گذشتہ دنوں امريكہ ميں ايك مسلم خاتون نے جرأتِ رندانہ سے كام لے كر مردوں اور عورتوں كى ايك مخلوط جماعت كى امامت كيا كى كہ پورى دنيا ميں اس كى مخالفت اور حمايت كا بازار گرم ہوگيا- علمااور فقہا نے اس كے خلاف فتوے ديے اور اسے ناجائز عمل بتايا تو روشن خيال مسلم دانشوروں نے اس كى حمايت كى اور اسے ايك انقلابى اقدام قرار ديا-
حافظ ثناء اللہ مدنی
2005
  • جون
18/مارچ 2005ء كو نيويارك كے ايك چرچ ميں ڈاكٹر امينہ ودود نے جمعہ كى خطابت اور اس كے بعد نمازكى امامت كرا كے ذرائع ابلاغ ميں ايك نئى بحث كا آغاز كرديا- اس سے اگلے جمعے 25/مارچ كو كينيڈا ميں بهى سليمہ علاؤ الدين نامى ايك عورت نے جمعہ كے ايسے ہى ايك اجتماع كى امامت وخطابت كى- پہلے اجتماع ميں 120 اور دوسرے ميں 200 كے لگ بھگ مرد و زَن نے شركت كى-
حسن مدنی
2005
  • جون
زير بحث مسئلہ يہ ہے كہ كيا عورت كا مردوں اور عورتوں كو اكٹھے امامت كروانا درست ہے؟ كيا عورت صرف عورتوں كو امامت كروا سكتى ہے يا مردوں كو بهى اس كا امامت كروانا ثابت ہے؟
الجواب بعون الوہاب: عورت كا مردوں اور عورتو ں كو اكٹھے امامت كروانا ثابت نہيں ہے اور نہ ہى اكيلے مردوں كو امامت كروانا ثابت ہے۔
ثنااللہ مدنی
2005
  • جون
پروفيسر خورشيد عالم ماہنامہ 'اشراق' لاہور ميں 'عورت كى امامت'كے بيان ميں لكھتے ہيں:
"پچهلے دِنوں ايك نيك سيرت اور پڑهى لكھى خاتون نے نيويارك (امريكہ) ميں جمعہ كى نماز ميں مردوں اور عورتوں كى امامت كى..."
عورت كى امامت كى دليل بيان كرتے ہوئے لكھتے ہيں:
"سنن ابوداود ميں عورت كى امامت كے عنوان كے تحت اُمّ ورقہ سے دو حديثيں روايت كى گئى ہيں۔
محمد شفیق احمد کمبوہ
2005
  • جون
گذشتہ ماہ 'اشراق' ميں عورت كى امامت كے جواز كے بارے ميں مضمون شائع ہونے پر اس كى نقول مختلف اہل علم كو بهجوائى گئيں اور 15/مئى كو مجلس التحقیق الاسلامى ميں چند اہل علم كا اسى موضوع پر تبادلہ خيال بهى ہوا-اس كے بعد فاضل علماء كرام نے ادارئہ محدث كواپنے مضامين ارسال كئے جو اس شمارے كى زينت بن رہے ہيں- راقم نے بهى اسى موضوع پر اُنہى دنوں ايك مضمون تحرير كيا تها
حسن مدنی
2005
  • جون
پچهلے دِنوں نيويارك،امريكہ ميں چند مغرب زدہ خواتين و حضرات نے ايك چرچ ميں جمع ہوكر ايك عورت كى امامت ميں نمازپڑهى- ظاہر بات ہے كہ يہ حركت اسلامى تعليمات كے بهى يكسر خلاف تهى اور چودہ سو سالہ مسلمات ِ اسلاميہ سے انحراف بهى- جس پربجا طور پر عالم اسلام ميں اضطراب و تشويش كى لہر دوڑ گئى اور اسے مغربى استعمار كى ايك سازش سمجھا گيا اور اس حركت كا ارتكاب واہتمام كرنے والوں كو ان كا كارندہ قرار ديا گياكيونكہ ہدايت كار (ڈائريكٹر) تو وہى تهے، اور يہ 'نمازيانِ استعمار' تو صرف اداكار تهے-
صلاح الدین یوسف
2005
  • جون
مكرمى و محترمى جناب مولانا حافظ عبدالرحمن مدنى صاحب
السلام عليكم ورحمة اللہ و بركاتہ
'اشراق' كے شمارہ مئى 2005ء ميں 'عورت كى امامت' كے متعلق چھپنے والے مضمون كى فوٹو كاپى ارسال كرنے پر شكرگزار ہوں- آپ نے درست فرمايا ہے كہ غامدى صاحب اور اربابِ اشراق اسلام كا نيا ماڈل متعارف كرانے ميں مصروف ہيں
ارشاد الحق اثری
2005
  • جون
اس مسئلے ميں علما كرام كا اختلاف ہے كہ كيا عورت نماز ميں عورتوں كى امام بن سكتى ہے يا نيںئ؟ ايك گروہ اس كے جواز كا قائل ہے- ايك روايت ميں آيا ہے كہ
وكان رسول اللهﷺ يزورها في بيتها وجعل لها مؤذنا يؤذن لها وأمرها أن تؤم أهل دارها
زبیر علی زئی
2005
  • جون
گذشتہ ماہ امامت ِزن كے مسئلہ پر محدث كا خصوصى شمارہ شائع كيا گيا جسے علمى ودينى حلقوں ميں خوب پذيرائى ملى، بہت سے اہل علم نے فون پر يا خطوط كے ذريعہ اس كاوش كو سراہا- معروف سيرت نگار جناب قاضى سليمان منصور پورى كے پوتے قاضى حسن معز الدين نے راقم سے فون پر اظہارِ خيال كرتے ہوئے امامت ِزن كے فتنہ كى مركزى كردار اسرىٰ نعمانى كے بارے ميں بعض چشم ديد تفصيلات بهى بيان كيں-
حسن مدنی
2005
  • جولائی