فضا دلکش ہے کیف آور سماں ہے          جبیں میری ہے تیرا آستاں ہے
زمیں کے ذرے گردوں کے ستارے             ہر اک شے سے تری قدرت عیاں ہے
نہیں موقوف نجم و مہر و ماہ پر           ترے قبضے میں نظم دو جہاں ہے
عبدالرحمن عاجز
1975
  • ستمبر
  • اکتوبر
کچھ مصطفے ٰ سے مانگ نہ کچھ مرتضے ٰؓسے مانگ 
دست سوال غیر کے آگے نہ کر دراز
اللہ کے سوا نہیں حاجت روا کوئی 
قار ہے کارساز ہے مشکل کشا بھی ہے 
سب انبیاء اولیا ء سائل اسی کے ہیں 
ہر کس فنا پذیرہے ہر شے فنا سر شت 
طوفاں میں ناخدا پہ بھروسہ نہ کر علیم
علیم ناصری
1980
  • مارچ
رنگِ گل، رنگِ چمن، رنگ بہاراں دیکھا      ذرہ ذرہ سے ترا حسن نمایاں دیکھا
دیدۂ کوہ سے بہتے ہوئے چشمے دیکھے          سینۂ بحر سے اُٹھتا ہوا دھواں دیکھا
پتے پتے کی زباں سے تری رُوداد سنی        غنچے غنچے کے جگر کو ترا خواہاں دیکھا
عبدالرحمن عاجز
1971
  • مئی
وہ رونق خیال بھی غم کی دوا بھی ہیں
یادوں کے نغمہ زار میں دل کی صدا بھی ہیں

وہ دل کا مدعا بھی غم جانفزا بھی ہیں
مہر سکوت بھی ہیں میرے ہمنوا بھی ہیں
اسرار احمد سہاروی
1987
  • جون
ڈوبتے دل کا تموج میں سہارا تو ہے
مری سوچوں کے سمندر کا کنارا تو ہے
میں تو بیتاب ہوں گرداب میں قطرے کی طرح
راسخ عرفانی
1982
  • فروری
قیامِ زیست کا حاصل کہاں ہے
جنوں کا جلوہ پرور دل کہاں ہے
عطا وہ کر تو دین کونین لیکن
اسرار احمد سہاروی
1982
  • مئی
  • جون
اُس کا خیال وعلم ملا ، آگہی ملی
میں مرچکا تھا پھر سے مجھے زندگی ملی
اس کی تجلیات بہت ہی لطیف ہیں
نعیم الحق نعیم
1984
  • جولائی
باوجود دردِ پیہم دل کا ماتم کیا کریں
خستگی تیری رضا ہے چشمِ پُرنم کیا کریں
تیرے سنگِ آستاں پر جھک گئی اپنی جبیں
اسرار احمد سہاروی
1984
  • فروری
وہ فرمائیں گے رحمت کی نظر آہستہ آہستہ
بنے گا غم ہمارا معتبر آہستہ آہستہ!
کبھی تو ہو ہی جائے گی صدائے غم کی شنوائی
اسرار احمد سہاروی
1984
  • اپریل
  • مئی
ہر لحظ ہیں جو ڈھونڈتے غیروں کا سہارا
فطرت کو بھلا کیوں ہو وجود اُن کاگوارہ
جومحو تماشالب ساحل ہیں ازل سے
شیدا رحمانی
1990
  • جنوری
بشر ہےخالق عالم کی ایک حسین تخلیق
نہیں یقین جسے ہے وہ کافرو زندیق

وہ اپنے بندوں پہ ہے کس قدر کریم و شفیق
یہ کرتی رہتی ہے قدرت ہی خود بخود تصدیق
فضل روپڑی
1986
  • جولائی