سیکولر ازم کا مفہوم
گذشتہ پانچ صدیوں کے دوران مغرب کی سیاسی فکر میں اہم ترین تبدیلی ریاستی (لفظ مٹا ہوا ہے)سے مذہب کی عملا بے دخلی ہے،یہی امر سیکولر یورپ کا اہم ترین فکری،کارنامہ،بھی سمجھا جاتا ہے۔اس بات سے قطع  نظر۔۔۔کہ جدید یورپ میں کلیسا کے خلاف شدید رد عمل کے  فکری اسباب کیاتھے اور کلیسا اور ریاست کے درمیان ایک طویل محاذ آرائی بالآخر موخرالذکر کی کامل فتح پر کیونکرمنتج ہوئی۔۔۔بیسوی صدی کے وسط میں استعماری یورپ کی سیاسی غلامی سے آزاد ہونے والی مسلمان ر یاستوں میں بھی یہ سوال بڑے شدومد سے زیربحث لایا گیا کہ مذہب کا ریاستی امور کی انجام دہی میں کیا کردار ہوناچاہیے۔مسلمان ملکوں کاجدید دانشور طبقہ جس کی سیاسی فکر کی تمام تر آبیاری مغرب کے فکری سرچشموں سے ہوئی تھی مسلمانوں کی ریاست میں اسلامی شریعت کو ایک سپریم قانون کی حیثیت دینے کوتیار نہ تھا،مذہب کے متعلق اپنے مخصوص ذہنی تحفظات کی وجہ سے وہ اسلام کومحض مسلمانوں کی انفرادی یا شخصی زندگی تک محدود دیکھنے کا خواہشمند تھا۔وہ اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کو بھی مسیحی مغرب کے کلیسا اور ریاست کے تصادم کے تناظر میں بیان کرنے پر مصر تھا۔
عطاء اللہ صدیقی
2000
  • جولائی
پاکستان کا مطلب کیا ....... لا َ اِلٰہَ اِلاَ اللّٰہ

کا نعرہ بھی قوم کو سنا دیا تھا، اس لیے اب ان کوچاہیے کہ وہ اس کی پابندی بھی کریں گویا کہ اس کے معنے یہ ہوئے کہ اگر وہ یہ نعرہ نہ دیتے تو ہم عنداللہ بری الذّمہ ہوتے، حالانکہ یہ بات اصولاً بالکل غلط ہے۔کیونکہ ایک مسلم کی حیثیت سے ہم اسلام کے سوا او رکسی نطام کے بارے میں سوچنے کے مجاز بھی نہیں ہیں۔الا یہ کہ ہم (خاکم بدہن) خدا اور اس کے رسولﷺ کا کلمہ بھی پڑھنا چھوڑ دیں۔
ادارہ
1978
  • مارچ
  • اپریل
سیاسی آزادی کے باوجود مسلمانوں کی اقتصادی پسماندگی کے باعث عیسائی مبشرین کی ہمت کتنی بڑھ گئی ہے۔ اس کا اندازہ کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ کویت میں پہلی بار ایک بڑا گرجا تعمیر ہو رہا ہے، جس کا مینار تمام مساجد کے میناروں سے اونچا ہے۔ اس سے کئی باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہنوز مغربی قوموں کے غلام ہیں اور قدرتی ذخیرے جو ان کے حصے میں آئے ہیں
محمد یوسف خان
1973
  • اکتوبر
  • نومبر
گذشتہ دو ماہ سے پاکستانی اخبارات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے متعلق بحث ایک دفعہ پھر جاری ہے۔ چند روز پہلے 'نوائے وقت' میں 'مکتوبِ امریکہ' کے کالم میں ایک صاحب نے امریکہ میں مقیم چند پاکستانیوں کے خیالات کو شامل کیا ہے جو چاہتے ہیں کہ حکومت ِپاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کااعلان کرے۔
عطاء اللہ صدیقی
2003
  • اکتوبر
حامیان جمہوریت جمہوری نظام کی ایک خوبی یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ اس طریق سیاست میں عوام کی نمائندگی کا مکمل تصور پایا جاتا ہے۔اور اس کی صورت یہ ہے کہ عوامی کثرت رائے کے اصول کے تحت ہر علاقے سے نمائندوں کاانتخاب کرکے پارلمینٹ میں بھیجا جاتا ہے۔اور اس میں انتخاب مملکت کا ہر فرد اپنی ذاتی حیثیت سے اثر انداز ہوتا ہے جو کہ عوامی نمائندگی کی مکمل اورعام فہم شکل ہے۔اور عوام کو باور یہ کرایا جاتا ہے کہ درحقیقت سب کچھ کا ا ختیار رکھتے ہیں۔
ادارہ
1992
  • اکتوبر
وہ قوم کہ جس کے ایوانوں کی رونق مدتِ مدید تک عالمِ اسلام کے علوم و فنون کی رہینِ منت رہی، جس کے دانشوروں نے ایک طرف مسلمانوں کی تضحیک کی، ان کے دین اور ان کی کتاب کو اعتراضات کا نشانہ بنایا، ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر رکیک اور پست حملے کئے۔۔۔ اور دوسری طرف اس نے انہی مسلمانوں کے عادات و خصائل، ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک اور انہی کی کتابِ ہدایت (قرآن مجید) کا بغور مطالعہ کیا
اکرام اللہ ساجد
1982
  • فروری
مدیر اعلیٰ کی تقریر....... جو 19جون 1978ء کو پاکستان نیشنل سنٹر لاہور میں کی گئی۔ موجودہ صورت میں یہ تقریر

نوٹس سے ترتیب دی گئی ہے، اس لیے الفاظ کی کمی بیشی اور بعض تفصیلات کی ذمہداری مرتب پر ہے۔ (خرم بشیر)

الحمد لله و کفیٰ و سلام علی عیاده الذین اصطفیٰ۔ امابعد
ادارہ
1978
  • اگست
  • ستمبر
(سطورذیل میں مدیر محدث حافظ عبدالرحمن مدنی کا انٹرویو تفصیل سے شائع کیا جا رہا ہے جو روزنامہ"وفاق"کے نمائندہ جناب جلیل الرحمان شکیل نے"اسلام میں سیاسی جماعتوں کے وجود"کے موضوع پر ان سے لیا تھا اور مورخہ 24نومبر85ءکے"وفاق"میں اس کی رپوٹ شائع ہو چکی ہے)         (ادارہ)
سوال:کیااسلام میں سیاسی جماعتوں کے قیام کی گنجائش موجو د ہے؟
جواب:اسلا م میں تنظیم جماعت کا تصور،ملت کے تصور سے منسلک ہے جبکہ ملت اسلامیہ تین چیزوں سے تشکیل پاتی ہے،اللہ ،قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !چونکہ ملت کا تعلق فکروعمل کے امتیازات یا بالفاظ دیگر اسلامی تہذیب وثقافت کی اقدار سے ہے ۔لہٰذا اس کی تشکیل وتعمیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں انجام پاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ملت کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف ہوتی ہے اور وہی ملت کی وحدت کا تحفظ مہیا کرتا ہے۔۔۔واضح رہے کہ ملت کے معنی عربی زبان میں ثبت شدہ یا لکھی ہو ئی چیز کے ہیں،اور چونکہ کسی فکرکے عملی خطوط اسوہ حسنہ کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ثبت کرتا ہے
عبد الرحمن مدنی
1985
  • دسمبر
مؤقر معاصر ''زندگی'' نے اپنے شمارے (۲۷ستمبر تا ۳ اکتوبر ۱۹۷۱ء) کے ادارتی کالموں میں جمہوریت کا نعرہ بلند کرنے والوں کی تائید اور جمہوریت کو اسلام سے علیحدہ نظام قرار دینے والوں کی تردید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان کی بقاء اور اس کے استحکام کا انحصار صرف جمہوریت پر ہے اور جمہوریت اسلام ہے اور اسلام تک پہنچنے کا ایک ذریعہ بھی۔ ملخصاً
ادارہ
1971
  • اکتوبر
اس وقت دنیا بھر میں"اسلامی انتہا پسندی" کا مسئلہ بڑی شدت سے اچھالاجارہاہے۔

بالخصوص عرب ممالک میں مغربی میڈیا اسے شہ سرخیوں سے شہرت دے رہا ہے۔ چنانچہ سربراہی ملاقاتوں اور چوٹی کی کانفرنسوں میں اسے ایک خوفناک صورتحال قرار دے کر اس پر غور و خوض شروع ہو گیا ہے۔ لہٰذا اس کا جائزہ لینا از حد ضروری ہے تاکہ وہ وجوہ اور اسباب بھی سامنے آسکیں جو اس وقت اس کا ڈھنڈوراپیٹنے کا باعث بنے ہیں ۔
ادارہ
1993
  • اگست
صدرِ پاکستان جناب آغا محمد یحییٰ خان نے ۲۸ جون ۱۹۷۱؁ء کی اپنی نشری تقریر میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے سیاسی مستقبل کا جو لائحہ عمل پیش کیا ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ:۔

''ملک کا آئین بنانے کا کام ماہرین کی ایک کمیٹی کر رہی ہے۔ یہ کمیٹی مسودہ تیار کر کے صدرِ مملکت کو پیش کرے گی اور وہ مختلف راہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی سے مشورہ کے بعد اسے آخری شکل دیں گے۔''
ادارہ
1971
  • جولائی
لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس سے پہلے اور بعد اس کانفرنس سے لمبی چوڑی توقعات اور جائزے و تبصرے رسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔ اتنی کثیر تعداد میں مسلمان ملکوں کے سربراہوں یانمائندہ وفود کے اسلام کے نام پر ایک جگہ جمع ہونے کو بڑی اہمیت دی گئی اور مختلف شخصیتوں، اداروں یا جماعتوں کی طرف سے زیر بحث مسائل کے لیے تجاویز اور مشورے بھی پیش کیے گئے۔
عزیز زبیدی
1974
  • جنوری
  • فروری
حکومت اور اعلیٰ عدالتوں کے فاضل ججوں کی طرف سے تسلسل اور تکرار کے ساتھ یہ بات کہی جا رہی ہے کہ عوام کو فوری انصاف مہیا کیا جانا ضروری ہے۔ بلکہ اس سلسلے میں دونوں طرف سے بعض اقدامات کئے جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ جیسے وزیراعظم بہ اصرار یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کراچی میں فوجی عدالتیں فوری طور پر عدل و انصاف مہیا کرنے اور امن و امان قائم کرنے کے لیے قائم کی تھیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ کا ایک حالیہ فیصلہ اس کی واضح مثال ہے جو اس نے وفاقی محتسب کے فیصلوں پر صدرِ مملکت کی نظر ثانی کے سلسلے میں دیا ہے جس پر ابھی مزید گفتگو عدالت میں ہو گی۔ جو یہ ہے کہ وفاقی محتسب نے ایک شخص محمد طارق پیرزادہ کے حق میں ایک فیصلہ 17 اکتوبر 1993ء کو دیا تھا۔
صلاح الدین یوسف
1999
  • اپریل
كسی بھی کامیاب ملك یا علاقے كی دو خصوصیات ہوتی ہیں:

1 ۔امن 2 ۔ خوش حالی

دنیا نے ترقی و عروج كی جس قدر بلندیوں كو چھوا تو بالآخر انہی دو چیزوں كو بنیاد تسلیم كیا، اور ترتیب بھی یہی ركھی كہ پہلے امن، پھر خوش حالی۔
محمد نعمان فاروقی
2015
  • جون
اقوام متحدہ کے زیر اہتمام چین کے شہر بیجنگ میں چوتھی عالمی بیجنگ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 85 ممالک سے تقریبا 35000 ہزار خواتین اس میں شرکت کر رہی ہیں جن میں 21800 غیر سرکاری تنظیمیں (این۔جی ۔اوز) بھی شامل ہیں۔ کانفرنس کا ابتدائی اجلاس 30 اگست سے 8 ستمبر تک چلے گا جس میں این۔جی۔اوز بھی شرکت کریں گی۔ پھر اس کا باقاعدہ اجلاس 8 ستمبر سے 15 ستمبر تک چلے گا۔
ام قاسم
1995
  • اکتوبر
ابھی حال ہی میں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام خواتین کی عالمی کانفرنس ہوئی تاکہ عورتوں کے حقوق سے متعلق ایک ایسا معاہدہ طے پایا جائے جو بعد میں دنیا بھر کے ملکوں کے لئے بین الاقوامی قانون کی شکل اختیار کر لے، بیجنگ کانفرنس اقوامِ متحدہ کے تحت ہونے والی اس طرح کی چوتھی کانفرنس ہے، اس سے پہلے تین کانفرنسیں اِسی موضوع پر ہو چکی ہیں۔
محمد اسحٰق زاہد
1995
  • نومبر
گزشتہ دنوں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا تو گویا اچانک، ملک بھر میں شرافت، خلوص، دیانتداری، حسنِ اخلاق، ہمدردی اور خدمتِ عوام کا ایک سیلاب امڈ آیا جو روکے نہ رکتا اور تھامے نہ تھمتا تھا۔۔۔گلیوں، بازاروں، چوراہوں میں لہریں لیتا ہوا جب یہ سیلاب مکانوں، کوٹھیوں اور رہائش گاہوں کے دروازوں پر بھی رات گئے تک دستک دیتا سنائی دیتا تو ان رہائش گاہوں کے مکین جہاں نیندیں حرام ہونے پر شکوہ کناں ہوتے،
اکرام اللہ ساجد
1987
  • دسمبر
ہر عوامی حکمران کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ دورے کرے، عوام کے حالات سے باخبر رہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ ان کے کیا مسائل ہیں۔؟ اس قسم کے دورے سرکاری حیثیت کے دورے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے کے جتنے مصارف ہوتے ہیں سرکاری خزانے کے ذمے ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ مصارف مسرفانہ نہ ہوں۔ ورنہ ضرورت سے زیادہ جو اخراجات ہوتے ہیں، شرعا سرکاری بیت المال ان کا ذمہ دار نہیں ہوتا،
ادارہ
1977
  • جنوری
خدا خدا کر کے ملک کو وفاقی جمہوری اور اسلامی دستور مل گیا۔ اور یہ 'بے آئین سر زمین' دستور سے ہمکنار ہو گئی۔ لیکن شروع سے جو چیز ہمارے لئے وجہ حٰرت بنی رہی۔ وہ یہ تھی کہ جو پارٹی، وفاقی، جمہوری اور اسلامی نعرے لگاتی رہی جب وقت آیا تو وہ اس کے لئے بآسانی تیار کیوں نہ ہو سکی اور سب سے بڑھ کر جس بات نے اس کو فاش کر دیا وہ یہ تھی کہ روٹی، کپڑا اور مکان اس پارٹی کا گمراہ کُن اور بنیادی نعرہ تھا۔
ادارہ
1973
  • مئی
ان کے نام اسلام کا پیام

﴿لِنَنظُرَ‌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ﴿١٤﴾... سورة يونس

صحیح انتخابات وہ ہوتے ہیں جب لوگ آپ اپنی مرضی سے کسی کو انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن مغربی جمہوریت کے اس دورِ انتخاب میں تلوار کی نوک اور ڈنڈے کی چوٹ کے ذریعے لوگوں سے جبرا کہلوایا جاتا ہے کہ: کہو! میں اچھا، میری پارٹی اچھی، میرے امیدوار اچھے، میرا منشور اچھا۔
ادارہ
1977
  • اپریل
خالق کائنات نے انسانوں کی راہنمائی اور اپنی کمال رحمت ورافت کے اظہار کے لئے جو نظام تجویز فرمایا، اس جادۂ حق کو'اسلام' کا عنوان عطا فرمایا۔ یہی وہ 'صراطِ مستقیم' ہے جو درحقیقت حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سرورِ انبیاء حضرت محمدﷺ تک کے سلسلۂ ہادیانِ برحق کی بعثت کا باعث و حقیقی سبب ہے۔ یہی وہ دین حق ہے جو ﴿لِيُظهِرَ‌هُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ﴾ کا مصداق اصلی ہے۔ یہی وہ فیضانِ حق تھا
عطاء اللہ صدیقی
2003
  • جنوری
صدرِ پاکستان مسٹر بھٹو ۲۸؍ جون کو تقریباً گیارہ بجے قبل وپہر لاہور سے چندی گڑھ، پھر وہاں سے ''پاک بھارت سربراہی کانفرنس'' میں شمولیت کے لئے ۸۷ افراد کی ٹیم کے ہمراہ شملہ پہنچے جہاں موصوف کا استقبال نہ صرف نہایت سرد مہری سے کیا گیا بلکہ فاتحانہ خمار کے ساتھ، کم ظرف ہندو نے اپنی کم ظرفی کی نمائش بھی ضروری سمجھی۔
ادارہ
1972
  • اگست
گزشتہ دنوں "اسلامک ہیومن رائٹس فورم" کے ایک اجلاس میں پچاس سے زائد علماء ووکلاء اور اہل دانش حضرات نے متفقہ طور پر ایک فتویٰ جاری کیا۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ کوئی مسلمان عورت کسی اقراری اور مصدقہ قادیانی کی قانونی بیوی نہیں بن سکتی اور اگر کوئی مسلمان عورت کسی قادیانی کے ساتھ اسلامی نکاح پر اصرار کرتی ہے تو ایسے نکاح کی کوئی مذہبی یا قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔ایسا عمل نہ صرف یہ کہ حدود آرڈیننس کے زمرے میں آتا ہے بلکہ"امتناع قادیانیت آرڈیننس" کے تحت بھی جرم  تصور ہوگا۔
"اسلامک ہیومن رائٹس فورم" کے اس فتویٰ کا  روئے سخن در اصل عاصمہ جہانگیر ایڈوکیٹ کی جانب تھا،عاصمہ جہانگیر صاحبہ بنیادی انسانی حقوق کی علم بردار ایک تنظیم"ہیومن رائٹس کمیشن"کی چئیر پرسن ہیں اور ایک عرصہ سے  بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے متاثرہ شہریوں کو قانونی تحفظ مہیا  کرنے کے چمپئن کے طور پر جانی پہچانی جاتی ہیں۔اس لحاظ سے ان کی جدوجہد عمومی طور پر متنازعہ نہیں رہی۔ان کی ذات اور جدوجہد کے خلاف شدید رد عمل اس وقت شروع ہوا جب پاکستان میں "قانون توہین ر سالت" کانفاذ کیا گیا اور بعد ازاں اسلامی حلقوں کی طویل قانون جنگ کے بعد توہین رسالت کی سزا موت مقرر ہوئی۔عاصمہ جہانگیر ان لوگوں میں شامل تھیں۔جنہوں نے بنیادی انسانی حقوق کےحوالے سے اس قانون کی مخالفت کی۔اس دوران میں جن لوگوں کے خلاف"قانون توہین رسالت" کے تحت مقدمات دائر ہوئے۔
ظفر علی راجا
1996
  • جولائی
ہر طرف شورِ آہ و بکا ہے، معصوموں کی دل دوز اور جگر سوز چیخیں ہیں، لہو کے چھینٹے ہیں، گوشت کے ٹکڑے ہیں، عصمتوں کے خون ہیں۔ اور ان سب کی قیمت ایک وحشیانہ قہقہے سے زیادہ نہیں۔ آہ یہ چیزیں اتنی سستی تو نہ تھیں۔ مسلمان تو ان کی حفاظت کی خاطر ہزاروں میل کا سفر گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر کر سکتا تھا مگر آج کوئی محمد بن قاسم موجود نہیں، کوئی طارق بن زیاد نہیں، کوئی موسیٰ بن نصیر نہیں، کوئی قیتبہ بن مسلم باہلی نہیں،
اکرام اللہ ساجد
1972
  • دسمبر
  • جنوری
۶؍اکتوبر ۲۰۰۷ء کو جنرل پرویز مشرف کا جاری کردہ نام نہاد 'قومی مفاہمتی آرڈیننس' NRO ملکی حلقوں کی گرما گرم بحث کا موضوع ہے۔ اس سے قبل ۳؍نومبر ۲۰۰۷ء کو اعلیٰ عدلیہ کے ۵۵ کے قریب جج حضرات کو فارغ کرکے جنرل مشرف نے جس نئی عدلیہ کو متعین کیا تھا، عدالتی حلقوں میں گذشتہ چند ماہ سے ان جج حضرات سے باز پرس بھی کی جارہی ہے
مصطفیٰ راسخ
2009
  • دسمبر