1978
  • دسمبر
طالب ہاشمی
ہجرت نبوی سے چند سال بعد کاذکر ہے کہ ایک دن میانہ قد او راکہرے بدن کے ایک گورے چٹّے پاکیزہ صورت آدمی بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے بڑے ادب سے حضورﷺ کو سلام کیا اور پھر آپ کی خدمت میں بیٹھ کر ارشادات نبویؐ سے مستفیض ہونے لگے۔ یکایک سرور عالمﷺ پر آثار وحی طاری ہوئی اور زبان رسالتؐ پر قرآن حکیم کی ایک سورۃ جاری ہوگئی ۔ وہ صاحب وحی الہٰی کاایک ایک لفظ بغور سنتے اور اس کو لکھتے جاتےتھے۔
2008
  • جون
عمرفاروق سعیدی
مغیرہ بن شعبہ بن ابی عامر بن مسعود بن معتب بن مالک ثقفی آپ کا نامِ نامی تھا۔ طائف میں قبیلۂ بنی ثقیف کے جلیل القدر فرزند تھے اور غزوۂ خندق کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئے۔ بڑے دانا، زیرک، معاملہ فہم، ذہین اور ہوشیار طبیعت کے مالک تھے۔ مسلمان ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور آپؐ کے قرب سے بہت فیض پایا۔
1971
  • مارچ
سلیم تابانی
ان کے والدین کو ان سے شدید محبت تھی، خصوصاً ان کی والدہ خناس بنت مالک نے مالدار ہونے کی وجہ سے اپنے جگر گوشے کو نہایت ناز ونعم سے پالا تھا۔ وہ اپنے زمانہ کے لحاظ سے عمدہ سے عمدہ پوشاک پہنتے اور لطیف سے لطیف خوشبو استعمال کرتے تھے۔ حضرمی جوتا جو اس زمانے میں صرف امرا ء کے لئے مخصوص تھا وہ ان کے روزمرہ کے کام آتا تھا اور ان کے وقت کا اکثر حصہ آرائش و زیبائش میں بسر ہوتا تھا۔
1985
  • مارچ
عبدالرحمن عزیز
وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم:
وفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر سن کر صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو سخت صدمہ پہنچا حتیٰ کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ہاتھ میں  تلوار لئے فرمارہے تھے:
مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم  (بخاری )
"خدا کی قسم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر موت وارد نہیں ہوئی۔"
حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   یہ سنتے ہی تشریف لائے چہرہ انور سے چادر ہٹا کر بوسہ دیا اور فرمایا!"اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ  تعالیٰ آپ پر دو موتیں نازل نہیں کرے گا،پھر وفات کا اعلان ان الفاظ میں کیا:
"من كَانَ يعبد مُحَمَّدًا فَإِن مُحَمَّد قد مَاتَ وَمن كَانَ يعبد الله فَإِن الله حَيّ لَا يَمُوت وقال إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَقال وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚوَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا الایة"
 تو صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو موت کا یقین ہوا۔(بخاری)
1985
  • ستمبر
عبدالرحمن عزیز
 جعفر صادق کا فرمان:
"مخالفین میں سے ایک شخص نے حضرت ابو بکر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے متعلق اما م جعفر صادق ؒ سے سوال کیا تو آپ نے جواباً فرمایا کہ:"وہ  دونوں(ابوبکر وعمر رضوان اللہ عنھم اجمعین ) عادل ،منصف امام تھے۔وہ دونوں حق پررہے اور حق پر انہوں نے وفات پائی۔پس ان دونوں پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔"(احقاق الحق ص16)
پھر مدائن کے مال غنیمت میں شہزادی شہر بانو کا آنا اور حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے مشورہ سے اس شہزادی کا حضرت حسین   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے نکاح کرنا اور حق مہر بیت المال سے ادا کرنا شیعہ حضرات کی معتبر کتب مثل اصولی کافی منتہی الامال جلد دوم جلاالعیون ص239) سے ثابت ہے۔اگر خلافت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   غیر حقہ اورغاصبانہ تھی تو یہ نکاح کیسے درست ہوسکتا ہے؟یہ بھی یاد رہے کہ حضرت زین العابدین علی بن حسین   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   شہزادی شہر بانو کے فرزند ارجمند ہیں۔
1988
  • فروری
محمد رفیق اثری
محاصرہ:
شوال 35ہجری میں ان فتنہ پرداز قافلوں کی روانگی کا آغاز ہوا۔بصرہ سے حرقوص بن زبیر کی قیادت میں ایک ہزار کا قافلہ روانہ ہوا۔ کوفہ سے مالک بن اشتر کی قیادت میں ایک ہزار کا قافلہ نکلا جبکہ غافقی بن حرب کی قیادت میں ایک ہزار کا قافلہ مصر سے روانہ ہوا۔ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر یہ تینوں قافلے اکٹھے ہوگئے۔ او رمدینہ منورہ میں قیام پذیر ہوکر حالات کا جائزہ لینےکے لیےاپنے قاصد روانہ کئے۔چنانچہ چند آدمی بصورت وفد حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، اور امہات المؤمناتؓ سے ملے اور اپنی آمد کا مقصد بیان کیا۔ ان حضرات نے انہیں ملامت کرکے واپس جانےکو کہا۔
1992
  • اکتوبر
سعید مجتبیٰ سعیدی

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور اور جلیل القدر صحابی ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھتیجے اور حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا ذاد ہیں۔

منفرد خصوصیات:۔

واقعہ فیل سے بارہ تیرہ برس قبل آپ کی ولادت کعبہ مشرف کے اندر ہوئی ۔اور یہ ایک ایسی منفرد اور بے نظیر خصوصیت ہے

2010
  • جنوری
عبداللہ دامانوی
سانحۂ کربلا اسلامی تاریخ کا اِنتہائی المناک باب ہے، اس سانحہ کے بعد یزید بن معاویہ کو لگاتار برا بھلا کہا جاتا رہا ہے۔ البتہ یزید کے جنتی؍بخشے ہوئے ہونے کے بارے میں نبی کریمﷺ کی اُس بشارت کا تذکرہ کیا جاتاہے جس میں شہر قیصر کی طرف سب سے پہلے حملہ آور لشکر کو مغفور لہم ہونے کی خوش خبری دی گئی ہے۔