تخلیق کائنات کے مقاصد کی حقیقت کے بارے میں اللہ جل جلالہ کا وعدہ ہے ﴿سَنُر‌يهِم ءايـٰتِنا فِى الءافاقِ وَفى أَنفُسِهِم حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُم أَنَّهُ الحَقُّ...٥٣﴾... سورة فصلت''ہم انسانوں کو انفس وآفاق میں ایسی نشانیاں برابر دکھاتے رہیں گے، جو اللہ کے حق ہونے کو ثابت کریں گی۔'' جدید سائنس مشاہدے اور تجربے کے استعمال کا نام ہے، اس لئے اس کا دائرہ کار محدود ہے،
ریاض الحسن نوری
2003
  • ستمبر
جدیدیت کا تاریخی پس منظر
عالمی تاریخ ثقافت کے ممتاز مؤرخ E.Friedell نے جدیدیت اور جدید انسان اور جدت پسندی کی تاریخ پیدائش اور اسباب متعین کرتے ہوئے لکھا ہے :
"The year of conception of the modern person is the year 1348 the year of the black death"
خالد جامعی
2011
  • نومبر

اس کائنات میں سب سے بڑی حقیقت اور خالق کائنات کا شاہکار خود انسان کا اپنا وجود ہے جو اپنے جسم و جثّہ کے اعتبار سے گو بہت بڑا نہیں مگر اس کی ساخت پر غور کیجئے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس جیسی یا اس کے قریب کوئی مشین آج تک کوئی بنا سکا ، نہ بنا سکے گا۔ پھر اربوں انسانوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کی بالکل کاپی نہیں ہوتا۔

شبیر احمد منصوری
2012
  • جنوری
اسلام دین فطرت ہے۔ فطرت خواہ انسان سے متعلق ہو یا کائنات سے، اس میں حسن توازن، تناسب اور اعتدال کا نقش بہت واضح اور نمایاں ہے۔ عدل صفاتِ الہیہ میں ایک ممتاز صفت ہے جس کا اظہار حیات اور آفرینش کے تمام تر مظاہر میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کائنات کی مختلف مخلوقات اور مظاہر فطرت، عدل کے باعث موجود و برقرار ہیں۔ انسان چونکہ اشرفُ المخلوقات ہے، اس باعث اسے عدل کو سمجھنے اور اختیار کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں بھی عدل کا پہلو نمایاں ہے۔ انسان کو اس جہاں رنگ و بو میں جو تمیز اور ارادہ کی قوتیں اور اختیارات بخشے گئے ہیں، عدل کا تقاضا ہے کہ اس کائنات کی صفوں کو لپیٹ کر ایک ایسا دن برپا کیا جائے جہاں اور جب انسانی اعمال کی جزاوسزا کا فیصلہ عدل کے ساتھ کیا جا سکے۔
عبدالجبار شاکر
1999
  • اپریل
کائنات کے سربستہ رازوں کی تہیں جوں جوں کھلتی جارہی ہیں، توں توں انسان کی حیرتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ نہ صر ف یہ، بلکہ سائنسی انکشافات انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت و مطلق العنانی کا بھی قائل کرتے جا رہے ہیں اور ان سے قرآنی پیش گوئیوں کی تصدیق بھی ہوتی جارہی ہے۔ نیز اس طرح دین اسلام کی صداقت اور ہمہ گیریت بھی ثابت ہورہی ہے۔
باسم ادریس
2006
  • اپریل
ریاضی غالباً تاریخ انسانیت کا قدیم ترین علم ہے۔ جوں ہی انسان نے شہری زندگی اختیار کی۔ ناپ تول اور پیمائش کے لئے چند واضح اصولوں کی ضرورت نے ریاضی کی داغ بیل ڈال دی۔ تاریخ کے ساتھ ساتھ اس سرمائے میں اضافہ ہوتا رہا۔ ہر قوم نے اپنے دورِ عروج میں ریاضی کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔
اختر راہی
1971
  • اپریل
پیش نظر مضمون میں فاضل مقالہ نگار نے بالکل نئے ڈھنگ میں علم اُصولِ حدیث کو عین عقلی تقاضوں کے مطابق درست ثابت کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا واجب الاتباع ہونا ایک ایمانی حقیقت اور دین اسلام کا اساسی تقاضاہے، لیکن ایک تاریخی حقیقت کے طورپر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامینِ مقدسہ کو اُمت ِاسلامیہ درست طورپر محفوظ کرنے میں کامیاب رہی ہے یا نہیں ؟ اس مضمون میں اسی پہلو کو موضوع بحث بناتے ہوئے ثابت کیا گیاہے کہ صدیوں کے انسانی
محمد زکریا الزکی
2009
  • اپریل
قرآن حکیم انسان کےلیے مکمل ہدایت ربانی ہونے کی وجہ سے اس کی اخلاقی دردحانی ترقیوں کا ضامن ہے اور بلاشبہ اس کی جملہ مادی اور جسمانی ضرورتوں کا کفیل بھی اس لیے یہ کہنا بجا ہےکہ اگرچہ سائنس میں قرآن نہیں لیکن قرآن میں سائنس ضرور موجود ہے کیونکہ موجودہ سائنس نےمادہ کا گہرا مشاہدہ اور اس پر غوروفکر کرکے ظاہری طور پر خیرت انگیز ترقی کی ہےلیکن اس کےگمراہ کن نظریات نےروحانی اور اخلاقی انحطاط کی پریشان کن صورت حال پیدا کررہی ہے
سید مہر حسین بخاری
1976
  • جنوری
  • فروری
موجودہ زمانے کو سائنس کا زمانہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس صدی میں سائنس کے جو حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں ان سے حضرت انسان کی آنکھیں خیرہ ہو گئی ہیں۔ سائنس کی یہ ترقی ذہین اور زرخیز دماغوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ لوگ علم و دانش میں اپنی مثال آپ تھے لیکن شاید انہیں یہ علم نہیں تھا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کی جانے والی یہ کوششیں ایک دن انسانیت کے لئے وبال جان بھی بن جائیں گی۔
ایم- ایم- اے
1974
  • جولائی
  • اگست
انسانی زندگی کے کچھ خواص ہیں، اور ان خواص کے اعتبار سے کچھ لوازم بھی۔ انسانی زندگی کا مادّی وجود جہاں اس سے بہت سی چیزوں کا تقاضا کرتا ہے، اسی طرح اس کا ایک روحانی وجود بھی ہے، جو اس سے 'مذہب' مانگتا ہے۔ انسان مادّی اعتبار سے خواہ کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہوجائے، اس کا روحانی وجود اسے سکونِ قلب کی طلب پیدا کرکے، اسے اپنے وجود کا احساس دلاتا رہتا ہے۔
عزیز الرحمان
2003
  • اپریل