضی بشیر احمد صاحب نے اپنے مضمون کی قسط 12 سے احکام صلح کے متعلق خامہ فرسائی شروع کی ہے لیکن آپ اس مبحث میں بھی تضاد ، لغت دانی اور حدیث شناسی کے متعدد عجوبے او رنمونے پائیں گے۔ چنانچہ موصوف تشریح 12 ش 4 میں فرماتے ہیں۔ اگر مجنون کو قصاص کا حق حاصل ہو خواہ قصاص نفس کا ہو یا دون النفس کا تو اس کے باپ دادا کو اختیار ہوگا کہ وہ مجنون کی جانب سے قصاص لیں اور اس کو صلح کرنے کابھی اختیار ہے البتہ وہ معاف کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔ ''
برق التوحیدی
1979
  • مئی
  • جون
مفتی اکبر شیخ محمد بن ابراہیم بن عبدالطیف کی شخصیت عالم عرب میں محتاج تعارف نہیں۔دینی علوم میں جو آپ کامقام ومرتبہ ہے ۔ اس کے تعارف کی چنداں ضرورت نہیں۔آپ مملکت سعودی عرب کے مایہ ناز محقق عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتے تھے،سرکاری عہدہ کے کے لحاظ سے مفتی اعظم اور علم وتحقیق کے اعتبار سے امام کے درجہ پر فائز رہے ہیں۔
شیخ ابراہیم محمد العقیل
1993
  • اگست
قولہ: قاضی صاحب موصوف نے دفعہ نمبر 6 ش12 میں لکھا ہے کہ ''مرد اور عورت کے درمیان نفس سے کم میں قصاص جاری نہ ہوگا۔'' (ترجمان القرآن جلد 90 ع 4 ص21)

اقول: اس مسئلہ میں احناف او رمالکیہ و شوافع کے درمیان اختلاف ہے او راس اختلاف کی اصل بنیاد اس بات پر ہ کہ کیا عورت او رمرد کے اعضاء میں مماثلت ہے یا نہیں؟ احناف کے نزدیک یہ مماثلت مفقود ہے جبکہ جمہور کے نزدیک مماثلت و مساوت موجود ہے۔
برق التوحیدی
1979
  • جولائی
  • اگست
معاشرتی تحفظ:۔

جس طرح اسلام کے اخلاقی نظام میں عورت کے حقوق کو تحفظ دیاگیا ہے۔اس طرح اسلام کے معاشرتی نظام میں بھی عورت ک حقوق کا تحفظ ہے،چنانچہ اسلام جہاں دیگر مقہور ومظلوم طبقات انسان کے لئے رحمت بن کر آیا،وہاں وہ دیرینہ ،مجبور،لاچار، بے کس اور ظلم وستم کی چکی میں پسنے والی اس صنف نازک کے لئے
عابدہ خواجہ
1992
  • اکتوبر
اگر قرآن حکیم ،مستند روایات اور اسلامی تاریخ کا دیانت و بصیرت کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ  بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید کے بعد اسلامی قانون کا دوسرا قابل اعتماد سر چشمہ رسو ل اللہ کی احادیث ہیں ،قرآن کریم میں ارشاد باری ہے :
﴿وَمَن يُشاقِقِ الرَّسولَ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُ الهُدىٰ وَيَتَّبِع غَيرَ سَبيلِ المُؤمِنينَ نُوَلِّهِ ما تَوَلّىٰ وَنُصلِهِ جَهَنَّمَ وَساءَت مَصيرًا ﴿١١٥﴾...النساء
’’ جو ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد رسول اللہ کے مخالفت پر تل جاتا ہے ،اور سبیل المؤمنین کی بجائے دوسری راہ اختیار  کرتا ہے  تو ہم اسے اس طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پلٹ گیا ہے اورہم اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے ۔‘‘
اس آیت میں دو باتوں کی مذمت کی گئی ہے ۔ رسو  ل اللہ کی مخالفت  اور آپ ﷺ کے احکام سے سرتابی ،دوسرا سبیل اللہ سے انحراف کرتے ہوئے دوسرے راستہ کی پیروی ۔ظاہر ہے کہ اگر رسو  ل اللہ کے احکام و فرامین جو احادیث کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں ،اگر ان کی صرف حیثیت تاریخ دین کی ہے تو اس پر اس قدر وعید نہ ہونی  چاہیے تھی گویا یشاقق الرسول ‘‘ کا مفہوم ایک ہی ہے یعنی جو سنت رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتا ہے اسے جہنم کی وعید سنائی جارہی ہے ۔ اس آیت میں دوسرا جرم جس پرعذاب کی دہمکی دی گئی ہے ،
منظور احمد
1980
  • اپریل
جب سے نئی اسمبلیاں تشکیل پائی ہیں ، ایل ایف او کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے، متحدہ مجلس عمل اور دیگرسیاسی جماعتوں کے آئے دن حکومت سے مذاکرات کی خبریں اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں لیکن مذاکرات کا یہ اونٹ ابھی تک کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا۔ ایل ایف او کیا ہے؟ اور دینی وسیاسی جماعتوں کو اسے تسلیم کرنے میں کن مشکلات کا سامنا ہے؟
ظفر علی راجا
2003
  • نومبر
جب سے امریکہ میں نئی قدامت پرست عیسائی حکومت (Neo-Con) برسراقتدار آئی ہے صدر امریکہ جارج ڈبلیو بش نے اپنی حکومت کو ساری دنیا کے حقوق انسانی کا علم بردار اور نگران (Watch Dog) ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ سب سے پہلے ہم اس امر کا جائزہ لیں گے کہ حقوقِ انسانی کا سب سے بڑا علمبردار کون ہے؟
سال 1948ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی حقوق انسانی کا اعلان کیا جن کے چند متعلقہ آرٹیکل یہ ہیں کہ "ہر انسان آزاد پیدا ہوا ہے،
محمد اسماعیل قریشی
2004
  • جون
اُمت مسلمہ بڑی مشقت سے بنی ہے، اس کو امت بنانے میں حضور ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے بڑی مشقتیں اُٹھائی ہیں اور اُن کے دشمنوں یہود و نصاریٰ نے ہمیشہ اس کی کوششیں کی ہیں کہ مسلمان ایک امت نہ رہیں بلکہ ٹکڑے ٹکڑے ہوں۔ اب مسلمان اپنے اُمّت ہونے کی صفت کھو چکے ہیں۔ جب تک یہ اُمّت بنے ہوئے تھے چند لاکھ ساری دنیا پر بھاری تھے۔ ایک پکّا مکان نہیں تھا۔ مسجد تک پکی نہیں تھی۔
عبدالعزیز کھلنوی
1973
  • مئی
بنی اسرائیل میں ایک شخص قتل ہوگیا۔ قاتل کی تلاش شروع ہوگئی تو بات یہاں آکر رُکی کہ ایک ''گائے'' کوذبح کرکے اس کا ایک عضو مقتول کو لگایا جائے، قاتل کاسراغ مل جائے گا، بات سیدھی اور صاف تھی، چاہتےتو کوئی سی گائے ذبح کرکے اپنامقصد حاصل کرسکتے تھے، لیکن اصل بات ذہنیت اور نیت کےفتور کی تھی، اس لیے ''چونکہ چنانچہ'' کے ہیرپھیر میں رہے۔ اس سلسلے کااگر آخری موقع کھو دیتے تو پھر اس کا فیصلہ قیامت کو ہی ہوتا۔
ادارہ
1978
  • جنوری
تحفظ نسواں بل 2016ء پنجاب کی صوبائی اسمبلی سے جب سے پاس ہوا ہے، اس کی مخالفت اور حمایت نہایت شدومد سے جاری ہے۔مخالفت کرنے والے بلاتفریق مسلک ومشرب علماے کرام اور تمام دینی جماعتیں ہیں۔ کسی بھی مذہبی مکتبِ فکر کی حمایت اس کو حاصل نہیں ہے۔
صلاح الدین یوسف
2016
  • اپریل
اسلام فرد کی آزادی کا حامی ہے یا انفرادی آزادی کی تقدیس اسلام کا اہم اُصول ہے۔اسلام فرد کے اس حق کو مانتا ہے کہ وہ خیر و شر کی جو تعبیر اختیار کرنا چاہے، کرے۔اسلام غیر مسلموں کو مساوی معاشرتی حیثیت دیتا ہے ۔اسلام امن و رواداری کا مذہب ہے ۔
زاہد صدیق مغل
2009
  • اگست
اسلام عدل اور متوازن عمل کا مذہب ہے یا توازن اور عدل کا حصول شریعت کا اہم مقصد ہے۔شریعت ہر طریقے میں انصاف اور عدل کے راستے کا انتخاب کرتی ہے۔فلاں بات یا کام شریعت کی غلط تعبیر ہے، کیونکہ یہ عدل کے خلاف ہے۔اسلام دین فطرت ہے یا دین کی ہر بات فطرتِ انسانی کے مطابق ہوتی ہے۔فلاں بات یا کام شریعت نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ فطرتِ انسانی کے خلاف ہے اور اسلام دین فطرت ہے۔
زاہد صدیق مغل
2009
  • مئی
۳۰؍ اگست ۱۹۸۶ء کو لاہور میں 'متحدہ شریعت محاذ پاکستان' کے زیر اہتمام جملہ دینی مکاتبِ فکر کی نمائندہ کمیٹی نے شریعت بل کے ترمیم شدہ مسودے پر اتفاق کیا اور مؤرخہ ۲۶ء اکتوبر ۱۹۸۶ء جامعہ نعیمیہ، لاہور میں ہزاروں اور مشائخ کے عظیم الشان کنونشن میں مولانا سمیع الحق کی طرف سے، قاضی عبد اللطیف کی تائید سے ترمیمی شریعت بل کے لئے قرار داد پیش کی گئی جو متفقہ طور پر منظور ہوئی۔
ادارہ
2010
  • مئی
پاکستانی خواتین کے حقوق کی کمیٹی کے چیئرمین اور پاکستان کے اٹارنی جنرل مسٹر یحییٰ بختیار نے پاکستانی خواتین کے حقوق کی کمیٹی کی رپورٹ شائع کردی ہے،¬ انہوں نے کہا کہ :

وزیراعظم بھٹو نے کابینہ کے پانچ ممبروں پرمشتمل ایک کمیٹی مقرر کردی ہے جو رپورٹ پر غور کرے گی او راپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی۔
ادارہ
1976
  • اگست
نوعِ انسانی مختلف امتیازات اور تعصبات میں مبتلا تھی۔ اللہ نے کرم کیا، کتابِ پاک اتاری اور رسولِ پاک ﷺ کو مبعوث فرما کر سب کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ روٹھے ہوئے گلے مل گئے۔ بچھڑے پھر جڑ گئے، دشمنِ جاں بھائی بن گئے اور افتراق و انتشار کے روگی وحدت اور اتحاد کے مسیحا ہو گئے اپنے اس احسان کا خداوند کریم نے یوں ذکر فرمایا ہے:
ادارہ
1973
  • مارچ
بموجب فرمانِ شاہی ۱؍۹۰ مجریہ ۲۷؍شعبان ۱۴۱۲ھ بمطابق یکم مارچ ۱۹۹۲ء

"المادة الأولی: المملکة العربیة السعودیة دولة عربیة إسلامیة، ذات سیادة تامة،دینھا الإسلام، ودستورھا کتاب اﷲ تعالیٰ وسنة رسولﷺ،ولغتھا ھي اللغة العربیة، وعاصمتھا مدینة الریاض"
محمد اسحٰق زاہد
2010
  • مئی
چند برس قبل جب عالمی میڈیا میں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سنگین خدشات اُبھارے جاتے، 2012ء میں پاکستان کے خاکم بدہن صفحۂ ہستی سے مٹ جانے یا تقسیم ہوجانے یا 2015ء میں امریکہ کے سرکاری نقشہ میں پاکستان کا نام ونشان غائب ہونے کی باتیں کی جاتیں تو یہ اَفواہیں دشمن کی خواہشات اور یک طرفہ پروپیگنڈا کے سوا کچھ نہ دکھائی دیتیں
حسن مدنی
2008
  • جولائی
اس سے پہلے ادارتی صفحات میں سزاے موت کے خاتمے کے پس پردہ محرکات، عالمی اورسیاسی صورتحا ل کے علاوہ قانونی جائزہ بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ اس مضمون میں اس سزا ے موت کے خاتمے کاجائزہ قرآن وسنت کی روشنی میں لیا جائے گا۔اسلام رہتی انسانیت تک اللہ کا پسند فرمودہ وہ دین ہے جسے اللہ نے تمام انسانوں کے لئے جامع وکامل بنا کر اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔
حسن مدنی
2008
  • جولائی
زیرنظر مضمون میں 'شرعی قانون' کا لفظ استعمال کیا گیاہے جس کے بارے میں زیادہ محتاط لفظ 'شریعت ِاسلامیہ' ہی ہے۔ کیونکہ شریعت کو 'مسلمان اہل علم انسانوں' کے ذریعے قانونی ضابطہ بندیوں کی شکل دینے میں بھی بعض وہی مسائل درآتے ہیں جو وضعی یا انسانی قانون کیلئے عیب ٹھہرتے ہیں۔
محمد سرور
2007
  • دسمبر
آغا شورش کاشمیریؒنے دورِ حاضر کی سیاست کو ایک ایسی طوائف سے تشبیہ دی تھی جو تماش بینوں میں گھری ہوئی ہے۔ کچھ اس طرح کا معاملہ ہمارے حال ہی میں آزاد ہونے والے میڈیا کا بھی ہے۔ بعض اوقات معمولی واقعات کواس قدر غیر معمولی کوریج دی جاتی ہے کہ دیکھنے والے حیران و پریشان ہوجاتے ہیں کہ آیا یہی سب سے بڑا قومی مسئلہ ہے؟
خلیل الرحمان
2010
  • مئی
ملزم خواتین کے حقوق اور جنسی امتیاز

مغرب نام نہاد جنسی مساوات کے نعروں کے ذریعے مردوزن کی طبقاتی کشمکش کو تو فروغ دے رہا ہے لیکن صنفی امتیازات کی فطرت کو نظرانداز نہیں کر سکتا جو اسلام نے مردوزن کے مثالی مساوی حقوق و فرائض کے باوصف الگ الگ دائرہ کار کی صورت قائم رکھی ہے۔ البتہ اسلام نے طبقاتی تقسیم سےقطع نظر مرد و زن کی شخصیت کا پہلو ضرور ملحوظ رکھا ہے۔ یعنی تقویٰ و کردار کی بنیاد پر ملت میں "شخصیت" کو بھی اہمیت دینی چاہئے۔ حسن اتفاق سے زیرِ بحث موضوع پر "وضعی قوانین" کے اندر شخصیت و کردار کی ادنیٰ سی جھلک بھی موجود ہے جو اگرچہ اردو الفاظ میں نمایاں نہیں ہو سکی لیکن متذکرہ قانون کے اندر "خاتون" کے لئے جو انگریزی لفظ "Lady" استعمال کیا گیا ہے اس کا لازمی تقاضا ہے کہ ایسی رعایت صرف شریف زادیوں کے لئے ہو۔ آوارہ عورتوں کے لئے نہیں۔ اسلامی تعلیمات میں شریف (طیبہ) اور آوارہ (خبیثہ) کے بعض فقہی احکام مختلف ہیں۔ اسی وضاحت کی روشنی میں خواتین کی عدالتوں میں حاضری کا جائزہ بصیرت افروز ہو گا۔ ان شاءاللہ (مدیر)
ظفر علی راجا
1996
  • اکتوبر