اس مشہور روایت کو امام ابوالفرج ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے "حسن بن عطیہ عن ابی عاتکہ عن انس رضی اللہ عنہ" کے طریق سے یوں ذکر فرمایا ہے:

«انبانا محمد بن ناصر قال انبانا محمد بن على بن ميمون قال انبانا محمد بن على العلوى قال انبانا على بن محمد بن بيان قال حدثنا احمد بن خالد المرهبى قال حدثنا محمد بن على بن حبيب قال حدثنا العباس بن اسماعيل قال حدثنا الحسن بن عطية الكوفى عن ابى عاتكة عن انس قال قال رسول اللهﷺ : اطلبوا العلم ولو بالصين»
غازی عزیر
1988
  • جون
بعض لوگ یہ تو مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی ضروری ہے۔لیکن بقول ان کے حدیث قرآن کریم کی طرح قطعی نہیں بلکہ ظنی ہے۔جس میں محدثین کی امکانی کوشش بھی داخل ہے۔جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی بات کی نسبت کی تحقیق کرتے ہیں۔اور سلسلہ سند کے اشخاص نیز محدثین خطا سے پاک نہیں ہیں۔اور ہوسکتا ہے انہوں نے حدیث کا مفہوم سمجھنے میں غلطی کی ہو۔لہذا حدیث،قرآن مجید کی طرح قطعی نہیں ہوسکتی۔
رمضان سلفی
1992
  • اکتوبر
ماہنامہ 'محدث' کے فروری 2004ء کے شمارہ میں محترمہ خالدہ امجد کا مضمون 'عائشہ صدیقہؓ اُسوۂ حسنہ' کے صفحہ63، سطر 11 پر یہ عبارت ''پاک و طاہر بیٹی کا نصیب صاحب ِلولاک کا نور کدہ ہی ہوسکتا ہے۔'' میں لفظ لَوْلَاکَجو ایک موضوع روایت کاجملہ ہے، غلطی سے نظر انداز ہوگیا تھا۔ محدث کے قاری جناب نثار احمد کھوکھر اور چند دیگر حضرات نے اس غلطی پر نشاندہی کی اور حدیث کی مکمل تحقیق شائع کرنے کی استدعا کی۔
محمد اسلم صدیق
2006
  • جولائی
حدیث کی تحقیق

اب اس باب کی باقی ماندہ روایات کے تمام طریق اسناد اور ان کے جملہ رواۃ کا محدثین و ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک مرتبہ و مقام کا جائزہ بھی لیتا چلوں جو حضرات علی بن ابی طالب ، ابن مسعود، ابن عباس، ابوسعید الخدری، جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔
غازی عزیر
1988
  • جولائی
نور اور ظلمت کے اختلاط کو عربی لغت میں "الدلس" کہتے ہیں (نخبة الفكر ص71 وغيره) اور اس سے دلس کا لفظ نکلا ہے جس کا مطلب ہے:

كتم عيب السلعة عن المشتري

"اس نے اپنے مال کا عیب گاہک سے چھپایا" (المعجم الوسيط ج١ص2293،و عام کتب لغت)
زبیر علی زئی
1996
  • جنوری
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں سے اپنے دین حنیف کی خدمت کا کام لیا اور بعض کو اپنے دین کے لئے خاص کر لیا جن کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا قرآن وحدیث کو عام کرنا تھا ۔اُنھی چنیدہ افراد میں سے ایک ہمارے ممدوح امام طبرانی﷫ بھی ہیں۔ ان کے حالات اور ان کی کتب حدیث کا تعارف واُسلوب (منہج )پیش خدمت ہے ۔امام طبرانی﷫ کے حالات کے لیے تاریخ اصبہان ،جزء فیہ ذکر الامام الطبرانی ،سیر اعلام النبلاء، تذکرۃ الحفاظ اورالمعجم الصغیر وغیرہ سے استفادہ کیا گیا ہے۔
ابن بشیر حسینو ی
2015
  • جولائی
  • اگست
سابق ناظم اعلیٰ اوقاف مغربی پاکستان مسعود احمد سی۔ ایس۔ پی کے دور میں محکمہ اوقاف نے ایک کتابچہ چھپوا کر تقسیم کیا تھا جس کا نام تو ''اسلامی پاکٹ بک '' رکھا گیا تھا لیکن در پردہ اس میں سوشلزم کی تبلیغ مقصود تھی۔ اس میں بہت سی دیگر غلط بیانیوں کے ساتھ جس دیدہ دلیری اور بے باکی سے بعض موضوع احادیث نبی اکرم ﷺ سے منسوب کر کے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ حد درجہ افسوس ناک ہے۔
ریاض الحسن نوری
1972
  • مارچ
"اتقوا فراسة المؤمن، فإنه ينظر بنور الله,

"مومن کی فراست سے ڈرتے رہو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے د یکھتا ہے"

نمبر 4۔حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرفوع حدیث کاجائزہ:
غازی عزیر
1992
  • اکتوبر
زیر عنوان حدیث کو امام ابن ابی حاتمؒ اور ابن مردویہ ؒ نے قرآن کریم کی آیت ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ .... ﴿٤٥﴾...العنكبوت
(ترجمہ :بیشک نماز فحش باتوں اور منکرات سے روکتی ہے)
کی تفسیر میں بطریق (محمد بن هارون المخرزمي الفلاس حدثنا عبد الرحمن بن نافع ابو زياد حدثنا عمر بن ابى عثمان حدثنا الحسن عم عمر أن بن الحصين قال : سئل النبى صلى الله عليه وسلم عن قول الله تعالى:﴿ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾قال فذكره
(یعنی حضرت عمران بن الحصین رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ   روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  سے کسی شخص نے اللہ تعا لیٰ کے اس ارشاد کہ نماز بے شک تمام فحش باتوں اور منکرا ت سے روکتی ہے کہ متعلق سوال کیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر مایا :پھر یہ حدیث بیان کی )روایت کیا ہے مشہور مفسر قرآن امام ابن کثیر ؒ نے اپنی تفسیر (6)میں اور ابن عروہؒ نے کو کب الدراری (3)میں اس حدیث کو وارد کیا ہے لیکن اس حدیث کی سند میں کئی امور محل نظر ہیں پہلی چیز یہ کہ آئمہ کے نزدیک حضرت عمران بن الحصین ؒسے حضرت  حسن بصریؒ کا سماع مختلف فیہ ہے اگرچہ امام بزار ؒنے اپنی "مسند "(4) میں اور امام حاکم ؒ نے اپنی مستدرک علی الصحیحین "(5)میں حسن بصری ؒکے عمران بن الحصین ؒ سے سماع کی صراحت کی ہے لیکن علامہ مار دینی ؒ فر ما تے ہیں ۔
غازی عزیر
1994
  • نومبر
اس کے آگے محترم ڈاکٹر صاحب نے نفسِ مضمون سے ہٹ کر، کذب کی اقسام، کذب بصورتِ اکراہ، توریہ، قانونی مشیر، طبیب اور زہر و تریاق کی غیر متعلق [1]بحثوں کو چھیڑ کر خلطِ مبحث کرنا چاہا ہے، ہم غیر ضروری طوالت سے بچنے کے لیے اس حصہ پر کلام کرنے سے قصدا گریز کرتے ہیں۔ پھر ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:
"زیرِ بحث، حدیث کے مطعون راوی عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی نسلوں بلکہ کئی صدیوں بعد کے لوگ ہیں، اگر آئندہ خوش قسمتی سے اُن سے پہلے کے راویوں (صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین رحمۃ اللہ علیہم، تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ) کی کتابیں دستیاب ہو جائیں (اور الحمدللہ ہو رہی ہیں) اور ان میں یہ حدیث بھی مل جائے تو ظاہر ہے کہ متاخر زمانے کے کسی ضعیف یا جھوٹے راوی نے بھی اس حدیث کی روایت کی ہو تو اس سے اصل حدیث کی صحت متاثر نہ ہو سکے گی۔"
غازی عزیر
1989
  • اپریل
مجلس التحقیقی الاسلامی لاہور کا مؤقر علمی مجلہ ماہنامہ "محدث" مجریہ ماہ سوال/ ذوالقعدہ 1410ھ بمطابق مئی/جون 1990ء پیش نظر ہے۔ کتاب و حکمت کے تحت سلسلہ وار شائع ہونے والی نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ کی مشہور اردو تفسیر "ترجمان القرآن" کی جاری قسط میں "رعد" اور "صاعقہ" کی تفسیر و معانی بیان کرتے ہوئے ایک حدیث یوں نقل کی گئی ہے:
غازی عزیر
1996
  • جنوری
بعض روایات میں آیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور اس سے فارغ ہوتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے سر پر مسح فرماتے، اور یہ دعا معمولی لفظی اختلاف کے ساتھ وارد ہوئی ہے جیسا کہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ، اپنی کتاب الاذکار میں ابن السنی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اس طرح نقل فرماتے ہیں:
غازی عزیر
1996
  • مارچ
حدیث مصراۃ اور ا بوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :

ابو ہر یرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما تے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :

"لا تصروا الابل والغنم فمن ابتاعها بعد فانه بخير النظرين بعد ان يحلبها ان شاء امسك وان شاء ردها وصاح تمر"
محمد رفیق اثری
1989
  • اکتوبر
اثنائے تدریس میں کتب صحاح ستہ کے متعلق بعض فنی اور اصولی مباحث جمع ہوتے رہے جو ایک مسودہ کی صورت مین مستقل کتاب کی شکل اختیار کر چکے ہیں اب خیال آتا ہے کہ اگر ان مباحث کو مقالات کی شکل میں شائع کر دیا جا ئے تو یہ مواد محفوظ ہو سکتا ہےاور آئندہ بھی اس سے استفادہ ممکن ہو سکے گا ۔(راقم الحروف )

حدیث معلق کے معنی :۔
مولانا محمد عبدہ الفلاح
1996
  • اگست
محدث کے پچھلے کسی شمارہ میں راقم الحروف نے ''حدیث نور کی تحقیق'' کےسلسلے کے ایک استفتاء کے جواب میں کچھ گزارشات عرض کی تھیں، مندرجہ ذیل مضمون گویا کہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اگر قارئین اس سے اُسے ملاکر پڑھیں گے تو مزید شرح صدر ہوگی۔ ان شاء اللہ

نور والی حدیث مقطوع السند ابتک نقل ہوتی آرہی ہے، اس لیے ہم ایک مسلم کی حیثیت سے اس کا مطالعہ کرنے کے مکلت نہیں ہیں،
محمد شفیع
1978
  • فروری
شیعہ مبلغین اپنی مجالس وعظ میں بڑی شدومد کے ساتھ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں۔"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا اس امر کی دلیل ہے  کہ حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  تمام صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے افضل وبرتر ہیں۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے متعلق ایسا فرما کر انھیں اپنے نفس سے قراردیا ہے۔جب کہ یہ سعادت اور مقام ومرتبہ کسی دوسرے صحابی کا مقدر نہ  بن سکا۔"[1]
شیعہ علماء کے ان تمام دعاوی کا جائزہ ان شاء اللہ آگے پیش کیا جائے گا۔
غازی عزیر
1989
  • اگست
زیر نظر مضمون میں ہم مشہور حدیث "خلافة النبوة ثلاثون سنة..." الخ کی تحقیق و تخریج اور اس کا مفہوم پیش کر رہے ہیں تاکہ اس کا صحیح مفہوم طالبان علم دین پر واضح ہو سکے۔

امام داؤد سجستانی نے كتاب السنن (ج2ص290: كتاب السنة باب في الخلفاء) میں، امام ابو عیسی ترمذی نے كتاب السنن (ج2ص46:
زبیر علی زئی
1995
  • نومبر
ایک موقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بعد میں آنے والے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک عجیب اور منفرد انداز سے وحی ہوئی کہ ایک نوجوان، خوبرو، گبھرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِاقدس میں حاضر ہوتا ہے۔ آپ ؐسے چند سوالات کرتا ہے، آپؐ ان کے جواب ارشاد فرماتے ہیں تو وہ سائل ہوتے ہوئے ان کی تصدیق کرتاہے۔
عمرفاروق سعیدی
2009
  • اگست
جس شخص نے بھی رسول اللہ ﷺپر جھوٹ باندھا، خواہ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ہو یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد کسی زمانہ میں، اللہ تعالیٰ نے اس کو مخفی نہیں رہنے دیا، بلکہ اس کا حال لوگوں کے سامنے ضرور واضح کر دیا۔ آپ ﷺپر جھوٹ باندھنے کی بدترین صورت آپﷺ کی حدیثِ مبارکہ میں تحریف و تبدیلی کا ارتکاب کرنا ہے۔
عبدالرحمن ضیا
2012
  • جولائی
﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا...﴾

دنیا میں تمام انسان صلاحیتوں کے لحاظ سے ایک جیسے نہیں ہیں۔کسی میں کوئی صلاحیت ہوتی ہے تو کسی میں کوئی اور،کسی میں کم توکسی میں زیادہ ۔ اسی وجہ سے دنیاکا ہرکام ہرانسان بخوبی انجام نہیں دے سکتا اورنہ وہ تنہا اجتماعی اہداف کے حصول میں کامیاب ہوسکتاہے۔
محب اللہ قاسمی
2015
  • اپریل
ایک زبان جب مختلف علاقوں اور قبائل میں پھیلی ہوتو بسااوقات اس کے بعض الفاظ کے استعمالات اور لہجوں میں اتنا فرق واقع ہو جا تا ہے کہ ایک جگہ کے رہنے والوں کے لیے دوسری جگہ والوں کے لہجوں میں بات کرنا بڑا مشکل محسوس ہو تا ہے جیسا کہ دہلی کی اردو اور لکھنؤکی اردو کا حال ہے ۔جب قرآن مجید دور نبوت کے مشہور قبائل ۔۔۔قریش ہذیل ،تمیم،ربعیہ ،ہوازن اور سعد بن بکر میں پھیلا تو ان کی زبان عربی میں کئی فرق پا ئے جاتے تھے ۔
عبدالعزیز القاری
1993
  • اگست
اِس مہینے کی فضیلت کے متعلق کوئی حدیث نظر سے نہیں گزری، جو اعمالِ حسنہ عام طور پر کئے جاتے ہیں وہی اعمال صالح اس مہینے میں بھی پیش نظر رکھے جائیں۔ اس مہینے کی برائی بھی احادیث میں مذکور نہیں بلکہ ایامِ جاہلیت میں اس مہینے سے بد شگونی کی جاتی تھی، اور اس مہینے کی طرف طرح طرح کی آفات و مصائب منسوب کی جاتی تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے عقائد کو باطل قرار دیا۔
صدیق حسن خان
1971
  • اپریل
مغربی دنیا میں ’’ قیامت کا وقوع‘‘ آئندہ سال 2012ء کا ایک مرغوب موضوع ہے۔ انٹرنیٹ پر ہزاروں ویب سائٹیں اور سینکڑوں کتب اس پر لکھی جاچکی ہیں۔ حتی کہ دسمبر2012ء میں قیامت کی منظر کشی پر بننے والی ایک فلم نے 770 ملین ڈالر کا ریکارڈ بزنس کیا ہے۔ بہت سی ویب سائٹوں پر ’ کاؤنٹ ڈاؤن میٹر‘ لگے ہوئے ہیں جو قیامت کی آمد میں باقی لمحات کی گنتی پیش کر رہے ہیں۔
عبدالحنان کیلانی
2011
  • نومبر
زیر نظر مقالہ میں قرآن مجید،صحیح احادیث ،اجماع اور آثار صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین   کی روشنی میں حضرت  عیسیٰ علیہ السلام  بن مریم الناصری علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا ثبوت پیش کیا گیا ہے۔اور منکرین کےاعتراضات کے اطمینان بخش جوابات دیئے گئے ہیں۔تصنیف کے بعد جناب انور شاہ کشمیری کی تصنیف"التصریح بما تواتر فی نزول المسیح" کا علم ہوا۔کتاب حاصل کرکے پڑھی۔بہترین کوشش ہے۔کنزالعمال وغیرہ سے بلاتحقیق احادیث نقل کی گئی ہیں۔لہذا اس میں صحیح ،حسن،ضعیف اور موضوع روایات بھی موجود ہیں۔غفراللہ لنا وله،آمین!
زبیر علی زئی
1995
  • جولائی
سوال: درج ذيل احاديث كے بارے ميں مكمل تحقيق دركار ہے- جزاك اللہ خيرًا
حدثنا موسىٰ بن اسماعيل ثنا أبان ثنا يحيىٰ عن أبي جعفر عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة قال بينما رجل يصلى مسبلًا إزاره إذ قال له رسول الله ﷺ اذهب فتوضأ فذهب فتوضأ ثم جاء ثم قال اذهب فتوضأ فذهب فتوضا ثم جاء فقال له رجل: يا رسول الله! مالك أمرته أن يتوضأ قال إنه كان يصلى وهو مسبل إزاره وإن الله جل ذكره لايقبل صلوٰة رجل مسبل إزاره“
حافظ ثناء اللہ مدنی
2005
  • مئی