نظریانی لگن اور بقاء واحیاء ملی 
ہر باشعور انسان اور ہرمتمدن معاشرے کی زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ،کوئی نہ کوئی نظریہ حیات ضرور ہوتا ہے ۔ اگر نظریہ حیات پورے شعور و شدت سے فکرو عمل کو گرماتاہو تو افراد اور معاشرے کے تمام مسائل بطریق احسن پورے ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کے سامنے  علم وعرفان ،سیادت و قیادت اور تسخیر و تسلط کے رموز و نکات  کھلتے چلے جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس اس نظریاتی لگن سے عاری افراد اور ادارے ذاتی نقصان اٹھانے کے علاوہ بسا اوقات پورے معاشرے کو بھی لے ڈوبتے ہیں ۔ افراد اور ملتوں کی تعمیر و تخلیق کے لیے نظریاتی لگن کی حرارت ناگزیر ہے ۔
نظریاتی لگن کی بالا دستی 
بین الاقوامی  منڈی میں اس وقت کئی ایک نظریے کشمکش اشاعت و اقتدار میں سر گرم عمل ہیں ۔ پاکستان کے نظریہ حیات کے خدو خال قرآن حکیم میں وضع کر دیے گئے ہیں ۔ اس عظیم اسلامی مملکت کے قیام کے لیے ایک دلولہ انگیز جہاد بھی اسی لیے ہوا تھا کہ مسلمانان برصغیر اپنی زندگی قرآن و سنت کے تابع کرسکیں ۔ چنانچہ اس اسلامی ریاست کی اساس ان شہدائے کرام کے مقدس لہو پر  رکھی گئی جنھوں نے ہمیں قرآن وسنت کی روشنی سے معمور ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنی جان کی بازی بھی داؤ پر لگا دی تھی ۔ اب ہمارے لیے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم اس مقدس نظریے کو دل سے لگائے رکھیں اور اپنی  زندگی کے تمام شعبوں میں اسی سے رشدوہدایت لیتے رہیں ۔
1980
  • اپریل
جامعہ لاہور اسلامیہ کی جوہر ٹاؤن، لاہور میں واقع برانچ البیت العتیق میں مؤرخہ 2؍جون 2012ء کو مشکوٰۃ المصابیح کے اختتام کے مبارک موقع پرمشکوٰۃ کی آخری حدیث پر درس کے لئے پشاور کے نامور عالم اور مفتی مولانا امین اللہ ﷾ کودعوت دی گئی۔مولانا موصوف نے اپنے درسِ حدیث میں اس فرمان نبویؐ کے حوالے سے وقیع اور اہم نکات بیان فرمائے۔
امین اللہ پشاوری
2012
  • جولائی
’’ اسلامی تعلیم وتحقیق انسٹیٹیوٹ ،، کےزیراہتمام مورخہ 30؍ نومبر98؁ء کوایک عظیم تعلیمی سیمنار منعقد ہو ا جس میں قدیم وجدید نصاب ہائے تعلیم کاتقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔اسی سیمینار میں زیرنظر مقالہ بھی پڑھا گیا جوہم ادارتی صفحات میں شائع کررہے ہیں۔ مجلس تحقیق اسلامی نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ اس سیمینار کےاہم مقالات وتقاریر محدث کےشمارہ بابت فروری 99؁ء میں شامل ہوں گی ۔ ان شاء اللہ ! (ادارہ )
پاکستان میں آج جن حالات سےہم گزر رہے ہیں ، ان حالات میں اس موضوع کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ ہماری حکومت پندرھویں دستوری ترمیم کےذریعے ملک میں کتاب وسنت کی بالا دستی منظور کرانے کےلیے کوشاں ہے۔ اس بل کےمضمرات کیا ہیں ، اس کی کوئی ضرورت ہےیا نہیں ، یہ میری گفتگو کا موضوع نہیں تاہم اس تحریک اور ترمیمی بل کےآنے کا یہ فائدہ ضرور ہواہےکہ سنجیدہ فکر علمائے کرام سےلےکر عام مسلمان بھی اسلام کےلیے سوچنے ،
ارشاد الحق اثری
1998
  • دسمبر
اسلام نے روز اولین سے اسلام کی برتری اور ضرورت کا اعلان کیا،کیونکہ علم کے بغیر نہ دین کا کوئی معاملہ سنور سکتا ہے۔نہ دنیاکا اسلام سے پہلے حصول علم کا حق ایک مخصوص طبقے تک محدود ہوتا تھا۔عام آدمی اس نعمت سے محروم تھا۔اسلام ہی پہلا مذہب ہے جس نے یہ اعلان کیا کہ حصول علم ہر انسان کا مسلم حق ہے خواہ امیر ہو یا غریب،عربی ہو یاعجمی ،ارشاد ہے:۔
محمد افضل ربانی
1992
  • اکتوبر
لغت میں 'علم' جہالت کی ضد ہے، اور اس سے مراد 'کسی چیز کی اصل حقیقت کو مکمل طور پر پالینا' ہے۔اصطلاح میں بعض علما کے نزدیک 'علم' سے مراد وہ معرفت ہے جو جہالت کی ضد ہے۔جبکہ دیگر اہل علم کا کہنا ہے کہ 'علم' اس بات سے بالاترہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔ مطلب یہ کہ لفظ 'علم' خود اتنا واضح ہے کہ اس کی تعریف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔
محمد بن صالح العثیمین
2007
  • اکتوبر