۴؍ اپریل ۲۰۱۰ء بروزاتوار بوقت۹ بجے صبح شیخ التفسیر حافظ محمد حسین امرتسری روپڑیؒ کے بڑے بیٹے حافظ عبد اللہ حسین روپڑیؒ ۷۷ برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے جن کی نمازِ جنازہ ان کے بہنوئی پروفیسر حافظ ثناء اللہ خاں نے روپڑی خاندان کے زیر اہتمام ڈیفنس کالونی، کراچی کی جامع مسجد عمر بن عبدالعزیز میں اسی روز بعد نمازِ مغرب پڑھائی اور اُنہیں نئی تعمیر کردہ کالونی 'گلشن معمار' میں ۱۰بجے رات سپردِ خاک کر دیا گیا۔
حسین ازہر
2010
  • مئی
آبائی وطن "کمیر پور"ضلع امرتسر ہے۔1304ھ میں پیدا ہوئے اور 1384ھ مطابق 1964ء وفات پائی۔کل عمر 80 سال حیات رہے۔راقم الحروف ان سطور میں صرف ان کی علمی زندگی اور دینی خدمات کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتا ہے۔

تعلیم کا آغاز:۔
مولانا محمد عبدہ الفلاح
1993
  • اگست
او رایک حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا تصدقوا اھل الکتاب ولا تکذبوھم (مشکوٰة باب الاعتصام) اہل کتاب کوئی بات سنائیں تو ان کو سچا کہو اورنہ جھوٹا۔ اس حدیث سے معلوم ہواکہ جو شے ہم سے غائب ہے اس کا وجود اور عدم اعتقاد کے لحاظ سے برابر ہے یعنی محتمل ہے ہو یا نہ ہو۔ جب دونوں طرف برابر ہوئے تو بتلائیے۔ آپ نے آج تک کون سی دلیل پیش کی ہے۔ جہاں تک ہم نے آپ کے تعاقبات پر نظر کی ہے۔ صفر ہی پایا۔ آپ کوئی صریح حدیث پیش کریں یا کسی سلف کا قول پیش کریں تو کچھ آپ کے تعاقب کی قدر بھی ہو۔ ورنہ ویسے ورق سیاہ کرنے سے کیا فائدہ؟
حافظ ابن حجر او رعلامہ عینی : کیا حافظ  ابن حجر وغیرہ کے محض خیال سے علامہ عینی وغیرہ چپ ہوسکتے ہیں ۔خاص کر جب علامہ عینی وغیرہ کے ہاتھ میں حدیث کا لفظ صریح ھذا ہو جس کا حقیقی معنی محسوس ۔ مبصر منکر ہے۔ تو ایسی صورت میں حافظ ابن حجر وغیرہ کے قول کی کیا وقعت رہ جاتی ہے اور علامہ عینی وغیرہ پر اس کا کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ اسکے علاوہ فرضی طور پر تسلیم کرلیاجائے کہ عدم اصل ہے تو بھی علامہ عینی کا پلڑا بھاری رہتا ہے کیونکہ ایسے بے دلیل اصل کو دلیل کے مقابلہ میں ترک کردیا جاتاہے او ریہاں ھذا کا لفظ دلیل موجود ہے ہاں اس سے کسی کو انکار نہیں کہ ھذا کبھی غیرمحسوس یا غیر حاضر میں بھی  استعمال ہوتا ہے مگر چونکہ یہ حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی ہے او رحقیقی معنی مجازی پر مقدم ہے اسلیے ترجیح مکشوف ہونے کو ہے۔
محمد صدیق
1980
  • جون
متحدہ ہند جسے بر ِصغیر بھی کہا جاتا ہے اور تقسیم کے بعد برصغیر پاک و ہند کہلاتا ہے، میں بہت سے خاندانوں میں پشت در پشت، علمی و دینی روایات اور خدمات کا ایسا تسلسل رہا ہے جس کی بنا پر وہ پورے خطہ میں نمایاں اور ممتاز مقام کے حامل رہے۔ جیسے سلفی مسلک اور فکر کے حاملین میں غزنوی خاندان، لکھوی خاندان اور مولانا عبدالوہاب دہلوی، امام جماعت غربائِ اہلحدیث کاخاندان اور اس قسم کے کچھ اور خاندان ہیں، انہی میں سے ایک روپڑی خاندان ہے!
صلاح الدین یوسف
2000
  • مارچ
’’وہ آیا، اس نے دیکھا اور فتح کر لیا‘‘ کا مصداق…اللہ کی قدرت کاشاہکار…یہ تھا مردِ میدان حافظ عبد القادرروپڑی ؒ… چہرہ ہر وقت متبسم …ہر ملاقاتی کا خندہ پیشانی سے استقبال … مہمان نوازی کا نبوی سلیقہ ، بچوں کا بھی احترام، نہ کسی کو گالی نہ دُشنام طرازی ، دلیل کی زبان سے مخالف زیر ، اختلافِ رائے کا پورا حق دیتے اور رکھتے ۔اپنے رب کے راستے کی طرف سے بلاتے حکمت ، موعظہ ٔحسنہ بلکہ جدالِ احسن کے ساتھ   ؎
شیخ مزمل احسن
2000
  • مارچ
ربّ ِکائنات کے طے شدہ منصوبے اور سوچے سمجھے پروگرام کے مطابق موت و حیات کا سلسلہ اَزل سے جاری ہے اور اَبدالاباد تک ساری رہے گا۔ وقت کا ہر لمحہ نہ جانے کتنی ہستیوں کے چراغِ حیات کو گل اور شمع زندگی کو بجھا دیتا ہے اور گلشن زندگی میں کتنے شگوفوں کو قبائے ہستی سے مزین کرتا ہے۔ موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس حقیقت سے کسی فرد بشر کو انکار نہیں ہے نیز ا س کے وقوع سے بھی کسی کے لئے مجالِ انکار نہیں۔
عبدالوکیل علوی
2000
  • مارچ
حضرت حافظ محمد اسماعیل روپڑی کو ا س جہان ِ فانی سے رحلت کئے ہوئے نصف ہونے کو ہے مگر معلوم ایساہوتا ہے کہ
ابھی ا س راہ سے گیا ہے کوئی   کہے دیتی ہے شوخی نقش پاکی!
مرکزی جامع مسجد اہلحدیث امین پور بازار ، جامع مبارک اہلحدیث منٹگمری بازار میں ان کے خطبات جمعہ اور چوک گھنٹہ گھر و دھوبی گھاٹ کے میدان میں ان کی تقریریں اور برسوں پر پھیلی ہوئی کتنی ہی بھولی بسری غیر مربوط یادین میری آنکھوں گرد ش کر رہی ہیں ۔
یوسف انور
2011
  • جولائی
سُلطان المناظرین مولانا حافظ عبد القادر روپڑی کی وفات پر اگرچہ پورے عالم اسلام سے ٹیلی فون،تاروں اور خطوط کے ذریعے روپڑی خاندان کی علمی شخصیت حافظ عبد الرحمن مدنی اور مرحوم کے صاحبزادے جناب عارف سلمان روپڑی کے نام تعزیت کا اظہار کیاگیااو ریہ سلسلہ ملاقاتوں کی صورت تاحال جاری ہے ۔
عبدالجبار سلفی
2000
  • مارچ
نام ونسب اور خاندان

آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے: عبدالقادر بن میاں رحیم بخش بن میاں روشن دین... دادا میاں روشن دین موضع کمیر پور، تحصیل اجنالہ، ضلع امرتسر رہتے تھے ۔ درحقیقت کمیر پور ان کا اصل وطن نہیں ان کے آبائواجداد ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ کے باشندہ تھے...
حافظ ثناء اللہ مدنی
2000
  • مارچ