• دسمبر
1999
طاہرہ بشارت
(((نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی اصل حیثیت تو اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ہونے کی ہے۔اور آپ کے طرز عمل میں سب سے گہرارنگ وحی کی صورت میں اللہ سے رہنمائی لینے اور اس کو عمل میں لانے کا ہے۔اس اعتبار سے جب ہم مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے مختلف کرداروں کا جائزہ لیتے ہیں تواسی بنیادی حقیقت پر ایمان رکھنے کی وجہ سے ہر معاملے کو اللہ کی طرف سے ہدایت کے سپرد کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں۔اور ان زمینی حقائق کی جستجو میں نہیں پڑتے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے طور پر تمام امور دنیا میں جاری کررکھی ہے۔کہ وہ ہرکام کی تکمیل عموماً واقعاتی بنیادوں اور وسیلوں کے ذریعے ہی کرتاہے۔
ایمان واعتقاد کے لیےتو اسی رویہ کی ضرورت ہے لیکن اگر حیات مبارکہ سے اس دور کے واقعات کی درست انجام دہی کے واقعاتی حقائق بھی تلاش کرلیے جائیں تو اس طرح آپ کے طرز عمل کی تشریح مزید آسان اور اس کی افادیت دو چند ہوجاتی ہے۔ہمارا اعتقاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا اسوہ مبارکہ آپ کی ہر حیثیت(قاضی،حاکم،سپہ سالار وغیرہ) میں مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت اور ذریعہ نجات ہے۔زیر نظر مضمون میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک حیثیت کا مختصر مطالعہ پیش کا کیا گیا ہے۔(حسن مدنی)))
  • مئی
  • جون
1973
ابو الاعلیٰ مودودی
یہ مقالہ اپنے عنوان سے بظاہر آنحضرت ﷺکے دورِ نبوت کے ابتدائی ۱۳ برس کی تاریخی جھلک ہے۔ دراصل دعوت و اصلاح کی اسلامی تحریک کے ارتقاء کا ایک مکمل نقشہ بھی پیش کر رہا ہے جسے آج کی زبان میں ''تاریخِ انسانیت کے ایک عظیم انقلاب'' سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ دورِ عزیمت و استقلالی تھا جس نے دنیائے انسانیت کے سامنے کٹھن سے کٹھن حالات میں حق پرستی اور پامردی کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں
  • فروری
2004
خالدہ امجد
نام :  حضرت عائشہ بنت عبداللہ ابوبكر صديق  لقب:صديقہ
كنيت:  اُمّ عبداللہ قبيلہ:غنم بن مالك والدہ كا نام:ا ُمّ رومان
نسب:  والد كى طرف سے سات اور والدہ كى طرف سے گيارہويں پشت ميں حضرت محمد ﷺ كے سلسلہ سے جا ملتا ہے-

  • جنوری
2011
ثناء اللہ امرتسری
اہل حدیث کا مذہب ہے کہ خلافت ِراشدہ حق پر ہے یعنی حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان ذوالنورین، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم خلفاے راشدین تھے۔ ان کی اِطاعت بموجب ِشریعت سب پر لازم تھی۔ کیونکہ خلافت ِراشدہ کے معنی نیابت کے ہیں، حضرت ابوبکرؓ کو حضور ﷺ نے اپنی زندگی ہی میں اپنا نائب بنایا تھا۔مرض الموت میں صدیق اکبرؓ کو امام مقرر کیا۔
  • اکتوبر
1996
عبدالرؤف ظفر
اللہ تعالیٰ کی محبت کا اہل اور اس کے تعلق کا مستحق بننے کے لئے ہر مذہب نے ایک ہی تدبیر بتائی ہے کہ اس مذہب کے شارع اور طریقہ کے بانی کی تعلیمات پر عمل کیا جائے لیکن اسلام نے اس سے بہتر تدبیر یہ بھی اختیار کی ہے کہ اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ سب کے سامنے رکھ دیا ہے جس کو محفوظ طریقے سے ہر دور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بھی کیا گیا ہے۔ اور اس عملی مجسمے کی پیروی اور اتباع کو خدا کی محبت کے اہل اور اس کے تعلق کے مستحق بننے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ ﴿٣١﴾ (1)
"کہہ دیجئے اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا"
قرآن مجید میں ایک اور جگہ آیا ہے:
 لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ  ﴿٢١ (2)
"ضرور تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے"
انسانی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ ملتا ہے۔ اس بات کا اقرار تو کافر بھی کرتے ہیں۔
چنانچہ برصغیر میں پٹنہ کے مشہور مبلغ ماسٹر حسن علی ایک رسالہ "نور اسلام" نکالتے تھے جس میں انہوں نے اپنے ایک تعلیم یافتہ ہندو دوست کی رائے لکھی کہ اس نے ایک دن ماسٹر صاحب سے کہا کہ "میں آپ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کا سب سے بڑا کامل انسان تسلیم کرتا ہوں" ماسٹر صاحب نے پوچھا" ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیا سمجھتے ہو؟" اس نے جواب دیا کہ "محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے کسی دانائے روزگار کے سامنے ایک بھولا بھالا بچہ بیٹھا ہو، میٹھی میٹھی باتیں کر رہا ہو" انہوں نے دریافت کیا کہ "تم کیوں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کو دنیا کا کامل انسان جانتے ہو اس نے جواب دیا کہ مجھ کو ان کی زندگی میں بیک وقت اس قدر متضاد اور متنوع اوصاف نظر آتے ہیں جو تاریخ نے کسی ایک انسان میں یکجا کر کے نہیں دکھائے۔(3)
  • اپریل
1983
عبدالرؤف ظفر
زیر نظر مضمون ، آج سے تقریباًآٹھ نو ماہ قبل ''پاکستان ٹائمز'' میں چھپنے والے ایک مضمون (Mairaj-un-Nabi.Man at Spiriturel Summit)کے جواب میں ہے،........ مضمون کے آغاز میں ''پاکستان ٹائمز'' کے مذکورہ مضمون کا خلاصہ چند نکات کی صورت میں درج تھا، جس کی ابتدائی سطور پڑھ کر ہی ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ چنانچہ ضرورت محسوس ہوئی کہ اصل مضمون کو منگوا کر اس کا مطالعہ کیا جائے تاکہ پوری ذمہ داری 
  • جون
1983
عبدالرؤف ظفر
3۔ نبیﷺ نےاپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہؓ کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا تو منافقین اور مخالفین نے پروپیگنڈہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا، نبیؐ نے یہ نکاح خود نہیں کیا بلکہ ہمارے حکم سے کیا ہے:فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرً‌ۭا زَوَّجْنَـٰكَهَا لِكَىْ لَا يَكُونَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ حَرَ‌جٌ فِىٓ أَزْوَ‌ٰجِ أَدْعِيَآئِهِمْ إِذَا قَضَوْا۟ مِنْهُنَّ وَطَرً‌ۭا...﴿٣٧﴾...سورۃ الاحزاب''پھر جب زید کا جی اس سے بھر گیا تو ہم نے اس کا نکاح آپؐ سے کردیا تاکہ اہل ایمان کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سےنکاح کرنے میں کوئی حرج مانع نہ ہو، جبکہ وہ ان سے جی بھر چکے ہوں (یعنی طلاق دے چکے ہوں)''
  • جولائی
1983
عبدالرؤف ظفر
حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں پوری جرح و تعدیل کے ساتھ ان تمام روایات کو نقل کیاہے۔ پھر پچیس صحابہ کرامؓ کے اسمائے گرامی نقل کیے ہیں جن سے یہ روایات منقول ہیں۔ان کےاسماء یہ ہیں:حضرت عمر ؓبن خطاب، حضرت علیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت ابوذرغفاریؓ، حضرت مالک بن صعصعہؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت شدادؓ بن اوس، حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن قرصؓ، حضرت ابوحیہؓ، حضرت ابویعلیٰؓ
  • اگست
1983
عبدالرؤف ظفر
معراج النبیﷺ کی تاریخ میں دشواری کا سبب یہ ہےکہ ہجرت سے قبل سن اور تاریخ نہیں تھے، قرآن مجید میں لیلاً کا لفظ ہے، گویا رات کو ہونے میں کوئی شک نہیں اور یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ہجرت سے قبل یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا۔ قاضی سلیمان منصورپوری نے آنحضرتؐ کی 23 سالہ سیرت مبارکہ کی جنتری تیارکی ہے جس کے مطابق 52 ولادت نبویؐ 27 رجب المرجب کو شب معراج ہوئی۔ 27 رجب
  • نومبر
1981
غلام احمد حریری
دین اسلام میں تعلیم کی اہمیت مسلّم ہے۔ تاریخ انسانیت میں یہ منفرد مقام اسلام ہی کو حاصل ہے کہ وہ سراسر علم بن کر آیا اور تعلیمی دُنیا میں ایک ہمہ گیر انقلاب کا پیامبر ثابت ہوا اسلامی نقطۂ نظر سے انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز تاریکی اور جہالت سے نہیں بلکہ علم اور روشنی سے کیا ہے۔ تخلیقِ آدم کے بعد خالق نے انسانِ اول کو سب سے پہلے جس چیز سے سرفراز فرمایا وہ علمِ اشیاء تھا۔ یہ اشیاء کا علم ہی ہے جس نے انسانِ اول کو