تحریر: حافظ ابن رجب              

آداب دین و دنیا                        قسط 3 (آخری)
دوسری قسم اس شخص کی ہے، جو اپنے علم و عمل اور زہد و تقویٰ کی نمائش کے ذریعہ دوسروں پر اپنے آپ کو بالاتر ہونے کی چھاپ بٹھانے کی کوشش کرے۔ لوگوں کو اپنا مطیع، فرمانبردار، سرنگوں اور ہر وقت اپنی طرف مودبانہ متوجہ دیکھنا چاہے۔ دوسروں پر اپنے علمی تفوق کی دھاک بٹھانے کے لئے ہر ایک سے اپنی ہمہ دانی کا چرچا کرتا پھرے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ اعمال تھے، جو اسے صرف اللہ کی رضا کے لئے کرنا چاہئے تھے، مگر اس نے انہیں دنیا کی جاہ و دولت کے لئے استعمال کیا، ایسے مجرموں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَّ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ ، أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ "
"جو بھی شخص جاہلوں سے مقابلہ کرنے کے علماء سے جھگڑنے یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی نیت سے علم حاصل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کریں گے۔"
اس حدیث کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حجرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے "(فهو فى النار)" کے الفاظ بیان کئے ہیں، یعنی ایسا شخص جہنم میں ہو گا۔
سعید مجتبیٰ سعیدی
1988
  • دسمبر
فرد کی تربیت کی جب بھی بات ہوئی ہے تو ایک سوال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ فرد کی تربیت کا مقصود اصلی کیا ہے؟ مسلمان کی نظر میں تو مقصود اصلی کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔ اس لیے کہ جہاں یہ ایمان ہوکہ یہ زندگی عارضی ہے اور بالآخر ایک نئی زندگی آنی ہے جہاں کامیابی اور ناکامی کے نتائج سامنے آئیں گے وہاں منزل مقصود کاسوال متعین ہے اور واضح ہے۔ لیکن جن اقوام میں آخرت کاکوئی تصور نہیں ہے۔ ان کے ہاں یہ سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ فرد کی تربیت کا محرک کیا ہو؟
محمود احمد غازی
2009
  • اگست
1. میرے قدیم آبائی مذہب کے متعلق میرے شکوک اور اس مذہب کے بے دلیل عقائد نے مجھے مذہب سے بے زار کر کے دینی حدود میں دھکیل دیا تھا لیکن اسلام کی حقائق آفریں تعلیمات کی روشنی مجھے لا دینی سے سلامتی کی راہ پر لے آئی ہے۔ صمیمِ قلب کے ساتھ خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اسی نے مجھے ظلمت سے نور کی طرف کھینچا اور بہیمانہ زندگی سے نکل کر حیاتِ انسانی کی آغوش میں پہنچ گیا۔
محمد امین
1973
  • اکتوبر
  • نومبر
اسلام اپنے اندر جان آفرین قوت رکھتا ہے، یہ اس کا فطری خاصہ اور بنیادی جوہر ہے، لیکن کاغذ کے پرزوں میں پڑے پڑے نہیں، کیونکہ یہ کوئی تعویذ نہیں ہے، بلکہ جب اسے 'برپا' کیا جائے تو پھر ہی یہ ہر آن ایک نئی دنیا عطا کرتا ہے۔
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
عبدالرحمن عاجز
1975
  • جنوری
  • فروری
رمضان المبارک سے قبل دینی مدارس کا تعلیمی سال مکمل ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہر سال دینی مدارس سے سینکڑوں فضلا فارغ التحصیل ہوتے ہیں، لیکن آگے معاشرے میں مدارس کے ان فضلا کے لئے مناسب گنجائش موجود نہیں ہوتی، اس لئے مدارس کو اپنی تعلیم کی نوعیت میں تبدیلی کر کے اپنے نصاب کو دین و دنیا کا اس طرح جامع بنانا چاہئے
حسن مدنی
2009
  • اگست
انسان ہر دور میں اپنے علم میں اضافے کا خواہاں رہا ہے۔حصول علم کے مختلف زرائع ہیں اور وہ ان سے اپنی سہولت کے مطابق بھر پور استفادہ کرنے کی کوشش کرتاہے۔اس سلسلے میں کتب ورسائل بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دنیا کے مختلف نظاموں میں اسلام وہی وہ واحد دین ہے جو اپنے تمام ماننے والوں کے لئے خواہ کسی بھی طبقہ گروہ اور نسل سے تعلق رکھتے ہوں علم حاصل کرنے کو فرض قرار دیتا ہے۔اس سلسلے میں اس نے مردوزن کی تفریق بھی روا نہیں رکھی ہے۔
برجیس زیدی
1984
  • جولائی
زیرِ نظر مقالہ دینی مدارس کے نظامِ تعلیم کی اصلاح کے پیش نظر سپرد قلم کیا گیا ہے۔ یہ ایک طالب علم کے تاثرات ہیں جو معزز قارئین تک پہنچا کر اپنا فرض پورا کر رہا ہوں۔ تعلیم و تدریس پر کوئی تبصرہ اور اس کے نظام کی مکمل خرابیوں کو اجاگر کرنا اگرچہ ماہرینِ تعلیم کا کام ہے اور انہی کی رائے کسی اعلیٰ قدر و قیمت کی حامل ہو سکتی ہے۔
عبدالرشید اظہر
1972
  • جون
اسلام اللّٰہ تعالیٰ کا پسند فرمودہ دین ہےجس میں انسانی زندگی کےہر پہلو کے متعلق بیش قیمت تعلیمات وتفصیلات اور ہمہ نوعیت کی خوبیاں موجود ہیں۔ یہ اسلام اپنی اتم اور اکمل صورت میں قرآن وسنت میں محفوظ ہے۔ تاہم اس کی یہ عظمتیں اس امر کی کامل ضمانت نہیں کہ واقعتاً یہ عظیم دین لوگوں کی اکثریت کو قبول بھی ہو۔ آج دنیا بھر میں اسی عظیم دین اور اس کو لانے والے پیغمبر ﷺ...جو حقیقی معنوں میں محسن انسانیت ہیں
محمد نعمان فاروقی
2017
  • مارچ
گزشتہ شمارہ میں ہم نے مدارس دینیہ عربیہ کے اغراض ومقاصد،ان کے تاریخی پس منظر اور ان کی خدمات  پرمختصرا روشنی ڈالی تھی،جس سے ان کے بارے میں پائی جانے و الی یا پھیلائی جانے و الی بعض غلط فہیموں کا بھی ازالہ ہوجاتاہے۔بشرط یہ کہ کوئی چشم بصیرت سے اسے پڑھے اور دل بینا سے اسے سمجھے۔ورنہ۔ع۔
گر نہ بیند بروز شپرہ چشم
چشمہ¿ آفتاب را چہ گناہ
تاہم اتمام حجت کے نقطہ نظر سے زیر نظر سطور میں بطور خاص ان اعتراضات اورغلط  فہمیوں کےبارے میں ضروری گزارشات پیش کیاجاتی ہیں جو ان پرکئے جاتے ہیں اور پھیلائے جاتے ہیں:
مدارس دینیہ کےنصاب میں تبدیلی کا مسئلہ:۔
ان میں سب سے اہم مسئلہ نصاب تعلیم کا ہے۔اس پر گفتگو کرنے و الے اپنےاور بیگانے دوست اور دشمن دونوں قسم کے لوگ ہیں۔بعض لوگ بڑے اخلاص سے دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی کا مشورہ دیتے اور اس میں تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں۔لیکن ہم عرض کریں گے کہ نصاب میں بنیادی تبدیلی کے پیچھے چاہے کتنے ہی مخلصانہ جذبات ہوں تاہم وہ دینی مدارس کے اصل مقاصد سے (جس کی وضاحت گزشتہ مضمون میں کی جاچکی ہے) مناسبت نہیں رکھتی۔بلکہ وہ ان کے نصاب میں تبدیلی کی دو صورتیں ہیں:۔
صلاح الدین یوسف
1995
  • جولائی
نفاذ شریعت میں متعدد عملی اقدامات کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ عملی اقدامات سےمراد ایسی موزوں تدبیریں ہیں جن سے شرعی احکام کی تعمیل میں سہولت ہوتی ہے اور ان کی خلاف ورزی کے امکانات کا قبل از وقت سدباب ہوتا ہے۔موثر عملی اقدامات کے بغیر نفاذ شریعت کی انقلابی تحریک کا ثمر آور ہونا محال ہے۔

عملی اقدامات کے دو واضح مقاصد: نفاذ شریعت کے لیے بنیادی عملی اقدامات کے دو واضح مقاصد یہ ہیں:
عبدالرؤف
1979
  • نومبر
  • دسمبر
تعلیم ودانش، زبان و ثقافت، دین و ایمان،نظریۂ پاکستان ،استقلال و آزادی کے احیا وتحفظ، ارتقا و تسلسل اور انضباط و استحکام کے میدان میں جناب شہباز شریف کے اقداما ت اپنے حال و مستقبل کے آئینہ میں کافی پریشان کن ہیں۔ اگر ان قدامات کا بر وقت محاکمہ اور محاسبہ نہ کیا گیا تو اندیشہ ہائے دورو دراز سے پناہ ممکن نہیں ۔ تاریخ اہل دانش کو بالآخر فیصلہ کن موڑ پر کھینچ لائی ہے۔
محمد اشرف جاوید
2012
  • مئی
اسلام کی دعوت کا نازک اور مشکل ترین دور وہ تھا جو مکہ مکرمہ میں نبی کریمﷺنے اپنے صحابہ کی معیت میں گزارا۔ اس دور میں صحابہ کرام اور ذ۱تِ اقدسؐ نے کس طرح جان جوکھوں میں ڈال کر اسلام کے نازک پودے کو خونِ جگر سے سینچا، زیر نظر مقالہ میں اس کی بعض جھلکیاں ملتی ہیں۔
محمد اکرم ورک
2003
  • فروری