گذشتہ دنوں ادارہ تحقیقات ِ اسلامی کےزیرِ اہمتام '' مسلمانوں کےبارے میں مغرب کاتصور اورمغرب کےبارے میں مسلمانوں کاتصور، ، کےعنوان پر سےمنعقدہ سیمینار میں وزیرِ اعظم پاکستان میاں نواز شریف نےخطاب کرتےہوئےکہا کہ اسلام کےسیاسی فلسفہ کی بنیاد جمہوریت ک‎پر مبنی ہے۔ انہوں نےواضح کیاکہ'' اسلام کےخلاف نظریاتی تنازعہ مکمل طورپر غیرضروری ہ ے۔وہ لوگ جواسلام کی مغرب کادشمن سمجھتےہیں اورمغرب اوراسلام میں جنگ دیکھتے ہیں وہ ایک محدود تاریخی پس منظر رکھتےہیں ۔ انہوں نےکہا کہ اسلامی بنیادپرستی کومغرب نےبڑھا چڑھا کر پیش کیااور اسے شکست دینے پرزور دیا ، اسلام کی بنیاد پرستی پرمسلمانوں کوفخر ہے۔ وہ بنیادیں یہ ہیں : توحید ، رسالت ، نماز، روزہ ، زکوۃ ، اورحج ، ان پرعمل کرکےبہت سے مسلمان اپنے آ پ کو سچا مسلمان گردانتے ہیں ، کیا یہ بنیاد پرستی ہے؟ ہرگز نہیں ! انہوں نےکہا کہ بنیاد پرستی (فنڈا میشلزم ) کی اصطلاح عیسائیت سےآئی ہےلیکن اسے اسلام پرتھوپ دیا گیا ،، - ( روزنامہ جنگ ،،لاہور 70۔اکتوبر 1997ء )
عطاء اللہ صدیقی
1998
  • اکتوبر
ماہنامہ 'الاعتصام' (2تا 8؍ ستمبر2005ء )میں ایک سوال کے جواب میں حافظ ثناء اللہ مدنی صاحب نے علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے سریانی زبان کے وجود کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ لکھا تھا کہ ''انجیل سریانی زبان میں تھی۔'' جس پر المَورد کے ریسرچ فیلو عبدالستار غوری صاحب نے ماہنامہ 'اشراق' (دسمبر 2005ء )میں اس موقف کی تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ''انجیل ابتدا ہی سے یونانی (Greek)زبان میں لکھی گئی تھی جبکہ حضرت مسیح کی زبان ارامی Aramaicتھی۔ اور اُنہوں نے اپنے مواعظ و بشارات اسی ارامی زبان میں ارشاد فرمائے تھے، لیکن ان کے جو ارشادات بائبل کے عہد نامہ جدید کی چاروں انجیلوں اور دیگر تحریروں میں درج ہیں، وہ کبھی بھی اپنی اصلی حالت میں نہیں لکھے گئے تھے
محمد اسلم صدیق
2006
  • مارچ
'اَکال الامم'سے موسوم ہندو مت کی سر زمین برصغیر پاک و ہند میں مسیحیت کی تاریخ کافی قدیم ہے،تاہم اس کی یہاں پرابتدا کا تعین مشکل امر ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں کوئی بھی باوثوق اور مستند تاریخی مصادر ومآخذ دستیاب نہیں جن سے ہندوستان میں عیسائیت کی ابتدائی آمد اور اوّلین بانی کلیسا کا قطعی تعین ہو سکے ۔
آباد شاہ پوری
2010
  • جولائی
مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف اپنے دور کے عظیم انسان ہیں بلکہ برصغیر ہند و پاک کے علمائیں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ دیگر متعدد خوبیوں کے علاوہ اُن کی خوش بیانی اور مناظرہ کی مہارت کے تو غیر بھی معترف ہیں، تقسیم ہند سے قبل تقریباً نصف صدی تک غیر مسلموں اور گمراہ فرقوں سے ان کی ٹھنی رہی اور مہارت فن اور عظیم الشان کامیابیوں کی بنا پر رئیس المناظرین اور شیر پنجاب کے لقب سے معروف ہوئے۔
اختر راہی
1973
  • مئی
جب ہم مسلمانوں کے خلاف دشمن کی فکری اور عسکری جنگ کے خطرات کا موازنہ کرتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ فکری جنگ کی تباہی اور ہولناکی اوراس کے اثرات زیادہ سخت واقع ہوئے ہیں۔ یعنی مسلمانوں کے خلاف فکری اور ثقافتی یلغار کی تباہی جنگوں اور گولہ بارود کی تباہی سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ یہی وہ سب سے بڑا چیلنج ہے جواس وقت عالم اسلام کو درپیش ہے۔
شیخ احمد عبد اللہ سیف
2001
  • مئی
قرآنِ مجید اللہ تبارک وتعالیٰ کی آخری نازل کردہ کتاب ہے اور اُس نے اِس کی حفاظت کا ذمہ بھی خود ہی لیا ہے:
’’ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ‘‘ (الحجر :۹)
''بے شک ہم ہی نے یہ ذکر (قرآن) نازل کیا اور ہم ہی اسکی حفاظت کرنے والے ہیں۔''
محمد سعید شیخ
2010
  • جولائی
پس منظر:

واقعہ یہ ہے کہ تمام خلیجی عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب میں اپنے بہت سے پاکستانی بھائیوں سے ملاقات کے دوران یہ چیز علم میں آئی کہ غیر مسلم اشخاص بالخصوص غیر اہل کتاب (مثلا ہندو ۔سکھ ۔چینی ۔بدھ مت۔اور لادین وغیرہ) کے ساتھ کھاناکھانا شرعاً درست نہیں ہے۔
غازی عزیر
1989
  • نومبر
چند ضروری معروضات

ماھنامہ"محدث"لاھور کا تازہ شمارہ پیش نظر ہے۔اس شمارہ میں محترم مولانا عبد السلام کیلانی صاحب،حفظہ اللہ کا ایک فتویٰ( ماہنامہ محدث لاہور ج19 عدد نمبر7 ص 30-34 بمطابق ماہ رجب سئہ 1409ھ)"غیرمسلم،غیرکتابی باورچی کےتیارکردہ کھانے کاحکم"کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔
غازی عزیر
1989
  • مئی
مرزائیوں اور بھائیوں کے مابین ایک مناظرہ

مرزائیوں کے خیال میں مرزا صاحب مسیح اور مہدی دونوں تھے اور بہائی مذہب میں چونکہ الگ الگ ہوئے ہیں۔ اس لئے ان کا آپس میں ایک دفعہ جو مقابلہ ہوا ہے اس موقعہ پر وہی نقل کر دینا کافی ہے۔
عالم آسی
1971
  • اکتوبر
پاکستان میں عیسائیوں کو مذہبی آزادی اور ہر قسم کا جانی و مالی تحفظ حاصل ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ دین اسلام کی اہانت کے مرتکب بھی ہوں اور مسلمانوں کو ان کے عقائد سے برگشتہ کرنے کی کوشش کریں ۔اب تک ان کی طرف سے توہین رسالت کے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں اور کسی بھی حکومت کو نہ صرف ان کا خاطر خواہ نوٹس لینے کی توفیق میسر نہیں ہو ئی بلکہ ان کے رد عمل میں مسلم عوام کی طرف سے اگر اضطراب کی کوئی لہر اٹھی تو اسے بھی دبا دیا گیا اور مجرموں کو اس حد تک تحفظ فراہم کیا گیا کہ وہ صاف بچ نکلے اور ان کا بال تک بیکا نہ ہو ا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی ہمتیں جوان ہو گئی ہیں ۔اور ان کی طرف سے نت نئی شرارتیں سامنے آرہی ہیں۔ اس کا ایک تازہ ثبوت لاہور کے ایک پادری غلام مسیح کا سوالنامہ ہے جو فوٹو سٹیٹ ہو کر ملک کے طول و عرض میں پھیلایا گیا ہے جس میں اس نے حضرات انبیائے کرام  علیہ السلام   کی شان میں شرمناک گستاخیاں کی ہیں حکمرانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ عیسائیوں کی ان حرکات بد کا سختی سے نوٹس  لیں۔ورنہ اگر وہ دین اسلام کی حمایت سے اسی طرح دست کش رہے تو اس کے نتیجہ میں وہ خود بھی رب کی حمایت سے محروم ہو جائیں گے، کیونکہ اللہ کی مدد انہی کے شامل حال ہو تی ہے جو اللہ کے دین کی مدد کریں۔
اکرام اللہ ساجد
1999
  • دسمبر
﴿ما لَهُم بِهِ مِن عِلمٍ وَلا لِءابائِهِم ۚ كَبُرَ‌ت كَلِمَةً تَخرُ‌جُ مِن أَفو‌ٰهِهِم ۚ إِن يَقولونَ إِلّا كَذِبًا ﴿٥﴾... سورة الكهف

''نہ اس کا کوئی علم اُنھیں ہے اور نہ اُن کے باپ دادا کو تھا، (یہ)بہت بڑا بول ہے جو اُن کے منہ سے نکل رہا ہے، وہ (سراسر) جھوٹ کے سوا کچھ کہتے ہی نہیں۔''

یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ دنیا میں انسان کسی بھی مذہب، گروہ ، فرقہ ، قوم یا ملک سے ہو، ا سے خوشی چاہیے۔ وہ خوش ہونا، ہنسنا اور مسکرانا چاہتا ہے
عبدالوارث گل
2014
  • فروری
﴿قُل يـٰأَهلَ الكِتـٰبِ لا تَغلوا فى دينِكُم غَيرَ‌ الحَقِّ وَلا تَتَّبِعوا أَهواءَ قَومٍ قَد ضَلّوا مِن قَبلُ وَأَضَلّوا كَثيرً‌ا وَضَلّوا عَن سَواءِ السَّبيلِ ﴿٧٧﴾... سورةالمائدة

''کہو کہ اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہش کے پیچھے نہ چلو جو (خود)پہلے گمراہ ہوئے اور بہت سے دوسرےلوگوں کو بھی گمراہ کر گئے اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے ۔''
حسنین شاکر
2014
  • فروری