عَنْ زیْدِ بْنِ اَرْقَمَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمْ ''یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا ھٰذِہِ الْاَضَاحِیُّ'' قَالَ ''سُنَّة اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ الحدیث''
حسن مدنی
1981
  • نومبر
میرے سامنے ایک تحریر ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام   کے والد کانام آزر کے بجائے تارح ثابت کرنے اور انہیں مسلمان باور کرانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام   کے باپ کانام آزر ہی تھا۔سورہ انعام میں ہے:
"وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ"
"جب ابراہیم علیہ السلام   نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ کیا تو بتوں کو دیوتا بناتا ہے؟"(آیت 74)
عربی زبان میں باپ کے لئے اب اور چچا کے لئے عم کا لفظ بولا جاتاہے۔اورحقیقت کو اس وقت تک مجاز پر اولیت حاصل ہے جب تک حقیقی مراد لینے میں کوئی امر مانع نہ ہو۔مثلاً اگر کسی صحیح دلیل سے ثابت ہوتا کہ نبی کابیٹا یاباپ گمراہ نہیں ہوسکتا تو اس لفظ کی تاویل کی جاسکتی تھی لیکن چونکہ ایسی کوئی دلیل نہیں لہذا اس حقیقت پر ایمان رکھنا چاہیے کہ اب سےمراد باپ ہی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام   اپنی تبلیغ میں اپنی باپ کےلیے بار بار یاابت کالفظ استعمال کرتے ہیں
عبدالجبار سلفی
2000
  • جولائی