موجودہ دور میں مال و دلت، ساز و سامان اور منفعتِ دنیوی کے حصول کے لیے دوڑ جس شدت سے جاری ہے۔ بعض دفعہ اس کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا کوئی بہت ہی قیمتی متاع لوگوں سے چھن گئی ہے، جس کے تعاقب میں یہ ہر ممکن تیزی کے ساتھ روانہ ہو کر اسے حاصل کر لینا چاہتے ہیں ۔۔۔ یا کوئی انتہائی خوفناک بلا خود ان کے تعاقب میں ہے، جس سے یہ جتنی جلد ممکن ہو سکے دور اور دور نکل جانا چاہتے ہیں ۔
اکرام اللہ ساجد
1982
  • مارچ
اصلی کمی : دنیا میں کمی مخلص کارکنوں اور اچھی تحریکوں کی نہیں ہے۔چپہ چپہ پرآپ کو ملیں گی اور ہر سر اس کا سودائی نظر آئے گا۔ ہاں کمی اگر ہے تو ''کار خیر'' شروع کرکے اس کو نباہ دینے کی ہے۔لوگ عموماً بڑی گرمجوشی ،ولولہ آتشیں اور بے قابو جذبہ نیک کے ساتھ طوفان بن کر ابھرتے ہیں مگر ہمارے دیکھتے دیکھتے ، وہ ابھر کر جھاگ کی طرح بیٹھ بھی جاتے ہیں۔
عزیز زبیدی
1979
  • نومبر
  • دسمبر
زیر نظر خطاب میں محدث العصر شیخ البانی ﷫نے اس اہم سوال کا جواب دیا ہے کہ وہ کیا طریقۂ دعوت ہے جو مسلمانوں کو عروج کی طرف گامزن کردے اور وہ کیا راستہ ہے کہ جسے اختیار کرنے پر اﷲ تعالیٰ اُنہیں زمین پر غلبہ عطا کرے گا اور دیگر اُمّتوں کے درمیان جو اُن کا شایانِ شان مقام ہے، اس پر فائز کرے گا؟...اس کے جواب میں اُنہوں نے دعوتی موضوعات کی ترتیب کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے
ناصر الدین البانی
2013
  • ستمبر
اسلام اللّٰہ کی 'اطاعتِ کاملہ' بجا لانے کا نام ہے۔ اللّٰہ کی یہ بندگی(عبادت وعبدیت ) دیگر مذاہب کی طرح محض پوجا پاٹ کا تصور نہیں بلکہ زندگی کے ہر مرحلے؛ شخصی وانفرادی یا اجتماعی وملّی ہر میدان میں اللّٰہ کے احکام و ہدایات پر چلنے کا نام ہے۔ انبیا کا مقصدِ بعثت یہی رہا ہے کہ لوگوں کو اللّٰہ کی طرف بلائیں اور جو اللّٰہ تعالےٰ نے نازل کیا ہے، اس کی لوگوں کو تلقین وتعلیم کریں۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے :
حسن مدنی
2014
  • اپریل
1۔ یقول محمد بن قیس سمعت عائشہ تقول الااحدثکم عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہوسلم وعنی قلنابلیٰ قالت لما کانت لیلتی انقلب فوضع نعلیہ عند رجیلم ووضع ردآءہ و بسطرا زار علی فراشہ ولم یلبث الاریثما ظن انی قد رقدت ثم انتعل رویدا واخذ رداء ہ رویدا ثم فتح الباب رویدا و خرج واجافہ رویدا وجعلت درعی فی راسی فاختموت و تقنعت ازادی و انطلقت فیاثرہ حتی جآء البقیع فوخع یدیہ ثلث مرات و اطلا القیام
عزیز زبیدی
1978
  • فروری
''تاریخ ان لوگوں کے بارے میں فیصلہ کرے گی جن کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے نتیجہ میں برصغیر میں بد امنی اور انتشار پھیلا۔ ہزاروں لوگوں کو طرح طرح کے مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں اپنے گھر بار، اپنی املاک، غرض کہ ہر چیز کو خیر باد کہنا پڑا۔ نہتے عوام کو جس منظم طریق سے قتل کیا جا رہا ہے
عبدالمنان راز
1972
  • مارچ
﴿لَقَد جاءَكُم رَ‌سولٌ مِن أَنفُسِكُم عَزيزٌ عَلَيهِ ما عَنِتُّم حَر‌يصٌ عَلَيكُم بِالمُؤمِنينَ رَ‌ءوفٌ رَ‌حيمٌ ﴿١٢٨﴾... سورة التوبة

''(لوگو!) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں، تمہارے تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے اور ان کوتمہاری بہبود کاہوکا ہے (اور) وہ مسلمانوں پرنہایت درجے شفیق (اور)مہربان ہے۔''
عزیز زبیدی
1978
  • مئی
شرک سب سے بڑا گناہ ہے، اور انبیا کی دعوت کا مرکزی اور اساسی نکتہ توحید رہا ہے، جیساکہ قرآن کریم کی متعدد آیات سے پتہ چلتا ہے۔ پاکستان بھر بالخصوص پنجاب کے بڑے شہروں میں شرک وبدعت کے اندھیرے مزید گہرے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ منبرومحراب پر بعض شخصیات نے چند سالوں سے شرک کے خاتمہ کی جدوجہد کی بجائے، نت نئے بہانوں سے اسے تحفظ دینے اور اس کے لئے عوامی جلسے منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔
عبداللہ طارق
2013
  • جون
عَنْ سَمُرَة بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا صَلّٰی صَلوٰة اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِهٖ فَقَالَ مَنْ رَأیَ مِنْکُمْ الَّلیْلَة رُؤْیَا قَالَ فَاِنْ رَّاٰی اَحَدٌ قَصَّھَا فَیَقُوْلُ مَا شَآءَ اللّٰه فَسَاَلَنَا یَوْمًا فَقَالَ ھَلْ رَّاٰی مِنْکُمْ اَحْدٌ رُؤْیَا قُلْنَا لَا۔

قَالَ النَّبِیُّ: رَاَیْتُ اللَّیْلَة رَجُلَیْنِ اَتِیَانِیْ فَاخَذَا بِیَدَیَّ فَاَکْرَجَانِیْ اِلَی اَرْضٍ مُّقَدَّسَة فَاِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ وَّرَجُلٌ قَآئِمٌ بِیَدِهٖ...... کُلُّوْبٌ مِّنْ حَدِیْدٍ یُّدْخِلُه فِیْ شِدْقِهٖ حَتّٰی یَبْلُغَ قَفَاه ثُمَّ یَفْعَلُ بِشِدْقِه الْاٰخَرِ مِثْلَ ذٰلِکَ وَیَلْتَئِمُ شِدْقُه ھٰذَا فَیَعُوْدُ فَیَصْنَعُ مِثْلَه فَقُلْتُ مَا ھٰذَا؟ قَالَا انْطَلِقْ.
عزیز زبیدی
1978
  • جون
بروایت ابو داؤدؒ اور دارمیؒ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔ «اکمل المومنین ایمانا احسنھم خُلقًا» یعنی کامل ترین مومن خلیق ترین شخص ہوتا ہے۔

صاحب جوامع الکلم رسول خدا ﷺ کے اس فرمان کی حقیقت تک رسائی کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ایمان و اخلاق کا اصلی مفہوم ذہن نشین کیا جائے پھر ایمان و اخلاق کا باہمی رشتہ سمجھا جائے۔
ادارہ
1974
  • مئی
  • جون
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

خدا کو یکتا کہنے اور لا الہ الا اللہ کے اصول پر اسے ماننے کانام ''توحید'' ہے۔
ادارہ
1975
  • نومبر
  • دسمبر
مسئلہ صفات باری تعالیٰ کا تفصیلی تذکرہ:

اس مسئلے میں اہل علم نے اپنی اپنی کتب میں سیر حاصل بحثیں فرمائی ہیں۔اور ایک دوسرے کے دلائل کو بھی جواباًپیش کیا ہے۔ذیل میں کچھ صفات باری تعالیٰ کے متعلق عرض کیا جاتا ہے۔تاکہ معلوم ہوسکے کہ وہ صفات ہیں کیا جن کے متعلق اتنی بحثیں ہوئیں۔ اور قرون اولیٰ میں کتب در کتب لکھی گئیں۔
سید محمد اکرم
1992
  • جنوری
چونکہ خالق کائنات کے منکر تو کافر بھی نہیں اور اسی سلسلہ میں قرآن کریم قریش مکہ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے اقرار کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اس لئے وجود باری تعالیٰ کو نقلی وعقلی دلائل سے ثابت کرنا کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے انبیاءؑ کی تعلیمات میں اس توحید علمی پر زیادہ زور نہیں دیا۔جس میں ذات باری تعالیٰ کاوجود زیر بحث ہو۔البتہ اللہ تعالیٰ کی صفات کیا ہیں؟اور ان میں کوئی اللہ کا ہمسر ہے یا مثیل؟قرآن مجید سے بطور خاص موضوع بناتاہے۔اور اس کے سارے پہلو وا کرتا ہے کیونکہ ان صفات کے عقیدہ سے ہمارا عمل براہ راست متعلق ہے۔ کہ ہم اللہ کو جیسا مانیں گے اسی طرح اس سے معاملہ کریں گے۔ اور اگر اس کے علاوہ کسی بھی ذات میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا رائی برابر بھی شائبہ ہو یا عکس تو پھر اس سے بھی اسی طرح کا معاملہ درپیش ہوسکتاہے جس طرح اللہ سے ہوتا ہے۔چنانچہ شرک کی تردید میں وحی اسی پہلو کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔زیر نظر مضمون میں بھی آپ کو اسی طرح کی حقیقتیں ملیں گے۔(مدیر)
سید محمد اکرم
1990
  • اکتوبر
انسانی زندگی ایک عظیم صحرا، بھیانک جنگل اور مہلیب اندھیرا ہے، کچھ پتہ نہیں۔ اس میں کب بھونچال آجائے، کہاں حوادث کا کوئی کانٹا چبھ جائے یا اندھیرے میں راہ چلتے کہاں فتنوں کا کوئی مہلک گڑھا یا غار پیش آجائے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ، ان حالات میں کیسے گزرے اور کیا بنے۔ گو اسی طرح انبساط اور خوشی کے امکانات بھی موجود ہوتے ہیں، تاہم جہاں داشیانوں کے ساتھ غموں کے کوس بھی بجتے ہوں وہاں خوشی بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے۔
ادارہ
1978
  • جون
ہمیں اللہ کی شریعت کافی ہے

مندرجہ بالا جملہ اس مشہور حدیث کا ایک ٹکڑا ہے جو حدیثِ قرطاس کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ حدیث بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ صحاح ستہ کی دوسری کتابوں میں بھی مذکور ہے۔
عبدالرحمن کیلانی
1984
  • مارچ
اللہ تعالیٰ اپنے انبیائے کرام کو نوعِ انسانی کی ہدایت و رہنمائی کے لئے مختلف زمانوں کے اندر اور مختلف قوموں کے درمیان مبعوث فرماتا ہے اور ان کی نبوّت کی حقانیت پر بہت سی باطنی اور ظاہری شہادتیں فراہم کر دیتا ہے تاکہ حقیقت شناس انسان ان کی باطنی شہادتوں کا مشاہدہ کر کے ان کو برحق تسلیم کر لیں اور سطح بین لوگ انکی ظاہری دلیلوں کو دیکھ کر اُن پر ایمان لے آئیں اور جو کج فہم ہوں ان پر حُجت تمام کر دی جائے۔
رفیق جذباتی
1973
  • مئی
  • جون
قرآن کریم کی روشنی میں

1۔ زید نے کھانا کھایا

2۔ زید نے آم کھایا
محمد دین قاسمی
1988
  • جون
ماہنامہ محدث کی جون 1988ء کی اشاعت میں پروفیسر محمد دین قاسمی صاحب کا ایک نہایت علمی اور وقیع مضمون بعنوان۔۔ "خدا و رسول یا مرکزِ ملت(قرآن کریم کی روشنی میں)" شائع ہوا تھا۔ جس میں انہوں نے اخلاق، تہذیب اور شائستگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے، قرآن کریم کی روشنی میں، پرویز صاحب کے اس نظریے پر، کہ قرآن کریم میں وارد الفاظ "اللہ اور رسول" سے مراد "مرکزِ ملت" ہے، بڑی جاندار تنقید کی تھی۔
محمد دین قاسمی
1988
  • اکتوبر
بدلوگوں کی خوشحالی: عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : لا تغبطن فاجرا بنعمۃ فاک لاتدری ما ھولاق بعد موتہ ان لہ عنداللہ قاتلا لا یموت یعنی النار (مشکوٰۃ بحوالہ شرح السنۃ)

''فرمایا: کسی فاسق فاجر کی خوشحالی پر رشک نہ کیجئے! کیونکہ آپ نہیں جانتے مرنے کے بعد اس کا کیا حشر ہونے والا ہے،یقین کیجئے: اس کےلیے اللہ کے پاس ایک غیر فانی عذاب ہے یعنی دوزخ۔''
عزیز زبیدی
1976
  • اکتوبر
(1) ویقولون امنا باللہ وبالرسول و اطعنا ثم یتولی فریق منھم من بعد ذلک وما اولئک بالمومنین واذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم اذا فریق منھم معرضون وان یکن لھم الحق یاتوا الیہ مذعنین۔ انی قلوبھم مرض امرارتابوا ام یخافون ان یحیف اللہ علیہم و رسولہ بل اولئک ھم الظلمون (پ18۔نور ع6)

''اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور (اس کے )رسول پر ایمان لے آئے او ر(ان کے) وفادار ہوگئے
عزیز زبیدی
1978
  • فروری
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ میں نزولِ اجلال فرمایا، تو انصارِ مدینہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے دیدہ و دل فرش راہ کر دیے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اپنے ایک انصاری جاں نثار کو نہ پایا جو بیعت عقبہ کبیرہ میں والہانہ جوش و خروش کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر چکے تھے اور بآوازِ بلند خدا کی قسم کھا کر یہ عہد کر چکے تھے کہ حضور مدینہ تشریف لائیں تو ہم اپنی جان اور آل اولاد کے ساتھ آپ کی حفاظت کریں گے۔
طالب ہاشمی
1981
  • دسمبر
اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ قرآن میں قتل مرتد کی سزا موجود نہیں ہے بلکہ احادیث سے ثابت ہے تب بھی احادیث کو کسی منطقی یا شرعی دلیل سے مخالفِ قرآن نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ جرائم کی بے شمار اقسام ایسی ہیں جن کا مرتکب مستوجب سزا قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ ان کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے۔ بلکہ حدیث شریف میں ہے لہٰذا ایسے حکم کو قرآن کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔
منظور احسن عباسی
1973
  • ستمبر
مؤلفِ کتاب نے محض اختلافی نکتوں پر اپنے دلائل کی بنا رکھی ہے۔ متفقہ فیصلہ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ لیکن احادیث کی تمام بحث میں کوئی ایک نظیر بھی ایسی نہیں ہے جس سے ظاہر ہو کہ کسی مرتد کو ارتداد کی حالت میں زندہ رہنے کا حق ہے۔ اختلافات کی صورتِ تطبیق یہ ہے کہ مرتد کو مہلت توبہ دی جائے تو بہتر ہے۔ نہ بھی دی جائے تو چنداں مضائقہ نہیں۔
منظور احسن عباسی
1973
  • اکتوبر
  • نومبر
قارئین جناب جسٹس ایس اے رحمان صاحب کی انگریزی تصنیف Punishment of Apostacy in Islam کے چیدہ چیدہ مقامات پر تبصرہ محدّث کے صفحات پر ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ حالیہ شمارہ میں آخری قسط پیشِ خدمت ہے، جس کے ساتھ یہ خوشخبری بھی ہے کہ اسی موضوع پر جناب پروفیسر منظور احسن عباسی کی مفصل کتاب ''جرام ارتداد'' بھی عنقریب منظر عام پر آرہی ہے۔ (ان شاء اللہ) (ادارہ)
منظور احسن عباسی
1973
  • دسمبر
سلف اصطلاح میں صحابہ و تابعین رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور تبع تابعین کو کہا جا تا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرماتے ہیں﴿ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ... ﴿٢٩﴾ ...الفتح اور فرمایا : ﴿ لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللہ... فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿٩﴾...الحشر
اللہ تعا لیٰ نے پہلے انصار مہاجرین کا ذکر کیا جو کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابہ  کرا م  رضوان اللہ عنھم اجمعین  ہیں بعد میں ﴿ وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ ﴾ سے تابعین وغیرہ ہم کا ذکر ہے ۔نیز فر ما یا  ﴿ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢﴾ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ... ﴿٣﴾...الجمعة
عبدالرحمن ضیا
1994
  • نومبر