القاعدہ کی قیادت کی تلاش کے بہانے امریکا خطے میں اپنے ہاتھ پائوں مسلسل پھیلا رہا ہے۔ سات سال میں افغانستان کو کھنڈر بنادینے کے بعد پاکستان کے شمالی علاقوں کی باری آئی اور اب بلوچستان کو بھی اسی بہانے ہدف بنانے کے اعلانات کیے جارہے ہیں۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ کی اعلیٰ قیادت بلوچستان میں روپوش ہے،
ثروت جمال اصمعی
2009
  • جون
(ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے کچھ عرصہ قبل "تنظیم اسلامی" کےنام سے ایک جماعت قائم کی ہے جس کی بنیاد ان سے گہری وابستگی اور مشہور اسلامی مسئلہ بیعت "پر رکھی ہے۔برصغیر کی تقسیم سے قبل بھی دہلی میں ایک عالم دین کی  طرف سے "امامت" کی بنیاد پر ایک جماعت غرباء قائم کی گئی تھی۔اور اس وقت اس مسئلے پر مختلف علماء کی طرف سے اظہار خیال بھی ہوا تھا۔چنانچہ زیر نظر مقالہ میں حافظ عبداللہ محدث روپڑی ؒ کے  ایک  فاضل شاگرد نے اسی مسئلہ کا جائزہ کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا تھا۔اور جو حالات کی مناسبت سے آج بھی ہدیہ قارئین ہے۔(ادارہ))
قادر بخش
1985
  • مئی
تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے قلم کے ذریعے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا اور صلوٰۃ و سلام ہوں اس عظیم ہستی پر جو ہمارے آقا اور نبی اکرم محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپؐ کی آل اور صحابہ کرام ؓ پر اور اُن لوگوں پر جنہوں نے آپؐ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور آپؐ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کی... اما بعد!
خالد حمید قریشی
2007
  • جولائی
الحمد ﷲ رب العٰلمین وأصلِّی وأسَلِّم علی أشرف الأنبیاء والمرسلین سیدنا ونبینا محمَّد بن عبد اﷲ وعلی آلہ وأصحابہ ومن دعا بدعوتہ واھتدٰی بھداہ ...
ہر قسم کی تعریف اللہ ربّ العالمین کو سزاوار ہے۔ اور درود و سلام ہو اَشرف الانبیا والمرسلین ہمارے آقا اور نبی محمدبن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر، ان کی آلؓ و اصحابؓ پر اوران تمام لوگوں پرجنہوں نے آپؐ کی دعوت کو قبول کیا اور آپؐ کے راستے کی پیروی کی۔
کامران طاہر
2007
  • جولائی
صعید ِمکہ معظمہ سے بلند ہونے والی یہ آواز ہر سال مسلم ممالک کے سیاسی مفادات اور سرکاری جکڑ بندیوں سے بالا تر ہوکر کلمہ اسلام کے نام پر ملت ِاسلامیہ کو مخاطب کرتی ہے۔ مسلمانوں کے عالمی اجتماع سے بلند ہونے والی یہ صدا اسلام کا ایک جامع نقشہ کھینچتے ہوئے مسلم اُمہ کو درپیش حالات پر ایک جامع تبصرہ پیش کرتی اور ان کی مشکلات کا ایسا حل سامنے لاتی ہے
کامران طاہر
2008
  • اپریل
عقلی علوم وفنون کی مختلف انواع میں سے ایک نوع عقائد انسانی سے بھی متعلق ہے۔اس "علم" کے تحت متعدد ادوار میں بسنے والی انسانی نسلوں کے خیالات سے بحث کی جاتی ہے۔انگریزی میں اس علم کے لیے جو لفظ مخصوص ہے وہ ایک ایسے لفظ سے مشتق ہے۔جو "بت پرستی" کامترادف ہے۔ اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ فرنگی علماء عرصہ دراز تک یہی نعرہ لگاتے رہے کہ عالم انسانی کا اولین مذہب"بت پرستی" رہا ہے۔لیکن آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ ماضی قریب کے معدودے چند مفکرین نے ،جو علم انسان،کے چوٹی کے ماہرین فن مانے جاتے ہیں۔برسوں کی تحقیق وتدقیق کے بعد اب یہ فتویٰ صادر کردیا ہے کہ درحقیقت کائنات انسانی کا اولین عقیدہ توحید تھا۔اور اب تک کی ساری ،تحقیقات،کو دلائل قطعی کے ذریعہ رد کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ پہلا انسان موحد تھا !آیئے ان فرنگیوں کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اس رب الارباب کی بارگاہ الوہیت میں سر بسجود ہوجائیں جس نے صدیوں پہلے ہی اپنے آخری رسول کے ذریعہ اس تاریخی حقیقت کا اعلان کردیا تھا۔کہ پہلا انسان آدمؑ موحد ہی نہیں بلکہ خدا کا پہلا پیغامبر تھا۔
احمد خالد عمر
1990
  • اکتوبر
موجودہ دور میں پاکستانی قوم اپنی تاریخ کے ایک نازک مقام پر کھڑی ہے۔ وہ بہت سے ایسے مسائل سے دوچار ہے، جن میں دو ٹوک فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سرفہرست پاکستان کا موجودہ اقتصادی بحران ہے۔
پاکستان کی معیشت مدتِ دراز (1960ء) سے قرضوں کے سہارے چل رہی ہے اور آج ان قرضوں کے بڑھتے ہوئے جال نے صورت حال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔ پاکستان کے قیام کے فورا بعد 1948ء میں تو پاکستان اس قابل تھا کہ وہ جرمنی کو غلہ برآمد کر سکتا۔ مگر حکمرانوں کی ناقص منصوبہ بندی کی بدولت جلد ہی وہ مرحلہ بھی پیش آیا کہ پاکستان میں گذائی بحران پیدا ہو گیا اور امریکہ سے گندم درآمد کرنا پڑی۔
ام عبدالرب
1998
  • جنوری
حرمین شریفین کی سرزمین اسلام کا مرکز ہے، نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے مولد ومسکن اور مہبطِ وحی ہونے کے ناطے تمام مسلمان اس سرزمین سے خاص عقیدت رکھتے ہیں۔ حرمینِ شریفین میں اہم ترین حیثیت مسجد ِحرام کو حاصل ہے جس میں کعبہ مشرفہ کے نام سے اللہ تعالیٰ کا مبارک گھر ایستادہ ہے۔
حسن مدنی
2007
  • جولائی
و طن عزیز میں مسلم معاشرہ آج جس تنزل ، انحطاط اور پستیوں کا شکار ہے، زبان قلم اس کو کسی ایک ، یا کئی نشستوں میں بیان کرنے سے قاصر ہے۔ ہاں مگر جس کی نت نئی اور خونچکاں داستانیں روزانہ اخبارات کے ہزاروں لاکھوں صفحات پر جا بجا بکھری پڑی ہیں اور جن کو پڑھ سن کر اس معاشرہ میں رہنے بسنے والوں کے طرز زندگی کے جملہ پہلوؤں کا رخ معین ہوجاتا ہے۔
اکرام اللہ ساجد
1987
  • جولائی
اکیسویں صدی کے آغاز میں امت مسلمہ مختلف النوع مسائل کاشکار ہے۔مسلمان دانشوروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف ان مسائل کا معروضی اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیں بلکہ نشاۃ ثانیہ کی جدو جہد میں امت مسلمہ کودرپیش چیلنجزکا سامناکرنےکے لیے مؤثر عقلی فکری اور عملی قیادت کا اہم فریضہ بھی انجام دیں۔ملت اسلامیہ کو اس وقت جن چیلنجزکاسامنا ہے ان میں سے نمایاں ترین کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
1۔دوسری جنگ عظیم کے بعد بیشترمسلمان ملکوں کو یورپ کی سیاسی استعماریت سے توآزادی ملی مگراس سیاسی غلامی سے نجات پانے کے باوجود ابھی تک مغرب کی فکری محکوی کا طوق اتارپھینکنےمیں کامیاب نہیں ہوئے ،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یورپی استعمارنے جانے جاتے ایک بات کو یقینی بنایا کہ آزاد کردہ مسلمان ملکوں میں اقتداراس طبقہ کے حوالے کر گئےجو مغربی تہذیب کے پروردہ اور ستارتھے انھوں نے ان ملکوں میں قرآن و سنت کے نفاذ کی بجائے نو آبادیاتی قوانین کو جاری رکھا ۔وہ جس نظام تعلیم کی خود پیداوار تھے اسی کو انھوں نے جو ں کا توں برقراررکھتے ہوئے مسلمانوں کی نئی نسل کی ذہن کوسازی مغربی سانچوں کے مطابق کی، ان مسلم ممالک کا برسر اقتدار طبقہ اگر چہ نسلی طور پر تو مسلمان ہی تھا مگر ان کی فکر سیکولر(لادینی )تھی۔
عطاء اللہ صدیقی
2000
  • نومبر
مالا کنڈڈویژن جس میں سوات دیر،بونیر چترال وغیرہ اضلاع شامل ہیں ان قبائلی علا قوں میں سے ہے جو سرحد کی صوبائی حکومت کے زیر انتظام ہے۔ لہٰذا اسے "پاٹا"کہا جا تا ہے جو"پراونشل ایڈمنسٹریڈ ٹرائبل ایریا "کا مخفف ہے ان کے علاوہ مرکزی حکومت کے زیرانتظام سات ایجنسیاں باجوڑ مہمند اور کزئی ، کرم شمالی وزیر ستان اور جنوبی وزیرستان میں نیز "فرنٹیئرریجن " کے نام سے وفاقی حکومت کے علاقے ہیں جو پشاور کوہاٹ بنو اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی کمشزوں کے ماتحت ہیں۔ یہ سب علاقے "فاٹا" کہلاتے ہیں جو "فیڈرل ایڈمنسٹرینڈٹرائبل ایریا" کا مخفف ہے۔
ادارہ
1999
  • فروری
تحریک اتحاد ملت کے سلسلہ میں جماعت اسلامی کی ایک علاقائی تنظیم نے "اتحاد بین المسلمین" کے موضوع پر  ایک جلسہ کاانتظام کیا تھا۔۔۔بریلوی فرقہ کی ایک مسجد میں عشاء کی نماز کے بعد عوام کی ایک بڑی تعداد جمع تھی اور سٹیج پر اہل حدیث۔دیوبندی۔بریلوی اور شیعہ فرقوں کے مقامی علماء شانہ بشانہ رونق افروزتھے ۔مہمان خصوصی ایک سجادہ نشین تھے۔جبکہ علاقے کے چیئر مین کرسی صدارت پرتشریف رکھتے تھے۔۔۔سٹیج سیکرٹری(جو ایک پر جوش نوجوان تھے) نے یہ تاکیدکرنے کےبعد کہ نعرہ صرف سٹیج سے لگایا جائےگا۔"نعرہ تکبیر۔۔۔اللہ اکبر!" اوراتحاد بین المسلمین۔۔۔۔زندہ باد!" کے نعرے بلندکئے اور تلاوت کے لئے قاری صاحب کو دعوت دی۔۔۔جلسہ کاآغاذ ہوچکا تھا ۔کلام پاک کے بعد مقررین نے یکے بعد دیگرے اپنے اپنے خیالات کااظہارفرمایا۔ان تمام حضرات کے درمیان قدر مشترک تو نعرہ اتحاد تھا لیکن اس کی عملی صورت کچھ یوں تھی کہ:
اکرام اللہ ساجد
1984
  • ستمبر
خلیج کی حالیہ تباہ کن جنگ سے پیشتر عالم اسلام میں سعودی عرب کے بعد کویت ہی ایسا وہ ملک تھا جس کی صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اس کے سنجیدہ وحساس دل اہل خیر بھی سالہا سال سے دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی اعانت،اسلامی جہاد اور دعوتی سرگرمیوں کی تائید وحمایت میں سر گرم عمل نظر آتے رہے ہیں۔انہوں نے کویت میں پٹرول کی وجہ سے  رونما ہونے والی خوشحالی کےبعد اپنی دولت کو تعیش کرنے کی نذر کرنے کی بجائے صحیح مصارف میں خرچ کرنے کی غرض سےمتعدد اسلامی،فلاحی اور رفاحی ادارے قائم رکھے تھے۔تاکہ اسلامی کاز کے مفید پروگراموں کو منظم طریقے سے چلایا جاسکے۔کویت پرعراق کے غاصبانہ قبضے کے بعد نامساعد حالات کے پیش نظر اگرچہ ان اداروں کی کارکردگی قدرے متاثر ہوئی،لیکن دینی جذبہ سے سرشاراہل دل ان پُر خطر حالات میں بھی اپنی ذمہ داریوں سے بطریق احسن عہدہ برآہونے کی ممکنہ کوششوں میں مصروف رہے اور اب جب کہ رحمت خداوندی سے کویت کی عراقی پنجہ استبداد سے آزادی مل چکی ہے۔اور عراق کو عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔تو ان اداروں نے بھی اپنا کام پھر سے نئے ولولوں اور تازہ دینی جذبوں کےساتھ  بھر پور انداز میں شروع کردیا ہے۔
عارف جاوید
1995
  • فروری
  • مارچ
شرک فی الصفات؟نبوت کسبی شی ہے یا وھبی؟
کفر کی قسمیں ؟وحی کا مفہوم ؟اسلام میں مرتد کی سزا؟
محترمہ روبینہ گل لکھتی ہیں ۔
"مجھے مندرجہ ذیل سوالات کے جواب درکار ہیں : 
1۔شرک فی الصفات کیا ہے۔؟
2۔کیا کوئی شخص اپنی کوشش سے نبی بن سکتا ہے۔یا یہ وہبی چیز ہے؟
3۔کفر کی کتنی قسمیں ہیں ؟
4۔وحی کا مفہوم کیا ہے اور کیا وحی کسی غیر نبی کی طرف بھی آسکتی ہے؟
5۔اسلام میں مرتد کی سزا کیا ہے؟
امید ہے آپ تمام سوالوں کے جوابات مفصل تحریر فرماکر شکریہ کا موقع دیں گے۔اگر اکابرین امت اور جدید محقیقن کی کتب کے بھی کچھ حوالے مل جا ئیں تو درج فرمادیں ۔نوازش ہوگی!
ثنااللہ مدنی
1985
  • اپریل
محرم الحرام 1420ھ کا چاند دیکھنے کے لیے رؤیت ہلال کمیٹی کے کوئٹہ میں اجلاس کے موقع پر
وزیر مذہبی امور بلوچستان اور حافظ عبد الرحمٰن مدنی
اور دیگر ممتاز علماء کی کوئٹہ میں پریس کا نفرنس

الحمد اللہ علی احسانہ آج سے نئی ہجری سال کا آغاز ہوا ہے ہم پوری ملت اسلامیہ کو بہ صمیم قلب نئے سال کی مبارک باد پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزانہ دعا کرتے ہیں کہ یہ سال پاکستان اور عالم اسلام کے لیے اتحاد اخوت استحکام و ترقی اور نشاۃ ثانیہ کا نقیب ثابت ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سراپا تشکر وامتنان ہیں کہ گزشتہ سال پاکستان عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی چھٹی ایٹمی قوت بنا ایٹمی دھماکے کے علاوہ غوری ون اور ٹو اور شاہین میزائل کے کامیاب تجربات نے ملک کو دفاعی لحاظ سے ناقابل تسخیر بنادیا ہے اس اعزاز کے لیے ہماری حکومت مسلح افواج اور ایٹمی و دفاعی سائنسدان اور ٹیکنالوجسٹ بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔
عبد الرحمن مدنی
1999
  • مئی
علوم اسلام کی مسلمہ بزرگ شخصیت
سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز ؒ مفتی اعظم سعودی عرب
کی مسلم حکمرانوں،دانشوروں اور عوام کے لئے نصیحت
((((عراق ،کویت تنازعہ کافیصلہ شریعت کی روشنی میں ہونا چاہیے)))
 عراق کے صدر صدام حسین کی طرف سے کویت پر جارحانہ قبضہ اور سعودی عرب کی سرحدوں پر افواج کے بھاری اجتماع سے حرمین شریفین کے تحفظ کا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔اس تنازعے کا جائزہ لینے والے سیاسی مبصرین عموماً فریقین کی مسلمانوں میں حیثیت اور اُن کے بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں بحث کررہے ہیں۔اسی طرح کویت کو ہڑپ کرنے کے بعد صدام حسین کی طرف سے سعودی عرب وغیرہ کے خلاف اقدام کی دھمکی سے جس طرح ایک سپر طاقت امریکہ کی فوجیں اچانک خلیج فارس کے ساحلی علاقوں میں داخل ہوئی ہیں۔اس کے واضح نقصانات محسوس کیے جارہے ہیں۔ان مجوزہ نتائج کی بظاہر ہولناکی کے اعتراف کے باوجود انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ عراق کی زیادتی اور امریکی فوجوں کی مداخلت کی درمیانی کڑی نظر انداز نہ کی جائے۔کیونکہ  تاریخ اسباب سے مربوط ہوتے ہیں۔
شیخ ابن باز
1990
  • اکتوبر
لفظ ِ 'عيد' عود سے مشتق ہے، جس كا معنى لوٹنا اور بار بار پلٹ كر آنا ہے- اس كا نام عيد اس لئے ہے كہ يہ ہر سال لوٹ كر آتى ہے اور كسى بهى چيز كے پلٹ كر آنے ميں كوئى نہ كوئى حكمت پنہاں ہوتى ہے اور عيد كے ہر سال لوٹ كر آنے ميں بهى دنيا بهر كے مسلمانوں كو يہ سبق ياد دلانا مقصود ہوتا ہے كہ وہ جاہلیت كے اَطوار و عادات اور اہل جاہلیت كى تہذيب و ثقافت كو چهوڑ كر اپنے اصل اسلام كى طرف لوٹ آئيں، كيونكہ اسى سے ان كى كهوئى ہوئى عزت بحال ہوسكتى ہے۔
محمد رمضان سلفی
2004
  • فروری
ڈسٹرک اینڈ سیشن جج ساہیوال کی عدالت سےتوہین رسالت ﷺکےمرتکب ایوب مسیح کوسزائے موت اقلیت کےایک مخصوص طبقے فیصل آباد ڈاکٹر جان جوزف کی پراسرار خودکشی (یاقتل !!؟ ) نے مسیحی اقلیت کےایک مخصوص طبقے کی قانون توہین رسالت ﷺ کےخلاف چلائی جانے والی غیردانش مندانہ اورجارحانہ مہم کونقظہ عروج )کلائکس ) تک پہنچادیا ہے۔ آنجہانی بشب جان جوزف نےمذکورہ عدالتی فیصلے کےخلاف شدید جذباتی رد عمل کااظہار کرتے ہوئے خود کشی کاارتکاب کیایا تازہ ترین رپورٹوں کےمطابق انہیں سوچی سمجھی سازش کےتحت قتل کرکے سیشن کورٹ کےسامنے پھینکنے کا ڈرامہ رچایا گیا ، حقیقت کچھ بھی ہو، دونوں صورتوں میں ان کی موت کی ذمہ دارنہ حکومت ہےاور نہ ہی مسلمان اکثریت کوموردالزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کےبعد نام نہاد انسانی حقوق کےبدقسمت منادوں اور بعض مسیحی تنظیموں کی طرف سےقانون توہین رسالت کوواپس لینے ، احتجاجی جلوس کےدوران مسلمانوں کی املاک کونقصان پہنچانے اور اشتعال انگیز بیانان کےذریعے پرامن اکثریت کے جذبات کومجروح کرنے کا عمل مذکورہ واقعے سےکہیں زیادہ افسوس ناک ہےکیونکہ اس خطرناک صورتحال پراگربروقت قابونہ پالیا جاتا تویہ مسلمانوں اور عیسائی اقلیت کےدرمیان خطرناک تصادم پر منتج ہوسکتی تھی ۔معلوم ہوتاہے کہ بعض شرپسند عناصر اس طرح کےواقعے کواپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کےلیے استعمال کرنے کی پہلے ہی منصوبہ بندی کرچکے تھے۔نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں نےجلتی پرتیل کاکام کرکے جذباتیت کاشکار مسیحی نمائندوں کومسلم اکثریت سےلڑانے کاافسوس ناک کردار ادا کیا ہے۔
ادارہ
1998
  • جولائی
اُمت ِمسلمہ اس وقت اندوہناك صورتحال سے دوچار ہے- اسے داخلى طور پر كئى كمزوريوں اور كوتاہيوں كا سامنا ہے تو بيرونى طور پر وہ كئى سازشوں اور عسكرى جارحيتوں كا شكار ہے- ايسى پريشان كن صورتحال ميں مسلم اُمہ كے عظيم الشان اجتماع 'حج بيت اللہ' اور روحانى مركز 'مكہ معظمہ' سے ان مسائل كى كيا تشخيص كى جاتى اور ان كے حل كے لئے كيا لائحہ عمل پيش كيا جاتا ہے؟
عبدالعزیز بن باز
2007
  • فروری
'علماے مسلمین كا عالمى اتحاد' پچهلے سال 11/ جولائى ميں قائم كيا گيا تها- تاسيسى اجلاس لندن ميں منعقد ہوا تها، جس ميں برطانيہ اور عالم اسلام سے تين سو كے قريب مندوبين شريك ہوئے تهے- مقصد يہى تها كہ اُمت ِ مسلمہ كو پيش آمدہ مسائل ميں علما رہنمائى دے سكيں اور كسى بهى داخلى يا خارجى دباوٴ كے بغير كلمہ حق كہتے رہنے كا فریضہ سرانجام ديتے رہيں-
صہیب حسن
2005
  • اگست
(ہنود ویہود کی فکر ی یورش کے اس زمانے میں شدید ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان آپس میں اتھاد واتفاق سے چلیں۔ باہمی فرقہ واریت کو ہوادینے کی بجائے آپس میں اتحاد ویکجہتی کو فروغ دیں ۔ اس دور میں جب کہ پڑھے لکھے لوگوں میں اس قسم کی فرقہ وارانہ چشمک کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جا تا علماء کو چاہئے کہ ایک دوسرے کو طعن و تشنیع کرنے کی بجائے اپنی مشترکہ قوت سے غیروں کی طرف توجہ دیں۔
لیکن اس وقت بڑا افسوس ہوتا ہے جب ہمارے حنفی حضرات سادہ لوح عوام کو بارباراسی فرقہ واریت کی دعوت دیتے ہیں۔اسی پر ہی بس نہیں کرتے بلکہ ایسے نو کیلے اور تیکھے انداز سے دوسروں پر جملے کہتے اور انہیں دعوت مبارزت دیتے ہیں کہ اس طرز تحریر سے ایک شریف النفس آدمی بھی ان کی وضاحت کرنے پر مجبور ہو جا تا ہے اس پر طرہ یہ کہ جھوٹ کی سان پر جھوٹے دعوؤں کے تیر چلائے جاتے ہیں اور بودے دلائل کے ذریعے کتاب و سنت کی واضح تعلیمات کو داغدارکرنے کی تگ ودواور اپنے فقہی مسلک کو برتر ثابت کرنے کی کوششیں بروئے کارلائی جاتی ہیں۔
محدث جیسا کہ قارئین کے علم میں ہے اپنے ذوق اور رجحان کے لحاظ سے ان قسم کی بحثوں میں دلچسپی نہیں رکھتا ۔
محمد رمضان سلفی
2000
  • اکتوبر
جماعتِ اسلامی کی تحریکِ اتحادِ ملت پر مولانا عبدالستار خاں صاحب نیازی کو طویل غصہ آیا ہے۔۔۔ آپ "نوائے وقت" کے ذریعے 16 اگست کو جماعت پر یوں برسنا شروع ہوئے کہ پورا عالمِ اسلام اس کی لپیٹ میں آ گیا۔۔۔ بمشکل30 اگست کو جا کر ان کا غصہ فرو ہوا۔۔۔ "اتحاد بین المسلمین" ایک متفق علیہ اور فوری توجہ کا مستحق موضوع" کے عنوان سے نوائے وقت میں چھپنے والا آپ کا یہ مضمون پانچ اقساط پر مشتمل ہے۔
اکرام اللہ ساجد
1984
  • اکتوبر
اگر عوام الناس سے پوچھاجائے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل کس طریقے سے ممکن ہے ؟ تو سب کا ایک ہی جواب ہوگا: ''صحیح تعلیم کے ذریعے''... یقیناتعلیم بنی نوع انسان کی ترقی، صلاح وفلاح اور کامیابی کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے مگر یہ تعلیم صحیح ہونی چاہئے۔ اورتعلیم کا صحیح رُخ ہمیں صرف اور صرف وحیِ الٰہی کے ذریعے سے حاصل ہوسکتا ہے۔
ثریا بتول علوی
2008
  • جون
تمام تعریفیں اس اللہ ربّ العالمین کے لئے جس نے اپنے بندے پر قرآنِ مجید نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے بنی نوع انسان میں اللہ کا تقویٰ پیدا کرے۔ درود وسلام ہو اس ذاتِ اقدسؐ پر جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت، خوشخبر ی اور اس کے حکم سے اسکی طرف بلانے والااور روشن چراغ بنا کر بھیجا،نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے فرمانبردار ساتھیوں پر کروڑوں رحمتیں اور سلام ہو۔اما بعد
حسن مدنی
2007
  • جولائی