اسلام کےزریں عہد اول سے لے کر آج تک ہر دور اور ہر زمانہ میں نسل مسلمانوں کا متفقہ طور پر اجماعی عقیدہ چلا آیا ہے کہ کتاب الٰہی ہر قسم کے حوادثات و تغیرات اور تبدیلیوں کے شائبوں سے محفوظ ومامون ہے ۔

رُوئے زمین پر صرف شیعہ ایک ایسی مبہوت قوم ہے جس کے زعم باطل کے مطابق قرآن کریم اپنی اصلی شکل وصورت میں ہمارے درمیان موجود نہیں بلکہ اس کا کثیر حصہ زمانہ کے دست برد ہو چکا ہے۔
ثنااللہ مدنی
1989
  • اکتوبر
'' کہتے ہیں کہ انسان کی سعادت و شقاوت کا دارومدار انجام پر ہوتا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی اپنی ابتدائی علمی زندگی میں ذہین ہونے کی وجہ سے اچھی شہرت کے حامل رہے ہیں۔اسی بناء پر ''تدبر قرآن'' میں انکار حدیث کی نیو کو عام علماء نے نظر انداز بھی کیا۔ لیکن اپنی اس تفسیر کی تکمیل کے بعد وہ جس طرح نہ صرف سنت و حدیث کی جڑوں پر کلہاڑے چلا رہے ہیں، بلکہ اس کے لیے چن چن کر چند شاگردوں کو تربیت بھی دے
محمد صدیق
1986
  • مئی
زیر نظرمضمون شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کےایک عربی رسالہ ’’النصرطغاة سورية او العلويون كما سماهم الفرنسيون ،،  کااردو ترجمہ ہے۔ 
یہ رسالہ آٹھوس صدی ہجری میں لکھا گیا تھا لیکن خوبی ملاحظہ ہو، یوں معلوم ہوتاہےکہ سوریا کےسرکش فرقے نصیریہ ،، کےمتعلق آج ہی لکھا گیا ہے------مصروغیرہ میں یہ رسالہ متعدد مرتبہ چھپ چکا ہے: 
دراصل یہ ایک استفتاء ہےجس میں نصیری فرقہ سےمتعلق چند سوالات علامہ شیخ شہاب الدین احمد بن محمد مری الشافعی نےاٹھائے تھےاورجن کےجوابات شیخ الاسلام اما م اہلسنت تقی الدین احمد بن عبدلحلیم بن عبدالسلام بن تیمیہ الدمشقی ﷫نےتحریر فرمائے تھے۔
امام ابن تیمیہ
1982
  • ستمبر
حصہ اول:۔اس حصے میں ایسے عقائد ونظریات کا ذکر ہے جن میں کم از کم نا کی حد تک مسلمانوں اور اسماعیلیوں میں اشتراکیت موجود ہے۔
الف:ارکان اسلام۔۔۔۔۔۔۔1۔کلمہ ء شہادت
اسلام میں داخل ہونے کے لئے کلمہ شہادت کازبان سے اقرار کرنا ضروری ہے ۔اس کلمہ ک دو اجزاء ہیں۔یعنی اشهد ان لا اله الا الله اوراشهد ان محمد رسول الله اور اگر کوئی مسلمان بھی ان دونوں اجزاء یا دونوں میں سے کسی کا زبانی یا معنوی طور پر انکار کردے،یا اس سے ایسے اعمال سرزد ہوں جن سے اس کلمہ کے کسی جزو کی تردید ہوتی ہو تووہ شخص دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا۔قادیانیوں نے اس کلمہ کے دوسرے جزو کا معنوی طور پر انکار کیا۔یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی رسالت کو تا قیامت واجب الاتباع تسلیم کرتے ہوئے ایک اور"نبی کی نبوت" کو تسلیم کرلیا تو پاکستان کی عدالت عالیہ نے اس فرقہ کو1975ء میں غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔
تمام اہل سنت کے برعکس اسماعیلیہ فرقہ کے کلمہ شہادت کے اجزا دو نہیں بلکہ تین ہیں:
اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمد رسول الله واشهدان امير المومنين علي الله(1)
علاوہ ازیں ان کے ہاں  پہلے دو اجزاء (جو سب مسلمانوں میں مشترک ہیں) کا بھی وہ مفہوم نہیں۔جو دوسرے مسلمانوں کے ہاں پایا جاتاہے۔کلمہ کے پہلے جزء لا اله الا الله کا  عام مفہوم یہ ہے کے اللہ کے سوا کوئی معبود یا عبادت کے لائق نہیں۔اگرچہ بعض مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات الوہیت یعنی مشکل کشائی اور حاجت روائی وغیرہ میں اپنے زندہ یا فوت شدہ بزرگوں اور پیروں کو بھی شامل کرلیا تاہم غیر اللہ کو سجدہ کرنا ایسا عمل ہے جسے مسلمانوں کے تمام فرقے حرام سمجھتے ہیں مگر اسماعیلی اپنے حاضر امام کو سجدہکرتے اور اس کام کو کارثواب اور اصل عبادت سمجھتے ہیں۔درج ذیل اقتباسات ملاحظہ فرمائیے:
1۔اس دنیا میں جو مومن پہلے تھے اور جو مومن  اس وقت ہیں اور جو آئندہ ہوں گے سب مومن "شاہ پیر"(2) کی عبادت کرتے تھے،کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
2۔"پیر شاہ ہمارے گناہ بخش دیتے ہیں۔۔۔امام حاضر کو ہم "پیر شاہ" کہتے ہیں(3)
عبدالرحمن کیلانی
1996
  • جولائی