یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ پاکستان کے بااثر، مال دار اور فیصلہ ساز طبقے نہیں چاہتے کہ پاکستان میں اسلامی نظامِ معیشت و بینکاری شریعت کی روح کے مطابق نافذ ہو اور معیشت سے سود کا خاتمہ ہو کیونکہ اس سے ان کے ناجائز مفادات پر کاری ضرب پڑے گی مگر ملک کے کروڑوں افراد کی قسمت بہرحال بدل جائے گی۔
ربٰوا (سود) کا مقدمہ گزشتہ 25برسوں سے زیر سماعت ہے جہاں شرعی عدالتوں میں عالم جج بھی موجود رہے ہیں۔
شاہد حسن صدیقی
2017
  • مئی
انسدادِ سود کی کوششوں کی ناکامی کی المناک کہانی
10 ؍اپریل 2017 ءکے اخبارات میں وفاقی شرعی عدالت کے موجودہ چیف جسٹس جناب ریاض احمد خاں (خىال رہے اس بىان كے چند روز بعد موصوف رىٹائر ہوگئے) کے یہ ریمارکس شائع ہوئے ہىں کہ
صلاح الدین یوسف
2017
  • مئی
سود کامسئلہ اس وقت ہماری سوسائٹی میں عجیب صورت اختیار کرگیا ہے، اس کی مثال سانپ کے منہ میں چھچھوندر کی سی ہو کر رہ گئی ہے، نہ تو تھوکی جاسکتی ہے اور نہ نگلے ہی بن پڑتی ہے۔ اسلامی حکومت کے قیام کی بات ہو یا اسلامی معاشرہ کی تشکیل کی تجویز، بات سود پر آکر رکتی ہے۔ اسلام اِسے حرام قرار دیتا ہے لیکن ہمارے اقتصادی نظام اور معیشت کی رگوں میں یہ زہر مسموم ایسا سرایت کرگیا ہے
ڈی ایم قریشی
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
بعض اسلامی بینکوں میں تمویلی سرگر میو ں کے لئے بیع سلم کا استعمال بھی جاری ہے۔ سَلَم ایک معروف شرعی اصطلاح ہے جس سے مراد لین دین اور خرید وفروخت کی وہ قسم ہے جس میں ایک شخص یہ ذمہ داری قبول کرتا ہے کہ وہ مستقبل کی فلاں تاریخ پر خریدار کو ان صفات کی حامل فلاں چیز مہیا کرے گا ۔
ذوالفقار علی
2008
  • ستمبر
حافظ عبدالرحمٰن مدنی، معاونِ سپریم کورٹ کے وضاحتی مراسلات اور بیانات

سپریم کورٹ (شریعت اپلیٹ بنچ) میں زیرسماعت مشہور مقدمہ سود میں حافظ عبدالرحمٰن مدنی عدالتِ عظمیٰ کے معاون کی حیثیت سے پیش ہو رہے ہیں۔ آپ نے 3 مئی اور 6 مئی کے دوران مکمل مذکورہ موضوع پر اپنی بحث پیش کی لیکن بعض اخبارات کے نمائندوں کی غفلت یا کم علمی کی وجہ سے رپورٹ نہ صرف خلط ملط ہوئی بلکہ موقف کچھ کا کچھ بن گیا۔ حافظ صاحب موصوف نے اسلام آباد سے ان خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے دو مراسلات اور اپنا وضاحتی بیان دفتر محدث کے ذریعے روزنامہ اخبارات کے نام جاری کیا جو شاید اخبارات نے اپنے بعض صحافتی مصالح کی بنا پر تفصیل سے شائع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ لہذا ہم ادارہ محدث کی طرف سے اخباروں کے مدیران کے نام دونوں مراسلات اور وضاحتی بیان شائع کر رہے ہیں ۔۔ (حسن مدنی)
ادارہ
1999
  • جون
آج کل وطن وزیز کے دینی اور قانونی حلقوں میں جو علمی مباحث جاری ہیں ان میں سودی نظام پر بحث سر فہرست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حر مت سود سے متعلق ایک بہت اہم اپیل کی سماعت عدالت عظمیٰ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے روبرو ہو رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ کا یہ فل بنچ مسٹر جسٹس خلیل الرحمٰن خان کی سربراہی میں مسٹر جسٹس وجیہ الدین احمد مسٹر جسٹس منیر اے شیخ مسٹر جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی اور مسٹر جسٹس ڈاکٹر محمود احمد غازی پر مشتمل ہے اس اپیل کو موجودہ صورت حال میں مندرجہ وجوہات کی بنا پر اور بھی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
ادارہ
1999
  • مئی
۱۴؍ نومبر ۱۹۹۱ء کو پاکستان کی فیڈرل شریعت کورٹ نے ہر قسم کے سودی کاروبار کو حرام قرار دےکر ملکی معیشت کو اس سے جلد پاک کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ دیا تھا اور ۲۳ دسمبر ۱۹۹۹ءکو سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ نے بھی اس کی توثیق کی تھی لیکن ۲۴ جون ۲۰۰۲ء کو سپریم کورٹ نےUBLکی نظر ثانی کی اپیل پر اس فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اسے دوبارہ فیڈرل شریعت کورٹ میں بھیج دیا گیا جہاں اب اس کیس کا از سر نو جائزہ 1لیاجارہاہے۔یہ مضمون اسی تناظر میں لکھا گیا ہے ۔
ذوالفقار علی
2013
  • دسمبر
"محدث"کی ہمیشہ یہ کو شش رہی ہے کہ عصری مسائل پر دینی نقطہ نگاہ کو اجاگر کیا جائے اور اس سلسلے میں اٹھنے والے مختلف النوع سوالات کا شافی جواب دنیا کے سامنے پیش کیا جا ئے ۔یہی وہ بنیادی محرک ہے جس کے تحت عصر حاضر پیچیدہ مسائل کا خالص علمی  اور فکری سطح پر تجزیہ اور اس مسائل پر مختلف نقطہ ہائے نظر کا تقابلی جائزہ پیش کرنا محدث نے اپنے علمی اور صحافتی فرائض میں شامل کر رکھا ہے ہم اللہ بزرگ و برتر کےتہ دل سے شکرگزار ہیں کہ اہل علم و دانش کے ساتھ ساتھ دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے محدث کے قارئین ہماری کا رکردگی کو پسند کی نگاہ سے دیکھتے ہیں
ظفر علی راجا
2000
  • فروری
(غیر مطبوعہ تفسیر تیسیر القرآن سے انتخاب)
مولانا کیلانی ؒ محدث کے مستقل لکھنے والوں میں سے تھے۔ ۱۸ ؍دسمبر ۱۹۹۵ء ؁کو عشاء کی نماز میں عین سجدہ کی حالت میں آپ کی وفات سے محدث میں آپ کے قیمتی تحقیقی مضامین کی اشاعت کا یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ!
عبدالرحمن کیلانی
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
گذشتہ دنوں جب والد ِگرامی مولانا عبد الرحمن مدنی سپریم کورٹ کے معاون کی حیثیت سے عدالت میںپیش ہوتے رہے تو سود کے بارے میں مختلف مجالس میں شرکت کاموقعہ ملا، مختلف اعتراضات اور ان کی وضاحتیں سامنے آئیں۔ محدث کے مضامین کی تیاری اور ایڈیٹنگ کے دوران بھی اس موضوع پر سوچنے کا موقعہ میسر آیا۔
حسن مدنی
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
سودی نظام کے خلاف موجودہ قانون، حکومت ، جدید معاشیات اور اسلامی شریعت کے محاذ پر ایک طویل عدالتی جنگ کئی ماہ مسلسل جاری رہنے کے بعد جولائی ۱۹۹۹ء؁ میں اختتام پذیر ہوئی۔ عرفِ عام میں اس عدالتی جنگ کو ''سود کا مقدمہ'' کا نام دیا گیا۔ لیکن جس انداز میں سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے روبرو یہ مقدمہ لڑا گیا
ظفر علی راجا
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
سوال: ربا کی حقیقت، تعریف اور معنویت کیا ہے؟
جواب: رِبا عربی زبان کا لفظ ہے اور قرآنِ کریم میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اس کے لغوی معنی زیادتی، بڑھوتری، اضافے کے ہیں۔ لیکن شرعی اصطلاح میں اس سے مراد مطلق اضافہ اور زیادتی نہیں ہے، بلکہ ایک مخصوص قسم کی زیادتی ہے
صلاح الدین یوسف
1998
  • ستمبر
  • اکتوبر
سپریم کورٹ آف پاکستان (شریعت اپلیٹ بنچ)
اپیل برخلاف فیصلہ مسئلہ سود از وفاقی شرعی عدالت پاکستان مؤرخہ ۱۴؍نومبر ۱۹۹۱ء
درخواست ڈاکٹر محمود الرحمن فیصل وغیرہ بنام سیکرٹری وزارتِ قانون، انصاف اورپارلیمانی اُمور حکومت ِپاکستان وغیرہ: ۱۱۸ مسؤل الیہان
عبد الرحمن مدنی
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
کاغذی کرنسی سے پیدا شدہ مسائل میں ایک اہم مسئلہ افراطِ زر (Inflation)کا بھی ہے۔ معاشی تکنیک کے حوالے سے افراطِ زر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس کی جملہ وجوہات کا احاطہ کرنا یہاں مقصود نہیں، البتہ کاغذی کرنسی اور افراطِ زر کے درمیان جو لازمی تعلق ہے، اسے آئندہ سطور کے حوالے سے پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
عزیز الرحمان
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
اسلام کی طرف منسوب مروّجہ بینکاری نظام کو ملک کے جمہور اہل فتویٰ، خلافِ شریعت قرار دیتے ہیں۔ اس رائے کے متفقہ اظہار کے لئے 25؍شعبان المعظم 1429ھ بمطابق 28؍اگست2008ء کو ملک کے چاروں صوبوں کے مشہور و معروف اربابِ فقہ و فتاویٰ کاایک اجتماع شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان کے زیر صدارت، جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی میں منعقد ہوا۔
رفیق احمد بالاکوٹی
2009
  • اپریل
مغرب کی اِستحصالی معیشت، سودی نظام کے ظالمانہ شکنجے میں کراہ رہی ہے۔ مغرب کے اجتماعی معاشی ڈھانچے میں بینکاری نظام کو وہی مقام حاصل ہے جو انسانی جسم میں گردشِ خون کو۔ جس طرح سرطان زدہ خونی خلئے ( (Cells پورے اِنسانی جسم کے لئے خطرات کا باعث بنتے ہیں بالکل اسی طرح مغرب کا بینکنگ سسٹم مغربی معیشت کے اجتماعی جسد میں سرطانی جڑیں پھیلا رہا ہے۔
عطاء اللہ صدیقی
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
انسان مدنی الطبع ہے جسے اپنی ضروریات کے لئے ہر آن دوسری قوتوں او رطبقات کا محتاج رہنا پڑتا ہے۔ انسانی سوسائٹی کے قدیم ترین اَدوار میں بھی ضروریات کی کفالت کے لئے کوئی نہ کوئی تبادلے کا معیار یا نمونہ موجود رہا ہے ۔ جنس کے بدلے جنس اور اشیاء کے بدلے اشیاء کے اس قدیم نظام کو معاشیات کی زبان میں بارٹر (Barter) کہتے ہیں۔ اَجناس اور اشیاء کے تبادلے سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کا دور بہت طویل رہا ہے۔
عبدالجبار شاکر
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر