• نومبر
1994
عبداللہ عابد
معلقات معلقۃ کی جمع ہے ۔اس کا مادہ "حلق "ہے جس کے معنی :عمدہ اور نفیس چیز کے ہیں ابن منظور صاحب لسان العرب نے اس کا معنی یوں کیا ہے 
 العلق : المال الكريم  و يقال  : علق خير ... والجمع  أعلاق ...الخ
المنجد فى اللغة والأعلام  : العلق جمعه إعلاق و علوق : النفس من كل شيئ لتعلق قلبه.
2۔یعنی حلق سے مراد ہر وہ نفیس چیز جس کی طرف دل مائل ہو جا ئے ۔اس اعتبار سے معلقات سے مراد دور جاہلیت کے ایسے قصائد جو لفظی اور معنوی اعتبار سے اس دور کی شاعری میں سب سے زیادہ عمدہ اور نفیس ہیں ۔
وجہ تسمیہ :
معلقات کی وجہ تسمیہ کے بارے میں اُدباء اور ناقدین کے الگ الگ نظریات ہیں ۔
1۔بعض ادباء کے خیال میں عربوں کے نزدیک ان قصائد کی بڑی شان و عظمت تھی کیونکہ وہ شاعری کے بڑے دلدادہ تھے اور اسے بڑی اہمیت دیتے تھے۔