اسلام کے واضح اور پاکیزہ احکام مصائب و آلام سے دوچار انسانیت کے لئے راحت وسکون اور فرحت و انبساط کا باعث ہیں۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں اور کامیابیاں ان میں پوشیدہ ہیں۔ اسلام کی یہ عظمت و رِفعت ابلیس اور اس کے پیروکاروں کے دل و دماغ میں نوکدار کانٹوں کی مانند چبھن پیدا کرتی ہے۔ چنانچہ اس اذیت سے نجات حاصل کرنے اور اپنے اصل مقصدکی بجاآوری کے لئے شیطان کا گروہ ہروقت اس جدوجہد میں مگن ہے
محمد آصف احسان
2004
  • نومبر
قرآنِ كريم كى تعليمات اور رسولِ كريمﷺ كى ہدايات سے كسى ادنىٰ شبہ كے بغير يہ بات ثابت ہوتى ہے كہ درحقيقت انسانى زندگى دو مختلف شعبوں پر منقسم ہے، ايك گهر كے اندر كا شعبہ ہے اور ايك گهر كے باہر كا- يہ دونوں شعبے ايسے ہيں كہ ان دونوں كو ساتھ لئے بغير ايك متوازن اور معتدل زندگى نہيں گزارى جاسكتى- گهر كا انتظام بهى ضرورى ہے اورگهر كے باہر كا انتظام،يعنى كسب ِمعاش اور روزى كمانے كا انتظام بهى ضرورى۔
تقی الدین ہلالی
2004
  • نومبر
ابلیس کے جس کی اصل جن ہے،کےلغوی معنی پر ر وشنی ڈالتے ہوئے ابو یعلیٰ ؒ فرماتے ہیں:
"جن یعنی مستور اصلاً،استتار،سے مشتق ہے۔جن سے جنین یعنی وہ بچہ جو ماں کے رحم میں ہو اور نظر نہ آئے،اور مجنون الفاظ نکلے ہیں کیونکہ پاگل کا خبال عقل مستور ہوتا ہے۔ 
اس طرح "بہشت" کو "جنت" بھی اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ مستور ہے اور ہماری نظریں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔
عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ"ابلیس" پہلے فرشتوں میں انتہائی عابد،پرہیز گار،عالم،اور مجتہد بلکہ دربارالٰہی کا مقرب ترین فرشتہ تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرنئ کرنے کی وجہ مسے مردود ٹھہرا۔بعض لوگ اسے معلم الملکوت طاؤس الملائکۃ،خازن الجنت،اشرف الملائکہ ،رئیس الملائکہ اور نہ جانے کیا کیا بتاتے ہیں لیکن فی الواقع ملائکہ میں اس کی فضیلت تودرکنار بنیادی طور پر اس کا فرشتہ ہونا بھی انتہائی مشکوک بات ہے۔
غازی عزیر
1990
  • اکتوبر
((زیر نظر موضوع جو اصلاً تو"اسلامی علم و تحقیق میں کمپیوٹر کے استعمال"کےموضوع پر روشنی ڈالنے کے لیے شروع کیا گیا،اس مرحلے تک پہنچتے پہنچتے قدرے وسیع دائرہ کار میں مختلف دیگر اعتبار سے بھی کمپیوٹر کے استعمالات کو حاوی ہوگیا ہے۔چونکہ محدث کا مخصوص قاری کمپیوٹر کے بارے میں خاطرخواہ معلومات نہیں رکھتا چنانچہ کسی حوالےسے بات شروع کرنے سے قبل اس موضوع کے مجموعی خاکے کی وضاحت بھی ضروری ہوجاتی ہے۔یہی صورتحال آپ درج ذیل مضمون میں بھی محسوس کریں گے کہ بعض اوقات اپنے موضوع کے تقاضے پورے کرتے ہوئےبات قدرے وسعت اختیار کرجاتی ہے۔لیکن اس کے باوجود مضمون کی افادیت متاثر نہیں ہوئی۔اور پڑھنے لکھنے والے حلقوں کو کمپیوٹر سے آشنا کروانے اور اس کے حیرت انگیز استعمالات سے روشناس کروانے میں یہ ایک اچھی کاوش ہے۔۔۔اس سلسلہ کی ابتداء میں ہی اس تکنیکی پہلو کی ضرورت کو پیش کردیا گیا تھا۔
حسن مدنی
1999
  • مئی
مشورہ کے لغوی معنی:
عربی زبان میں مشورہ "اور شوریٰ" کا استعمال رائےدینے کے لئے کیا جاتا ہے۔مشاورت (باہم رائ زنی کرنا) اوراستشارۃ(رائے طلب کرنا) ایسے الفاظ ہیں جو خاص طور پر انھیں موقع پر بولے جاتے ہیں۔ایک اور لفظ جس کا استعمال مخصوص اس بارے میں نہیں ہے بلکہ صلہ کے بدلنے سے اس کے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔اور وہ لفظ اشارہ کے صلہ میں"الیٰ"آتا ہے۔تو اس کے معنی محض کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے ہوتے ہیں۔اوراگر علی آتا ہے تو اس کے معنی مشورہ دینے کے ہوجاتے ہیں۔یہ پانچوں الفاظ اگرچہ باعتبار صیغوں اور باب کے مختلف ہیں مگر ماخذ اور موضع اشتقاق ان کا ایک ہے ان سب کی اصل شور ہے۔
لطیف الدین
1990
  • اکتوبر
اسے ذہنی مرعوبیت کہیے ، احساس کمتری سمجھیئے یافیشن کانام دے لیجے ------
بہرحال ہمارے ہاں یہ روِش ایک عرصے سےچل نکلی ہےکہ کوئی مسئلہ ہو،اصطلاح ہو، یاکوئی حوالہ اورجملہ ، جو مغرب سےہمارے ہاں پہنچے،ہم اسےفوراً حرزِ جاں اوروِردِزبان بنالیتے ہیں ۔ اور یوں محسوس کرتے ہیں کہ گویا یہ ایک الہام ہے، جسےنقل کرنا، جس کی پیروی کرنا اورجسے عام کرنا ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔۔۔۔
اس کےباوجود ہم سینہ پھلا کر کہتےہیں کہ ہم آزادہیں ! 47ء کےبعد صرف ہمارے حکمران بدلے ہیں ،اذہان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ،----
خورشید احمد
1998
  • اکتوبر
حد کی جمع حدود ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں چودہ مقامات پر آیا ہے:
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ﴾...(البقرة)
"یہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، ان کے پاس نہ جانا"
﴿إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ﴾... (البقرة: 229)
"ہاں اگر میاں بیوی کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے"
﴿فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ ...(البقرة: 229)
"اگر تم ڈرتے ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے"
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا﴾... (البقرة: 229)
"یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں (احکامات) ان سے باہر نہ نکلنا"
چودھری عبدالحفیظ
1998
  • جنوری
نبی ﷺ کے خطہ حجۃ الوداع اور خلفائے راشدین کے عہد کے آئینے میں

اسلام نے معاشرتی تنظیم کے لئے جو اصول وضع ہیں اصولِ مساوات ان میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اِسی بنیاد پر معاشرے کا باقی ڈھانچہ تعمیر کیا گیا ہے اور معاشرتی قانون بنائ گئے ہیں۔
محمد حنیف
1971
  • جنوری
  • فروری
غیر مسلم اقوام کی مادی، صنعتی اور طبیعیاتی ترقیات اور ان کی محیرّ العقول ایجادات و اختراعات کو دیکھ کر بعض مسلم اقوام سخت حیران ہیں بلکہ ایک تحت الشعوری احساس کمتری میں مبتلا ہو کر اسلاف کے واقعی یا فرضی کارناموں کے بوسیدہ دامن میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ روش بجائے خود اسلام کے منافی ہے۔
منظور احسن عباسی
1973
  • فروری
فکر و نظر کا بگاڑ:

انسانی زندگی چونکہ بنیادی طور پر نظریات پر استوار ہے، اس لئے نظریات و افکار میں بگاڑ انسان کی پوری سیرت و کردار کو متاثر کرتا ہے۔ جب ہم کسی معاشرے کا تجزیہ اس پہلو سے کرتے ہیں تو اس میں افراد کی نظریاتی و فکری کیفیتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
خالد علوی
1971
  • اکتوبر
معاشرہ:

معاشرہ عاشر یعاشر کا مصدر ہے۔ اس کے معنی مل جل کر رہنے کے ہیں۔ اصلاح کا مادہ ص۔ ل۔ ح۔ ہے عربی میں صلح صلاحاً کے معنی فساد زائل کرنا ہے۔ اصل شیئاً کے معنی اس نے کسی چیز کو درست کیا چونکہ معاشرہ کے معنی مل جل کر رہنے کے ہیں اس لئے معاشرہ سے مراد افراد کا وہ مجموعہ ہے جو باہم مل جل کر رہے۔
خالد علوی
1971
  • جنوری
  • فروری
اسلام میں مسجد کو عبادت، تعلیم و تربیت، ثقافت اور تہذیب و تمدن کے اعتبار سے مرکزی مقام حاصل رہا ہے بلکہ مسلمانوں کی تمام سرگرمیوں کا مرکز و منبع مسجد ہی تھی۔ اسلام کی تعلیم کا آغاز مسجد سے ہوا۔ پیغمبر اسلام جناب محمدﷺ نے ہجرت فرمائی تو مدینہ سے باہر مسجد کی بنیاد رکھی جو سب سے پہلی مسجد ہے اور پھر مدینہ منورہ میں دوسری 'مسجدنبوی' بنائی۔ اس میں دینی اور دنیاوی تعلیمات کی شروعات کیں۔
محبوب عالم فاروقی
2013
  • مارچ
تعلیم ایک ذریعہ ہے،اس کا مقصد اچھی سیرت سازی اور تربیت ہے۔علم ایک روشن چراغ ہے جو انسان کو عمل کی منزل تک پہنچاتا ہے۔اس لحاظ سے تعلیم وتربیت شیوۂ پیغمبری ہے۔ اُستاد اورشاگرد تعلیمی نظام کے دو نہایت اہم عنصر ہیں۔ معلّم کی ذمہ داری صرف سکھانا ہی نہیں، سکھانے کے ساتھ ساتھ تربیت دینا بھی ہے۔
عبدالولی خان
2011
  • مئی
زیرِ نظر مقالہ ''الحرکۃ السلفیۃ ودفع الشبہات عنہا'' پاک و ہند کی جماعتِ اہل حدیث کے عقیدہ، عمل اور علمی خدمات کا ایک مختصر تعارف ہے جو ''مجلس التحقیق الاسلامی'' لاہور کے فاصل رکن مولانا عبد السلام کیلانی مدنی نے جامعۃ اسلامیہ مدینہ منورۃ میں پڑھا تھا، جس سے جامعہ کے طلبہ بہت محظوظ ہوئے اور اساتذہ نے تحسین و تبریک کے کلمات کہے۔
عبدالسلام کیلانی
1971
  • جنوری
  • فروری
﴿انا بلونھم کما بلونا اصحٰب الجنۃ اذ اقسموا لیصر منھا مصبحین ولا یستثنون ۔ فطاف علیھا طآئف من ربک وھم نائمون ۔ فاصبحت کالصریم۔ فتنا دوا مصبحین ان اغدوا علی حرثکم ان کنتم صارمین۔ فانطلقوا وھم یتخافتون۔ ان لایدخلنا الیوم علیکم مسکین۔ وغداوا علی حرد قدرین فامان راوھا قالوا انا لضالون۔ بل نحن محرومون۔ قال اوسطھم الم اقل لکم لولا تسبحون۔ قالوا سبحٰن ربنا انا کنا ظلمین۔ فاقبل بعضھم علی بعض یتلا ومون۔ قالوا یویلنا انا کنا طغین۔ عسیٰ ربنا ان یبدلنا خیرا منھا انا الی ربنا راغبون۔کذلک العذاب والعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون﴾ (پ29۔ القلم ع1)
عزیز زبیدی
1976
  • اکتوبر
(دنیامیں سب سے قیمتی اثاثہ انسان کی عمر ہے۔اگر انسان نے اس کو آخرت کی بھلائی کےلیے استعمال کیا ،تویہ تجارت اس کے لیے نہایت ہی مفید ہے۔اور اگر اسے فسق وفجور میں ضائع کردیا اور اسی حال میں دنیا سے چلا گیا تو یہ بہت بڑا نقصان ہے وہ شخص دانش مند ہے جو اللہ تعالیٰ کے  حساب لینے سے پہلے پہلے اپنے آپ کا محاسبہ کرلے اور اپنے گناہوں سے ڈر جائے قبل اس کہ کے وہ گناہ ہی اسے ہلاک اور  تباہ وبرباد کردیں۔
زیر نظر مضمون میں بڑے خاتمہ کے اسباب کاتذکرہ  پیش خدمت ہے۔یہ موضوع مسلمانوں کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ اعمال کادارومدارخاتمہ پر ہے اور انسان جس حالت میں زندگی بسر کرتا ہے اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوتی ہے۔ اور جس حالت میں انسان کی موت واقع ہوگی اسی حالت میں وہ قیامت کے دن قبر سے اٹھایا جائے گا۔حضرت  رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:
"مَنْ مَاتَ عَلَى شَيْءٍ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ" (رواہ الحاکم)
عبدالمالک سلفی
2000
  • جولائی
قرآن مجید میں ارشاد بار تعالیٰ ہے:"ہم نے انسان کو بہترین خلقت (فطرت) پر پیدا کیا ہے۔"(سورۃتین)۔۔۔قرآنی تصور کے مطابق انسانی فطرت کا خمیر نیکی سے اٹھاہے۔انسانی اعمال میں کجی اور برائی کا ظہور دراصل سماجی عوامل اور معاشرتی تربیت کا نتیجہ ہے جناب رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہےَ"ہر بچہ اپنی فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے نصرانی یا یہودی بنادیتے ہیں "بچے اپنی معصومیت کے اعتبار سے انسانی فطرت کی اصلیت کی صحیح عکاسی کرتے ہیں بچے بے حد معصوم پیارے اور اپنے والدین کی آنکھوں کا نور ہوتے ہیں ان کے اندر مچلتی تمناؤں اور امنگوں کا ایک خزینہ پوشیدہ ہوتا ہے ان کی سادگی اور معصومیت کائنات کے حسن کا پرتو ہے۔انسانی بچے اپنی نشو ونما کے مراحل میں والدین اور عزیز و اقارب کی بے پایا ں شفقت ،محبت اور توجہ کے جس قدر متقاضی ہوتے ہیں کسی اور مخلوق کے بچوں کو شاید اتنی نگہداشت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔بچوں کے اندر اس جسمانی کمزوری کی حکمت شاید یہ ہے کہاوائل عمر ہی میں بچے اور والدین کے مابین تعلق کے گہرے رشتوں کی بنیاد رکھ دی جائے۔ یہ ایک فطری امرہے کہ انسان جس چیز متواتر اپنی الفتیں نچھاور کرتا ہے اور اس کا خیال رکھتا ہے اس کے دل میں اس کے متعلق شدید محبت اور انس کے جذبات موجزن ہوجاتے ہیں ۔پیدائش سے لے کر رضاعت اور پھر بچپن میں انحصاریت کا طویل دورانیہ بچوں کے بارے میں والدین کے دلوں محبت اور وارفتگی کے سچے جذبات کو پیدا کرنے کاباعث بنتا ہے۔
ادارہ
2000
  • اگست
پاکستان کا قیام دو قومی نظریہ کی بنیاد پر عمل میں آیا۔ اس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ مسلمان اپنے دینی عقائد، تصورِ عبادت، قانون و شریعت، تہذیب و ثقافت اور تاریخی روایات کی بنا پر ہندوؤں سے الگ قوم ہیں۔ اسلام نے رنگ ونسل، زبان وعلاقہ کی وحدت کی بجائے نظریہ کی وحدت کو مسلم قومیت(ملت٭) کی بنیاد ٹھہرایا۔ اسلام نے تمام بنی نوع انسان کو ملت ِاسلامیہ اور ملت ِکفریہ میں تقسیم کیا ہے۔
عطاء اللہ صدیقی
2002
  • مارچ
"تیری بربادیوں کے مشورے ہیں UNO کے ایوانوں میں"

گذشتہ ماہ (5تا9جون) نیویارک میں اقوام متحدہ کے نمائندوں  کے ذریعےیہودیوں کا ایک  خوفناک شیطانی منصوبہ پیش کیا گیا جس میں دنیا کے مختلف ممالک کے ہم خیال شیطانی دماغ مل کر بیٹھے اور"خواتین 2000ءواکیسویں صدی  میں صنفی مساوات امن اور ترقی "کے نام پر چند فیصلے کئے گئے جن کو یواین او کے پلیٹ فارم کے ذریعے ممبر ممالک میں نافذ کیا جاتا تھا ۔یہ خواتین کے سلسلے میں پانچویں عالمی کانفرنس تھی اس سے قبل حقوق نسواں کے نام پر خواتین کی چارعالمی کانفرنس منعقد ہوچکی ہیں۔
پہلی بین الاقوامی کانفرنس:                            1975 ءمیں میکسکیو میں 
دوسری بین الاقوامی کانفرنس:                       1980  ء میں کو پن ہیگن میں  
تیسری بین الاقوامی کانفرنس:                        1985ءمیں نیروبی میں 
چوتھی بین الاقوامی کانفرنس:                         1995ءمیں بیجنگ میں
بیجنگ کا نفرنس میں خواتین کی ترقی اور صنفی مساوات کے نام پر ایک بارہ نکاتی ایجنڈا طے کیا گیا تھا وہ نکات درج ذیل ہیں ۔
ثریا بتول علوی
2000
  • جولائی
تبلیغ دین میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اسوہ کی اہمیت :۔
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  انسا نو ں کے لیے زند گی گزارنے کا بہترین نمونہ ہیں ۔زندگی کے ہر وہ شے میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی عملی مثا ل اور نمونہ موجود ہے۔ اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسی نمونہ کے مطا بق اپنا نظا م زندگی استوار کریں ۔اسی بات کو قرآن مجید نے ان الفا ظ کے ساتھ بیا ن کیا ہے۔
﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ﴿٢١﴾...الأحزاب
"بے شک تمھا رے لیے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی بہترین نمونہ ہے جو اللہ سے ملنے اور قیامت کے آنے کی امید کرتا ہواور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہو"
دین کی نشرو اشاعت اور دعوت دین کے فروغ کے حوالے سے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو قرآن مجید میں حکم دیا گیا : 
﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ... ٦٧﴾...المائدة
"اے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  جو چیز آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کی گئی ہے اسے دوسروں تک پہنچا ئیں اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے فریضہ رسالت ادا نہیں کیا ۔
چنانچہ اس فریضہ کی ادائیگی  کے سلسلے میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک بہترین نمونہ اور طریقہ کا ر پیش فر ما یا : آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی دعوت کا بنیا دی منشور قرآن تھا اور اس کی عملی تصویر اپنا کر دار تھا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کےفرا ئض نبوت کے حوالے سے قرآن مجید میں ارشاد فر ما یا گیا ۔
﴿ لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ...١٦٤﴾...آل عمران
"یقیناً اللہ نے مومنین پر احسان فر ما یا کہ ان میں ایک رسول انہی میں سے بھیجا جو ان پر قرآن کی آیات تلاوت کرتا ہے ان نفوس کا تزکیہ کرتا انہیں کتا ب کی تعلیم دیتا اور انہیں حکمت سکھاتا ہے"
ڈاکٹر سعد بن ناصر
1995
  • مئی
  • جون
مغرب میں برپا کی جانے والی 'تحریک ِآزادیٴ نسواں' نے عورت کو جو مراعات اور آزادیاں بخشی ہیں، ان کی افادیت کے متعلق خود اہل مغرب کے درمیان بھی اتفاقِ رائے نہیں ہے، البتہ آزادی کے اس دو سو سالہ سفر کے بعد بلاشبہ عورت ایک ناقابل تلافی نقصان سے دو چار ضرور ہوئی ہے،وہ یہ کہ مغربی عورت اپنے عورت ہونے کے تشخص کو گم کر بیٹھی ہے۔
عطاء اللہ صدیقی
2004
  • نومبر
اس جہانِ رنگ و بو میں کروڑوں نہیں اربوں انسان زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مسلم بھی اور غیر مسلم بھی، نیک بھی اور بَد بھی، ظالم بھی آباد ہیں اور مظلوم بھی، جاہل افراد بھی موجود ہیں اور دانش مند بھی۔ مگر اس دَور میں نیکی کی بجائے بدی کا، عدل و انصاف کی بجائے ظلم و تشدّد کا اور امن و آشتی کی بجائے جہالت و بربریت کا غلبہ ہے۔ ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔
محمود احمد غازی
1972
  • فروری
اہل حدیث  جانبازفورس ،اہل حدیث نوجوانوں کی ایک تنظیم ہے۔ جس نے چند ماہ قبل "صراط مستقیم" کے نام سے ایک ماہنامہ کراچی سے جاری کیا ہے۔اس پرچے کا ایک نمایاں پہلو،اکابرین اہل  حدیث کے انٹر ویو لے کر من وعن شائع کرنے کا تھا۔ جس کی وجہ سے حضرات اہل حدیث کے لیے اپنی کمزوریوں ،خوبیوں کا ایک تعارف سامنے آرہا ہے۔اسی سلسلہ میں بزرگ عالم دین مولانا عبدالغفار حسن مدظلہ العالی کا ایک انٹرویو"صراط مستقیم" کے د سمبر 94ءکے شمارے میں شائع ہوا ہے ۔
عبدالغفار حسن
1995
  • فروری
  • مارچ
اللہ تعالیٰ نے انسان کے ظاہروباطن دونوں کی اصلاح کے لیے شریعتِ اسلامیہ اور انبیاء ورسل کا سلسلہ جاری فرمایاہے۔ انسانی طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ باطن کی نسبت ظاہر پر توجہ زیادہ دیتی ہے اور باطن کی اصلاح کی بجائے ظاہر شریعت پر عمل ہی کو کل دین سمجھ لیتی ہے۔ سابقہ مسلمان اقوام مثلاًیہود پر بھی ایک زمانہ ایسا آیا کہ
محمد زبیر
2011
  • مئی
کتا ب و سنت کی روشنی میں          احکام عقیقہ:
8۔ہر مسلمان کو حتیٰ الوسع اپنی اولاد(مذکریا  مؤنث)کا  عقیقہ کرنا چایئے ۔کیونکہ حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ )روایت کرتے ہیں :کہ" میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ۔آپﷺ فرماتے تھے لڑکے کا عقیقہ ہے اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے تکلیف کو دور کر دو!"
9۔عقیقہ کرنا واجب یا فرض نہیں بلکہ سنت ہے کیو نکہ آپﷺ نے خود حضرت حسن  و حضرت حسین   کا عقیقہ  کی چنانچہ حضرت برید  ﷜ روایت کرتے ہیں :کہ"رسول اللہ ﷺ نے حضرات حسن وحسین  ﷢ کا عقیقہ کیا !"
اسی طرح آپﷺ نے دوسروں کو عقیقے کا حکم دیا ۔ چنانچہ حضرت عائشہ ؓ  سے روایت ہے "کہ"رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ لڑکے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کر کے عقیقہ کریں ۔اور دوسروں کو رغبت دلانے کے ساتھ آپ ﷺ نے ایسا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار بھی دیا ۔لہٰذا عقیقہ کو فرض یا واجب کہنا دلا ئل کی روشنی میں ثابت نہیں ہو تا جیسا کہ مندرجہ احادیث سے ثابت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر ما یا :
کہ" جس کے ہاں بچہ پیدا ہو پس وہ اپنے بچے کا عقیقہ کرنا چا ہے تو کرے۔"
شبیر احمد نورانی
1985
  • اپریل