جنسی آوارگی، بیہودگی اور خرافات کو ذرائع ابلاغ کس طرح ایک 'مقدس تہوار' بنا دیتے ہیں، اس کی واضح مثال 'ویلنٹائن ڈے' ہے۔ یہ بہت پرانی بات نہیں ہے کہ یورپ میں بھی 'ویلنٹائن ڈے' کو آوارہ مزاج نوجوانوں کا عالمی دن سمجھا جاتا تھا، مگر آج اسے'محبت کے متوالوں' کے لئے 'یومِ تجدید ِمحبت' کے طور پر منایا جانے لگا ہے۔ اب بھی یورپ اور امریکہ میں ایک کثیر تعداد 'ویلنٹائن ڈے' منانے کو برا سمجھتی ہے،
عطاء اللہ صدیقی
2002
  • مارچ
قومیں اپنے مضبوط تہذیب وتمدن سے پہچانی جاتی ہیں اور تہذیب کے نشو وارتقا میں مذہبی تصورات کے ساتھ ساتھ مذہبی تہواروں کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ زندہ قومیں اپنے تہوار بڑی گرم جوشی اور جوش وخروش سے مناتی ہیں کیونکہ یہ تہوار ان کی ثقافتی وحدت اور قومی تشخص کا شعار سمجھے جاتے ہیں۔ اسلامی تہواروں میں جہاں عید الفطر کو ایک غیر معمولی تہوار کی حیثیت حاصل ہے،
حسن مدنی
2003
  • دسمبر
ثقافت اور کلچر کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ وہ زندگی کی روحانی، فکری، مذہبی اور اخلاقی قدروں کی مجسم تصویر کا نام ہے۔ سچائی، حسن، خیرمحض، انصاف اور محبت اِسی کلچر کی کرنیں ہیں ۔ ثقافت نام ہے ایک طرزِفکر، تخلیقی روایت اور طرزِ معاشرت کا ، جس میں زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ راست بازی، نگاہ کی بلندی اورکردار کی پاکیزگی قرار پاتی ہے۔
عطاء اللہ صدیقی
2004
  • فروری
کسی تہوار کوہندوانہ رسم ثابت کرنے کے لئے تاریخی حقائق اگر کچھ اہمیت رکھتے ہیں ، تو یہ بات تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہے کہ بسنت ہندوانہ تہوار ہے۔ وہ لوگ جو ان تاریخی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہیں اور بسنت کومحض ایک موسمی اور مسلمانوں کاثقافتی تہوار کہتے ہیں ، ان کی رائے مغالطہ آمیز اور غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ ہم اس موضوع پر ایک دوسرے مضمون میں تفصیلاً بحث کر چکے ہیں ۔ (دیکھئے شمارہ محدث: فروری 2002ئ)
عطاء اللہ صدیقی
2006
  • اپریل
تمہید از مدیر: بیسویں صدی کا پہلا نصف مغربی اَقوام کی آپس میں اور دوسرا نصف مغربی اَقوام کی اشتراکیت کے ساتھ مخاصمت وکشمکش کا دور ہے۔ اس دور کی عالمی سیاست میں اسلام کے حوالے سے عالم اسلام کا کوئی نمایاں کردار نظر نہیں آتا۔ بلکہ یہ صدی مسلم شعور کی انگڑائی اور عوامی تحریکوں کی شکل میں ملی اِحیا پر ہی مشتمل ہے۔
زاہد صدیق مغل
2010
  • فروری
  • مارچ
۱۹۹۳ء میں 'فارن افیرز جرنل' نے 'تہذیبوں کا تصادم' کے عنوان سے ہارورڈ کے پروفیسر، نیشنل سیکورٹی کونسل کے سابقہ ڈائریکٹر اور 'امریکی علومِ سیاسیہ' کی ایسوسی ایشن کے صدر سیموئیل ہنٹنگٹن کا ایک مضمون شائع کیا۔ ۱۹۹۶ء تک ہنٹنگنٹن کااپنے اس مضمون کو مکمل کتاب کی شکل دے دی جو ''تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تعمیر نو'' کے عنوان کے تحت شائع بھی ہوگئی۔
رابنسن فرانسس
2002
  • اکتوبر
  • نومبر
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما کر دنیا میں اپنی بندگی او رعبادت کی ذمہ داری سونپی، عبث پیدا کردینے کی بجائے انسان کو مکلف بنایا کہ وہ عمل کی دنیا میں اپنے آپ کو بہتر واَحسن ثابت کرے۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اس میزان پر پورا اُترا اور آخرت میں آگ سے بچ کر جنت کا مستحق ہوا۔ اس عظیم مقصد کے لئے اللہ نے انسان کو کسی رہنمائی کے بغیر چھوڑنے کی بجائے ایک مکمل نظامِ بندگی عنایت کیا
زاہد صدیق مغل
2009
  • نومبر
شاید چند برسوں بعد کوئی اس قافلے کے لٹنے کا ماتم کرنے والا بھی میسر نہ ہو۔آج یہ داستان رقم کر دو، مرتب کردو کہ شاید گردآلود الماریوں میں موجود بوسیدہ کتابوں سے آج سے کئی سال بعد کسی کو اس تہذیب کے لٹنے اور برباد ہونے کا سراغ مل جائے۔ تہذیبیں آہستہ آہستہ اُجڑتی ہیں اور لوگ نئی تہذیب کو بھی آہستہ آہستہ اوڑھتے ہیں۔ لیکن اگر کسی منصوبہ بندی سے تبدیلی لائی جا رہی ہو تو اس کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے اور دوسری بات یہ کہ تبدیلی لانے والے گذشتہ تہذیب کے نشان تک بھی مٹا دیتے ہیں۔
اوریا مقبول جان
2020
  • فروری
ڈاکٹر مہاتیر محمد اسلامی ملک ملائشیا کے صرف ہردلعزیزحکمران ہی نہیں بلکہ کئی کتب کے مصنف ایسے عظیم عالمی مفکر بھی ہیں جن سے دورِ حاضر کا مالی استعمار اور مغرب شدید خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قیام اور فعالیت کے بعد 'گلوبلائزیشن' کے نعرے تلے ۱۹۹۶ء میں ملائشیا سمیت متعدد ایشیائی ممالک کو جس معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا،
مہاتیر محمد
2003
  • ستمبر
مغربی ذرائع اَبلاغ کی تعلیمات و ہدایات کے زیراثر ہمارے ہاں تواتر سے طبقہ ٔ اشراف سے تعلق رکھنے والا ایک جنونی گروہ پروان چڑھ رہا ہے جس نے تہذیب ِمغرب کی بھونڈی نقالی کو ہی اپنا ایمان بنا رکھا ہے۔ اپنے آپ کو ’ماڈرن‘ سمجھنے اور دکھانے کا اُنہوں نے واحد اسلوب ہی یہ سمجھ رکھا ہے کہ اہل مغرب سال بھر میںجو جو تقریبات منائیں، ان کے قدم بہ قدم بلکہ سانس بہ سانس اس شاغلانہ ہنگامہ آرائی میں دیوانہ وار شامل ہوجائیں۔
عطاء اللہ صدیقی
2000
  • مارچ
۱۴؍فروری کو منایا جانے والا ویلنٹائن ڈے کا نام نہاد تہوار بھی جدید یورپ کی تہذیبی گمراہی اور ثقافتی بے اعتدالیوں کا شاخسانہ ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے بالآخر جنسی آوارگی، بے ہودگی اور خرافات کو مسلسل پراپیگنڈے کے زور پر ایک 'تہوار' بنا دیا ہے۔ مغربی میڈیا نوجوانوں میں اخلاقی نصب العین کے مقابلے میں ہمیشہ بے راہ روی کو فروغ دینے میں زیادہ دلچسپی کا اظہار کرتا ہے۔
عطاء اللہ صدیقی
2010
  • فروری
  • مارچ