گذشتہ چار پانچ صدیوں کے اندر یورپ میں بہت بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں ہمہ گیر ہونے کے ساتھ ساتھ عالم گیر بھی ہیں۔ ان کی لپیٹ میں حیاتِ انسانی کا ہر شعبہ اور ہر فرد آیا ہے۔ مشرقی اور مسلم ممالک نےدانستہ اور نادانستہ اُن کے اثرات کو قبول کیا ہے۔ اگر طائرانہ نظر سے دیکھا جائے تو اُن تبدیلیوں کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ دور ِجدید میں ہر فکری تعبیر کےپس منظر میں اُنہیں دیکھا جا سکتا ہے
عبدالحنان کیلانی
2014
  • اپریل
مارشل لاء رخصت ہوا اور جمہوریت بحال ہوگئی ہے۔ 30 دسمبر 1985ء کے سورج کی رو شنی میں قوم نے اپنی ''کھوئی ہوئی منزل'' کو اپنے سامنے یوں اچانک مسکراتے دیکھا کہ وزیراعظم صاحب کے بقول ''جب وہ ایوان میں داخل ہوئے تو مارشل لاء موجود تھا، لیکن جب ایوان سے باہر نکلے تو جمہوریت کا سورج طلوع ہوچکا تھا''اور روزنامہ ''جنگ '' کے مطابق :''گذشتہ ایک ہفتہ سے مسلسل بارشوں، شدید سردی اور کُہر آلود موسم کی لپیٹ 
اکرام اللہ ساجد
1986
  • جنوری
اس سوال کا اجمالی جواب تو یہ ہے کہ جمہوریت میں یہ لازمی امر ہے کہ مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو یا انسانوں پر مشتمل ادارہ۔ انسان سے ماوراء کسی ہستی کو مقتدر اعلیٰ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جب کہ اسلامی نقطۂ نظر سے مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو ہی نہیں سکتا ۔ بلکہ مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس کی بنا پر ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ جمہوریت سے اسلام کبھی سربلند نہیں ہو سکتا۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
کیا انصار و مہاجرین سیاسی جماعتیں تھیں؟

مہاجرین و انصار میں خلافت کے معاملہ پر سقیفہ بنی ساعدہ میں چند لمحات کے لئے نزاع پیدا ہوئی جو اسی مقام پر ختم ہو گئی۔ تو اس واقعہ کی بنا پر مہاجرین و انصار کو آج کل کی سیاسی پارٹیوں کے مماثل قرار دینا، میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جمہوریت نواز دوستوں کی بہت بڑی جسارت ہے۔ جب یہ مہاجرین اولین مکّہ کی گلیوں میں پِٹ رہے تھے اور کفّار کے ظلم و تشدد کا نشانہ بنے ہوئے تھے تو کیا یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا تھا کہ ہم کسی نہ کسی وقت کاروبارِ حکومت پر قابض ہوں جیسا کہ موجودہ دور کی سیاسی پارٹیوں کا بنیادی مقصود ہی یہ ہوتا ہے۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ کے ہاتھ پر خلافت کے انعقاد کے لئے بیعت سقیفہ بنو ساعدہ میں ہوئی۔ پھر دوسرے دن مسجد نبوی میں عام بیعت ہوئی۔ حضرت عمرؓ کو حضرت ابو بکرؓ نے نامزد کیا۔ نامزدگی کے متعلق گفتگو آپ کے گھر پر ہوتی رہی۔ لیکن عام بیعت مسجد نبوی میں ہوئی۔ اسی طرح حضرت عثمان کی خلافت سے متعلق مشورے تو حضرت مسور بن مخرمہ کے گھر پر ہوتے رہے لیکن عام بیعت مسجد نبوی میں ہوئی۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
1. اقتدارِ اعلیٰ

نظام خلافت میں مقتدر اعلیٰ خود اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی ہر چیز کا مالک اور وہی قانون ساز ہے۔ ملت اسلامیہ اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے بنیادی قوانین اللہ تعالیٰ خود بذریعہ انبیاء انسانوں کو بتلاتا ہے۔ ایسی قانون سازی کا اختیار کسی نبی کو بھی نہیں ہوتا۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
آج پانچ برس گزرنے کے بعد پاکستانی قوم ایک بار پھر انتخابات کے اہم ترین قومی مرحلے کا سامنا کررہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے یہ انتخاب جہاں ایک طرف انتہائی متنازعہ حیثیت کے حامل ہیں ، شکوک وشبہات اور وسوسوں ،اندیشوں کے مہیب سائے پھیلے ہوئے ہیں وہاں اس کے نتائج بھی نوشتہ دیوار کی طرح ثبت ہیں ۔ اس کے باوجود خواہی نخواہی ہر آنے والا دن انتخابات کی طرف ہمارے قدم بڑھا رہا ہے۔
حسن مدنی
2008
  • فروری
پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ نامزد کرنے کا خیال پیدا ہوا تو اس کی وجہ بھی بتلا دی کہ مبادا اس وقت بعض لوگ خلافت کی آرزو کرنے لگیں یا کچھ دوسرے باتیں بنانے لگیں کہ خلافت تو دراصل ہمارا حق تھا۔ پھر آپﷺ نے جو استخلافِ ابو بکرؓ کا ارادہ ترک کر دیا تو اس کی وجہ بھی مذکور ہے کہ ابو بکرؓ کے علاوہ کسی دوسرے کا خلیفہ بننا نہ تو اللہ کی مشیت میں ہے اور نہ ہی مسلمان مجموعی طور پر ابو بکرؓ کے علاوہ کسی دوسرے پر اتفاق کریں گے۔ (اور آپ ﷺ پیش از وقت کسی کی دل شکنی نہیں کرنا چاہتے تھے) چنانچہ یہ دونوں باتیں پوری ہو کر رہیں۔ 
سب سے پہلے خلافت کا خیال بنو ہاشم کو آیا۔ قبیلہ قریش کے اس وقت دس چھوٹے قبائل مشہور تھے۔ ان میں سے ایک بنو ہاشم تھے۔ یہ آنحضرت ﷺ سے قرابت کی وجہ سے اپنے آپ کو خلافت کا حق [1]دار سمجھتے تھے۔ ان کے پیشوا حضرت علیؓ تھے اور حضرت عباسؓ ابن عباس اور حضرت زبیرؓ (جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں) ان کے رشتہ دار اور امرِ خلافت میں ان کے معاون تھے۔ حضور اکرم ﷺ اپنی مرض الموت میں بقید حیات تھے کہ حضرت عباسؓ کو یہ آرزو پیدا ہوئی کہ حضور اکرم ﷺ سے اپنے حق میں فیصلہ لے لینا چاہیے۔
عبدالرحمن کیلانی
1981
  • جون
حضرت علیؓ کی وفات کے قریب آپ سے لوگوں نے کہا اِسْتَخْلِفْ (یعنی اپنا ولی عہد مقرر کر جائیے) آپ نےجواب میں فرمایا: ’’میں مسلمانوں کو اسی حالت میں چھوڑوں گا جس میں رسول اللہ نے چھوڑا تھا‘‘ (البدایۃ ج ۸ ص ۱۳-۱۴) 
2. ثم قال اِن مِتُّ فاقتلوہ وان شتُ فانا اعلم کیف اصنع به۔‘‘ فقال جندب بن عبد الله ’’یا امیر المومنین! ان مت نبایع الحسن؟‘‘ فقال ’’لا امرکم ولا انھا کم، انتم اَبْصَدُ۔‘‘ (البدایہ والنہایہ ص ۳۲۷، ج۷) 
پھر حضرت علیؓ نے فرمایا: اگر میں مر گیا تو اس (قاتل) کو قتل کر دینا اور اگر میں زندہ رہا تو میں جانوں میرا کام۔‘‘ حضرت جندب بن عبد اللہ نے کہا۔ ’’اے امیر المؤمنین! اگر آپ فوت ہو جائیں تو ہم حضرت حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں؟ فرمایا: ’’میں نہ تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں۔ تم خود بہتر سمجھتے ہو۔‘‘ 
3. بُوْیَعَ للحسن بن علی علیه السلام بالخلافة وقیل ان اوّل من بایعه قیس بن سعد قال له ابسط یدک ابا یعک علٰی کتاب الله عزوجل وسنة نبیه (طبری ج ۵ ص ۱۵۸) 
حضرت حسنؓ بن علیؓ کی خلافت پر بیعت ہوئی اور کہتے ہیں کہ پہلا شخص جس نے بیعت کی وہ قیس بن سعد تھا۔ اس نے کہا اپنا ہاتھ اُٹھائیے۔ میں آپ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت پر بیعت کرتا ہوں۔‘‘
عبدالرحمن کیلانی
1980
  • جون
1۔عن محمد بن عبد الله بن سوار بن نویرہ، و طلحة بن الاعلم، و ابو حارثه وابو عثمان، قالوا: بَقِیَت المدینة بعد قتل عثمان رضی اللّٰہ عنه خمسة ایام، وامیرھا لغافقی بن حرب، یلتمسون من یُجِیْیُھُمْ الی القیام بالامر فلا یجدونه۔ یاتی المصریون علیا فیحتبی منھم وَیَلُوْذُ بِحیطان المدنیة، فاذا لقوھم، باعَدَھم وتبرا منھم ومن مقالتھم مرة بعد مرة۔ ویطلب الکوفیون الزبیر فلا یجدونه فارسلوا الیه حیث ھو رُسُلًا: فباعدھم او تبرا من مقالتھم ویطلب المصریون طلحة فاذا لقیھم باعَدَھم وتیرا من مقالتھم مرة بعد مرة، وکانوا مجتمعین علٰی قتل عثمان، مختلفین فیمن یَتوون، فلما لم یجدوا مما لثا ولا مجیبًا جمعھم الشر علی اَولِ من اجابھم وقالوا: لا نُولّی احدا من ھؤلاء الثلاثۃة فبعثوا الی سعد بن ابی وقاص وقالوا انک من اھل الشورٰی فرایُنافیک مجتمع، فَاقَدِم نبایعک۔ فبعث الیھم: اِنِّی واین عمر فرضا منھا فلا حاجة لی فیھا۔ ثم انھم اتوا ابن عمر عبد الله، فقالوا: انت ابن عمر فقم لھذا الامر: فقال: ان ھذا الامر انتقاماً والله لا اتعرض به فالتمسوا غیری۔‘‘ فَبَقُوا حَیَارٰی لا یدرون ما یستون والامر امرھم (ص ۲۳۴) 
محمد بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن سوار بن نویرہ، طلحہ بن الاعلم، ابو حارثہ اور ابو عثمان سے روایت ہے۔ کہتے ہیں شہادتِ عثمان کے بعد پانچ دن تک غافقی بن حرب امارت کے فرائض سر انجام دیتا رہا۔ یہ لوگ کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو امارت قبول کرے لیکن ناکام رہے۔ مصری لوگ حضرت علیؓ کے پاس آئے تو وہ ان سے غائب ہو گئے اور مدینہ کی ایک فصیل میں پناہ لی۔ جب یہ ان سے ملے تو حضرت علیؓ نے ان سے اور ان کے مطالبہ سے بار بار بیزاری کا اظہار کیا۔ اور کوفی لوگ حضرت زبیر کو امام بنانا چاہتے تھے۔ ان لوگوں نے حضرت زبیر کو کہیں نہ پایا۔ تو ان کی تلاش کے لئے آدمی بھیجے۔ حضرت زبیرؓ نے بھی ان سے اور ان کے مطالبہ سے بیزاری کا اظہار کیا۔ اور بصری لوگ حضرت طلحہؓ کو امیر بنانا چاہتے تھے۔ جب یہ ان سے ملے تو انہوں نے بھی ان سے اور ان کے مطالبہ سے بیزاری کا اظہار کیا۔ یہ شر پسند حضرت عثمان کو شہید کر دینے پر متفق تھے مگر نئے امام کے تقرر میں اختلاف رکھتے تھے۔ پھر جب ان لوگوں کو کوئی بھی ایسا آدمی نہ ملا جو ان کے مطالبہ کو قبول کرتا یا جھوٹے وعدہ سے...
عبدالرحمن کیلانی
1981
  • جون
جمہوریت، جمہوریت، جمہوریت، ہر سُو اک شور برپا ہے، لیکن تجربہ شاہد ہے کہ ''آزادی یہ یہ نیلم پری۔ جمہوریت'' جہاں بھی تشریف لے جاتی ہے، عوام الناس کی زندگیاں غیر محفوظ ہوجاتیں او رامن و امان کے سنگین مسائل اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ فلپائن کے جمہوری تماشوں کے بعد بنگلہ دیش کے حالات پر اک نگاہ دوڑائیے، اخبارات کے ذریعے، بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات میں سینکڑوں افراد کے زکمی ہونے کےعلاوہ 62 سے زیادہ
اکرام اللہ ساجد
1986
  • جون
مغربی طرز کے حالیہ انتخابات کے ذریعے جو پارٹی مرکزی قیادت پر فائز ہو گئی ہے، اس کے حامیوں کی طرف سے اُسے خوب اُچھالا جا رہا ہے، فلم انڈسٹری کے اداکار، موسیقار، جنہوں نے عرصے سے اس پارٹی کی کامیابی پر باہمی مبارکباد بانٹنے کی منتیں مان رکھی تھیں وہ انہیں پورا کر رہے ہیں،اور اس پر انتہائی مسرت کا اظہار کر رہے ہیں، کہ اس قیادت کے زیر سایہ ان کے خلافِ اسلام دھندا نشوونما پائے گا، اور مسلمانوں کی نوجوان نسل کے سینوں سے نورِ ایمان سلب کرنے کے لیے انہیں مزید موقع مل جائے گا، دوسری طرف غیر مسلم ذرائع ابلاغ رات دن اس قیادت کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے پروپگنڈے کے ذریعے ۔۔ ایک ایسے ملک میں جس کی بنیاد، نفاذِ اسلام پر رکھی گئی تھی۔۔۔عورت کی سربراہی کے خلاف اسلامی اصول کی بیخ کنی میں کامیاب ہو گئے ہیں، ادھر فضا کو اپنے لیے سازگار دیکھ کر قادیانی اژدہے بھی سر اٹھا رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے نونہال بڑے خوش ہیں کہ وہ سٹیج پر باجی کی سرِعام نمائش کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
رمضان سلفی
1989
  • اپریل
ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات مکمل ہوگئے ہیں۔اور عمومی تاثر یہی ہے کہ انتخابات انتہائی منصفانہ اورپرامن ہوئے ہیں۔چنانچہ جہاں تک ان کے منصفانہ ہونے کا تعلق ہے۔ہم نے بڑے بڑے جبہ ودستاروالوں کے متعلق یہ سنا ہےکہ انہوں نے ووٹروں کو رات کو تنہائیوں میں یہ مشورہ دیا:
"اگر آپ دوسری پارٹی سے ووٹ دینے کی حامی بھر چکے ہیں تو کوئی حرج نہیں آ پ بظاہر ان سے یہی کہتے رہیں کہ ووٹ آپ کو دیں گے۔لیکن در پردہ مہر لگاتے وقت ہمارا انتخابی نشان۔۔۔یاد رکھئے گا!"
۔۔۔اورتجزیہ اکثر لوگوں کا ہوا ہوگا۔۔۔علاوہ ازیں دھاندلیوں اورجبرواکراہ کے کچھ واقعات بھی پڑھنے سننے میں آئے ہیں۔اور جن کی بناء پر بعض شہروں میں کشیدگی کی فضاپائی جاتی ہے۔جمہوریوں کےنزدیک شاید یہ باتیں زیادہ اہم نہ ہوں لیکن یہ بات ضرور ان کے سوچنے کی ہے۔کہ اگر عدل وانصاف ان کے ہاں اسی کا نام ہے۔
اکرام اللہ ساجد
1985
  • مارچ
اہلیانِ پاکستان کے دل ودماغ اورقومی اوقات وصلاحیتیں اس قدر بے مصرف کیوں ٹھہریں کہ تین برس ہونے کو آئے ہیں، آئے روز صدرِ پاکستان کی بددیانتی کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان، حکومت کو حکم دیتی ہے کہ قوم کاپیسہ واپس لانے کا خط لکھا جائے لیکن وقت کا صدر اور پیپلز پارٹی کا شریک چیئرمین دستوری استثنا سے فائدہ اُٹھانے پرہی مصر ہے۔
حسن مدنی
2012
  • مارچ
ایک مسلمان بیعت اور ''امانت'' کو ووٹ، شورائیت کو رائے شماری کے مترادف قرار دینے اور کثرت رائے کو معیار تعلیم کرنے کے بعد جمہوریت کی دیگر قباحتوں کو قبول کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کیونکہ دیگر قباحتیں جمہوریت کے اِس درخت کی شاخیں ہیں جو رائے شماری اور کثرت رائے کی جڑوں پر قائم ہے۔ جب کثرت رائے ہی فیصلے کا معیار ٹھہرتی ہے تو بنیادی بات ہے کہ رائے عامہ کی حمایت حاصل کرنے کے لئے جماعت سازی  گی
انور طاہر
1981
  • جنوری
اہل مغرب نے آئینِ الٰہی کو پس پشت ڈال کر آسمانی ضابطۂ حیات کو عوام کی اکثریت کا تابع بنادیا جبکہ مشرق نے اہلِ مغرب کی غلامی کو ترقی کازینہ سمجھ کر قبول کرلیا اور اسلاف کی سیاست سے روگردانی کرلی۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے مشرق و مغرب کا موازنہ کرتے ہوئے اظہار خیال کیا:
عطاء اللہ جنجوعہ
2009
  • نومبر
جمہوریت کا موجودہ دَور انقلاب فرانس ۱۷۷۹ء سے شروع ہوتا ہے۔ واقعہ باسٹیل کے بعد ۴؍ اگست ۱۷۷۹ء کی شب کو جمعیت وطنیت فرانس نے اپنا مشہور منشور انقلاب شائع کیا تھا۔ جس نے تاریخ میں اوّلین فرمانِ حریت کے لقب سے جگہ پائی۔ مشہور فرانسیسی مورخ حال (Ch.Seignobos) نے اپنی تاریخ انقلاب میں اس منشور کا خلاصہ درج ذیل پانچ دفعات میں پیش کیا ہے:
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
1۔  فرانس کا منشور جمہوریتاور حقیقی جمہوریت

جمہوریت کا موجودہ دَور انقلاب فرانس ۱۷۷۹ء سے شروع ہوتا ہے۔ واقعہ باسٹیل کے بعد ۴؍ اگست ۱۷۷۹ء کی شب کو جمعیت وطنیت فرانس نے اپنا مشہور منشور انقلاب شائع کیا تھا۔ جس نے تاریخ میں اوّلین فرمانِ حریت کے لقب سے جگہ پائی۔ مشہور فرانسیسی مورخ حال (Ch.Seignobos) نے اپنی تاریخ انقلاب میں اس منشور کا خلاصہ درج ذیل پانچ دفعات میں پیش کیا ہے: 
$11.      استیصال حکم ذاتی: یعنی حقِ حکم و ارادہ اشخاص کی جگہ افراد کے ہاتھ میں جائے۔ شخص، ذات اور خاندان کو تسلط و حکم میں کوئی دخل نہ ہو۔ یعنی ملک ہی پریزیڈنٹ کا انتخاب کرے۔ اِسی کو حق عزل و نصب ہو۔ 
$12.      مساوات عامہ: جس کی بہت سی قسمیں ہیں: 
مساوات جنسی، مساوات خاندانی، مساوات مالی (حق ملکیت) مساوات قانونی (         ) مساوات ملکی و شہری وغیرہ وغیرہ۔ اس بنا پر بھی پریزیڈنٹ کو عام باشندگان ملک پر کوئی تفوق و ترجیح نہ ہو۔ 
$13.      خزانہ ملکی: ملک کی ملکیت ہو۔ اس پر پریزنڈنٹ کو کوئی ذاتی تصرف نہ ہو۔ 
$14.      اصولِ حکومت ’’مشورہ‘‘ ہو۔ اور قوتِ حکم و ارادہ افراد کی اکثریت کو ہو۔ نہ کہ ذات و شخص کو۔
عبدالرحمن کیلانی
1981
  • جون
اہل حدیث کا مذہب ہے کہ خلافت ِراشدہ حق پر ہے یعنی حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان ذوالنورین، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم خلفاے راشدین تھے۔ ان کی اِطاعت بموجب ِشریعت سب پر لازم تھی۔ کیونکہ خلافت ِراشدہ کے معنی نیابت کے ہیں، حضرت ابوبکرؓ کو حضور ﷺ نے اپنی زندگی ہی میں اپنا نائب بنایا تھا۔مرض الموت میں صدیق اکبرؓ کو امام مقرر کیا۔
ثناء اللہ امرتسری
2011
  • جنوری
خلفائے راشدین کا دور جہاں روحانی سعادتوں سے مالا مال تھا۔ معاشرتی اور سیاسی اعتبار سے بھی بے مثال تھا۔ خلفائے راشدین کی راتیں اللہ کے حضور میں قیام و سجود کی حالت میں گزرتی تھیں اور دن مخلوقِ الٰہی کی خدمت میں بسر ہوتے تھے۔
سید ابوبکر غزنوی
1971
  • جنوری
  • فروری
1:امامت قریش میں ہو گی
حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں ہی یہ خبر دے دی تھی کہ ان کے بعد ان کے جانشین (خلیفہ) قبیلہ قریش سے ہوں گے[1]۔ اور ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بیان فرما دی تھی۔ اس سلسلہ میں بہت سی احادیث وارد ہیں اور امام بخاریؒ نے تو ’’الامراء من قریش‘‘ (کتاب الاحکام) کے عنوان سے ایک مستقل باب بھی باندھا ہے۔ چند ایک احادیث ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔ 
$11.الناس تبع لقریش فی ھذا الشان مسلمھم تبع لِمُسْلِمِھم وکافرھم تبع کافرھم (مسلم، کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش والخلافة فی قریش) 
’’موجودہ صورت حال یہ ہے کہ لوگ قبیلہ قریش ہی کی پیروی کر سکتے ہیں۔ جو مسلمان ہیں وہ مسلمان قریش کی اور جو کافر ہیں وہ کافر قریش کی۔‘‘ 
گویا امر خلافت کو فیصلہ قریش سے منسوب ہونے کی وجہ یہ تھی کہ عرب قبائل قریش کے علاوہ کسی دوسرے فیصلہ کی اطاعت گوارا ہی نہ کر سکتے تھے۔ 
آپ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ میرے بعد خلفا قبیلہ قریش سے ہوں گے اور ۱۲ خلفاء تک اسلام غالب رہے گا اور یہ سب قبیلہ قریش سے ہوں گے۔ 
$12.عن جابر بن سمرة یقول سمعت النبی ﷺ یقول: لا یزال الاسلام عزیزا الی اثنی عشر خلیفة ثم قال کلمة لم افھمھا۔ فقلت لابی ما قال؟ فقال کلھم من قریش (مسلم، ایضا) (بخاری کتاب الاحکام۔ باب الاستخلاف)
عبدالرحمن کیلانی
1981
  • جون
پاکستان میں 16 اور 19 نومبر 1988ء کو بالترتیب قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات مکمل ہوئے۔ ان کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے پر جہاں ملک اور بیرون ملک سے تحسین و آفرین کے پیغامات مل رہے ہیں، وہاں ملک میں جمہوریت کا سہرا لگنے پر مبارک بادیں بانٹی جا رہی ہیں۔ عموما تبصروں میں فتح و شکست کی سیاسی وجوہ پیش کی جا رہی ہیں۔ ہماری نظر میں کامیابی اور ناکامی کے کچھ دوسرے اہم پہلو بھی ہیں اور اسباب و وجوہ کے اسلامی پیمانے بھی جو قرآن کریم اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں سامنے آتے ہیں۔ قرآن مجید کوئی اساطیر الاولین (گئی گزری کہانیاں) نہیں، بلکہ دنیا بھر میں پیش آنے والے واقعات پر پیشگی تبصرہ اور مکمل ہدایت ہے۔ علاوہ ازیں شریعت کی نظر میں کامیابی کے اپنے اصول ہیں، جو اللہ کے نزدیک حقیقی فتح و شکست ہے۔ لہذا ہم سطورِ ذیل میں جمہوریت کے بالمقابل وحی الہیٰ کی روشنی میں معاملات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ اسی سلسلے میں مدیرِ اعلیٰ "محدث" نے کلیۃ الشریعہ لاہور کی جامع مسجد میں قومی اسمبلی کے انتخابات کے بعد اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات سے قبل 18 نومبر کو خطبہ جمعہ دیا جس میں جنگِ حنین کے حوالے سے گفتگو کی اور پھر 25 نومبر کے خطبہ میں سورہ دم کی ابتدائی آیات کی روشنی میں جمہوریت اور انتخابات پر تبصرہ کیا۔ انہی دو خطبوں سے یہ تحریر تیار کر کے فکرونظر کے کالموں میں پیش کی جا رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی خوشیاں نصیب کرے۔ آمین۔۔۔۔۔ادارہ
عبد الرحمن مدنی
1988
  • دسمبر
کیا کثرت رائے معیارِ حق ہے؟

ہم پہلے اسلامی نقطۂ نظر سے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ دلیل کے مقابلہ میں کثرت رائے کی کوئی حیثیت نہیں۔ اب جمہوریت پرستوں کی مجبوری یہ ہے کہ جمہوری نظام ''کثرت رائے بظور معیار حق'' کے اصول کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
چند روز قبل علمائے کویت کی طرف سے ''مدیرِ اعلیٰ محدّث'' کے نام ایک مکتوب وصول ہوا تھا، جس کا اردو ترجمہ افادۂ عام کے لئے ہدیۂ قارئین ہے (ادارہ) فضیلة الشیخ الحافظ عبد الرحمان المدّنی۔ متعنا اللّٰہ بطول حیاتکم!السلام علیکم ورحمة اللّٰہ وبرکاتہٗ۔ امّا بعد:جمہوریت ایک ایسا نظام ہے جسے خود انسان نے وضع کیا ہے۔ اس فکر کو سیاست و ریاست کی تمام مشکلات کے حل کا واحد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ نظام مغرب کا وضع کردہ ہے اور
ادارہ
1981
  • نومبر