محدث كے گذشتہ شمارے ميں 'فیملى پلاننگ سے مغربى مفادات' كے موضوع پر ايك مضمون شائع كيا گيا تها، اسى مضمون ميں پيش كردہ بعض نكات كى مزيد تصديق وتكميل كيلئے حسب ِذيل مقالہ خصوصى اہميت ركهتا ہے- اس مقالہ ميں مغربى مفكرين كے خيالات كى روشنى ميں ترقى اور نشو ونما كے باب ميں آبادى كے مثبت كرداركا جائزہ پيش كيا گيا ہے۔
محمد حماد لکھوی
2005
  • اگست
برطانيہ ميں آج زيادہ تر عورتيں وہ ہيں جو 40 سال كے بعدبچہ پيدا كرتى ہيں اور ان ميں شرح پيدائش نوجوان عورتوں سے بهى زيادہ ہے كيونكہ نوجوان عورتيں تو بچہ چاہتى ہى نہيں- BBC كے مطابق 40 سال كى زچہ عورتوں كى تعداد ميں گزشتہ دس سال ميں دگنا اضافہ ہوگيا ہے-شمالى آئرلينڈ والے بهى پريشان ہيں كہ ان كى آبادى كى شرح كم ترين سطح تك پہنچ گئى ہے۔
قاضی کاشف نیاز
2005
  • جولائی
وطن عزيز ميں حكومتى سطح پر جس محكمے ميں سب سے زيادہ نيك نيتى اور خلوص سے كام ہوتا ہے، وہ محكمہ بہبود آبادى ہے- اس كے لئے اربوں كا بجٹ ملكى طور پر ركها جاتا ہے اور بيرونِ ملك سے بهى وافر امداد حاصل ہوتى ہے- جگہ جگہ ادارے كهولے گئے ہيں، منظم اشتہارى مہم جس ميں اخبار، ٹى وى ، رسائل ، سٹيكر اور بڑے بڑے ہورڈنگز شامل ہيں۔
عطیہ انعام الٰہی
2005
  • جولائی