حنفیہ کے ہاں طلاق کی اقسام : ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین قرار دینے والوں کے دلائل کا جائزہ لینے سے قبل حنفی مذہب میں طلاق کی اقسام کو سمجھ لینا مناسب ہے، تاکہ آنے والے دلائل کی مراد سمجھنے میں آسانی رہے۔ حنفیہ کے ہاں طلاق کی تین اقسام ہیں :(1) احسن (2) حسن (3) بدعی
محمد رمضان سلفی
2006
  • دسمبر
قاری عبدالحفیظ صاحب ریسرچ اسسٹنٹ ادارہ"منہاج" کے تعاقب کے جواب میں
سہہ ماہی مجلہ "منہاج" اشاعت اپریل 1987ء میں میرا ایک مضمون بعنوان "خلفائے راشدین کی شرعی تبدیلیاں"شائع ہوا تھا۔اس مضمون میں میں  نے پرویز صاحب اور جعفر صاحب پھلواروی کے اس اعتراض کا جواب پیش کیا تھا۔"خلفائے راشدین  رضوان اللہ عنھم اجمعین  بالعموم اور حضرت عمر فاروق بالخصوص اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تبدیلیاں کرتے رہے ہیں۔"پھر ان حضرات نے نتیجہ یہ پیش فرمایا تھا کہ:۔
"اگر خلفائے راشدین اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق پچیس تیس سنت ہائے رسول میں تبدیلیاں کرسکتے ہیں تو آخر ہم اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق ایسی تبدیلیاں کیوں نہیں کرسکتے۔"
عبدالرحمن کیلانی
1992
  • اپریل
طلاق دینا پسندیدہ فعل نہیں ہے۔ اسلام نے انتہائی کٹھن حالات میں طلاق کی اجازت دی ہے جبکہ صلح اور باہمی اتفاق کی کوئی صورت باقی نہ رہ جائے۔ معمولی بات پر طلاق، طلاق کہہ دینا با عزت اور باوقار لوگوں کا شیوہ نہیں ہے۔ میاں، بیوی میں جدائی اور تفریق ہی وہ جرم ہے جو کہ شیطان کو باقی تمام جرائم سے بڑھ کر پسند ہے۔
محمد رمضان سلفی
2006
  • نومبر
پس نوشت

مضمون کی تکمیل کے بعد چند مزید چیزیں اور نظر سے گزریں یا علم میں آئیں، مناسب معلوم ہوتا ہے وہ بھی نذرِ قارئین کردی جائیں۔ ان میں سے ایک خود مولانا تقی عثمانی صاحب کا فرمودہ ہے کہ حیلے سے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، جب کہ حلالۂ ملعونہ کے جواز کی ساری بنیاد ہی حیلے پر ہے، تعجب ہے کہ محولہ فتوے کے باوجود موصوف حلالۂ ملعونہ کو حیلوں اور باطل تاویلوں سے حلال کرکے دین کو کیوں بازیچۂاطفال بنا رہے ہیں؟
صلاح الدین یوسف
2014
  • اکتوبر