• مارچ
  • اپریل
1976
مناظر احسن گیلانی
اردو زبان میں سیرت طیبہ نبویہ (علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ) پر بلا مبالغہ سینکڑوں کتابیں اور ہزاروں مقالات لکھے جا چکے ہیں اور کوئی ہفتہ یا مہینہ ایسا نہیں گزرتا جس میں کوئی نہ کوئی نئی کتاب یا کتابچہ منظرِ عام پر نہ آتا ہو۔ اس کثرتِ تالیف کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ قبولِ عام کے دربار میں بہت کم مصنفوں کو جگہ ملی ہے۔ اسی گروہ میں مناظر احسن گیلانی مرحوم شامل ہیں۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
1. اقتدارِ اعلیٰ

نظام خلافت میں مقتدر اعلیٰ خود اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی ہر چیز کا مالک اور وہی قانون ساز ہے۔ ملت اسلامیہ اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے بنیادی قوانین اللہ تعالیٰ خود بذریعہ انبیاء انسانوں کو بتلاتا ہے۔ ایسی قانون سازی کا اختیار کسی نبی کو بھی نہیں ہوتا۔
  • مئی
2012
اُمِّ عبدالرب

ڈاکٹر مولانا عبد الرشید اظہر ﷫‏سے طویل عرصہ علم وتربیت کا فیض پانے والی محترمہ امّ عبد الربّ جنہیں عوامی حلقوں میں 'باجی فوزیہ 'کے نام سے جانا جاتا ہے،نے اس مضمون میں اپنی گزری یادیں سپردِ قلم کی ہیں۔اپنے اُستاد کے رویّہ، مزاج، علمی ذوق اور دینی جذبات ورجحانات کا اس میں جابجا اظہار موجود ہے۔اس تحریر میں بہت سی ذاتی یادداشتیں بھی آگئی ہیں جنہیں اس بنا پر نذرِ قارئین کیا جارہا ہے

  • جون
1999
صلاح الدین یوسف
آہ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ تعالیٰ
علم و عمل اور ہدایت کے آفتابِ عالم کا غروب

افسوس ہے کہ 26 محرم الحرام 1420ھ، مطابق 13 مئی 1999ء بروز جمعرات عالم اسلام کی عظیم علمی شخصیت اور سعودی عرب کے مفتی اعظم سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ریاض میں انتقال فرما گئے ۔۔۔ انا لله انا اليه راجعون !! دوسرے دن بروز جمعۃ المبارک خانہ کعبہ میں ان کی نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور جنة المعلىٰ کے مشہور اور تاریخی قبرستان میں اُن کی تدفین عمل میں آئی۔ علاوہ ازیں سعودی عرب سمیت پورے عالم اسلام کے ہر شہر اور قریے میں شیخ مرحوم کی نماز جنازہ غائبانہ ادا ہوئی اور ان کی مغفرت اور رفع درجات کے لئے دعا کی گئی۔ پاکستان میں بھی ہر جگہ بڑی بڑی مساجد اہل حدیث میں نمازِ جنازہ غائبانہ کا اہتمام کیا گیا۔اس سلسلے میں لاہور میں جامع مسجد قدس اہل حدیث چوک دالگراں میں سب سے بڑا اجتماع ہوا، جس میں مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب نے مرحوم کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اُن کی دینی، ملی اور علمی خدمات پر روشنی ڈالی۔
  • مئی
1990
غازی عزیر
طبرانی حاکمؒ اور آجری ؒ کی ان تینوں سندوں میں عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم موجود ہے جو انتہائی مجروح راوی ہے امام احمد بن حنبل ؒ ،ابن المدینی ،بخاریؒ ،ابو داؤد،نسائی،ابو حاتمؒ،ابو زرعہؒ، ابن سعد ؒ ، جو زجانی ؒ عقیلیؒ، ذہبیؒ،ہثیمیؒ، اور ابن حجر عسقلانی ؒ وغیرہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ابن معین ؒ فرماتے ہیں۔اُ کی حدیث کچھ بھی نہیں ہوتی ۔علامہ  ذہبیؒ عثمان الدارمی ؒ کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ یحییٰ ؒ نےفرمایا وہ ضعیف ہے ۔"ایک اور مقام پر علامہ ذہبیؒ بیان کرتے ہیں کہ "عبدالرحمٰن بن زید واہ یعنی کمزور ہے۔ابن خزیمہؒ کا قول ہے "یہ ان میں سے نہیں ہے۔جس کی حدیث کوا ہل علم حجت جانتے ہیں۔اور اس کا حافظہ خراب ہے۔طحاوی ؒ فرماتے ہیں۔اس کی حدیث علمائے حدیث کے نزدیک انتہائی ضعیف ہوتی ہے۔ساجی ؒ نے اسے منکر الحدیث " بتایا ہے ابو نعیم ؒ اور حاکم ؒ فرماتے ہیں اپنے والد سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے۔
  • ستمبر
1984
عبدالمنان نورپوری
"نورستان میں وہاں کے سلفی حضرات نے"دولت انقلابی اسلامی افغانستان" کے نام سے خالص کتاب وسنت کی بنیادوں پر اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی ہے۔لیکن افسوس کہ جب سے اس حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے،مختلف تنظیموں کی طرف سے اس کے خلاف پروپیگنڈہ حتیٰ کہ بغض باطن کا اظہار کیا رہا ہے۔جس کا مرکزی نقطہ اس حکومت کو دہریہ،روس نواز چین نواز اورنیشنلسٹ وغیرہ ثابت کرنا ہے۔پاکستانی علماء اہل حدیث نے اس حکومت سے متعلق سن کر جہاں مسرت کا اظہار کیا۔ وہاں وہ اس ٖغلط پروپیگنڈہ کی اصلیت جاننے کے لئے بیتاب بھی ہوئے۔چنانچہ علماء اہلحدیث کا پہلا وفد مولانا گھر جاکھی (گوجرانوالہ) کی معیت میں نورستان پہنچا۔اوروہاں کے حالات معلوم کیے۔اس کے بعد گزشتہ رمضان المبارک میں دوسرا وفد شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالمنان صاحب(گوجرانوالہ) کی معیت میں نورستان کا دورہ کرکے لوٹا ہے۔
  • اگست
1982
عبدالرشید عراقی
تصانیف

امام صاحب کی تصانیف حسب ذیل ہیں:

1۔التاریخ الکبیر2۔التاریخ الاوسط3۔ التاریخ الصغیر4۔ الجماع الکبیر5۔خلق افعال العباد6۔ کتاب الضعفاء الصغیر7۔المسند الکبیر8۔التفسیر الکبیر9۔کتاب الہبہ
  • اگست
2014
عبدالجبار سلفی
قارئین کرام! ہماری اسلامی تاریخ بیدار مغز اور روشن ضمیر خلفا،اُمرا، فقہا وصلحا کے ایمان آفریں تذکروں سے معمور ہے۔ لیکن عبیدیوں، قرامطیوں نے جو بااتفاقِ اہل علم یہودی اور مجوسی النسل تھے، اپنے بنی فاطمہ علیہا صلوات اللّٰہ وسلامہ کی اولاد ہونے کا جھوٹا پروپیگنڈا کروا کر مغربِ اقصیٰ کی مسلم مملکتوں پر قبضہ کر لیا اور پھر اپنے بڑوں کی خیبر اور قادسیہ میں شکستوں کا بدلہ چکانے کے لیے اہل السنّہ مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دیےاور پھر اپنی سیاہ ترین کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ نامزد کرنے کا خیال پیدا ہوا تو اس کی وجہ بھی بتلا دی کہ مبادا اس وقت بعض لوگ خلافت کی آرزو کرنے لگیں یا کچھ دوسرے باتیں بنانے لگیں کہ خلافت تو دراصل ہمارا حق تھا۔ پھر آپﷺ نے جو استخلافِ ابو بکرؓ کا ارادہ ترک کر دیا تو اس کی وجہ بھی مذکور ہے کہ ابو بکرؓ کے علاوہ کسی دوسرے کا خلیفہ بننا نہ تو اللہ کی مشیت میں ہے اور نہ ہی مسلمان مجموعی طور پر ابو بکرؓ کے علاوہ کسی دوسرے پر اتفاق کریں گے۔ (اور آپ ﷺ پیش از وقت کسی کی دل شکنی نہیں کرنا چاہتے تھے) چنانچہ یہ دونوں باتیں پوری ہو کر رہیں۔ 
سب سے پہلے خلافت کا خیال بنو ہاشم کو آیا۔ قبیلہ قریش کے اس وقت دس چھوٹے قبائل مشہور تھے۔ ان میں سے ایک بنو ہاشم تھے۔ یہ آنحضرت ﷺ سے قرابت کی وجہ سے اپنے آپ کو خلافت کا حق [1]دار سمجھتے تھے۔ ان کے پیشوا حضرت علیؓ تھے اور حضرت عباسؓ ابن عباس اور حضرت زبیرؓ (جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں) ان کے رشتہ دار اور امرِ خلافت میں ان کے معاون تھے۔ حضور اکرم ﷺ اپنی مرض الموت میں بقید حیات تھے کہ حضرت عباسؓ کو یہ آرزو پیدا ہوئی کہ حضور اکرم ﷺ سے اپنے حق میں فیصلہ لے لینا چاہیے۔
  • مارچ
  • اپریل
1976
عبدالماجد دریا بادی
مہینوں کی تپش و تابش، لَو اور لپٹ، تڑاقے اور جلاپے کے بعد جب برسات کی ہوائیں چلتی ہیں تو کالے کالے بادل امنڈ امنڈ کر آتے ہیں اور جل تھل بھر جاتے ہیں۔ سالہا سال کی سختیوں اور آزمائشوں امتحانات اور ابتلآت کے بعد جب مشیتِ مطلقہ کو، اس مشیت کو جس کے اوپر کوئی مشیت نہیں منظور ہوا کہ مردہ میں جان پڑ جائے اور سوکھی ہوئی کھیتی لہلہانے لگے تو نیتوں کے رُخ پلٹ دیئے اور دلوں کی اقلیم میں انقلاب برپا کر دیا۔
  • نومبر
1981
حسن مدنی
عَنْ زیْدِ بْنِ اَرْقَمَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمْ ''یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا ھٰذِہِ الْاَضَاحِیُّ'' قَالَ ''سُنَّة اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ الحدیث''
  • دسمبر
  • جنوری
1972
اکرام اللہ ساجد
نظامِ کائنات پر غور فرمائیے! آگ کی حدّت اور برف کی برودت، جھلسا دینے والی گرمی اور کپکپا دینے والی سردی، دن کی روشنی اور رات کی تاریکی، خزاں کی بے رونقی اور بہار کی بہاریں کانٹوں کا زہر اور پھولوں کی صباحت و ملاحت، پتھر کی ٹھوس اور سنگلاخ چٹانیں اور پانی کی روانی کفر و شرک کی آندھیاں اور اسلام کی رحمت آلود گھٹائیں غرض اضداد و اختلافات کا ایک سلسلہ جس پر دنیا کی بقاء کا انحصار ہے۔
  • ستمبر
2012
محمد رمضان سلفی
بابائے تبلیغ حضرت مولانا محمد عبداللہ گورداس پوری﷫ برصغیر پاک و ہند کے نامور عالم دین تھے۔ اُنہوں نے دعوت و تبلیغ کے میدان میں اپنی واعظانہ صلاحیتوں، بلند آہنگ خطابت اور حکیمانہ اسلوب تبلیغ سے لوگوں کو توحید و سنت کا عامل بنایا اور انہیں'صراط مستقیم' دکھا کر نیک نام ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا محمدعبداللہ صاحب کو علم و عمل کا حظ ِوافر عطا کیا اور بے پناہ اوصاف و کمالات سے نوازا تھا۔
  • جنوری
  • فروری
1980
طالب ہاشمی
حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بیسوی ایسی خواتین کے نام ملتے ہیں جن کا شمار عظیم  للرتبت صحابیات میں ہوتا ہے لیکن ان کے حالات زندگی بہت کم معلوم ہیں یہاں ہم ایسی بارہ صحابیات کے حالات ( جس قدر معلوم ہیں ) نذر قارئین  کرتے ہیں ۔
حضرت ام ایوب انصاریہ ﷜
اصل نام معلوم نہیں اپنی کنیت  ’’ام ایوب‘‘ سے مشہور ہیں ۔ میزبان روسول اللہ ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری ﷜ کی اہلیہ تھیں ۔ ہجرت نبوی سے قبل اپنے شوہر کے ساتھ ہی اسلام قبول کیا ۔ سرور عالم ﷺ مدینہ منورہ  تشریف لائے تو سات ماہ تک  حضرت ابو ایوب ﷜ کے گھر میں ہی قیام فرمایا ۔ اس دوران میں حضرت ام ایوب ﷜ ہی حضور ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا کرتی تھیں ۔ ابتداء میں حضور ﷺ نے حضرت ابو ایوب ﷜ کے مکان کی زیریں منزل  میں قیام فرمایا ۔ حضرت ابو ایوب﷜ اور ام ایوب  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  اگرچہ  حضور ﷺ کی ابنی خواہش کے مطابق بالاخانہ میں منتقل ہو گئے تھے مگر دونوں میاں بیوی کو ہر وقت یہ خیال مضطرب رکھتا تھا
  • جنوری
1999
عبدالرشید عراقی
ولادت: حافظ شمس الدین ابو عبداللہ بن احمد بن عبدالہادی ابن قدامہ مقدسی حنبلی 714ھ میں پیدا ہوئے۔ (1)
اساتذہ و تلامذہ: حافظ ابن عبدالہادی نے اپنے دور کے نامور اساتذہ دن سے جملہ علوم اسلامیہ کی تحصیل کی۔ اور تمام علوم میں کمال پیدا کیا۔ آپ نے حافظ ابوالحجاج یوسف بن عبدالرحمین مزی رحمۃ اللہ علیہ (م 742ھ) سے تحصیل حدیث کی۔ اور دو سال تک آپ حافظ مزری کی خدمت میں رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خاص طور پر فن حدیث و رجال میں اقران پر فائق تر ہو گئے۔ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ علل و رجال میں حافظ شمس الدین ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (م 748ھ) اور آپ کے استاد حافظ مزی آپ سے استفادہ کیا کرتے تھے۔ (2)
  • جولائی
2000
عبدالجبار سلفی
میرے سامنے ایک تحریر ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام   کے والد کانام آزر کے بجائے تارح ثابت کرنے اور انہیں مسلمان باور کرانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام   کے باپ کانام آزر ہی تھا۔سورہ انعام میں ہے:
"وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ"
"جب ابراہیم علیہ السلام   نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ کیا تو بتوں کو دیوتا بناتا ہے؟"(آیت 74)
عربی زبان میں باپ کے لئے اب اور چچا کے لئے عم کا لفظ بولا جاتاہے۔اورحقیقت کو اس وقت تک مجاز پر اولیت حاصل ہے جب تک حقیقی مراد لینے میں کوئی امر مانع نہ ہو۔مثلاً اگر کسی صحیح دلیل سے ثابت ہوتا کہ نبی کابیٹا یاباپ گمراہ نہیں ہوسکتا تو اس لفظ کی تاویل کی جاسکتی تھی لیکن چونکہ ایسی کوئی دلیل نہیں لہذا اس حقیقت پر ایمان رکھنا چاہیے کہ اب سےمراد باپ ہی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام   اپنی تبلیغ میں اپنی باپ کےلیے بار بار یاابت کالفظ استعمال کرتے ہیں
  • مارچ
1982
طالب ہاشمی
(1)

بعض روایتوں میں ان کا نام "جلبیب" رضی اللہ عنہ بھی آیا ہے۔ سلسلہ نسب اور خاندان کا حال معلوم نہیں لیکن اربابِ سیر کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ وہ مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے اور انصار کے کسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اگرچہ پست قد اور کم رو تھے لیکن پاک باطنی، نیک طنیتی، شجاعت، اخلاص فی الدین اور حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھے۔ اسی لیے رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت مھبوب تھے۔
  • اگست
1982
طالب ہاشمی
غسیل الملائکہ
(1)

راس المنافقین عبداللہ بن ابی کابہنوئی ابو عامر اگرچہ ایک زاہد مرتاض تھا اور اس نے حق کی تلاش میں گوشہ عزلت اختیار کرلیا تھا۔
  • جنوری
1982
طالب ہاشمی
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت فرما کر سر زمینِ مدینہ کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے رشکِ جناں بنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عرصہ بعد مسجدِ نبوی کی تعمیر کا اہتمام فرمایا۔ جب مسجد تعمیر ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت محسوس فرمائی کہ نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے عام مسلمانوں کو نماز کے وقت سے کچھ دیر پہلے اطلاع دینی چاہئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مشورہ فرمایا کہ اس مقصد کے لیے کون سا طریقہ اختیار کرنا مناسب ہو گا؟ کسی نے عرض کیا کہ کسی بلند جگہ پر آگ روشن کر دی جایا کرے۔ کسی نے رائے دی کہ نماز کے وقت قریب مسجد پر جھنڈا بلند کر دیا جائے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں نرسنگھا یا ناقوس بجاتے ہیں ہم بھی نماز کے اعلان کے لیے اسی طرح کیا کریں، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی تجویز پر بھی مطمئن نہ ہوئے اور اس مسئلہ میں متفکر رہے تاہم وقتی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس بجانے والی تجویز کو منظور فرما لیا۔ ابھی اس تجویز پر عمل نہیں ہوا تھا کہ دوسرے دن علی الصباح ایک انصاری صاحبِ رسول بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور یوں عرض پیرا ہوئے:
  • اکتوبر
1982
محمد اسحاق
آپ کااسم ِ گرامی عبداللہ اورکنیت اورعبدالرحمن تھی ، مگرابن عمر    کےنام سے مشہور ومعروف ہیں ۔
خاندان  : 
ابن عمر   کاسلسلہ نسب نویں پشت پررسول اللہ ﷺ سےمل جاتاہے۔ 
تاریخ پیدائش : 
آپ کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔بعض کےنزدیک آپ نبوت کےپہلے سال پیدا ہوئے بعض دوسرے یاتیسرے سا ل کی تاریخ بتاتےہیں مگر راجح تاریخ پیدائش نبوی مطابق 611ء ہے۔ 
حلیہ : 
شکل وشباہت میں والدماجد سےمماثلت تھی : قد لمبا ، جسم بھاری ، رنگ گندمی، داڑھی مشت بھر ، مونچھیں کاٹی ہوئی جس سےلبوں کی سفیدی نمایاں ہوجاتی ، بال کاندھوں، تک ، سیدھی مانگ نکالا کرتے،عموماً زردخضاب پسند فرماتے تھے۔ 
لباس : 
معمولی موٹا پائجامہ ، سیاہ عمامہ اورپاؤں میں سادہ سی چپل ، کبھی کبھار قیمتی لباس زیب تن فرماتے تاکہ کفران نعمت نہ ہو۔ انگوٹھی پرعبدالرحمن بن عمر  کندہ تھا جومہرکاکام بھی دیتی تھی ۔
  • مئی
  • جون
1982
طالب ہاشمی
ان کا تعلق خزرج کے خاندان خدرہ سے تھا، شجرہ نسب یہ ہے:

مالک بن سنان بن عبید بن ثعبلہ بن الابجر (خدرہ) بن عوف بن حارث بن خزرج۔

ان کے والد سنان شہید کے لقب سے مشہور تھے۔ وہ اپنے قبیلے کے رئیس تھے اور مدینہ میں چاہ بصہ کے قریب قلعہ اجرد کے مالک تھے۔
  • مارچ
  • اپریل
1976
عزیز زبیدی
اسلامی ریاست کے سیاسی سربراہ کی حیثیت سے پیغمبرِ خدا ﷺ کی سیرت طیبہ اور اسوۂ حسنہ کے لئے ضروری ہے کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ:

1. اسلام اور غیر اسلامی مذاہب میں کیا فرق ہے؟

2. محمدی تصوّرِ مملکت کیا ہے؟
  • اپریل
1980
طالب ہاشمی
1)حضرت زینب ؓ بنت ابی سلمہ ؓ
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ﷜ کی صاحبزادی تھیں جو ان کی پہلے شوہر حضرت ابو سلمہ ﷜ بن عبدالاسد مخزومی کے صلب سے تھیں ۔ سلسلہ نسب یہ ہے :
زینب ؓبنت ابو سلمہ ؓ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم القرشی۔
حضرت ابو سلمہؓ رسو ل اکرم ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے اور رضاعی بھائی بھی ، اس  لحاظ سے حضرت زینب  ﷜ حضور کی بھتیجی ہوتی تھیں۔ (برہ بنت عبدالمطلب حضرت زینب ﷜ کی دادی تھیں اور حضور ﷺکی پھوپھی ) ان کی ولادت  کے بارے میں روایتوں میں ان کے والدین مکہ سے ہجرت کرنے کےبعد قیام پذیر تھے ۔ حضرت ابو سلمہ ؓ اور ام سلمہ ؓ حبشہ میں چند سال گزارنے کےبعد مکہ واپس آگئے اور پھر وہاں سے مدینہ کی طرف ہجرت کی (حضرت ابو سلمہ ؓ نے 12؁ بعد بعثت میں مدینہ کی طرف ہجرت کی اور حضرت ام سلمہ ؓ نے 12؁ بعد بعثت میں )مولانا سعید انصاری مرحوم نے سیر الصحابیات میں لکھا ہے کہ حضرت زینب ؓنے اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کی ۔ اگر حضرت زینب ؓ کی ولادت حبشہ  میں تسلیم کی جائے تو پھر انہوں نے ’’والدین ‘‘ کے ساتھ نہیں بلکہ والدہ کے ساتھ ہجرت کی ہوگی ،دونوں میاں بیوی کے زمانہ ہجرت میں ایک سال کا تفاوت ہے )
  • مارچ
  • اپریل
1976
آباد شاہ پوری
رسول اللہ ﷺ کو کس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اس کا ذکر مختصر مگر نہایت بلیغ الفاظ میں سورۂ احزاب میں ہوا ہے۔ ارشاد ہوا ہے یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا۔ یعنی بحیثیت رسول آپ ﷺ کے پانچ اوصاف ہیں۔ آپ ﷺ (نوعِ انسانی پر) گواہ ہیں، بشارت دینے والے ہیں، ڈرانے والے ہیں، اللہ کی طرف بلانے والے ہیں اور چراغِ روشن ہیں۔
  • مارچ
  • اپریل
1976
عبدالحمید صدیقی
بنو ہاشم پر ناجائز دباؤ اور نبی پاک ﷺ کے صحابہ کرام کی تعذیب کے علاوہ مخالفین اسلام حضور ﷺ کے اس دعوے پر بھی شدید تنقید کرتے تھے کہ آپ ﷺ پر خدا کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے۔ حقیقت میں وہ تنزیل کے تصور ہی کے خلاف تھے۔ اس سلسلے میں وہ چار پہلوؤں پر تنقید کرتے تھے۔