یہ تو خیر مستفسرین کے سوالوں کے جواب تھے۔ اب زیرِ بحث حدیث کی طرف آئیے۔ جو یہ کہتی ہے کہ مردہ اگر سلام کہنے والے کو پہچانتا ہے تو جوابا س پر سلام ہی کہتا ہے اور اگر نہیں پہچانتا تو صرف اسے لوٹا دیتا ہے اور اسی طرح بعض دوسری روایتوں میں یوں بھی ہے کہ مردہ اپنے واقف کے آنے سے خوش ہوتا ہے اور اس کے بار بار آنے جانے سے مانوس ہو جاتا ہے۔
عبدالرحمن کیلانی
1984
  • جنوری
اسلامی عقائد میں سے ایک عقیدہ عذابِ قبر کا بھی ہے جو نہ صرف قرآنِ مجید بلکہ صحیح اور متواتر احادیث سے قطعیت کے ساتھ ثابت ہے، نیز عام اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ مرنے کے بعد ہرانسان سے عالم برزخ میں سوالات ہونے ہیں ، خواہ اسے قبر میں دفن کیا جائے یا نہیں ، اسے درندے کھا جائیں یا پھر آگ میں جلا کر ہوا میں اُڑا دیا جائے یا وہ پانی میں ڈوب کر مرجائے اور اسے مچھلیاں اپنی خوراک بنالیں۔
محمد ارشد کمال
2007
  • اپریل
برصغیر(پاک وہند) کی ملت اسلامیہ کی بدقسمتی یا آزمائش کہہ لیجئے کہ یہ پورا خطہ پرسوز طرح طرح کے دینی  فتنوں کی آماجگاہ ہے اور یہاں خودمسلمان کے اندرسے اسلام دشمن فتنے جنم لیتے رہتے ہیں۔کوئی صدی  بھر سے ر سول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث کو دین سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں تشکیک کے نت نئے پہلو سامنےآتے رہتے ہیں۔کچھ دنوں سے یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ قبر کےعذاب وثواب کاعقیدہ غلط اور قرآن کے خلاف ہے۔
پیش نظر کتابچہ میں اسی خیال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ عقیدہ حدیث ہی کی طرح قرآن سے ثابت ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس عقیدہ کو نہ ماننے والے حدیث کے تو منکر ہیں ہی،قرآن کے بھی منکر ہیں۔یعنی ایسے لوگ نہ قرآن کو سمجھتے ہیں اور نہ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیجے کہ عذاب وثواب قبر کامطلب ہے :مردے کو برزخ میں(موت کے بعد) اورقیامت سے  پہلے کی مدت میں عذاب یاثواب ملنا۔اتنی سی بات ذہن میں رکھ کر قرآن مجید سے اس کا ثبوت سنیے:
صفی الرحمن مبارک پوری
2000
  • نومبر
مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب کے قرآن مجید سے انکار سماع سے متعلق دلائل اور ان کا تجزیہ
دلیل نمبر 1:
﴿والذين يدعون .......... ﴾ترجمہ ۔ ’’ اور جنہیں خدا کے سوا یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ پیدا نہیں کر سکتے ۔ بلکہ وہ خود پیدا شدہ ہیں وہ لاشیں ہیں بےجان ۔
کیالنی صاحب نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اموات غیر احیاء کا اطلاق نہ جنوں پر ہو سکتا ہے نہ فرشتوں پر ....... باقی صرف فوت شدہ بزرگ رہ جاتے ہیں جن پر اس آیت کا اطلاق ہو سکتا ہے ۔
کیلانی صاحب کا اخذ کردہ یہ نتیجہ چند وجوہ کی بنا پر باطل ہے ۔ فوت شدہ بزرگوں میں انبیاء کرام ، صدیقین ، شہداء ، صالحین بھی داخل ہیں ۔ انبیاء کرام کی حیات قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿واسئل من ارسلنا من قبلك من رسلنا اجعلنا من دون الرحمن يعبدون ﴾(1) 
ترجمہ : وہ رسول و نبی جو ہم نے آپ سے پہلے مبعوث فرمائے ان سے پوچھ(9حوالہ) لیجئے کہ ہم نے ذات رحمن جل وعلی کے بغیر کئی معبود مقرر کیے ہیں جن کی عبادت کی جائے یقینا ایسا نہیں ۔
عبدالرحمن کیلانی
1985
  • اپریل
عیدالفطر کے روز نماز فجر کے بعد صبح سویرے میں قبرستان کی طرف گیا۔ اس قبرستان میں ایک نہیں میرے کئی عزیز  کتنے احباب منوں مٹی کے نیچے محو خواب ہیں۔ میں چل رہا تھا او رمیرے ہمرکاب ایک جنازہ بھی تھا۔ یہ فکر کا جنازہ تھا جسے فکر کا ندھا دیئے ہوئے تھا۔ یہ دل کا جنازہ تھا جو دل کے ہمراہ جارہا تھا۔ یہ ایک ایسی حالت تھی جو گریہ کناں تھی اور ایک ایسی کیفیت تھی جس پر آنسو بہائے جارہے تھے۔
میرا معمول رہا ہے کہ میں جب بھی ان راہوں سے ہوتا ہوا اس جگہ آتا ہوں تو میرے ساتھ میری اشکبار آنکھیں ساون کی گھٹائیں لے ہوئے ہوتی ہیں اور دل ہجوم غم و الم کے جلو میں یہاں فروکش ہوتا ہے۔میں قبرستان اس لیے گیا تھا کہ اپنے عزیز وں، دوستوں سے ملاقات کروں، دنیا کے تفکرات سےالگ تھلگ  ان کی صحبت میں کچھ لمحات گزاروں دنیا و آخرت او رحیات و ممات کے فلسفے پرکچھ ان سے تبادلہ خیال کروں ! اس شہر خاموشاں کے باسیوں سے کچھ ان کے حالات معلوم کروں ۔ آہ۔ وہاں وہ تو مجھے وہاں نہ ملے مگر ان کی لاشوں پر مٹی کے ڈھیر نظر آئے           ؎
عبدالرحمن عاجز
1980
  • جون
زیر نظر مضمون میں اِعادۂ روح سے ہماری مراد قبر میں منکر و نکیر کے سوالات کے وقت میت کی طرف اس کی روح کا لوٹایا جانا ہے اور علماے اہل سنت والجماعت کا بھی یہی مذہب ہے کہ دفن کے بعد میت کی طرف اس کی روح کو سوال و جواب کے وقت لوٹا دیا جاتا ہے۔ قبر میں سوالات کے وقت روح کا بدن میں لوٹایا جانا ایک ثابت شدہ امر ہے جس سے انکار کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں،
محمد ارشد کمال
2007
  • دسمبر