ٹی وی کے دانشورجناب جاوید احمد غامدی صاحب (بی اے آنرز، فلسفہ) کے نظریات دین اسلام کے مسلمہ، متفقہ اور اجماعی عقائد و اَعمال سے کس قدر مختلف ہیں اور اُن کی راہ اُمت ِمسلمہ اور علماے اسلام سے کتنی الگ اور جداگانہ ہے، اسے اچھی طرح سمجھنے کے لئے ذیل میں اُن کی تحریروں پر مبنی ایک تقابلی جائزہ پیش کیا جاتا ہے جس کے مطالعے سے آپ خود یہ فیصلہ فرما سکتے ہیں کہ علماے اسلام اور غامدی صاحب میں سے کون حق پر ہوسکتا ہے؟
محمد رفیق چودھری
2007
  • جون

السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ
اللہ تعالیٰ نے آپ کے دم قدم سے ایک صاف ستھرے دینی رسالے کو فراز بخشا، مگر گذشتہ دو برسوں سے یہ چیز شدت سے مشاہدے میں آرہی ہے کہ یہ پرچہ کسل مندی کا شکار ہورہا ہے اور منفی قوتوں کااس پر اثر بڑھتا جارہا ہے۔

حافظ بدر الدین
2007
  • ستمبر
جناب جاويد احمد غامدى صرف احاديث ِصححہا ہى كے منكر نہيں، وہ قرآن كى معنوى تحريف كرنے كے عادى بهى ہيں-اُن كے ہاں تحريف ِ قرآن كے بہت سے نمونے پائے جاتے ہيں- اس مضمون ميں اُن كى تحريف ِ قرآن كا ايك نمونہ پيش كيا جاتا ہے:غامدى صاحب 'اسلام كے حدود و تعزيرات' پر خامہ سرائى كرتے ہوئے لكھتے ہيں:"موت كى سزا قرآن كى رُو سے قتل اور فساد فى الارض كے سوا كسى جرم ميں نہيں دى جاسكتى-
محمد رفیق چودھری
2007
  • مارچ
فاضل مقالہ نگار نے چند برس قبل محدث میں 'جاوید غامدی کے منحرف افکار' سے اُمت کو آگاہ کرنے کے لئے ایک علمی سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس سلسلۂ مضامین کے ساتھ ساتھ ان کے غلط اَفکار پر اُنہوں نے شعر وادب کی زبان میں بھی کڑی تنقید کی۔ یہ سلسلہ باقاعدگی کے ساتھ محدث میں جاری وساری تھا کہ چند ماہ بیشتر فاضل محقق ایک ٹریفک حادثہ کا شکار ہوگئے اورتعطل پیدا ہوگیا۔
محمد رفیق چودھری
2008
  • دسمبر
ہمارے زمانے میں فتنۂ انکار ِ حدیث کی آبیاری کرنے والوں میں ایک نام جاوید احمد غامدی صاحب کا بھی ہے۔ موصوف اپنی چرب زبانی، لفاظی اور منطقی مغالَطوں کے ذریعے اس فتنے کو ہوا دے رہے ہیں ۔ اُن کو الیکٹرانک میڈیا، چند سرمایہ داروں کی توجہ اور سرکار دربار کی نوکری و سرپرستی حاصل ہے۔میرے نزدیک غامدی صاحب نہ صرف منکر ِحدیث ہیں بلکہ اسلام کے متوازی ایک الگ مذہب کے علمبردار ہیں ۔
محمد رفیق چودھری
2008
  • جنوری
فاضل مقالہ نگار محمد رفیق چودھری جناب جاوید احمد غامدی کے ان ابتدائی ساتھیوں میں سے ہیں جب غامدی صاحب ابھی محمد شفیق عرف 'کاکو شاہ' سے نام تبدیل کر کے غامدی کے لاحقہ کے بغیر صرف 'جاوید احمد' کہلاتے تھے۔ یہ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد کا دور ہے، جب جاوید احمد بی اے کرنے کے بعد اپنی طلاقت ِلسانی کی بدولت پنجاب کے ایڈمنسٹریٹر اوقاف جناب حامد مختار گوندل کو متاثر کر کے اوقاف کے خرچ پر 29؍جے ماڈل ٹاؤن لاہور میں دائرة الفکرکے نام سے ایک تربیتی اور تحقیقی ادارہ کی داغ بیل ڈال رہے تھے 
محمد رفیق چودھری
2006
  • جون
گذشتہ دنوں راقم کا ایک مضمون ’ غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ؛ دستورِ پاکستان اور قادیانیت ‘پاکستان کے متعدد رسائل میں شائع ہوا تھا جس میں ملک کے ممتاز دانشور جاوید احمد غامدی کے مضمون ’اسلامی ریاست؛ ایک جوابی بیانیہ‘کے چند نکات پر گفتگو کی گئی ۔ مضمون میں غامدی صاحب کے جوابی بیانیے کے نکتہ نمبر4 پر تفصیلی بحث کی گئی تھی اور اُن سے عرض کیا گیا تھا کہ اپنے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے واضح طور پر اعلان کریں
شکیل عثمانی
2017
  • مئی
پاکستان کے مسلمہ مسالک کے کوئی سے تین معتمد علماے کرام کی منصفی میں لاہور کےکسی بھی میڈیا فورم پر درج ذیل دس (10) مسائل پر مجادلۂ احسن کا چیلنج دیا جاتا ہے
  1. اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے یا نہیں؟
ادارہ
2007
  • اگست
روزنامہ جنگ ۲۲ جنوری، ۲۰۱۵ءکے ادارتی صفحات پر ٹی وی اسکالر جناب جاوید احمد غامدی کا ایک کالم 'اسلام اورریاست: ایک جوابی بیانیہ' کے نام سے شائع ہوا۔ اس کالم کے جواب میں اصحابِ علم وفضل کی بہت سی تحریریں روزنامہ جنگ اور دیگر اخبارات کے صفحات پر شائع ہوئیں۔ مولانا تقی عثمانی صاحب نے بھی روزنامہ جنگ میں اُن کے مضمون کے مرکزی خیال کا خوب ناقدانہ جائزہ پیش کیا ہے۔
ابو الحسن علوی
2015
  • فروری
دورِ حاضر کے تجدد پسند گروہ (Miderbusts)نے مغرب سے مرعوب و متاثر ہوکر دین اسلام کاجدید ایڈیشن تیار کرنے کے لئے قرآن و حدیث کے الفاظ کے معانی اور دینی اصطلاحات کے مفاہیم بدلنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ہمارے ہاں اس فتنے کی ابتدا سرسید احمد خان نے کی۔ پھر اُن کی پیروی میں دو فکری سلسلوں نے اس فتنے کو پروان چڑھایا۔ ان میں سے ایک سلسلہ عبداللہ چکڑالوی اورمولانا اسلم جیراج پوری سے ہوتا ہوا جناب غلام احمد پرویز تک پہنچتا ہے۔
محمد رفیق چودھری
2006
  • نومبر
اخباری اطلاع کے مطابق اسلام آباد میں ایک تعلیمی کانفرنس کے دوران جہاںوزیراعظم شوکت عزیز بھی تقریب میںموجود تھے۔ ممتاز عالم دین محقق اور دانشور علامہ جاوید الغامدی جو کہ حال ہی میں اسلامی نظریاتی کونسل آف پاکستان کے رُکن مقرر کئے گئے ہیں، نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ حکیم اور اسلامیات کی تعلیمات بچوں کو دوسری جماعت کے بجائے پانچویں جماعت کے بعد شروع کی جانی چاہئیں۔
ادارہ
2006
  • جون
اس سلسلۂ مضامین میں اُن اُمور پر تفصیلی بحث و گفتگو کی جارہی ہے، جن کی بنا پر ہمارے نزدیک غامدی صاحب کا شمار منکرین حدیث میں ہوتا ہے اور اُن کا نظریۂ حدیث انکارِ حدیث پر مبنی ہے۔پہلی قسط میں ہم نے غامدی صاحب کو اس لئے منکر ِحدیث قرار دیا تھا کہ وہ سنت کی ابتدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ماننے کی بجائے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مانتے ہیں
محمد رفیق چودھری
2008
  • فروری
کتاب کے مصنّفین تو ایک سے زائد ہیں لیکن ٹائٹل پر نا م صرف مفتی فیصل جاپان والا لکھا ہوا ہے حالانکہ مفتی فیصل صاحب نے اس کتاب کے تقریباً ۲۵ صفحات لکھے ہیں ۔اس کتاب کا اکثر و بیشتر حصہ مفتی ذیشان پنجوانی صاحب کا ہے جنہوں نے غامدی صاحب کے نظریات پر نقد کرتے ہوئے تقریباً ۹۰ صفحات رقم کیے ہیں ۔
محمد زبیر
2008
  • دسمبر
غامدی صاحب کے انکارِ حدیث کا سلسلہ بہت طولانی ہے۔ وہ فہم حدیث کے لئے اپنے من گھڑت اُصول رکھتے ہیں جن کا نتیجہ انکارِ حدیث کی صورت میں نکلتا ہے۔ وہ حدیث اور سنت کی مسلمہ اصطلاحات کا مفہوم بدلنے کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ حدیث کو دین کا حصہ نہیں سمجھتے۔ وہ اس کے ثبوت کے لئے اپنی طرف سے اجماع اور تواترکی شرائط عائد کرتے ہیں۔
محمد رفیق چودھری
2009
  • مئی
'سنت' کا شرعی واصطلاحی مفہوم چھوڑکر غامدی صاحب پہلے تو گھر سے اس کا ایک نرالا مفہوم مراد لیتے ہیں اور پھر اس کے ثبوت کے لئے انوکھی شرطیں عائد کردیتے ہیں ۔ ان کے نزدیک :سنت کا ثبوت خبر واحد سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا ثبوت کبھی صحابہ کرامؓ کے اجماع سے ہوتاہے کبھی صحابہ کرام کے اجماع اور ان کے عمل تواتر سے، کبھی اُمت کے اجماع سے، کبھی اُمت کے اِجماع سے اَخذ کرکے اور کبھی اُمت کے اِجماع سے قرار پاکر اور کبھی قرآن کے ذریعۂ ثبوت کے برابر ذریعۂ ثبوت سے۔
محمد رفیق چودھری
2009
  • فروری
جناب جاویداحمدغامدی صاحب نے دین اسلام کو 'موم کی ناک' بنا رکھا ہے۔ وہ جب چاہتے ہیں دین میں تغیر و تبدل اور ترمیم و تنسیخ کرکے اس کاحلیہ بگاڑنے اور اس کی صورت مسخ کرنے کی مذموم اورناکام کوشش فرماتے رہتے ہیں ۔مثال کے طور پر وہ 'داڑھی' کو کبھی سنت اور دین کہتے ہیں اور کبھی اسے سنت اور دین سے خارج سمجھتے ہیں ۔
محمد رفیق چودھری
2007
  • جولائی
فتنہ انکارِ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکی اس پیشین گوئی کا مصداق ہے جس کے مطابق ایسے لوگوں کا ظہور ہوگا جو صرف قرآنِ کریم کی اتباع کو ہی کافی و شافی سمجھیں گے۔چنانچہ ابتداء ًدوسری صدی ہجری میں عراق میں اور بعدازاں تیرہویں صدی ہجری میں برصغیر پاک و ہند میں اس فتنہ کا ظہور ہوا۔
عمران ایوب لاہوری
2008
  • اکتوبر
جاويد احمد غامدى كے زير نگرانى سرگرم حلقہ اشراق كى تحقیق و تنقيد اور دلچسپیوں كا مركز ايسے مسلمہ اُمورہيں جن كے بارے ميں اُمت ِمسلمہ ميں چودہ صديوں سے عمومى طور پر اتفاقِ رائے پايا جاتا ہے- چونكہ عالمى سطح پر سپر قوتوں كے ايجنڈے كے مطابق اسلام اور مغربى تہذيب كى كشمكش ميں ايسے بعض مسلمات كو ہدفِ تنقيد بنايا جارہا ہے،
ضیاء اللہ برنی
2005
  • اگست
عور ت کے پردے کے بارے میں جناب جاوید احمدغامدی صاحب کا کوئی ایک موقف نہیں ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے مطابق اپنا موقف بدلتے رہتے ہیں :کبھی فرماتے ہیں کہ عورت کے لئے چادر، برقعے، دوپٹے اور اوڑھنی کا تعلق دورِنبویؐ کی عرب تہذیب و تمدن سے ہے اور اسلام میں ان کے بارے میں کوئی شرعی حکم موجود نہیں ہے۔
محمد رفیق چودھری
2007
  • مئی
دور ِ جدید کے بعض تجدد پسند حضرات نے نبی اور رسول کے درمیان منصب اور درجے کے لحاظ سے فرق و امتیاز کی بحث کرتے ہوئے یہ نکتہ آفرینی بھی فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو تو اُن کی قوم بعض اوقات قتل بھی کردیتی رہی ہے مگر کسی قوم کے ہاتھوں کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا۔ یہ لوگ اس امر کو ایک اُصول، ایک عقیدہ اور قانونِ الٰہی قرار دیتے ہیں کہ نبی کے لئے وفات پانے یا قتل ہونے کی دونوں صورتیں تو ممکن ہیں مگر رسول کبھی قتل نہیں ہوسکتا۔
محمد رفیق چودھری
2006
  • ستمبر
سطورِ ذیل میں ہم قارئین کے سامنے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے شرعی تصورات اور بعض متجددین کی طرف سے پیش کیے گئے خانہ ساز نظریات کاقرآن و سنت اور ائمہ سلف کی آرا کی روشنی میں ایک علمی جائزہ پیش کررہے ہیں جو اسلام آباد کے معروف مدرسہ حفصہ اور لال مسجد کے حوالے سے اس وقت اخبارات کی شہ سرخیوں میں نمایاں ہے۔ اُمید ہے کہ قارئین اس بالواسطہ تبصرہ سے مستفید ہوں گے۔ ان شاء اللہ
محمد زبیر
2007
  • مئی
ارتداد كے لغوى معنى 'لوٹ جانے' اور 'پهر جانے' كے ہيں - شرعى اصطلاح ميں ارتداد كا مطلب ہے: "دين اسلام كو چهوڑ كر كفر اختيار كرلينا-" يہ ارتداد قولى بهى ہوسكتا ہے اور فعلى بهى- 'مرتد' وہ شخص ہے جو دين ِاسلام كو چهوڑ كر كفر اختيار كرلے-اسلا م ميں مرتد كى سزا قتل ہے جو صحيح احاديث، تعامل صحابہ اور اجماعِ اُمت سے ثابت ہے-
محمد رفیق چودھری
2007
  • فروری