دور حاضر کا ایک بہت بڑا فتنہ مغربی سیاست کے تسلط کے باعث ذہنی مرعوبیت بلکہ ذہنی غلامی کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی معروف اسلامی فکر کا ٹکراؤ مغرب کے فریب خوردہ ذہن سے ہوتا ہے تو کوشش یہ کی جاتی ہے کہ کسی طرح اسلامی نقطہ نظر کی ہم آہنگی مغربی نظریات سے تلاش کی جائے جس کے بعث نہ صرف تاویل و الحاد کا دروازہ کھل جاتا ہے بلکہ اصل اسلامی فکر پس پردہ چلا جاتا ہے اور ایک بالکل غلط نظریہ  
اکرام اللہ ساجد
1983
  • ستمبر
نصاب شہادت کے خلاف چند مغرب زدہ عورتوں کے مظاہرہ کے بعد سے لے کر اب تک مسئلہ شہادت سے متعلق مولانا محمد صدیق صاحب اور مولانا اکرام اللہ ساجد صاحب کی بحث جماعتی جرائد و اخبارات میں پڑھنے میں آرہی ہے۔ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے، فریقین کی طرف سےکافی کچھ لکھا جاچکا ہے او راس حد تک یہ بحث مفید بھی تھی، لیکن ہفت روزہ اہلحدیث میں مولانا صدیق صاحب کا تازہ مضمون پڑھ کر سخت کوفت ہوئی
عبدالمجید بھٹی
1983
  • دسمبر
قرآن کریم میں سورة البقرة کی آیت 282 میں ایک مرد کےبجائے دو عورتوں کی شہادت کو قابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات بھی چونکہ عورتوں کے حقوق سے تعلق رکھتی ہے۔لہٰذا پرویز صاحب طاہرہ بیٹی کو دلاسہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:''ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کی شہادت عورتوں کےناقابل اعتماد یا ناقص العقل ہونے کی دلیل نہیں۔ بلکہ (ڈاکٹر ہارڈنگ کی تحقیق کے مطابق) اگر ایک دائرے (یعنی جزئیات کی کماحقہ
عبدالرحمن کیلانی
1986
  • اگست
اخبارات میں کافی دنوں سے قانون شہادت زیربحث ہے او ریہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ حالانکہ اہل علم نے مسئلہ کی وضاحت کربھی دی ہے کہ:1۔ حدود و قصاص کے سلسلہ میں عورت کو گواہی کے لیے زحمت نہیں دی جائے گی۔2۔ رضاعت وعدت وغیرہ کے مسائل میں عورت کی گواہی قابل قبول ہوگی اور مرد مکلّف نہ ہوگا۔3۔ مالی معاملات میں دو مردوں کی گواہی مطلب ہوگی، اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور
اکرام اللہ ساجد
1983
  • جون
قارئین کرام کو یاد ہوگا ، پچھلے دنوں جب قانون شہادت کامسّودہ مجلس شوریٰ میں زیربحث تھا، چندمغرب زدہ خواتین نے مسئلہ شہادت کے بعض پہلوؤں کو ''مرد و زن کی مساوات'' کے منافی قرار دیتے ہوئے ملک میں ایک طوفان کھڑا کردیا تھا۔سیاستدانوں کی شہ پر تو یہ ہوا ہی تھا، لیکن جس طرح مغربیت کے ہمنوا ، اخبارات و جرائد میں اس علمی مسئلہ پر بے بنیاد خیال آرائیاں کرتے رہے، ان کی بناء پر بعض دین پسند ذہن بھی ان
محمد صدیق
1983
  • اگست