[آدابِ تلاوت میں چالیس احادیثِ مبارکہ]

اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو سید المرسلین اور خاتم النّبیین کے طورپر مبعوث فرمایا ۔ اور اُنہیں قرآن کریم کی شکل میں ایک دائمی معجزہ عنایت کیا۔قرآنِ مجید کی حفاظت کی ذمہ داری اللّٰہ تعالیٰ نے لی اور نبی مکرمﷺکے فرائض میں قرآنی آیات کو پڑھ کر سنانا، لوگوں کا تزکیۂ نفس کرنا، اور کتاب وحکمت کی تعلیم دینا شامل کئے،جو اس مشہور آیت میں بیان ہوئے ہیں:
حسن مدنی
2016
  • اپریل
(زیر نظر تحریر میں فاضل مضمون نگار نے بڑے دیانتدارانہ طریقے سے "سبعہ احرف" سے مراد کے تعین کی کوشش کی ہے۔اور بظاہر اس دقیق بحث کو اپنے آسان طرز بیان سے انھوں نے بڑی حد تک سہل کردیا ہے ۔اسلوب نگارش بڑا ہی منطقی اور اصولی ہے۔ اس تفصیلی مضمون کی ایک قسط اس سے قبل پچھلے شمارے میں بھی شائع ہوچکی ہے جو اپنے مقام پر ایک مستقل حیثیت کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اس بحث سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔
عبدالعزیز القاری
1994
  • جنوری
غامدی صاحب نے اُمت کے جن متفقہ، مُسلّمہ اور اجماعی اُمور کا انکار کیا ہے، اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ قرآنِ مجید کی (سبعہ و عشرہ) قراء اتِ متواترہ کو نہیں مانتے۔ اُن کے نزدیک قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت صحیح ہے جو اُن کے بقول ' قراء تِ عامہ' ہے اور جسے علما نے غلطی سے ' قراء تِ حفص' کا نام دے رکھا ہے۔
محمد رفیق چودھری
2007
  • اگست