طبرانی حاکمؒ اور آجری ؒ کی ان تینوں سندوں میں عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم موجود ہے جو انتہائی مجروح راوی ہے امام احمد بن حنبل ؒ ،ابن المدینی ،بخاریؒ ،ابو داؤد،نسائی،ابو حاتمؒ،ابو زرعہؒ، ابن سعد ؒ ، جو زجانی ؒ عقیلیؒ، ذہبیؒ،ہثیمیؒ، اور ابن حجر عسقلانی ؒ وغیرہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ابن معین ؒ فرماتے ہیں۔اُ کی حدیث کچھ بھی نہیں ہوتی ۔علامہ  ذہبیؒ عثمان الدارمی ؒ کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ یحییٰ ؒ نےفرمایا وہ ضعیف ہے ۔"ایک اور مقام پر علامہ ذہبیؒ بیان کرتے ہیں کہ "عبدالرحمٰن بن زید واہ یعنی کمزور ہے۔ابن خزیمہؒ کا قول ہے "یہ ان میں سے نہیں ہے۔جس کی حدیث کوا ہل علم حجت جانتے ہیں۔اور اس کا حافظہ خراب ہے۔طحاوی ؒ فرماتے ہیں۔اس کی حدیث علمائے حدیث کے نزدیک انتہائی ضعیف ہوتی ہے۔ساجی ؒ نے اسے منکر الحدیث " بتایا ہے ابو نعیم ؒ اور حاکم ؒ فرماتے ہیں اپنے والد سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے۔
غازی عزیر
1990
  • مئی
ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ قرآن کریم میں کچھ اس طرح بیان ہوا ہے ،سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا ہے۔

﴿ وَقُلنا يـٰـٔادَمُ اسكُن أَنتَ وَزَوجُكَ الجَنَّةَ وَكُلا مِنها رَ‌غَدًا حَيثُ شِئتُما وَلا تَقرَ‌با هـٰذِهِ الشَّجَرَ‌ةَ فَتَكونا مِنَ الظّـٰلِمينَ ﴿٣٥﴾ فَأَزَلَّهُمَا الشَّيطـٰنُ عَنها فَأَخرَ‌جَهُما مِمّا كانا فيهِ وَقُلنَا اهبِطوا بَعضُكُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ وَلَكُم فِى الأَر‌ضِ مُستَقَرٌّ‌ وَمَتـٰعٌ إِلىٰ حينٍ ﴿٣٦﴾... سورة البقرة
غازی عزیر
1985
  • اپریل
(ج)حضرت آدم علیہ السلام کی وسیلہ اختیار کرنے والی حدیث کے آخر میں (عربی)(یعنی اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو تے تو میں تم کو بھی پیدا نہ کرتا )وارد ہے جو عقائد سے متعلق ایک اہم ترین مسئلہ ہے چونکہ اسے لیے کو ئی متواتر نص موجود نہیں ہے لہذا کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی صحت ثابت کرنا محال ہے اس حدیث کو مختلف لوگ مختلف الفاظ اور مختلف مضامین کے ساتھ بیان کرتے ہیں شعیہ حضرات اور باطنیہ فرقہ کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ :
غازی عزیر
1990
  • جولائی