پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے تینتیس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ۔۔۔ اس دوران کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں اور مختلف نظامہائے حکومت آزمائے گئے، لیکن نہ تو کسی حکومت کو استحکام نصیب ہو سکا اور نہ ہی یہاں کوئی طرزِ حکومت کامیاب ہو سکا، بلکہ نت نئے تجربوں نے خود ملک کی سلامتی ہی کو داؤ پر لگا دیا ۔۔۔ چنانچہ جو لوگ 14 اگست سئہ 1947ء کو نقشہ دُنیا پر ایک نئی اسلامی مملکت کے وجود سے آشنا ہوئے تھے،
اکرام اللہ ساجد
1981
  • دسمبر
مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے لیے کافی ہے یا نہیں، یہاں بھی او روہاں بھی؟ زندگی کے جتنے شئون اور احوال و ظروف ہیں، وہ دینی ہوں یادنیوی ، معاشرتی ہوں یامعاشی، سیاسی ہوں یا اخلاقی، روحانی ہوں یا مادی ، ان سب پہلوؤں اور صورتوں میں وہی ذات یکتا اور داتا ہمیں بس کرتی ہے۔ یا دنیائے ہست و بود میں کوئی ایسا گوشہ بھی ہے
ادارہ
1978
  • فروری
بے شک آنحضرت ﷺ سے پہلے انسان خدا کی ہستی اور اس کی وحدانیت سے آشنا تھا مگر اس بات سے پوری طرح واقف نہ تھا کہ اس فلسفیانہ حقیقت کا انسانی اخلاقیات سے کیا تعلق ہے۔ بلاشبہ انسان کو اخلاق کے عمدہ اصولوں سے آگاہی حاصل تھی مگر اسے واضح طور پر یہ معلوم نہیں تھا کہ زندگی کے مختلف گوشوں اور پہلوؤں میں ان اخلاقی اصولوں کی عملی ترجمانی کس طرح ہونی چاہئے۔
عبدالمنان راز
1972
  • اپریل
سوال نمبر1: جناب مسیح ﷤ کو قرآن مجید خالق کہتا ہے اور یہ لفظ صرف اور صرف اللّٰہ تعالیٰ پر ہی بولا جاتا ہے:
﴿ وَإِذ تَخلُقُ مِنَ الطّينِ كَهَيـَٔةِ الطَّيرِ بِإِذنى فَتَنفُخُ فيها فَتَكونُ طَيرًا... ﴿١١٠﴾... سورة المائدة
’’ (اللّٰہ تعالیٰ مخاطب ہے: جناب مسیح ﷤) اور جب تم میرے حکم سے گارے سے ایک شکل تخلیق کرتے تھے جیسے پرندے کی شکل ہوتی ہے پھر تم اس کے اندر پھونک مار دیتے تھے جس سے وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا۔ ‘‘
خاور رشید بٹ
2018
  • جون