سوویت یونین کے زوال اور امریکہ کے نیو ورلڈ آرڈر کے بعد اقوامِ عالم کے مابین ٹکراؤ کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے۔ گذشتہ صدی کا بیشتر حصہ مغربی اقوام کے مابین اختلافات اور جنگوں کی نذر ہوا:جنگِ عظیم اوّل، دوم اور پھر سرد جنگ۔ جبکہ 1990ء کے بعد سے اسلام ومسلمان اور مغرب کے مابین براہِ راست مسلح کشمکش جاری ہے۔جنگِ خلیج،عراق کی پہلی،دوسری جنگ اور افغانستان میں یہی صورتحال ایک عشرے سے زیادہ عرصہ تک رہی۔
حسن مدنی
2017
  • جنوری
23/جولائى 2005 كو ہمدرد سنٹر لاہورميں جامعہ لاہور الاسلاميہ كے زير اہتمام چيئرمين سينٹ آف پاكستان جناب محمد مياں سومرو كى زير صدارت مذكورہ موضوع پر ايك سيمينار كا انعقاد كيا گيا جس ميں تمام مكاتب ِفكر كے نمائندہ علماے كرام شريك ہوئے- صبح 10بجے سيمينار كا باقاعدہ آغاز قارى حمزہ مدنى كى تلاوتِ كلام پاك سے ہوا اورسٹیج سيكرٹرى كے فرائض 'بيت الحكمت' كے ڈائريكٹر پروفيسر عبد الجبار شاكر نے انجام ديے۔
محمد اسلم صدیق
2005
  • ستمبر
دہشت گردی کسے کہتے ہیں؟ کیا دین اسلام میں اس کا کوئی تصور ہے...؟
جنوبی افریقہ کے رِچ اَم کُھن ڈو، نیویارک ٹائمز کے سرج شِمے مان، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا راروائن کے مارک لیوائن، معروف صحافی رے بکا سکاروف اور مارک ڈیری، افسانہ نگار رچرڈ فورڈ، کوئنز کالج اور گریجویٹ سینٹر کولم، بیایونیورسٹی کے پروفیسر جان جیریسی،
کوکب نورانی
2002
  • اکتوبر
  • نومبر
بیسویں صدی کا آخری عشرہ مسلمانوں پر مصائب و آلا م اور ابتلا ء کا عشرہ ہے اس صدی کے نصف اول میں بہت سے مسلم ممالک نے آزادی حا صل کی۔ اور مغرب کے لیے یہ ایک عظیم لمحہ فکر یہ بن گیا ۔کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ مسلمانوں کا اتحاد ایک تیسری عظیم قوت کو جنم دے سکتا ہے افغانستان پر روسی یلغار پر جس طرح مسلمانوں نے متحدہ ہو کر اس عظیم تر فتنہ کا مقابلہ کیا اور روس جیسی نام نہاد سپرپاورکو جس بے بسی و بے چارگی کے عالم میں افغانستا ن سے بھا گنا پڑا ،پھر اس کے نتیجے میں دنیا کے جغرافیہ میں بے شمار تبدیلیاں وجود میں آئیں پسے ہو ئے اور ظلم وستم کے مارے ہوئے مسلمانوں نے کروٹ لی اور علم جہاد بلند کردیا۔ تو پورا مغرب ایک دم چوکنا ہوگیا۔کہ سوسالہ کیمونسٹ دباؤ کے باوجود ان ممالک کے مسلمانوں نے نہ صرف اپنے تشخص کو قائم رکھا بلکہ آزادی ملتے ہی فوراًاپنی ملی و اسلامی اقدار کے احیاء میں سر گرم ہو گئے ،چا ہے وسط ایشیا کی مسلم ریاستیں ہوں یا یورپ میں بوسنیااور البانیہ کے مسلم اکثریتی علاقے روس کی پسپائی کے فوراً بعد امریکہ نے اپنا نیو ورلڈآرڈر پیش کر دیا جو دراصل ( أنا ولا أحد غيري )کا مصداق تھا اس کے اس آرڈرکا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جو اسلامی قوتیں اُبھر رہی ہیں ان کا سختی سے قلع قمع کر دیا جا ئے۔
ثریا بتول علوی
1994
  • اکتوبر
روزنامہ جنگ کے کالم نگار حامدمیر اپنے کالم 'قلم کمان' میں لکھتے ہیں:''رحمانی بخش سے ملے بغیر آپ کو کبھی سمجھ نہیں آئے گی کہ سوات، بونیر اور دیر کے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت فوجی آپریشن کی مخالف کیوں ہے؟ یہ لوگ طالبان کے حامی نہیں ہیں لیکن حکومت نے جس انداز میں آپریشن شروع کیا ہے،
ادارہ
2009
  • جون