• جولائی
  • اگست
1980
ابو الاعلیٰ مودودی
یہ مقالہ اپنے عنوان سے بظاہر آنحضرتﷺ کے دو رنبوت کے ابتدائی 13 برس کی تاریخی جھلک ہے۔ دراصل دعوت و اصلاح کی اسلامی تحریک کے ارتقاء کا ایک مکمل نقشہ بھی پیش کررہا ہے جسے آج کی زبان میں ''تاریخ انسانیت کے ایک عظیم انقلاب سے'' تعبیرکیا جاسکتا ہے۔ یہی وہ دور عزیمت و استقلالی تھا جس نے دنیائے انسانیت کے سامنے کٹھن سے کٹھن حالات میں حق پرستی اور پامردی کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور تجدید احیائے دین کی راہوں پر چلنے والوں کے لیے سنگ میل لگائے ہیں۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1980
ابو الاعلیٰ مودودی
اس ہجرت سے مکے کے گھر گھر میں گہرام مچ گیا۔ کیونکہ قریش کے بڑے اورچھوٹے خاندانوں میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چشم و چراغ ان مہاجرین میں شامل نہ ہوں، کسی کابیٹا گیاتو کسی کا داماد، کسی کی بیٹی گئی تو کسی کا بھائی اور کسی کی بہن۔
  • مارچ
1977
عصمت اللہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا اپنی محفلوں میں اپنے اعزہ و اقرباء ، دوستوں اور جاں نثاروں کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ مملکتِ اسلامیہ کے سربراہ کی حیثیت سے لاتعداد غیر ملکی وفود کو اذنِ باریابی بخشا جس میں تبلیغی اور دیگر امور زیرِ بحث آئے۔ ان گنت افراد پر مشتمل مجمعوں کو خطاب فرمایا۔ جس نے ایک دفعہ گفتگو سن لی ہمیشہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گرویدہ ہو گیا۔
  • مارچ
1990
عبدالرؤف ظفر
فقروشاہی واردات مصطفیٰ است
ایں تجلی ہائے ذات مصطفیٰ است (اقبال )

سلسلہ انبیاؑء کی آخری کڑی انسان کا مل حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے راہنمائی نہ ملتی ہو اسی وجہ سے اللہ تبارک وتعا لیٰ نے ارشاد فر ما یا۔
  • ستمبر
2012
انصار عباسی
لیبیا میں اِسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے ہاتھوں امریکی سفیر کی ہلاکت پر اَقوام متحدہ اور غیر مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ مسلمان ممالک بشمول پاکستان نے فوری مذمت بیانات جاری کئے مگر کسی ایک اسلامی ملک نے بھی اَمریکہ کی مذمت کرنےکی جرأت نہ کی کہ اُس نے ایک ایسی فلم کو میڈیا میں کیوں آنے دیا جو اسلام دشمن ذہن کی خباثت ، کمینگی اور ذلالت کی تمام حدود کو پار کرتی ہے؟
  • فروری
2011
عطیہ انعام الٰہی
ربیع الاوّل کے بابرکت مہینے میں ہمارے پیارے نبیﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔ مشیتِ الٰہی کے تحت اس دنیا سے آپﷺ کی واپسی بھی اسی ماہ میں ہوئی۔ یہ صرف ایک اتفاق ہی نہیں بلکہ ربُ العزّت کی طرف سے ہم مسلمانوں کا ایک خاص قسم کا امتحان بھی ہے۔ اس امتحان کی اہمیت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ
  • اگست
2014
صدف صادق
تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جو ربّ ِکائنات ہے ،جس نے ارض و سما کی تخلیق کے بعد اس کی تدبیر کی ، جو ہر ایک کو رزق دینے والا ہے، جس نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا، جس نے ہماری راہنمائی کےلیے پیغمبر بھیجے اورسب سے آخر میں نبی آخر الزمانﷺ کو مبعوث فرما کر ہمیں ان کا اُمّتی بنایا ۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمارےلیے نمونہ ہے ۔ اُن ہی کے سانچے میں ہم نے اپنی زندگیوں کو ڈھالنا ہے۔
  • مئی
2003
عطیہ انعام الٰہی
اس جہانِ رنگ و بو میں شیطان کے حملوں سے بچتے ہوئے شریعت ِالٰہیہ کے مطابق زندگی گزارنا ایک انتہائی دشوار امر ہے۔ مگر اللہ ربّ العزت نے اس کو ہمارے لئے یوں آسان بنا دیا کہ ایمان کی محبت کو ہمارے دلوں میں جاگزیں کردیا۔ سورۃ الحجرات میں ارشادِ خداوندی ہے:
  • مارچ
  • اپریل
1974
رفیق جذباتی
اللہ تعالیٰ اپنے انبیائے کرام کو نوعِ انسانی کی ہدایت و رہنمائی کے لئے مختلف زمانوں کے اندر اور مختلف قوموں کے درمیان مبعوث فرماتا ہے۔ اور ان کی نبوت کی حقانیت پر بہت سی باطنی اور ظاہری شہادتیں فراہم کر دیا ہے تاکہ حقیقت شناس انسان ان کی باطنی شہادتوں کا مشاہدہ کر کے ان کو برحق تسلیم کر لیں اور سطح بین لوگ ان کی ظاہری دلیلوں کو دیکھ کر اُن پر ایمان لے آئیں اور جو کج فہم ہوں ان پر حجت تمام کر دی جائے۔
  • مئی
  • جون
1973
نظر زیدی
قرآن پاک اور مستند احادیث کی رو سے تو یہ بات ثابت ہے ہی کہ رحمتِ دو عالم، نبی برحق حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ گرامی کو محبوب جاننا ایمان کا حصہ ہے، خالص مادی نقطۂ نظر سے بھی یہ بات بہت ضروری ہے۔

شرافت کا یہ لازمی وصف ہے کہ اگر کسی نے کسی قسم کا ادنیٰ سا احسان بھی کیا ہو تو نہ صرف اس احسان کا اعتراف کیا جائے
  • مارچ
  • اپریل
1974
نظر زیدی
قرآن پاک اور مستند احادیث کی رو سے تو یہ بات ثابت ہے ہی کہ رحمتِ و عالم، نبی برحق حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ گرامی کو محبوب جاننا ایمان کا حصہ ہے، خالص مادی نقطۂ نظر سے بھی یہ بات بہت ضروری ہے۔

شرافت کا یہ لازمی وصف ہے کہ اگر کسی نے کسی قسم کا ادنیٰ سا احسان بھی کیا
  • مئی
  • جون
1973
برٹرینڈرسل
محمد رسول اللہ ﷺ کا تعارف قرآن مجید ان الفاظ میں کراتا ہے۔

﴿ما كانَ مُحَمَّدٌ أَبا أَحَدٍ مِن رِ‌جالِكُم وَلـٰكِن رَ‌سولَ اللَّهِ وَخاتَمَ النَّبِيّـۧنَ ۗ وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَىءٍ عَليمًا ﴿٤٠﴾... سورة الاحزاب

(محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ رسول اللہ و خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے)
  • جولائی
  • اگست
1975
طاہر القادری
مطلق لفظ ''خُلق'' میں حسِ خلق اور سوء خلق دونوں معانی پائے جاتے ہیں، لیکن جب اس کی اضافت نبی اکرمﷺ کی ذات والاصفات کی جانب کی جاتی ہے تو یہ لفظ معنی و مراد کے اعتبار سے صرف حسنِ خلق تک محدود رہتا ہے اور اس کے برعکس کا شائبہ تک نہیں رہتا۔ قرآن حکیم کی یہ نص صریح اس امر کی تصدیق و تائید کرتی ہے: انک لعلی خلق عظیم۔ یعنی آپؐ عظیم خلق و کردار کے مالک ہیں۔
  • جون
2001
ابو الکلام آزاد
عزیزانِ ملت! ماہِ ربیع الاول کا ورود تمہارے لئے ایک پیغامِ عام ہوتا ہے۔ کیونکہ تم کویاد آجاتا ہے کہ اسی مہینے کے ابتدائی ہفتوں میں خدا کی رحمت ِعامہ کا دنیا میں ظہور ہوا، اور اسلام کے داعی برحق کی پیدائش سے دنیا کی دائمی غمگینیاں اور سرگشتگیاں ختم کی گئیں۔ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و صحبہ وسلم!
  • اکتوبر
2010
آباد شاہ پوری
نبی کریم 1اُمت کے جمیع طبقات کے لئے اُسوئہ حسنہ اور نمونہ ہیں۔ آپ کے معاشی معمولات میں مسلمانوں کے لئے بیش قیمت رہنمائی موجود ہے۔ بعض اوقات ہم لوگ منقول حقائق کی جستجو کی بجائے ایک مثالی تصور اپنے ذہن میں قائم کرکے اس کے مطابق دلائل کی تلاش شروع کردیتے ہیں۔
  • فروری
1990
شبیر احمد منصوری
انبیاء ورسل علیہم السلام توحید،رسالت،آخرت پر ایمان اور بندگی رب کی دعوت لے کر آئے ہیں۔اللہ رب العزت کی یہ سنت ہے۔کہ اُس نے ہر دور میں مختلف امتوں کی طرف ا پنے پیغمبر بھیجے،تاکہ وہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلائیں۔ان برگزیدہ ہستیوں کے سلسلے کی آ خری کڑی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی د نیاوی واخروی صداقتوں اور حقائق کولوگوں کے سامنے پیش کیا۔
  • مارچ
2008
حسن مدنی
اسلام انسانیت کے لئے ربّ ذوالجلال کا پسند فرمودہ آخری دین ہے۔ اپنی تعلیمات وتفصیلات کے اعتبار سے اسلام ہی ایک کامل واکمل اور متوازن و معتدل دین کہلانے کا حق دار ہے جس میں رہتی دنیا تک فلاحِ انسانیت کی ضمانت موجود ہے۔ دنیا میں آج بھی اگرکسی دین پر سب سے زیادہ عمل کیا جاتا ہے تو وہ صرف دینِ اسلام ہے، یہ خصوصیت بلاشرکت ِغیرے صرف اسلام کو حاصل ہے۔
  • مارچ
1977
اختر راہی
گاندھی جی

اسلام اپنے انتہائی عروج کے زمانے میں تعصب اور ہٹ دھرمی سے پاک تھا، دنیا سے خراج تحسین وصول کیا۔ جب مغرب پر تاریکی اور جہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں اس وقت مشرق سے ایک ستارہ نمودار ہوا۔ ایک روشن ستارہ جس کی روشنی سے ظلمت کدے منور ہو گئے اسلام دینِ باطل نہیں ہے۔
  • مارچ
  • اپریل
1974
ثریا بتول علوی
یوں تو نوعِ انسانی کے بلند پایہ طبقوں میں ہزاروں لاکھوں انسان نمایاں ہیں۔ جنہوں نے اپنی زندگیاں اپنے بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے مشعلِ راہ اور نمونہ کے طور پر پیش کی ہیں مگر ان کی طویل فہرست میں سے انبیائے کرام کی سیرت ہی بطورِ خاص عوام الناس کے لئے اسوہ اور بہترین نمونہ ہیں۔ کیونکہ ان کی سیرتیں ہر لحاظ سے بے داغ اور ان کا دامن حسنِ اخلاق و کردار سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔
  • مئی
  • جون
1973
بدیع الدین راشدی
جب کسی جج کے پاس کوئی مقدمہ پیش ہو تو وہ پہلے یہ دیکھتا ہے کہ آیا کسی نافذ شدہ قانون کی بنا پر مقدمے کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اگر کسی قانون کا اطلاق ہوتا ہو۔ تو وہ قانون پر فیصلہ کر دیتا ہے۔ لیکن اگر قانون اس مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی نہ ہو تو پھر جج انصاف کے اصول تلاش کرتا ہے یعنی قانون میں جو خلا ہو اس کو انصاف سے پُر کرتا ہے۔ اور کسی انصاف کے اصول کی بنا پر فیصلہ کر دیتا ہے۔
  • مئی
  • جون
1973
خالد علوی
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہتر زندگی گزارنے کے لئے عقل و فکر اور فطری شعور بخشنے کے ساتھ ساتھ اس کے لئے خارجی رہنمائی کا بھی مکمل انتظام کیا ہے۔ اس نے انسانی رہنمائی کے لئے وقتاً فوقتاً ایسے منفرد انسان بھیجے جو اس کا پیغام بندوں تک پہنچاتے رہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ ہر قسم کے بگاڑ کی اصلاح ان کی ذمہ داری تھی۔
  • مارچ
  • اپریل
1974
عنایت اللہ وارثی
آنحضرت ﷺ کی سیرت بیان کرتے وقت آج کل آپ ﷺ کو مختلف حیثیتوں میں علیحدہ علیحدہ پیش کرنے کا رواج ہے۔ ان میں سے آپ ﷺ کی 'قانون ساز' ہونے کی حیثیت اہم ترین ہے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ ریاست و سیاست کے تین شعبوں مقنّنہ، عدلیہ اور انتظامیہ میں بنیادی اہمیت مقننہ کو حاصل ہے کیونکہ انتظامی اصلاحات اور عدالتی انصاف کا پہلا مرحلہ متوازن قانون سازی ہی ہے۔
  • مئی
  • جون
1973
عنایت اللہ وارثی
آنحضرت ﷺ کی سیرت بیان کرتے وقت آج کل آپ ﷺ کو مختلف حیثیتوں میں علیحدہ علیحدہ پیش کرنے کا رواج ہے۔ ان میں سے آپ ﷺ کی 'قانون ساز' ہونے کی حیثیت اہم ترین ہے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ ریاست و سیاست کے تین شعبوں مقنّنہ، عدلیہ اور انتظامیہ میں بنیادی اہمیت مقنہ کو حاصل ہے کیونکہ انتظامی اصلاحات اور عدالتی انصاف کا پہلا مرحلہ متوازن قانون سازی ہی ہے۔
  • مئی
  • جون
1973
اختر راہی
تاریخِ عالم پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ذات ہی وہ بے نظیر ہستی ہے جس کی زندگی کا ایک ایک گوشہ تاریخ کی روشنی میں منور ہے۔ مہاتما بدھ کی زندگی اساطیر میں الجھی ہوئی ہے۔ حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی زندگی کے بارے میں تورات و اناجیل کے غلط سلط، بے ربط واقعات کے علاوہ کچھ دستیاب نہیں اور ان واقعات کی غلطی قرآن کریم میں واضح کی گئی ہے۔
  • مئی
  • جون
1973
نذیر احمد رحمانی
حضرت محمد مصطفےٰ احمدِ مجتبیٰ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو تاریخ کے نقطۂ نظر سے تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

قبلِ بعثت : اعلانِ نبوت سے پہلے کی چالیس سالہ مکی زندگی

مکّی زندگی : بعثت (نزولِ وحی) کے بعد تیرہ سالہ مکّی زندگی