اللہ تعالیٰ جب کبھی کوئی نبی یا رسول مبعوث فرماتا ہے تواسے انتہائی مخلص،ایثار شعار اور جان نثار ساتھی عطا فرماتا ہے۔جو رسول کی تربیت اور زمانے کی ابتلاء اور آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلتے ہیں۔جو ہر مشکل وقت اور مصیبت میں رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کاساتھ دیتے ہیں۔رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اعانت میں اپنی جان،اپنا مال اور اپنا تمام سرمایہ حیات اللہ کی خاطر،اللہ کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے قدموں میں ڈھیر کردیتے ہیں۔نبی کی تائید اور مدفعت میں اپنا وطن،اپنی اولاد،اپنے ماں باپ اور خود اپنی جان تک قربان کردیتے ہیں اور ایمان کاتقاضا بھی یہی ہے۔
اللہ  تعالیٰ نبی کو ہر قسم کی صلاحیت بدرجہ اتم عطا کرکے مبعوث فرماتا ہے،اس کا فہم وفراست ثاقب اور اس کی بصیرت زماں ومکان کے  پار جھانکتی ہے۔ اس کی مردم شناسی خطا سے مبرا اور اس کا انتخاب صائب ہوتاہے۔تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ک منتخب کردہ افراد اس کی تربیت اور صحبت خاصہ اور باطل کے خلاف کشمکش اور آزمائشوں کے جاں گسل دور سے گزرنے کے بعد اپنی سیرت وکردار میں نبی کا پر توبن جاتے ہیں۔ان میں سے جو کوئی جس قدر نبی کے قریب ہوتا ہے۔اسی قدر اس کی سیرت وکردار کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتا ہے۔نبی  اپنے ساتھی منتخب کرنے میں غلطی نہیں کرسکتا۔
طیب شاہین لودھی
1995
  • فروری
  • مارچ
أہل السنةكى خو شى بختى ہے كہ وہ اہل بيت كرام سے دلى محبت و عقيدت ركهتے ہيں اور ان كا كماحقہ احترام كرتے ہيں- وہ نہ تو رافضيوں كى طرح انہيں حد سے بڑهاتے ہيں اور نہ ہى ناصبيوں كى طرح ان كا مرتبہ و مقام گهٹاتے ہيں- ان كا اس بات پر اتفاق ہے كہ اہل بيت سے محبت ركهنا فرض ہے اور كسى طرح كے قول و فعل سے انہيں ايذا دينا حرام ہے۔
عبدالجبار سلفی
2005
  • مارچ
اللہ تعالىٰ نے حديث كى حفاظت كے ليے وحى كو منافقين كى دسترس سے دور ركها اور اس كا ذمہ صرف اپنے پاكباز بندوں یعنى صحابہ كرام رضى اللہ عنہم كوسونپا۔ يہى وجہ ہے كہ آج حديث روايت كرنے والوں ميں آپ كسى منافق كونہيں پائيں گے۔ سچے اور كهرے صحابہ جن كى اللہ نے آسمان سے شہادت دى ہے، وہى حديث روايت كرنے والے ہيں۔
عبدالرشید اظہر
2007
  • مارچ
ہجرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ :
فریقین کی کتب تواریخ وسیر اس بات پر متفق ہیں کہ 13 نبوی میں اہل مدینہ کی  عقبہ ثانیہ کی بیعت کے بعد قریش کے ظلم وستم نے مسلمانوں پر ملکی رہائش تنگ کردی۔اکثر مسلمان بحکم و اجازت نبویؐ حبشہ کی  طرف ہجرت کرچکے تھے۔باقی ماندہ کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانی اورایمانی دولت بچانے کی عام اجازت دے دی تھی کہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے جائیں۔ مگر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے خصوصی طور پر فرمایا کہ وہ ان اجازت یافتگان ہجرت سے پہلے مدینہ پہنچ کر وہاں اقامت اختیار کریں اور مسلمان مہاجرین کی جمیعت خاطر کا سبب بنیں۔مسلمانوں سے جس طرح بھی بن  پڑا مدینہ پہنچ گئے۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی روایت کے مطابق مہاجرین میں سب سے پہلے مدینہ پہنچنے والے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  تھے۔پھرحضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے قدم رنجہ فرمایا۔پھرعمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  بیس سواروں کے ہمراہ رونق افروز ہوئے۔انصار نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےمتعلق دریافت فرمایا،تو حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے فرمایا کہ " وہ میرے پیچھے تشریف لانے والے ہیں۔"(بخاری عنوان البخابہ)
عبدالرحمن عزیز
1985
  • جولائی