ماہنامہ "محدث" کی مئی 89ء کی اشاعت میں ہم نے حدیث:
«اوتيت القرآن ومثله معه»
کی صحت کا  تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ منکرین حدیث نے اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرکے اُس کی جگہ عملی  طور پر ایسی چیزوں کو"«مثله معه»" یعنی قرآن کی مثل بنا لیا ہے۔جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اس کے منافی ہیں۔اور جنھیں قرآنی تفسیر میں اختیار کرنے سے حقیقی مسلمان کی روح تک کانپ اٹھتی ہے ۔اسی لئے اہل اسلام قرآنی مطالب متعین کرنے کے لئے شروع سے لے کر آج تک صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات وہدایات(حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف رجوع کرتے رہے کیونکہ کلام الٰہی(یعنی قرآن کریم) سے مراد الٰہی کاتعین کرنے والی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی وحی ہونے میں قرآن کی مثل ہے۔اگرچہ وحی کی دوسری قسم یعنی وحی غیر متلو کے قبیل سے ہے
محمد رمضان سلفی
1979
  • اگست
ہر بات میں ہے بے بس مجبور آدمی ۔ حیران ہوں پھر ہے کس لئے مغرور آدمی
دولت کے نشے میں جو ہوا چور آدمی۔       انسانیت سے ہے وہ بہت دور آدمی
پابند یہ نہیں ہے کسی بھی اصول کا۔        رکھتا نہیں ہے کوئی بھی دستور آدمی
فضل روپڑی
1985
  • ستمبر
مجھ کو دیوانہ بنا کر خوب رسوا کیجیے               غنچہ و گل میں سما کر مجھ سے پردہ کیجیے
شومئی قسمت کا اپنی یوں مداوا کیجیے             حسن یکتا کو دلوں میں بھلوہ فرما کیحیے
خود ہی ہو جائیں گے وہ محو تماشائے جنوں    دل میں ذوق جستجو کا حسن پیدا کیجیے
اسرار احمد سہاروی
1985
  • اپریل
مُدعی آج چشم پُرنم ہے   التفات اس کا باعث غم ہے
عشق کی سربلندیاں ہر سو ! ہو مبارک ، ہوس کا سرخم ہے
اہل دل کو خوشی مبارک ہو بوالہوس آج محو ماتم ہے
اسرار احمد سہاروی
1978
  • دسمبر
کتنی چیزیں ہیں کہ اُن سے ہمیں نفرت ہے بہت
اور کوئے یار میں اُن چیزوں کی وقعت ہے بہت

محفل عقل میں ہے طنعہ زنی ہم پہ، تو کیا
کوچہ عشق میں دیوانوں کی عزت ہے بہت
نعیم الحق نعیم
1983
  • ستمبر
دو دلوں کا ربط باہم ہو گیا
ایک عالم ہم سے برہم ہو گیا
غم کی دولت کو ترستا تھا بہت
نعیم الحق نعیم
1984
  • اکتوبر
آئینہ رو برو کیجئے
پھر کوئی نقد فرمائیے
اک ذرا سی خوشی کے لیے
تابش مہدی
1985
  • جنوری
بکھری ہوئی ہیں ان کی ادائیں کہاں کہاں

دامن کو دل کے ان سے بچائیں کہاں کہاں

جلوے قدم قدم ہیں تمہارے بہ ہر نگاہ

آنکھوں کو فرش راہ بنائیں کہاں کہاں

ہیں امتحان میں اپنی وفاداریاں ہنوز

داغوں سے اپنے دل کو سجائیں کہاں کہاں
اسرار احمد سہاروی
1980
  • جون
زندگی پُر اَلم بنائی ہے ربّ عالم تیری وہائی ہے
ایک سہارا تھا دل کامبہم سا وہ بھی اب رہن بے وفائی ہے
نفسی نفسی کا ایک عالم ہے بے خودی سی ہر اک پہ چھائی ہے
اسرار احمد سہاروی
1978
  • اکتوبر
  • نومبر
رہ  وفا میں مراحل تو بے شمار آئے

وفا شعار بہرگام کامگار آئے

کوئی نہ کام زمانے میں کیجئے ایسا

یقین دل کونہ آنکھوں کو اعتبار آئے

جنہیں خبر تھی شہادت کا مرتبہ کیا ہے

گزر کے دیروحرم سے وہ سوئے دار |آئے

کہاں کہاں دل بے تاب لے گیا ان کو

کہاں کہاں تیرے شیدا تجھے پکار |آئے
عبدالرحمن عاجز
1980
  • جون