خلافت کے لئے بنی ہاشم کی تمنا

پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ نامزد کرنے کا خیال پیدا ہوا تو اس کی وجہ بھی بتلا دی کہ مبادا اس وقت بعض لوگ خلافت کی آرزو کرنے لگیں یا کچھ دوسرے باتیں بنانے لگیں کہ خلافت تو دراصل ہمارا حق تھا۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
حضرت علیؓ کی وفات کے قریب آپ سے لوگوں نے کہا اِسْتَخْلِفْ (یعنی اپنا ولی عہد مقرر کر جائیے) آپ نےجواب میں فرمایا: ''میں مسلمانوں کو اسی حالت میں چھوڑوں گا جس میں رسول اللہ نے چھوڑا تھا'' (البدایۃ ج ۸ ص ۱۳-۱۴)
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
حضرت عمرؓ سے نامزدگی کی درخواست

عن عبد اللہ ابن عمر قال: قیل لِعُمَرَ: ''الا تستخلف؟'' قال ان استخلف مَنْ ھُوَ خیر منی ابو بکرٍ وان اترک فقد ترک من ھو خیر منی رسول اللّٰہ ﷺ۔

فاثنوا علیہ فقال: رَاغِبٌ راھبٌ وددت انی نجوت منھا لَا لِی ولا عَلَیّ، لَا اَتُحَمَّلُھا حیًّا ومیتًا۔ (بخاری۔ کتاب الاحکام۔ باب الاستخلاف نمبر ۸۹۲)
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
1. عن محمد بن عبد اللّٰہ بن سوار بن نویرہ، و طلحۃ بن الاعلم، و ابو حارثہ وابو عثمان، قالوا: بَقِیَت المدینۃ بعد قتل عثمان رضی اللّٰہ عنہ خمسۃ ایام، وامیرھا لغافقی بن حرب، یلتمسون من یُجِیْیُھُمْ الی القیام بالامر فلا یجدونہ۔ یاتی المصریون علیا فیحتبی منھم وَیَلُوْذُ بِحیطان المدنیۃ، فاذا لقوھم، باعَدَھم وتبرا منھم ومن مقالتھم مرۃ بعد مرۃ۔ ویطلب الکوفیون الزبیر فلا یجدونہ فارسلوا الیہ حیث ھو رُسُلًا: فباعدھم او تبرا من مقالتھم
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
نبیٔ کریمﷺ اپنے لیے وہی مقام اور مرتبہ پسند فرماتے تھے جو اللّٰہ نے آپ کو عطا کیا تھا۔ از حد محبت سے جنم لینے والے غلوّ کو آپﷺ نے اپنے لیے بھی پسند نہیں فرمایا، چہ جائیکہ کوئی آپ کے صحابہ یا اہل بیت کے متعلق غلو اور مبالغہ آرائی سے کام لے۔ غلو سے احتیاط کے متعلق چند فرامین نبویہ یہ ہیں:
1.     بنو عامر کا وفد بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوا تو شرکائے وفد نے بایں الفاظ عقیدت کے پھول نچھاور کیے: ’’آپ ہمارے سردار ہیں۔‘‘
محمد نعمان فاروقی
2017
  • نومبر
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت فرما کر سر زمینِ مدینہ کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے رشکِ جناں بنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عرصہ بعد مسجدِ نبوی کی تعمیر کا اہتمام فرمایا۔ جب مسجد تعمیر ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت محسوس فرمائی کہ نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے عام مسلمانوں کو نماز کے وقت سے کچھ دیر پہلے اطلاع دینی چاہئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مشورہ فرمایا کہ اس مقصد کے لیے کون سا طریقہ اختیار کرنا مناسب ہو گا؟ کسی نے عرض کیا کہ کسی بلند جگہ پر آگ روشن کر دی جایا کرے۔ کسی نے رائے دی کہ نماز کے وقت قریب مسجد پر جھنڈا بلند کر دیا جائے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں نرسنگھا یا ناقوس بجاتے ہیں ہم بھی نماز کے اعلان کے لیے اسی طرح کیا کریں، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی تجویز پر بھی مطمئن نہ ہوئے اور اس مسئلہ میں متفکر رہے تاہم وقتی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس بجانے والی تجویز کو منظور فرما لیا۔ ابھی اس تجویز پر عمل نہیں ہوا تھا کہ دوسرے دن علی الصباح ایک انصاری صاحبِ رسول بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور یوں عرض پیرا ہوئے:
طالب ہاشمی
1982
  • جنوری
آپ کااسم ِ گرامی عبداللہ اورکنیت اورعبدالرحمن تھی ، مگرابن عمر    کےنام سے مشہور ومعروف ہیں ۔
خاندان  : 
ابن عمر   کاسلسلہ نسب نویں پشت پررسول اللہ ﷺ سےمل جاتاہے۔ 
تاریخ پیدائش : 
آپ کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔بعض کےنزدیک آپ نبوت کےپہلے سال پیدا ہوئے بعض دوسرے یاتیسرے سا ل کی تاریخ بتاتےہیں مگر راجح تاریخ پیدائش نبوی مطابق 611ء ہے۔ 
حلیہ : 
شکل وشباہت میں والدماجد سےمماثلت تھی : قد لمبا ، جسم بھاری ، رنگ گندمی، داڑھی مشت بھر ، مونچھیں کاٹی ہوئی جس سےلبوں کی سفیدی نمایاں ہوجاتی ، بال کاندھوں، تک ، سیدھی مانگ نکالا کرتے،عموماً زردخضاب پسند فرماتے تھے۔ 
لباس : 
معمولی موٹا پائجامہ ، سیاہ عمامہ اورپاؤں میں سادہ سی چپل ، کبھی کبھار قیمتی لباس زیب تن فرماتے تاکہ کفران نعمت نہ ہو۔ انگوٹھی پرعبدالرحمن بن عمر  کندہ تھا جومہرکاکام بھی دیتی تھی ۔
محمد اسحاق
1982
  • اکتوبر
سیدنا حضرت ابو سعید بن صمہ خزرج کےمعزز ترین خاندان نجار سے ہیں ۔نسب نامہ یہ ہے۔

حارث بن صمہ بن عمروبن عتیک بن عمرو بن عامر(مبذول) بن مالک بن نجار۔

ہجرت نبوی سےقبل ہی ان کی فطرت سعید انہیں توحید کی طرف مائل کردیا ہےاورسن 11ہجری سے 13 نبوت کےدرمیان کسی وقت حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ۔
طالب ہاشمی
1982
  • جولائی
جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ والا صفات دُعائے خلیل کا ایک مجسمہ بن کر منصئہ شہود پر جلوہ افروز ہوئی اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیکر محسوس اختیار کر لیا۔

"اللهم اعزالدين بعمر بن الخطاب "یعنی بارِ الہی عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب کے ذریعہ دین کو برتری عطا فرما (طبقات کبریٰ ابن سعد ج3 ص267)
منظور احسن عباسی
1977
  • جنوری
خلفاء ثلاثہ کی شہادت :
ایرانیوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کی سازش سے جب سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے یکم محرم الحرام 24 ھ کو ابو لوء لوء کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا تو داماد رسول ؐ سیدنا عثمان بن عفان ؓ مسند خلافت پر جلوہ گر ہوئے مگر یہ بھی مجوس و یہود کی سازش کے تحت ذو الحجہ 35ھ کو جام شہادت نوش فرما کر مالک حقیقی سے جا ملے تو حضرت علیؓ نے اس منصب کو بادل نخواستہ قبول فرمایا اور ہمیشہ اپنے دور خلافت میں اپنے ہی محبوں کے ہاتھوں نالاں ہے جیسا کہ حضرت علیؓ کے اس خطبہ سے طاہر ہے :
’’ خدا وند تو جانتا ہے کہ میں ان سے تنگ ہوں اور یہ مجھ سے تنگ آ چکے ہیں مجھے ان سے راحت دے اور ان کو اس شخص کے ہاتھ مبتلا کر دے جس کے بعد مجھے یاد کریں میں ان کا دشمن ہوں اور یہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ ( جلاء العیون ص 229)
عبدالرحمن عزیز
1985
  • اکتوبر
  • نومبر
مناظر اسلام حافظ عبد القادر روپڑی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے بھائی حافظ محمد اسماعیل روپڑی رحمۃ اللہ علیہ ... اللہ اُن پر اپنی کڑوڑہا رحمتیں نازل فرمائے... ماضی قریب کے عظیم دینی رہنما اور بے مثل خطیب ہوگزرے ہیں ۔قیامِ پاکستان کے بعد کے دوعشرے سرزمین وطن کے گوشے گوشے میں آپ نے توحید وسنت کے پیغام کو پہنچانے میں دیوانہ وار صرف کئے
اسماعیل روپڑی
2008
  • فروری
تیسرامبحث : دلالة الثناء
آپ نے اپنے گھر اور خاندان کے افراد، بلکہ اپنے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ پردیس میں زندگی بسر کی ہے یااپنے احباب کے ساتھ کسی فوجی چھائونی میں دن گزارے ہیں یا اپنے ان ساتھیوں جن سے آ پ کا عقیدہ کا رشتہ استوار ہے،کے ساتھ فقر و فاقہ اور ظلم و ستم کے سائے میں وقت گزارا ہے تو آپ خود ہی بتائیے
جسٹس صالح عبداللہ
2004
  • اکتوبر
شیعہ سنی منافرت وطن عزیز میں کئی سالوں سے زوروں پر ہے۔ مختلف اندرونی وبیرونی عوامل اس کو ہوا دے کر اپنے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں اسی منافرت کو ہوا دے کر عراق میں امریکی جارحیت کے لئے وجہ ِجواز فراہم کرنے کی بھی کوششیں ہوئیں، جس میں انہیں کامیابی نہ مل سکی۔ غیرمسلموں کا ہمیشہ سے یہی ہتھیار رہا ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر اپنے مقاصد حاصل کئے جائیں۔
جسٹس صالح عبداللہ
2004
  • ستمبر
شیعہ حضرات کے دعاوی اور اُن کے جوابات :

شیعہ حضرات کا ایک دعوی ہے کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے نفس سے قرار دے کر انھیں تما م صحابہ کر م رضوان اللہ عنھم اجمعین پر فضیلت و بر تری بخشی ہے ۔" ان زعما ء کے جو ب میں شارح تر مذی ؒ علامہ عبد الرحمٰن مبارک پو رؒی فر ما تے ہیں ۔
غازی عزیر
1989
  • اکتوبر
حضرت طفیل بن عمر ودوسی رضی اللہ عنہ

وہ مشہور شاعر بھی تھے اور قبیلے کے سردار بھی!دونوں ہی باتیں ایسی تھیں کہ ان کا بڑا مان تھا۔مان بھی ایسا کہ دور دور کے لوگ انھیں ہاتھوں ہاتھ لیتے۔اور عزت سے بٹھاتے تھے۔یہ جنوب کے رہنے والے تھے یعنی علاقہ یمن کے لیکن جب بھی مکہ جاتے اُن کی بڑی آؤ بھگت ہوتی۔
شاہ بلیغ الدین
1989
  • جون
استخلافِ عثمان رضی اللہ عنہ:

گزشتہ سطور میں قارئین کرام یہ ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ جس مملکتِ اسلامیہ کی بنیاد حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں رکھی گئی تھی، اس کے استحکام میں سیدنا عثمان، غنی رضی اللہ عنہ کے پاکیزہ مال سے متعدد امور پایہ تکمیل تک پہنچے۔
عبدالرحمن عزیز
1988
  • جنوری