انسان اللہ تعالىٰ كى نافرمانى كرتے ہوئے اس بات كو بهول جاتا ہيں كہ اللہ تعالىٰ رحيم وكريم ہونے كے ساتھ سب سے بڑا عدل وانصاف كرنے والا اور اپنے وعدوں كو سب سے زيادہ پورا كرنے والا بهى ہے- چنانچہ وہ اپنے نافرمانوں اور اطاعت كرنے والوں كے ما بين بهى پورا پورا انصاف كرے گا اور حسب ِوعدہ بھلائى اور برائى كے ايك ايك ذرّے كا اللہ تعالى حساب لے گا اور اس كا بدلہ عطا كرے گا۔
نامعلوم
2005
  • جنوری
دوزخيوں كو جہنم ميں جسمانى اور باطنى ہر دو قسم كے عذابوں سے دوچار ہونا پڑے گا- حسى عذاب كى يہ صورتيں ہوں گى :
(1)آگ جو اب لاكهوں ہزار سال جلنے كے بعد كالى سياہ ہوچكى ہے، جہنمیوں كے چہرے بهى اسى طرح كالے سياہ ہوجائيں گے :
وْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْ‌تُم بَعْدَ إِيمَـٰنِكُمْ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُ‌ونَ ﴿١٠٦...سورۃ آل عمران
نامعلوم
2005
  • مارچ
موت کبھی بستر علالت پر او رکبھی اچانک اس طرح آجاتی ہے کہ توبہ کی بھی مہلت نہیں ملتی۔
عاجز کہیں آجائے نہ وہ وقت اچانک
جس وقت کہ توبہ کی بھی مہلت نہیں رہتی
عبدالرحمن عاجز
1978
  • اگست
  • ستمبر
آخرت ، اسلام کا ایک اہم سیاسی تصور جو انسانوں کی فکر و سوچ اور معاشی روّیوں پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آخرت کی زندگی ہی حقیقی اور لافانی زندگی ہے۔ انسان کی کامیابی کا مطلوب و مقصود اسی زندگی میں سرخروئ ہے یہ دنیا انسان کے لیے ہے لیکن انسان آخرت کے لیے ہے۔ خالق و مالک کائنات نے اس دنیا پر انسان کو آزمائش کے لیے بھیجا ہے۔ یہ دنیا دراصل دارالامتحان ہے موت و حیات کا سلسلہ اسی مقصد کے لیے بنایا گیا ہے۔
ممتاز احمد
1993
  • جنوری
صاحب مضمون مولانا عبدالرحمٰن کیلانی زید مجدہ کا یہ مقالہ دراصل محمد صادق صاحب (کراچی) کے اس مراسلہ کا جواب ہے۔ جس میں انہوں نے لکھا ہے:''حال ہی میں ماہنامہ ''المعارف'' لاہور (شمارہ دسمبر 1982ء) میں جناب شہیر نیازی صاحب کا مضمون ''آدم جنت ارضی میں'' پڑھ کر ذہنی الجھن میں مبتلا ہوگیا ہوں کہ قرآن و احادیث صحیحہ کی رو سے صحیح حقیقت کیاہے؟چنانچہ میں اس مضمون کی عکسی نقل آپ کے پاس بغرض علمی
عبدالرحمن کیلانی
1983
  • نومبر
بھلائی کاکوئی کام ایسا نہیں جس کی طرف شریعت ِمطہرہ نے ہماری رہنمائی نہ کی اور ہمیں اس کی رغبت نہ دلائی ہو۔ اوربرائی کا کوئی بھی کام ایسا نہیں ہے جس سے شریعت نے ہمیں ڈرایااور اس سے منع نہ کیا ہو۔ شریعت نے خیر وشر ہردو پر عمل کرنے والے شخص کا انجام بالکل واضح کردیا ہے۔ چنانچہ ایسا شخص جو بھیانک انجام سے ڈرنے والا ہو،
اختر علی
2008
  • اپریل
حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لانا ایمانیات میں شامل ہے۔
عذاب القبر کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے اور باطل فرقوں کے علاوہ کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔اور جن فرقوں نے اس عقیدہ کا اظہار کیا۔انہیں اس مقصد کے لئے حدیث کا بھی انکار کرناپڑا۔حالانکہ احادیث صحیحہ کا انکار قرآن ہی کا انکار ہے۔قرآن وحدیث دونوں ہی ہیں۔اور ان میں سے کسی ایک انکار وحی کا انکار ہے اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
﴿اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ﴿٣﴾...الاعراف
"جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی اتباع کرو۔اور اس کے علاوہ دوسرے اولیاء کی اتباع نہ کرو۔مگرتم نصیحت کم ہی مانتے ہو۔"(الاعراف:3)
معلوم ہو اکہ اتباع صرف اسی کی ہے۔جو رب کی طرف سے نازل کیاگیا۔اس کے سوا کسی اور کی اتباع ممنوع ہے۔مگر اس نصیحت کو کم ہی لوگ مانتے ہیں۔کیونکہ کوئی اپنے بڑوں کی اتباع وپیروی کرتاہے۔کوئی اپنے اماموں اور علماء کی اتباع کرتاہے اور کوئی اپنے نفس کی اتباع کرتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ﴿٣٣﴾...محمد
"اے ایمان والو!  اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی۔اور ان کی اطاعت سے منہ موڑ کر اپنے اعمال ضائع نہ کرو"
اللہ تعالیٰ یا رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  میں سے کسی ایک کی اطاعت سے انکار،اعمال کو ضائع(برباد) کرنے کے مترادف ہے۔اوراطاعت کے لحاظ سے دونوں اطاعتوں میں کوئی فرق نہیں  کیونکہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت بھی اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے:
جان پلِگر
1996
  • جولائی
عام طور پر لوگوں میں مشہور ہے کہ قیامت کے روز لوگوں کو والد ہ کی طرف نسبت کر کے پکارا جا ئے گا ۔مگر یہ بات عقلاً غیر معقول ہے۔
چونکہ انسان کا نسب والد کی طرف سے چلتا ہے نہ کہ والدہ کی طرف سے اس لیے جس طرح دنیا میں انسان کی نسبت والد کی طرف ہو تی ہے اسی طرح آخرت میں بھی ہر انسان کو والد ہی کی طرف نسبت کر کے پکارا جا ئے گا ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادیت چونکہ معجزانہ طور پر والد کے بغیر ہوئی تھی ۔اس لیے ان کی نسبت والدہ ہی کی طرف ہو گی ۔
ان کے علاوہ عام انسانوں کو والدہ کی نسبت سے پکارے جا نے کے بارے میں مندرجہ ذیل ایک حدیث روایت کی جاتی ہے۔
سعید مجتبیٰ سعیدی
1990
  • جولائی
موت اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ آئینی جابطہ ہے جس سے کسی ذی روح کو فرار میسر نہیں۔ ہر انسان اپنی زندگی کے مکتلف ادوار بچپن، جوانی یا بڑھاپا۔ کسی حصہ میں بھی کسی وقت بھی اچانک اس آئین کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اس آئین کے تفصیلی پہلوؤں میں سے ایک تو یہ ہے کہ اس کا اطلاق ہر جاندار پر بلا تخصص و استثناء ہوتا ہے۔ چاہے وہ خود صاحبِ آئین اللہ جل شانہ، کا برگزیدہ رسول یا نبی ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ارشاد ہوتا ہے:
﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ﴿٣٠﴾ ... الزمر 
"آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔"
عبدالغفور عاجز
1989
  • فروری
بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے والد کے نام سے بلایا جائے گا یا والدہ کے نام سے ؟ استاذِ محترم شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ کے فتـاویٰ ثنائیـہ مدنیـہ میں بھی یہ سوال موجود ہے اوراُنہوں نے اس کا مختصر سا جواب دیا ہے کیونکہ فتاویٰ کا عام طور پریہی اُسلوب ہے۔
عبدالرؤف
2006
  • مئی