حج اسلام کا ایک اہم فریضہ اور ایسی عبادت ہے جس میں بے شمار حکمتوں اور فوائد کے خزانے بھرے پڑے ہیں جن کو سمیٹ کر انسان دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوسکتا ہے۔ اللہ عزوجل اس حقیقت کا اظہار یوں فرماتے ہیں: ﴿لِيَشهَدوا مَنـٰفِعَ لَهُم...٢٨ ﴾... سورة الحج
"لوگوں کو چاہئے کہ یہاں آکر دیکھیں کہ حج میں ان کیلئے کیسے کیسے دینی اور دنیاوی فوائد ہیں"
شیخ مزمل احسن
2002
  • جنوری
ہندوستان  وپاکستان سے آنے والے حجاج کرام کے پاس فریضہ حج کی ادائیگی اور زیارت مقامات مقدسہ کی رہنمائی کرنے والی کتب ہوتی ہیں۔ان میں سے بیشتر کتب میں مسنون طریقہ نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو چھوڑ کرانتہائی ضعیف بلکہ کبھی کبھی موضوع روایات کوجمع کیا ہوا دیکھ کر انتہائی تعجب اور قلق ہوتاہے ،زیر نظر مضمون اسی سلسلہ کی ایک اصلاحی کوشش ہے۔
عام طور پرمشہور ہے کہ جس حج کا"یوم عرفہ" جمعہ کے دن پڑے،وہ حج"حج اکبر" کہلاتا ہے۔اور اس ایک"حج اکبر" کا ثواب ستر عام حج سے بڑھ کرہوتاہے۔لہذا اس حج میں شرکت کے بہت بڑی سعادت وخوش نصیبی تصور کیا جاتا ہے۔ماہ ذوالحجہ کے ہلال کی روئیت کے اعلان کے مطابق  اگر یوم عرفہ بروز جمعہ پڑتا ہے تو سعودی عرب میں مقیم تارکین وطن کی اکثریت اس میں شرکت کے لیے  کوشاں وبے قرار ہوجاتی ہے۔اسی طرح بیرون ملک سے تشریف لانے والے حجاج کی تعداد میں بھی خاصہ اضافہ ہوجاتاہے۔
وہ روایت جس میں"حج اکبر" کی مزعومہ فضیلت کا ذکر ہے،ان شاء اللہ آگے پیش کی جائے گی۔فی الحال اس بات کی تعین کرنا مقصود ہے کہ احادیث نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  میں حج اکبر کس چیز کو کہا گیا ہے؟کس حج کا اجر مقام افضل وارفع بتا یا گیا ہے؟نیز وہ حج جس کا"یوم عرفہ" ہفتہ کے عام دنوں میں پڑے اور وہ حج جس کا"یوم عرفہ" جمعہ کے دن پڑے۔ان کے فضائل میں کیا اور کس درجہ فرق ہے؟
احادیث نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے تقریباً ہر مشہور مجموعہ(مثلاً صحیح بخاری رحمۃ اللہ علیہ ،صحیح مسلم  رحمۃ اللہ علیہ ،جامع ترمذی رحمۃ اللہ علیہ ،سنن ابو داود رحمۃ اللہ علیہ ،اور مسند احمد  رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ) میں "حج اکبر" کا ذکر موجود ہے۔لیکن جہاں  جہاں بھی اس کا ذکر وارد ہواہے،وہاں اس سے مراد "یوم نحر" ہے  نہ کہ وہ جو عام طور پر مشہور اور زیر مطالعہ مضمون میں ہمارا ہدف تنقید ہے۔
غازی عزیر
1995
  • مئی
  • جون
اہل عرب نے اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مجموعہ تعلیم ہدایت کو بالکل بھلا دیا تھا، لیکن اُنہوں نے خانہ کعبہ کے کنگرے پر چڑھ کر تمام دنیا کو جو دعوتِ عام دی تھی، اس کی صداے بازگشت اب تک عرب کے در ودیوار سے آ رہی تھی :
وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ مَكَانَ ٱلْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِ‌كْ بِى شَيْـًٔا وَطَهِّرْ‌ بَيْتِىَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلْقَآئِمِينَ وَٱلرُّ‌كَّعِ ٱلسُّجُودِ ﴿٢٦﴾ وَأَذِّن فِى ٱلنَّاسِ بِٱلْحَجِّ يَأْتُوكَ رِ‌جَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ‌ۢ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ﴿٢٧...سورۃ الحج
ابو الکلام آزاد
2007
  • جنوری
حج اِسلام کا ایک بنیادی رکن ہے، اور ہر اس مرد و عورت پر فرض ہے جو اس کی طاقت رکھتا ہے، فرمانِ الٰہی ہے:﴿وَلِلَّهِ عَلَى النّاسِ حِجُّ البَيتِ مَنِ استَطاعَ إِلَيهِ سَبيلًا.....٩٧ ﴾......سورة آل عمران" یعنی "حج بیت اللہ کرنا ان لوگوں پر اللہ کا حق ہے جو اس کی طرف جانے کی طاقت رکھتے ہوں" اور جب حج کرنے کی قدرت موجود ہو تو اسے فوراً کرلینا چاہئے
سہیل حسن
2001
  • فروری
۱۔ نیت 'حج تمتع'کرنیوالا «اللّٰهُمَّ لَبَّيْک عُمْرَةً» اَور 'حج مفرد'کرنے والا«اللّٰهُمَّ لَبَّيْکَ حَجًّا»،جبکہ 'حج قران' کرنیوالا «اللّٰهُمَّ لَبَّيْکَ عُمْرَةً وَحَجًّا» کہے گا۔
۲۔ میدانِ عرفات میں ٹھہرنا ۔
۳۔ طوافِ زیارة کرنا۔
۴۔ صفا مروة کی سعی کرنا۔
حافظ انس نضر
2001
  • فروری
حج بیت اللّٰہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے۔ جوں جوں حج کے مہینے اور اس کے دن قریب آتے جاتے ہیں توں توں ہر مسلمان کا دل زیارتِ حرمین کے لیے مچلنے لگتا ہے۔ مگر ظاہرہے کہ ’وسائل اور استطاعت‘ کے بغیر ہر شخص کی یہ تمنا پوری نہیں ہوسکتی۔
عمرفاروق سعیدی
2015
  • جولائی
  • اگست
نماز وروزہ صرف بدنی عبادات ہیں اور زکوٰة صرف مالی، جبکہ حج وعمرہ ،مالی وبدنی ہر قسم کی عبادات کا مجموعہ ہے۔اسلام کے پانچ ارکان میں سے حج ایک اہم رکن ہے۔ایمان و جہاد کے بعد حجِ مبرور ومقبول افضل ترین عمل ہے۔دورانِ حج اگر کسی سے کوئی شہوانی فعل اور کسی گناہ کا ارتکاب نہ ہو تو حاجی گناہوں سے یوں پاک ہو کر لوٹتا ہے ، جیسے آج ہی وہ پیدا ہوا ہے۔حجِ مبرور کی جزا جنت ہے۔
منیر قمر
2007
  • دسمبر
دنيا كے تمام مذاہب ميں اسلام كى ايك مابہ الامتياز خصوصیت يہ ہے كہ اس نے تمام عبادات و اَعمال كا ايك مقصد متعین كيااور اس مقصد كو نہايت صراحت كے ساتھ ظاہر كرديا- نماز كے متعلق تصريح كى: ﴿إنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ (العنكبوت:٤٥)
"نماز ہر قسم كى بداخلاقيوں سے انسان كو روكتى ہے-"
ابو الکلام آزاد
2004
  • فروری
ان دنوں ذوالحجہ کا پہلا عشرہ ہے اور کچھ ہی دنوں بعد تاریخ عالم کا وہ عظیم الشان روز طلوع ہونے والا ہے جس کے آفتاب کے نیچے کرۂ ارضی کے ہر گوشے کے لاکھوں انسان اپنے مالک کوپکارنے کے لیے جمع ہوں گے اور ریگستانِ عرب کی ایک بے برگ و گیاہ وادی کے اندر خداپرستی و حب الٰہی کا سب سے بڑا گھرانہ آباد ہوگا۔
ابو الکلام آزاد
2011
  • نومبر