محدثین کے گروہ میں امام محمد بن اسماعیل بخاری کو جو خاص مقام حاصل ہے ا س سے کون واقف نہیں ہے؟امام بخاری ؒ وہ شخص ہیں جنھوں نے اپنی ساری زندگی خدمت حدیث میں صرف کردی ہے۔ اور اس میں جس قدر ان کو کامیابی ہوئی اس سے ہر وہ شخص جو تاریخ سے معمولی سی واقفیت رکھتا ہے۔وہ اس کو بخوبی جانتا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ امام المحدثین اور"امیر المومنین فی الحدیث" کے لقب سے ملقب ہوئے اور ان کی پرکھی ہوئی حدیثوں اور اور جانچے ہوئے راویوں پر کمال وثوق کیا گیا اور ان کی مشہور کتاب الجامع الصحیح بخاری کو "اصح الکتب بعد کتاب اللہ"کاخطاب  دیاگیا۔
عبدالرشید عراقی
1992
  • اپریل
544ہجری اور 606ہجری
اُن کی علمی خدمات

( ابن اثیر کے نام سے دو بھائیوں نے شہرت پائی! ایک مجدد الدین مبارک صاحب النہایہ فی غریب الحدیث والآثر (م606ہجری) دوسرے عزالدین ساحب اسدالغابہ (م630ھ) اس مقالہ میں مجد الدین ابن اثیرؒ کے حالات اور علمی خدمات کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔(عراقی)
عبدالرشید عراقی
1990
  • مارچ
نام اور کنیت:

محمد بن جریر نام، ابو جعفر کنیت، طبرستان کے شہر آمل میں ۲۲۴؁ھ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ جب ہوش سنبھالا تو ہر طرف علم و فضل کے چرچے اور زہد و ورع کی حکائتیں عام تھیں، ہوش سنبھالت ہی یہ بھی کسبِ علوم و کمال کی خاطر گھر سے نکل پڑے، دور دراز کے سفر ط کئے اور وقت کے علما و فضلا سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، تعلیمی اسفار کے دوران میں آپ کے والد آپ کو باقاعدہ خرچ پہنچاتے رہے۔
محمد اسحاق
1971
  • جون
امام ابو الحسن دارقطنیؒ کا شمار ممتا ز محدثین کرام میں ہوتا ہے۔آپ ایک بلند پایہ محدث،متجرعالم اورجُملہ علوم اسلامیہ میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔امام دارقطنیؒ کی شہرت،حدیث میں بدرجہ اتم کمال حاصل کرنے سے ہوئی۔ائمہ فن اور نامور محدثین کرام نے اُن کے عظیم المرتبت اور صاحب کمال ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

علامہ خطیب بغدادی (م463ھ) لکھتے ہیں ،کہ:
عبدالرشید عراقی
1989
  • نومبر
امام ابو القاسم طبرانیؒ ایک بلند پایہ محدث علم و فضل کے جامع حفظ و ضبط ثقاہت واتقان میں بلند مرتبہ تھے ان کے معاصر علمائے کرام اور ارباب کمال محدثین نے ان کے حفظ وضبط اور ثقاہت کا اعتراف کیا ہے اور ان کے صدق و ثقات پر علمائے فن کا اتفاق ہے ۔علامہ شمس الدین ذہبیؒ (م748ھ) فر ما تے ہیں ۔کہ)

"امام ابو القاسم طبرانی ؒ ضبط و ثقاہت اورصدق وامانت کے ساتھ بڑے عظیم رتبہ اور شان کے محدث تھے
عبدالرشید عراقی
1990
  • جنوری
امام ابو محمد عبداللہ کا شمارممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے۔قدرت نے ان کو غیر معمولی حفظ وضبط کا ملکہ عطا کیا تھا۔ارباب سیر اورائمہ حق نے اُن کی جلالت ۔قدر۔اورعظمت کا اعتراف کیا ہے۔امام ابو بکر خطیب بغدادی (م643ھ) لکھتے ہیں کہ:
"امام  دارمی ؒ ان علمائے اعلام اور حفاظ حدیث میں سے ایک تھے جو احادیث کے حفظ وجمع کے لئے مشہور تھے۔"[1]
امام دارمی ؒ کی ثقاہت وعدالت کے بھی علمائے فن اور ارباب کمال معترف ہیں۔حافظ ابن حجرؒ (م852ھ) نے تہذیب التہذیب میں امام ابو حاتم رازی ؒ (م264ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ "دارمی ؒ سب سے زیادہ ثقہ وثابت تھے۔"[2]
امام دارمیؒ احادیث کی معرفت وتمیز میں بھی بہت مشہور تھے۔روایت کی طرح درایت میں بھی اُن کا مقام بہت بلند تھا۔ ر وایت اوردرایت میں اُن کی واقفیت غیر معمولی اور نظر بڑی وسیع اور گہری تھی۔
عبدالرشید عراقی
1989
  • اگست
امام ابو نعیم اصفہانی ؒ جن کا نام احمد بن عبد اللہ تھا ان کا شمار ممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے تفسیر حدیث ،فقہ اور جملہ علوماسلامیہ مہارت تامہ رکھتے تھے حدیث اور متعلقات حدیث کے علوم میں ان کو کمال کا درجہ حاصل تھا حدیث کی جمع روایت اور معرفت و روایت میں شرت وامتیاز رکھتے تھے علوئے اسناد حفظ حدیث اور جملہ فنون حدیث میں تبحر کے لحاظ سے پوری دنیا میں ممتاز تھے ۔
عبدالرشید عراقی
1985
  • اپریل
تابعین کے فیض  تربیت سے جولوگ بہر ور  ہوئے۔اوراُن کے بعد علوم دینیہ کی ترقی وترویج میں ایک اہم کردار ادا کیا،اُن میں اسحاق بن راھویہ ؒ کا شمار صف اول میں ہوتا ہے۔آپ علمائے اسلام میں سے تھے۔اہل علم اورآپ کے معاصرین نے آپ کے علم وفضل کا اعتراف کیا ہے۔امام اسحاق بن راھویہؒ نہ صرف علم وحدیث میں بلند مقام کے حامل تھے۔بلکہ دوسرے علوم اسلامیہ یعنی تفسیر ،فقہ،اصول فقہ، ادب ولغت،تاریخ وانساب اور صرف ونحو میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔
امام خطیب بغدادی ؒ(م463ھ) لکھتے ہیں کہ:
"امام اسحاق بن راھویہؒ حدیث وفقہ کے جامع تھے۔ جب وہ قرآن کی تفسیر بیان کرتے تھے تو اس میں بھی سند کاتذکرہ کرتے تھے۔[1]
حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ(م852ھ) نے تہذیب التہذیب میں امام ابو حاتم رازی ؒ (م264ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
"حدیث کے سلسلہ میں روایت اور الفاظ کا یاد کرنا تفسیر کے مقابلہ میں آسان ہے۔ابن راہویہ ؒ میں یہ کمال ہے کہ وہ تفسیر کے سلسلہ سند کو بھی یاد کرلیتے تھے۔[2]
عبدالرشید عراقی
1990
  • مئی
جامع صحیح کامقصد ومقصود اعظم : 
                عام نظروں میں امام بخاری ﷫ صرف محدث ہیں اورمحدثین کےمتعلق یہ سمجھ لیاگیا ہےکہ یہ بیچارے صرف جامع ہیں ۔فقہ واستدلال سےان کاکوئی لگاؤ نہیں بلکہ حدیث کا جامع ہونا کچھ ایساعیب سمجھا جاتاہےکہ اس کےساتھ فقہ واستدلال کی خوبیاں بالکل جمع نہیں ہوپاتیں ۔(علوم حدیث میں کم مائیگی کوچھپانے کےلیے یہ کتنی اچھوتی توجیہ ہے؟) یہی وجہ ہےکہ ان لوگوں نےمحدثین کرام کےعطاراورفقہائے کرام کوطبیب (جانچ پڑتال کرنےوالے) کہہ کر اپنی کمزوریوں کوچھپانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ان سب لوگوں کےلیے صحیح بخاری کامطالعہ بہترین جواب ہے۔
عبدالرشید عراقی
1982
  • ستمبر
خالق ارض وسماء نے کائنات رنگ وبو میں مختلف خاصتیوں کے حامل انسان پیدا کیے ہیں اور ان میں مختلف درجات وطبقات کا سلسلہ قائم کردیا۔ان میں سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء کرام  علیہ السلام   کو عطا کیا اور ان میں امام الانبیاء علیہ السلام   اورافضل الانبیاء علیہ السلام   کےمقام پر ہمارے آقا ومولیٰ خاتم النبیین حضرت محمد ر سول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کوفائد کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد تقویٰ وتورع کے لحاظ سے آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین   کامرتبہ اس کائنات میں سب سے بڑھ کر ہے۔ان کے بعد محدثین عظام اور علماء کرام کا مرتبہ ہے۔جنھوں نے اپنے آپ کو دین حق کی ترویج واشاعت کے لئے وقف کردیا اور وہ"إن العلماء ورثة الأنبیاء علیه السلام  " کےمعیار پر  پورے اترے۔
عبداللہ زائد
1994
  • اکتوبر
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا نام محمد، کنیت ابوعیسیٰ اور والد کا نام عیسیٰ ہے۔ پورا سلسلۂ نسب یوں ہے: ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورہ بن موسیٰ بن ضحاک ضریراور نسبت کے اعتبارسے سلمی،بوغی اور ترمذی کہلاتے ہیں جیسا کہ ابن اثیرنے جامع الاصول میں بیان کیا ہے۔آخر عمر میں نابینا ہونے کی وجہ سے ضریراور قبیلہ بنوسلیم سے تعلق رکھنے کی وجہ سے سُلمي کہلائے۔جبکہ بوغی قریہ بوغ کی جانب نسبت ہے جو ترمذ سے 18؍میل کی مسافت پرواقع ہے۔
شفیق مدنی
2006
  • مئی
نام و نسب:ابوالحسن علی بن عمر بن احمد بن مہدی بن مسعود بن نعمان بن دینار بن عبداللّٰہ بغدادی دارقطنی﷫تاریخ پیدائش:۳۰۶ھ [1]

دارقطنی کی وجہ تسمیہ :بغداد میں ایک محلہ تھا جس کا نام دارُالقطن تھا، وہاں کے رہائشی تھے اس كى وجہ سے اسی طرف منسوب ہوئے ۔

اساتذہ: آپ نے اس قدر زیادہ شیوخ سے استفادہ کیا جن کا شمار ناممکن ہے، ان کے چند مشہور اساتذہ درج ذیل ہیں :
ابن بشیر حسینو ی
2015
  • دسمبر

امام زرکشی رحمہ اللہ کے مختصر حالات زندگی۔

نام و نسب: امام زركشى كا پورا نام محمد بن عبد اللہ بن بہادر ہے۔بعض كے نزديك ان كے باپ كا نام بہادر بن عبد اللہ ہے ۔

كنيت ابو عبد اللہ، جبكہ نسب زركشى اور مصرى ہے۔تركى الاصل اور شافعى المسلك ہيں۔
حافظ انس نضر
2005
  • مئی
احیاء علم کی تائید میں علماء کی چند آرا:

حافظ زید الدین العراقی صاحب "الفیہ"(م806ھ) جنہوں نے "احیاء علوم الدین" کی احادیث کی تخریج یعنی راوی اور حدیث کادرجہ اور اس کی حیثیت بیان کی ہے کہتے ہیں کہ امام غزالی ؒ کی احیاء العلوم اسلام کی اعلیٰ تصنیفات سے ہے۔عبدالغافر فارسی جو امام غزالی ؒ کے معاصر اور امام الحرمین کے شاگردتھے۔کہتے ہیں۔
غازی عزیز
1984
  • اگست
تحریر کا پس منظر:

امام غزالی کی شخصیت امت کے نزدیک ایک مختلف فیہ شخصیت رہی ہے۔بعض کے نزدیک یہ جس قدرومنزلت کی حامل ہے اس کے لئے ان کے خوش عقیدگان کی تصانیف کے ہزار صفحات شاہد ہیں۔ لیکن ان بے شمار صفحات کے مطالعہ سے جس چیز کا اندازہ ہوتا ہے۔
غازی عزیز
1984
  • جولائی
امام غزالی اور علمِ قرآن:

امام غزالی کو قرآن کریم سے کس قدر شغف رہا ہے، اس بات کی وضاحت کے لیے ذیل میں چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں۔

قرآن کریم میں ایک آیت ہے:
غازی عزیر
1984
  • اکتوبر
نام و نسب
مالک نام، کنیت ابو عبداللہ، امام دارالهجرة لقب اور باپ کا نام انس تھا۔ سلسلہ نسب یہ ہے: مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر بن عمرو بن الحارث بن غیلان بن حشد بن عمرو بن الحارث (1)
بلاشک آپ رحمۃ اللہ علیہ دارِ ہجرت (مدینہ منورہ) کے امام، شیخ الاسلام اور کبار ائمہ میں سے ہیں۔ آپ حجاز مقدس میں حدیث اور فقہ کے امام مانے جاتے تھے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے علم حاصل کیا اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کی مجالس علمی میں شریک ہوتے رہے۔
پیدائش و وفات
آپ 93ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تاریخ پیدائش میں مؤرخین نے اختلاف کیا ہے لیکن امام ابو زہرہ کی تحقیق کے مطابق زیادہ صحیح تاریخ پیدائش 93ھ ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مقام پیدائش مدینۃ النبی ہی ہے۔ (2)
آپ رحمۃ اللہ علیہ 179ھ میں مدینہ منورہ میں ہی فوت ہوئے، چھیاسی سال کی عمر پائی۔ 117ھ میں مسند درس پر قدم رکھا اور باسٹھ برس تک علم و دین کی خدمت انجام دی۔ امام رحمۃ اللہ علیہ کا جسدِ مبارک جنتُ البقیع میں مدفون ہے۔ (3)
حمیداللہ عبدالقادر
1999
  • مارچ
خاندانی تعارف:
علامہ کو ثری نے امام مالک کو بھی ''موالی '' میں شمار کیا ہے اور لکھا ہے کہ زہری اور محمد بن اسحاق صاحب المغازی دونوں کے نزدیک ، امام مالک موالی سے ہیں اور اس سلسلہ میں صحیح بخاری کے حوالہ سے ابن شہاب زہری سے ذکر کیا ہے۔
مفتی محمد عبدہ الفلاح
1994
  • دسمبر
امام اسحاق بن راہویہ:امام اسحاق بن راہویہ کا شمار ان اساطین امت میں ہوتا ہے جنھوں نے دینی علوم خصوصاً تفسیر حدیث کی بے بہا خدمات سر انجام دیں۔آپ کے اساتذہ میں امام عبداللہ بن مبارک (م181ھ) امام وکیع بن الجراح اور امام یحییٰ بن آدم کے نام ملتے ہیں۔امام اسحاق بن راہویہ کو ابتداء ہی سے علم حدیث سے شغف تھا۔لیکن اس کے ساتھ ان کو تفسیر وفقہ میں دسترس تھی۔
عبدالرشید عراقی
1992
  • اکتوبر
اور اُن کی الجامع الصحیح کا تعارف اور صحیحین کا موازنہ

ولادت 194ھ وفات :256ھ

نا م ونسب :
حمیداللہ عبدالقادر
1989
  • اکتوبر
نمبرشمار

صفحہ

سطر

خطأ                                                             (غلط)

صواب                                              (صحیح)

103

291

2

سلیمان الاشعث

سلیمان بن الاشعث

104

294

3

عن جدہ عن ابن عباس

عن جدہ ابن عباس



سعید مجتبیٰ سعیدی
1987
  • جنوری
ماہنامہ 'محدث'نومبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں التحقیق والتنقیح في مسئلۃ التدلیس کے نام سے ایک مضمون شائع ہوا جس میں صاحب ِمضمون نے تدلیس کے حکم کے سلسلے میں امام شافعیؒ کے قول کو بعض دلائل کی بنا پر مرجوح قرار دیا۔ مدلس کی روایت کے قابل قبول ہونے کے بارے میں امام شافعی اور دیگر ائمہ حدیث کا اختلاف ہے اور یہ مسئلہ اس لیے خاص اہمیت کا حامل ہے
زبیر علی زئی
2011
  • جنوری
دنیا میں حافظِ قرآن تو بہت ہیں لیکن حافظِ نماز بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کلسویؒ بھی تھے، جو ۱۱ جنوری ۱۹۷۱؁ بروز پیر کی صبح سے چند گھنٹے پہلے ہمیں ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گئے۔ انا لله وانا الیه رٰجعون۔

یہ حقیقت ہے کہ ایسے عالم باعمل کے اُٹھ جانے سے جو خلا پیدا ہو چکا ہے وہ مشکل سے ہی پورا ہو گا۔ چند ہی سالوں میں ہم سے علم و عمل کے بیش بہا موتی،
عبدالسلام فتح پوری
0
برصغیر پاک و ہند میں خاندان ولی اللہی (حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی (م 1176ھ) نے قرآن و حدیث کی نشر و اشاعت میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ اور ان کی خدمات کا علمی شہرہ ہند اور بیرون ہند پہنچا۔ جیسا کہ ان کی تصانیف سے ان کی علمی خدمات اور ان کی سعی و کوشش کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے انتقال کے بعد ان کے چاروں صاجزادگان عالی مقام حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (م 1239ھ)، مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی (م 1243ھ)، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی (م 1249ھ) اور مولانا شاہ عبدالغنی دہلوی (م 1227ھ) نے اپنے والد بزرگوار کے مشن کو جاری رکھا۔
ان کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے اور مولانا شاہ عبدالغنی کے صاجزاہ مولانا شاہ اسماعیل شہید دہلوی (ش 1246ھ) نے تجدیدی و علمی کارناموں میں انقلاب عظیم برپا کر دیا۔ آپ کی کتاب "تقویۃ الایمان" نے لاکھوں بندگان الہٰ کو کتاب و سنت کا گرویدہ بنا دیا۔ اور اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ یہ کتاب اب تک لاکھوں کی تعداد میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔
حضرت شاہ اسماعیل شہید کے بعد محی السنۃ مولانا سید نواب صدیق حسن خاں (م 1307ھ) کے قلم اور شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی (م 1320ھ) کی تدریس نے مسلمانان ہند کو بڑا فیض پہنچایا۔ علامہ سید سلیمان ندوی (م 1373ھ) تراجم علمائے حدیث ہند مؤلفہ ابویحییٰ امام خان نوشہروی (م 1386ھ) کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ
"بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہل حدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اور اعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کر رہے تھے۔ شیخ حسین یمنی (م 1327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اور دہلی میں میاں نذیر حسین دہلوی کی مسند درس بچھی ہوئی تھی اور جوق در جوق طالبان حدیث مشرق و مغرب  سے ان کی درسگاہ کا رخ کر رہے تھے۔"
عبدالرشید عراقی
1996
  • اکتوبر
اشاعتِ حدیث میں تلامذہ سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی مساعی:

حضرت میاں نذیر حسین صاحب مرحوم و مغفور کے جن تلامذہ نے اشاعتِ حدیث میں گرانقدر علمی خدمات انجام دی ہیں، ان کا مختصر تذکرہ پیش خدمت ہے:

مولانا سید امیر حسن رحمۃ اللہ علیہ (م 1291ھ)
عبدالرشید عراقی
1984
  • اکتوبر